تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ …:} اس آیت کی تشریح وہ حدیث کرتی ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ” بہترین بیوی وہ ہے جسے اگر تم دیکھو تو تمھیں خوش کرے، اگر تم اسے کسی بات کا حکم دو تو وہ تمھاری اطاعت کرے اور جب تم گھر میں نہ ہو تو تمھارے پیچھے وہ تمھارے مال کی اور اپنے نفس کی حفاظت کرے۔“ پھر رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «{ اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ }» [مسند أبی داوٗد الطیالسی: ۲۴۴۴۔ ابن جریر: 62/4، و صححہ صاحب ہدایۃ المستنیر]
➌ { حٰفِظٰتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ:} یعنی چونکہ اللہ تعالیٰ نے خاوندوں کو عورتوں کے ساتھ حسن معاشرت کا حکم دے کر ان کے حقوق محفوظ کر دیے ہیں، اس کے بدلے میں وہ خاوندوں کی غیر موجودگی میں ان کے مال اور عزت و آبرو کی حفاظت رکھتی ہیں۔ [دیکھیے نسائی، النکاح، باب أی النساء خیر: ۳۲۳۳] یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ان کے مال و عزت اور حقوق کی حفاظت کرتی ہیں اور خیانت سے کام نہیں لیتیں۔ (شوکانی)
➍ { وَ الّٰتِيْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ …:} نشوز کا لفظی معنی ”اونچا ہونا، چڑھائی کرناہے“ اور عورت کے نشوز کا معنی ”خاوند سے بغض رکھنا اور اس کی اطاعت سے اپنے آپ کو اونچا سمجھنا ہے۔“(مفردات) عورت پر مرد کا بہت بڑا حق ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ (اللہ کے سوا) کسی دوسرے کو سجدہ کرے تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔“ [ترمذی، الرضاع، باب ما جاء فی حق…: ۱۱۵۹، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ۔ أبو داوٗد: ۲۱۴۰]
عورت نافرمانی کا رویہ اختیار کرے تو خاوند کو حالات کے مطابق تین چیزوں کا اختیار دیا گیا ہے، تینوں یکے بعد دیگرے اور اکٹھی بھی ہو سکتی ہیں، نصیحت کرنا، گھر میں رہ کر بستر الگ کر لینا اور انھیں مارنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض ناگزیر حالات میں مارنے کی اجازت دی، مگر فرمایا: ”چہرے پر مت مارو، اسے بد صورت نہ کہو اور اسے مت چھوڑو مگر گھر میں۔“ [أبو داوٗد، النکاح، باب فی حق المرأۃ علی زوجھا: ۲۱۴۲، عن حکیم بن معاویۃ رضی اللہ عنہ] اسی طرح ایسی مار سے بھی منع کیا جس سے سخت چوٹ آئے۔ [مسلم، الحج، باب حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ۱۲۱۸، عن جابر رضی اللہ عنہ] اور فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو اس طرح نہ مارے جس طرح غلام کو مارتے ہیں، پھر دن کے آخر حصے میں اس سے جماع کرے گا۔“ [بخاری، النکاح، باب ما یکرہ من ضرب النساء:۵۲۰۴]
➎ { فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْهِنَّ سَبِيْلًا:} یعنی اگر وہ تمھاری مطیع ہو جائیں تو ان پر زیادتی کا کوئی راستہ تلاش نہ کرو، مثلاً طلاق دینا، تنگ کر کے خلع پر مجبور کرنا وغیرہ۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[بخاري كتاب الاحكام۔ باب: ﴿اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ﴾ نيز كتاب النكاح، باب قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ .....، مسلم، كتاب الامارة، باب فضيلة الامير العادل]
[58] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بہترین بیوی وہ ہے کہ جب تم اسے دیکھو تو تمہارا جی خوش ہو جائے، جب اسے کسی بات کا حکم دو تو وہ تمہاری اطاعت کرے اور جب تم گھر میں موجود نہ ہو تو وہ تمہارے پیچھے تمہارے مال کی اور اپنے نفس کی حفاظت کرے۔“
[بخاری، کتاب النفقات، باب حفظ المرأۃ زوجہا فی ذات یدہ]
[بخاری، کتاب النکاح، باب صوم المراۃ باذن زوجھا تطوعا]
2۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب مرد اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ نہ آئے تو صبح تک فرشتے اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔“
[بخاری، کتاب النکاح۔ باب اذاباتت المراۃ مھاجرۃ فراش زوجھا]
[59] نشوز کا لغوی معنیٰ بلندی یا ارتفاع، اٹھان اور ابھار کے ہیں۔ خصوصاً جب کسی چیز میں یہ اٹھان تحرک اور ہیجان کا نتیجہ ہو مثلاً عورت اپنے خاوند کو اپنا ہمسر یا اپنے سے کمتر سمجھتی ہو یا اس کی سربراہی کو اپنے لیے توہین سمجھ کر اسے تسلیم نہ کرتی ہو۔ اس کی اطاعت کے بجائے اس سے کج بحثی کرتی ہو۔ خندہ پیشانی سے پیش آنے کی بجائے بد خلقی سے پیش آتی ہو اور سرکشی پر اتر آتی ہو۔ بات بات پر ضد اور ہٹ دھرمی دکھاتی ہو یا مرد پر نا جائز قسم کے اتہامات لگاتی ہو۔ یہ باتیں نشوز کے معنیٰ میں داخل ہیں۔ ایسی عورتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مردوں کو تین قسم کے ترتیب وار اقدام کرنے کی اجازت دی ہے۔ پہلا قدم یہ ہے کہ اسے نرمی سے سمجھائے کہ اس کے اس رویہ کا کیا انجام ہو سکتا ہے۔ لہٰذا وہ کم از کم اپنی بہتری اور مفاد کی خاطر گھر کی فضا کو مکدر نہ بنائے۔ پھر اگر وہ خاوند کے سمجھانے بجھانے کا کچھ اثر قبول نہیں کرتی تو خاوند اس سے الگ کسی دوسرے کمرہ میں سونا شروع کر دے۔ اور اسے اپنے ساتھ نہ سلائے۔ اگر اس عورت میں کچھ بھی سمجھ بوجھ ہو گی اور اپنا برا بھلا سمجھنے سوچنے کی تمیز رکھتی ہو گی تو وہ اپنے خاوند کی اس ناراضی اور سرد جنگ کو برداشت نہیں کر سکے گی۔ اگر پھر بھی اسے ہوش نہیں آتا تو پھر تیسرے اور آخری حربہ کے طور پر مارنے کی بھی اجازت دی گئی ہے، مگر چند شرائط کے ساتھ جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث سے واضح ہے: 1۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”خبردار! عورتوں کے متعلق نیک سلوک کی وصیت قبول کرو۔ وہ تمہارے پاس صرف تمہارے لیے مخصوص ہیں۔ اس کے سوا تم ان کے کچھ بھی مالک نہیں، بجز اس کے کہ وہ کھلی بے حیائی کریں اگر وہ ایسا کریں تو تم انہیں بستروں میں علیحدہ کر سکتے ہو اور اس طرح مار سکتے ہو کہ انہیں چوٹ نہ آئے“
[ترمذی، ابواب الرضاع، باب فی حق المرأۃ علی زوجھا]
2۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ”بیوی کو مارو نہیں نہ اسے برا بھلا کہو اور نہ اسے چھوڑو مگر گھر میں“ (یعنی گھر میں ہی اسے اپنے بستر سے علیحدہ سلاؤ۔ گھر سے نکالو نہیں۔)
[ابو داؤد، کتاب النکاح، باب فی حق المرأۃ علی زوجھا]
3۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو یوں نہ مارے جیسے اپنے غلام کو مارتے ہو، پھر دن کے آخر میں اس سے جماع بھی کرے۔“
[بخاری، کتاب النکاح، باب مایکرہ من ضرب النساء۔۔ مسلم کتاب الجنۃ۔ باب النار یدخلہ الجبارون]
یعنی اگر مارنے کے بغیر عورت کے راہ راست پر آنے کا کوئی امکان نہ ہو تو یہ سوچ کر مارے کہ ممکن ہے رات کو اسے بیوی کی ضرورت پیش آجائے اور اسے منانا پڑے۔ دوسرے یہ کہ اسے غلاموں کی طرح بے تحاشا نہ مارے۔ اور ایک حدیث کے مطابق کسی کو بھی یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ اپنی بیوی، یا ملازم یا بال بچوں کو منہ پر مارے۔ اور تیسری پابندی یہ ہے کہ ایسی مار نہ مارے جس سے اس کی بیوی کو کوئی زخم آ جائے یا اس کی کوئی ہڈی پسلی ٹوٹ جائے۔ ان حدود و قیود کے ساتھ خاوند کو ایسی اضطراری حالت میں بیوی کو مارنے کی اجازت دی گئی ہے۔ [60] یعنی اگر وہ باز آ جاتی ہیں تو محض ان پر اپنا رعب داب قائم کرنے کے لیے پچھلی باتیں یاد کر کے ان سے انتقام نہ لو اور اس اجازت سے نا جائز فائدہ نہ اٹھاؤ اور اگر ایسا کرو گے تو اللہ جو بلند مرتبہ اور تم پر پوری قدرت رکھتا ہے تم سے تمہارے اس جرم کا بدلہ ضرور لے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اسی طرح ہر طرح کا منصب قضاء وغیرہ بھی مردوں کے لائق ہی ہیں۔ دوسری وجہ افضیلت کی یہ ہے کہ مرد عورتوں پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں جو کتاب و سنت سے ان کے ذمہ ہے مثلاً مہر نان نفقہ اور دیگر ضروریات کا پورا کرنا۔
پس مرد فی نفسہ بھی افضل ہے اور بہ اعتبار نفع کے اور حاجت براری کے بھی اس کا درجہ بڑا ہے۔ اسی بنا پر مرد کو عورت پر سردار مقرر کیا گیا جیسے اور جگہ فرمان ہے «وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللَّـهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ» [2-البقرة:228]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ عورتوں کو مردوں کی اطاعت کرنی پڑے گی اس کے بال بچوں کی نگہداشت اس کے مال کی حفاظت وغیرہ اس کا کام ہے۔
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے خاوند کی شکایت کی پس آپ نے بدلہ لینے کا حکم دے ہی دیا تھا جو یہ آیت اتری اور بدلہ نہ دلوایا گیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:9305:مرسل و ضعیف]
ایک اور روایت میں ہے کہ ایک انصاری رضی اللہ عنہ اپنی بیوی صاحبہ کو لیے ہوئے حاضر خدمت ہوئے اس عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! میرے اس خاوند نے مجھے تھپڑ مارا ہے، جس کا نشان اب تک میرے چہرے پر موجود ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے حق نہ تھا“، وہیں یہ آیت اتری کہ ادب سکھانے کے لیے مرد عورتوں پر حاکم ہیں تو آپ نے فرمایا: ”میں اور چاہتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اور چاہا۔“ ۱؎ [میزان:8131:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ”جب کوئی پانچوں وقت نماز ادا کرے رمضان کے روزے رکھے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اپنے خاوند کی فرمانبرداری کرے اس سے کہا جائے گا کہ جنت کے جس دروازے سے تو چاہے جنت میں چلی جا۔“ ۱؎ [مسند احمد:191/1،قال الشيخ الألباني:حسن لغیرہ]
صحیح بخاری میں ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے بسترے پر بلائے اور وہ انکار کر دے تو صبح تک فرشتے اس پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3237]
صحیح مسلم میں ہے کہ جس رات کوئی عورت روٹھ کر اپنے خاوند کے بستر کو چھوڑے رہے تو صبح تک اللہ کی رحمت کے فرشتے اس پر لعنتیں نازل کرتے رہتے ہیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:120-1436]
تو یہاں ارشاد فرماتا ہے کہ ایسی نافرمان عورتوں کو پہلے تو سمجھاؤ بجھاؤ پھر بستروں سے الگ کرو، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی سلائے تو بستر ہی پر مگر خود اس سے کروٹ موڑ لے اور مجامعت نہ کرے، بات چیت اور کلام بھی ترک کر سکتا ہے اور یہ عورت کی بڑی بھاری سزا ہے۔
بعض مفسرین فرماتے ہیں ساتھ سلانا ہی چھوڑ دے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ عورت کا حق اس کے میاں پر کیا ہے؟ فرمایا یہ کہ جب تو کھا تو اسے بھی کھلا جب تو پہن تو اسے بھی پہنا اس کے منہ پر نہ مار گالیاں نہ دے اور گھر سے الگ نہ کر غصہ میں اگر تو اس سے بطور سزا بات چیت ترک کرے تو بھی اسے گھر سے نہ نکال۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2142،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمایا اس سے بھی اگر ٹھیک ٹھاک نہ ہو تو تمہیں اجازت ہے کہ یونہی سی ڈانٹ ڈپٹ اور مار پیٹ سے بھی راہ راست پر لاؤ۔
پس ایسی مار نہ مارنی چاہیئے جس کا نشان باقی رہے جس سے کوئی عضو ٹوٹ جائے یا کوئی زخم آئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس پر بھی اگر وہ باز نہ آئے تو فدیہ لو اور طلاق دے دو۔ ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی لونڈیوں کو مارو نہیں“ اس کے بعد ایک مرتبہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ! عورتیں آپ کے اس حکم کو سن کراپنے مردوں پر دلیر ہو گئیں اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مارنے کی اجازت دی اب مردوں کی طرف سے دھڑا دھڑ مار پیٹ شروع ہوئی اور بہت سی عورتیں شکایتیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو آپ نے لوگوں سے فرمایا: ”سنو میرے پاس عورتوں کی فریاد پہنچی یاد رکھو تم میں سے جو اپنی عورتوں کو زدو کوب کرتے ہیں وہ اچھے آدمی نہیں“ [سنن ابوداود:2146،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اشعث رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ میں سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا مہمان ہوا اتفاقاً اس روز میاں بیوی میں کچھ ناچاقی ہو گئی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی صاحبہ کو مارا پھر مجھ سے فرمانے لگے اشعث تین باتیں یاد رکھ جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد رکھی ہیں ایک تو یہ کہ مرد سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ اس نے اپنی عورت کو کس بنا پر مارا؟ دوسری یہ کہ وتر پڑھے بغیر سونا مت اور اور تیسری بات راوی کے ذہن سے نکل گئی۔ ۱؎ [سنن نسائی:5/9168،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر فرمایا اگر اب بھی عورتیں تمہاری فرمانبردار بن جائیں تو تم ان پر کسی قسم کی سختی نہ کرو نہ مارو پیٹو نہ بیزاری کا اظہار کرو۔ اللہ بلندیوں اور بڑائیوں والا ہے۔ یعنی اگر عورتوں کی طرف سے قصور سرزد ہوئے بغیر یا قصور کے بعد ٹھیک ہو جانے کے باوجود بھی تم نے انہیں ستایا تو یاد رکھو ان کی مدد پر ان کا انتقام لینے کے لیے اللہ تعالیٰ ہے اور یقیناً وہ بہت زورآور اور زبردست ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنَّ {الرجال قوامون على النساء}؛ أي: قوَّامون عليهنَّ بإلزامهنَّ بحقوق الله تعالى من المحافظة على فرائضه وكفِّهِنَّ عن المفاسد، والرجال عليهم أن يُلْزِموهنَّ بذلك، وقوَّامون عليهنَّ أيضاً بالإنفاق عليهنَّ والكسوة والمسكن. ثم ذكر السبب الموجب لقيام الرجال على النساء، فقال: {بما فضَّل الله بعضَهم على بعض وبما أنفقوا من أموالهم}؛ أي: بسبب فضل الرجال على النساء وإفضالهم عليهنَّ؛ فتفضيل الرجال على النساء من وجوهٍ متعدِّدة: من كون الولايات مختصَّة بالرجال، والنبوَّة، والرسالة، واختصاصهم بكثيرٍ من العبادات كالجهاد والأعياد والجمع، وبما خصَّهم الله به من العقل والرَّزانة والصَّبر والجَلَد الذي ليس للنساء مثله، وكذلك خصَّهم بالنفقات على الزوجات، بل وكثير من النفقات يختصُّ بها الرجال ويتميَّزون عن النساء، ولعل هذا سرُّ قوله: {بما أنفقوا}، وحذف المفعول؛ ليدلَّ على عموم النفقة، فعُلِمَ من هذا كلِّه أنَّ الرجل كالوالي والسيِّد لامرأتِهِ، وهي عنده عانية أسيرةٌ خادمةٌ، فوظيفتُهُ أن يقومَ بما استرعاه الله به، ووظيفتُها القيام بطاعة ربِّها وطاعة زوجها؛ فلهذا قال: {فالصالحاتُ قانتاتٌ}؛ أي: مطيعات لله تعالى، {حافظاتٌ للغيب}؛ أي: مطيعات لأزواجهنَّ حتى في الغيب، تحفظُ بعلَها بنفسها ومالِهِ، وذلك بحفظ الله لهنَّ وتوفيقه لهنَّ لا من أنفسهنَّ؛ فإنَّ النفس أمارةٌ بالسوء، ولكن من توكَّل على الله؛ كفاه ما أهمَّه من أمر دينه ودنياه.
ثم قال: {واللاَّتي تخافونَ نُشوزهنَّ}؛ أي: ارتفاعهن عن طاعة أزواجهنَّ؛ بأن تعصيه بالقول أو الفعل؛ فإنه يؤدِّبها بالأسهل فالأسهل. {فعظوهنَّ}؛ أي: ببيان حكم الله في طاعة الزوج ومعصيته، والترغيب في الطاعة، والترهيب من المعصية؛ فإن انتهت؛ فذلك المطلوب، وإلاَّ؛ فيهجُرُها الزوجُ في المضجع؛ بأن لا يضاجِعَها ولا يجامِعَها بمقدار ما يحصُلُ به المقصود، وإلاَّ؛ ضربها ضرباً غير مبرِّح؛ فإن حصل المقصود بواحد من هذه الأمور وأطعنكم؛ {فلا تبغوا عليهنَّ سبيلاً}؛ أي: فقد حصل لكم ما تحبُّون؛ فاتركوا معاتبتها على الأمور الماضية والتنقيب عن العيوب التي يضرُّ ذكرُها، ويَحْدُثُ بسببه الشرُّ.
{إنَّ الله كان عليًّا كبيراً}؛ أي: له العلوُّ المطلق بجميع الوجوه والاعتبارات؛ علوُّ الذات وعلوُّ القدر، وعلوُّ القهر. الكبير: الذي لا أكبر منه ولا أجلَّ ولا أعظم، كبير الذات والصفات.