تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَيْـًٔا:} یعنی کسی چیز کو کسی صورت میں اس کا شریک نہ بنانا۔ اس کا شریک نہ بنانا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا مالک و مختار تسلیم کیا جائے اور اس کی کسی صفت میں کسی زندہ یا مردہ مخلوق کو شریک قرار نہ دیا جائے، تمام مرادیں اور حاجات اسی سے مانگی جائیں کہ وہی عالم میں متصرف ہے، کوئی اور نہیں۔
➌ {وَ بِالْوَالِدَيْنِ۠ اِحْسَانًا:} توحید کا حکم دینے کے بعد درجہ بدرجہ رشتہ داروں اور دوسرے لوگوں کے حقوق بیان فرمائے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اول حق اللہ تعالیٰ کا، پھر ماں باپ کا اور پھر ان سب کا درجہ بدرجہ۔“(موضح) انسان کے عدم سے وجود میں آنے کا ذریعہ اللہ تعالیٰ کے بعد ماں باپ بنتے ہیں، اس لیے ان کا حق پہلے رکھا۔
➍ {وَ بِذِي الْقُرْبٰى:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکین پر صدقہ صرف صدقہ ہے اور رشتے دار پر صدقہ، صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔“ [ترمذی، الزکاۃ، باب ما جاء فی الصدقۃ…:۶۵۸] اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص پسند کرے کہ اس کے لیے اس کا رزق فراخ کیا جائے اور اس کے نشان قدم میں تاخیر کی جائے تو چاہیے کہ وہ اپنی رشتے داری کو ملائے۔“ [مسلم، البر والصلۃ، باب صلۃ الرحم…: 2557/21]
➎ { وَ الْيَتٰمٰى:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے۔“ آپ نے اپنی شہادت کی اور درمیانی انگلی کو ملا کر بتایا۔ [بخاری، الأدب، باب فضل من یعول یتیمًا: ۶۰۰۵، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ]
➏ مسکین کی تشریح کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ کی آیت (۶۰)۔
➐ { وَ الْجَارِ ذِي الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ:} قرابت والے ہمسائے سے مراد رشتے دار ہمسایہ ہے اور اجنبی ہمسائے سے مراد غیر رشتے دار ہمسایہ ہے۔ ہمسائیگی کے حقوق کی نگہداشت میں متعدد احادیث وارد ہیں، ایک حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام مجھے ہمیشہ پڑوسی کے متعلق وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ وہ پڑوسی کو وارث قرار دے دیں گے۔“ [بخاری، الأدب، باب الوصاءۃ بالجار: ۶۰۱۵، عن ابن عمر رضی اللہ عنھما] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ فرمایا: ”اللہ کی قسم! وہ شخص مومن نہیں ہو سکتا۔“ صحابہ نے پوچھا: ”کون شخص؟“ فرمایا: ”وہ شخص جس کی ایذا رسانیوں سے اس کا ہمسایہ بے خوف نہ ہو۔“ [بخاری، الأدب، باب إثم من لا یأمن جارہ بوائقہ: ۶۰۱۶، عن أبی شریح رضی اللہ عنہ]
➑ { وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ:} پہلو کے ساتھی سے ہم نشین دوست، سفر کا ساتھی، بیوی، علم سیکھنے کے لیے آنے والے یا کاروباری سلسلے میں پاس آ بیٹھنے والے سب مراد ہیں۔
➒ { وَ ابْنِ السَّبِيْلِ:} مسافر سے مراد اکثر سلف کے نزدیک مہمان بھی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”جو شخص اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کا اکرام (عزت افزائی) کرے۔“ [بخاری، الأدب، باب من کان یؤمن…: ۶۰۱۸، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ]
➓ {وَ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ:} اس سے مراد غلام اور لونڈیاں ہیں، کیونکہ وہ ملکیت میں ہونے کی وجہ سے بالکل ہی بے بس ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری وصیت کرتے ہوئے فرمایا: ”نماز اور تمھارے غلام (ان دونوں کا خاص خیال رکھنا)۔“ [أبو داوٗد، الأدب، باب فی حق المملوک: ۵۱۵۶، عن علی رضی اللہ عنہ] آج کل اگرچہ کفار نے زنا پھیلانے اور دوسرے مذموم مقاصد کے لیے غلامی کو ختم کر دیا ہے اور جنگوں میں گرفتار ہونے والی عورتوں کو غلامی کی صورت میں ایک ایک آدمی کی ملکیت میں دینے کی بجائے کیمپوں میں رکھ کر ان پر فوجیوں کے ظلم و جبر اور آبرو ریزی کا دروازہ کھولا ہے، پھر نہ ان بیچاریوں کا کوئی غم خوار یا ذمہ دار ہوتا ہے نہ ان کی اولاد کا کوئی باپ، جب کہ غلامی کی صورت میں وہ ایک مالک کی غلامی میں رہ کر اس کی اولاد کی ماں بن کر عزت حاصل کرتی ہیں۔ مگر اس آیت پر عمل کرنے کے لیے آدمی کے ماتحت افراد جو اگرچہ غلام نہیں، حسن سلوک کے حق دار ہیں، مثلاً گھر، دکان اور کارخانوں کے ملازم اور نوکر چاکر وغیرہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کو اتنا ہی گناہ کافی ہے کہ وہ جن لوگوں کی خوراک کا مالک ہے ان کی خوراک روک لے۔“ [مسلم، الزکوٰۃ، باب فضل النفقۃ…: ۹۹۶، عن ابن عمرو رضی اللہ عنھما]
⓫ { مُخْتَالًا فَخُوْرًا: ”مُخْتَالًا“ } جو خرچ کرنے سے پہلے متکبر ہو اور {”فَخُوْرًا“} جو خرچ کرنے کے بعد فخر کرے۔ معلوم ہوا متکبر اور فخر کرنے والا نام و نمود کے لیے خرچ کرے گا، مگر اللہ کی خاطر خرچ نہیں کر سکتا، اس لیے اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت نہیں رکھتا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اکڑنے والے، شیخی باز بخیل ہوتے ہیں، کسی کو اپنے برابر نہیں سمجھتے کہ اس پر خرچ کریں۔ حقیقی سخی متواضع ہوتے ہیں۔ جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی وصیت فرمائیے۔“ تو آپ نے (چند اہم امور کا تذکرہ کرنے کے بعد) فرمایا: ”تہ بند کو نیچے نہ لٹکاؤ، کیونکہ تہ بند کا (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانا تکبر کی علامت ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔“ [أحمد: 64/5، ح: ۲۰۶۶۳]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[64] والدین سے حسن سلوک کے لیے دیکھیے سورۃ بنی اسرائیل کا حاشیہ نمبر 25 تا 28۔ اور اقرباء سے حسن سلوک کے لیے دیکھیے سورۃ نساء کا حاشیہ نمبر 3۔
[65] یتیموں سے حسن سلوک کے لیے دیکھیے سورۃ نساء کی آیات 2 تا 6 کے حواشی۔
1۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتا ہو وہ اپنے ہمسایہ کو تکلیف نہ پہنچائے“
[بخاری، کتاب النکاح، باب الوصاۃ بالنساء۔۔ مسلم، کتاب الایمان، باب الحث علیٰ اکرام الجار]
2۔ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہ الفاظ دہرائے ”اللہ کی قسم! وہ شخص مومن نہیں“ صحابہ نے پوچھا ”کون یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !“ فرمایا ”جس کی ایذا دہی سے اس کا ہمسایہ امن میں نہ ہو۔“
[بخاری، کتاب الادب، باب اثم من لا یامن جارہ بوائقہ]
3۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کی ایذا دہی سے اس کا ہمسایہ امن میں نہ ہو وہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔“
[مسلم کتاب الایمان۔ باب بیان تحریم ایذاء الجار]
4۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”وہ شخص جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ اپنے ہمسایہ کی عزت کرے“
[مسلم۔ کتاب الایمان، باب الحث علی اکرام الجار]
5۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جبریل مجھے ہمسایہ سے حسن سلوک کے بارے میں اتنی وصیت کرتے رہے کہ میں نے سمجھا کہ وہ اسے وارث بھی بنا دیں گے۔“
[بخاری، کتاب الادب، باب الوصایہ بالجار مسلم، کتاب البر والصلۃ باب الوصیۃ بالجار]
6۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو ذرؓ سے فرمایا: ”ابو ذر جب تم سالن پکاؤ تو اس کا شوربا زیادہ کر لیا کرو اور اپنے پڑوسیوں کا بھی خیال رکھو۔“ [مسلم۔ ايضاً]
7۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہمسایہ اپنے قرب کی وجہ سے (فروختنی جائیداد کا) زیادہ حقدار ہے۔“
[بخاری کتاب السلم باب عرض الشفعۃ علی صاحبہا قبل البیع]
8۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے پوچھا ”اللہ کے رسول! میرے دو پڑوسی ہیں تو میں کس کو تحفہ بھیجوں“ فرمایا ”جس کا دروازہ زیادہ قریب ہو۔“
[بخاری، کتاب المسلم باب ای الجوار اقرب]
9۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے مسلم عورتو! کوئی ہمسائی اپنی ہمسائی کے تحفہ کو حقیر نہ سمجھے خواہ وہ تحفہ بکری کا کھر ہی کیوں نہ ہو۔“
[بخاری، کتاب الہبتہ، و التحریض علیہا مسلم، کتاب الزکوٰۃ، باب الحث علی الصدقۃ]
10۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی ہمسایہ اپنے ہمسایہ کو اپنی دیوار میں لکڑی (شہتیر وغیرہ) رکھنے سے منع نہ کرے۔“
[بخاری، کتاب المظالم۔ باب لایمنع جار جارہ ان یغرز خشبہ فی جدارہ]
11۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب آپ اپنے ہمسایوں کو یہ کہتے سنیں کہ آپ نے اچھا کام کیا تو فی الواقع آپ نے اچھا کام کیا اور جب آپ سنیں کہ آپ نے برا کام کیا تو فی الواقع آپ نے برا کام کیا۔“
[ابن ماجہ، ابواب الزھد فی الدنیا، باب الثناء الحسن]
12۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص مسلمان نہیں جو خود تو پیٹ بھر کر کھاتا ہے اس حال میں کہ اس کا ہمسایہ بھوکا رہے۔“
[شعب الایمان للبیہقی]
اس آیت میں تین قسم کے ہمسایوں کا ذکر آیا ہے۔ ایک وہ جو ہمسائے بھی ہوں اور رشتہ دار بھی ہوں۔ دوسرے وہ جو تمہارے پہلو میں یا تمہارے مکان کے پاس تو رہتے ہوں مگر تمہارے رشتہ دار نہ ہوں۔ تیسرے وہ جو تمہاری سوسائٹی سے متعلق ہوں مثلاً وہ دوست احباب جو ایک جگہ مل بیٹھتے ہوں یا کسی دفتر میں یا دوسری جگہ اکٹھے کام کرتے ہوں اور اکثر میل ملاقات رہتی ہو۔ حسن سلوک تو ان سب سے کرنا چاہیے۔ تاہم اسی ترتیب سے الاقرب فالاقرب کا خیال ضرور رکھا جائے۔ سب سے زیادہ حقدار رشتہ دار ہمسائے ہیں، پھر ان کے بعد اپنے گھر کے آس پاس رہنے والے ہمسائے۔ اور ایک روایت کے مطابق ایسے ہمسایوں کی حد چالیس گھروں تک ہے پھر ان کے بعد ان ہمسایوں کی باری آتی ہے جو اپنے ہم نشین، ہم جماعت یا کو لیگ ہوں۔ اور مندرجہ بالا احادیث سے نہایت اہم چیز جو سب سے پہلے ذہن میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ اسلام معاشرتی زندگی اور مل جل کر رہنے کا زبردست مؤید ہے۔ آج کے دور میں کوٹھیوں اور بنگلوں میں رہائش ہے جہاں ساتھ والے ہمسائے تک کو اس کی غمی یا خوشی کی خبر تک نہیں ہوتی، یہ اسلامی نظریہ معاشرت کے عین برعکس ہے۔ پھر اسلام جن اعلیٰ اقدار کا سبق دیتا ہے تہذیب و تمدن کی تبدیلی نے ان اقدار کو بھی یکسر بدل دیا ہے مثلاً اسلام یہ سکھاتا ہے کہ کوئی ہمسایہ اپنے ہمسائے کو اپنی دیوار پر شہتیر رکھ لینے سے منع نہ کرے مگر یہاں یہ حال ہے کہ اگر ہمسائے بھائی بھائی بھی ہوں تو ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اپنی دیوار اپنے بھائی کی دیوار سے بالکل الگ تعمیر کرے۔ گو یہ اس لحاظ سے بہتر ہے کہ بعد میں کسی وقت تنازعہ پیدا نہ ہو مگر شریعت نے تنازعہ پیدا کرنے کا نہیں بلکہ تنازعہ کو ختم کرنے اور بھائی بھائی نہ ہونے کے باوجود بھائی بھائی بن کر رہنے کا سبق دیا تھا۔ پھر ان احادیث میں جو حقوق بیان کیے گئے ہیں وہ بڑے واضح ہیں جن کی شرح و تفصیل کی ضرورت نہیں اور پڑھنے کے بعد یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ہمسائے بھی اپنے ہی گھر کے افراد ہیں اور یہ بھی غور فرمائیے کہ اگر ان ارشادات نبوی پر عمل کیا جائے تو معاشرہ میں کس قدر خوشگوار ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔
1۔ سیدنا ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں جا رہے تھے۔ اثنائے سفر میں آپ نے ہمیں فرمایا ”جس کے پاس فاضل سواری ہے وہ اسے دے دے جس کے پاس سواری نہیں اور جس کے پاس زائد کھانا ہو وہ اسے دے دے جس کے پاس کھانا نہیں۔ غرضیکہ آپ نے مال کی ایک ایک قسم کا جدا جدا ذکر کیا۔ حتیٰ کہ ہم یہ سمجھنے لگے کہ اپنے زائد مال میں ہمارا کوئی حق نہیں ہے۔“
[مسلم، کتاب اللقطۃ، باب استحباب المواسات بفضول المال]
2۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ نے ایک شخص کو جو سفر پر روانہ ہو رہا تھا، کہا کہ میرے پاس آؤ۔ میں تمہیں ایسے ہی رخصت کروں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں رخصت کیا کرتے تھے۔ پھر انہوں نے کہا
«اَسْتَوْدِعُ اللهَ دِيْنَكَ وَاَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيْمَ عَمَلِكَ»
[میں تمہارا دین، تمہاری امانت اور تمہارے آخری اعمال اللہ کے سپرد کرتا ہوں]
[ترمذی، ابواب الدعوات، باب مایقول اذا ودع انسانا]
3۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تین آدمی ایسے ہیں جن کی طرف اللہ قیامت کے دن دیکھے گا بھی نہیں اور نہ انہیں پاک کرے گا اور انہیں دردناک عذاب ہو گا۔ ایک وہ جس کے پاس راستہ میں فاضل پانی ہو اور وہ مسافر کو بھی پانی نہ دے۔“
[بخاری، کتاب المساقات۔ باب اثم من منع ابن السبیل من الماء]
4۔ سیدنا عقبہ بن عامرؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ ہمیں روانہ کرتے ہیں پھر ہم (راستے میں) ایسے لوگوں کے پاس اترتے ہیں جو ہماری مہمانی تک نہیں کرتے تو آپ کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر وہ لوگ دستور کے مطابق تمہاری مہمانی کریں تو فبہا اور اگر نہ کریں تو دستور کے مطابق مہمانی کا حق ان سے وصول کر لو۔“
[بخاری۔ کتاب الادب باب اکرام الضیف و خدمتہ ایاہ بنفسہ۔۔ الخ]
مندرجہ بالا احادیث سے جو نتائج اخذ ہوتے ہیں وہ یہ ہیں:
1۔ ہم سفر لوگوں کو ایک دوسرے سے تعاون کرنا ضروری ہے۔ اگر ایک مسافر کے پاس کھانے پینے کی یا ضرورت کی کوئی بھی چیز اپنی ضرورت سے زائد ہے تو اسے اپنے ایسے مسافر بھائی کو وہ چیز دینا ضروری ہے جس کے پاس وہ چیز نہ ہو اور پانی کا بالخصوص اس لیے ذکر آیا کہ یہ زندگی کی نہایت اہم بنیادی ضرورت ہے۔ لہٰذا اپنی ضرورت سے زائد پانی نہ دینے کو گناہ کبیرہ قرار دیا گیا ہے۔ فقہاء کہتے ہیں کہ جس فعل کے متعلق قرآن یا حدیث میں یہ مذکور ہو کہ اللہ قیامت کے دن اس کی طرف دیکھے گا بھی نہیں، یا پاک نہیں کرے گا تو ایسا فعل گناہ کبیرہ ہوتا ہے۔
2۔ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں عرب بھر میں پانی کی بھی قلت تھی اور بستیوں اور شہروں کی بھی۔ لہٰذا اس دور میں بستی والوں کا مسافروں کی مہمانی سے انکار در اصل انہیں مار دینے کے مترادف ہوتا تھا لہٰذا بصورت انکار ان سے حق وصول کر لینے کی اجازت دی گئی لیکن آج کل اور بالخصوص پاکستان میں ایسی صورت نہیں ہے پانی عام ہے۔ بستیاں قریب قریب ہیں اور کھانے پینے کی دکانیں اور ہوٹل بکثرت موجود ہیں۔ لہٰذا ان حالات میں کسی نا جائز طریقہ سے مہمانی وصول کرنے کا حق نہیں اور اب یہ صرف اس صورت میں جائز ہے جب مسافر کے پاس زاد راہ ختم ہو جائے اور کوئی شخص اس کو کھانا کھلانے یا مہمانی کرنے پر تیار نہ ہو ایسے مسافر کو صدقہ حتیٰ کہ زکوٰۃ بھی دی جا سکتی ہے خواہ وہ اپنی گھر میں کتنا ہی امیر ہو۔
1۔ سیدنا ابو ذرؓ کہتے ہیں کہ میرے اور فلاں (سیدنا بلالؓ آزاد شدہ حبشی غلام) کے درمیان سخت کلامی ہوئی تو میں نے اسے ماں کی عار دلائی (یہ کہا تھا اے کالی ماں کے بیٹے!) تو انہوں نے (بلالؓ نے یہ بات آپ کو بتا دی۔ آپ نے مجھے فرمایا 'ابو ذرؓ! تم ایسے انسان ہو جس میں جاہلیت (ابھی باقی) ہے۔ میں نے کہا ”اتنی بڑی عمر ہو جانے کے باوجود بھی باقی ہے؟“ فرمایا ”ہاں! یہ تمہارے خادم تمہارے بھائی ہیں جنہیں اللہ نے تمہارے ماتحت کر دیا ہے۔ تو جس شخص کا بھائی اللہ اس کے تحت کر دے تو اسے چاہیے کہ اسے وہی کچھ کھلائے جو خود کھاتا ہے اور وہی پہنائے جو خود پہنتا ہے۔ ایسا کام کرنے کو نہ کہے جو اس پر بھاری ہو۔ اور اگر ایسا کام کرنے کو کہے تو خود اس کی مدد بھی کرے۔“
[بخاری کتاب الادب۔ باب ماینھی من السباب واللعن۔ نیز کتاب الایمان۔ باب المعاصی من امر الجاھلیۃ]
2۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اپنے غلام پر تہمت لگائے درآنحالیکہ وہ اس چیز سے بری ہو جو اس نے تہمت لگائی ہے تو قیامت کے دن اسے کوڑے لگائے جائیں گے۔“
[بخاری۔ کتاب المحاربین، باب قذف العبید]
3۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں سے کسی کے پاس اس کا خادم کھانا لائے تو اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھلائے اور اگر کھانا کم ہو تو بھی اسے لقمہ دو لقمے دے دے۔ کیونکہ اس نے پکانے کی گرمی اور دھواں برداشت کیا ہے۔“
[بخاری، کتاب العتق، باب اذا اتاہ خادمۃ بطعامہ]
4۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر کسی کے پاس لونڈی ہو اور وہ اس کو اچھی طرح تعلیم دے اور اچھی طرح ادب سکھائے۔ پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کر لے تو اسے دوہرا اجر ملے گا۔“
[بخاری، کتاب النکاح، باب اتخاذ السراری۔ نیز کتاب العلم۔ باب تعلیم الرجل امتہ واھلہ]
5۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص (اپنے لونڈی غلام کو) عبد (بندہ) اور امۃ (بندی) نہ کہے کیونکہ تم سب اللہ کے بندے ہو اور سب عورتیں اللہ کی بندیاں ہیں بلکہ یوں کہو۔ میرا خادم اور میری خادمہ اور میرا بچہ اور میری بچی۔“
[مسلم۔ کتاب الالفاظ من الادب، باب حکم اطلاق لفظۃ العبد والامۃ و المولی والسید]
6۔
[مسلم۔ کتاب الایمان، باب صحبۃ الممالیک]
7۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اپنے غلام کو بغیر کسی قصور کے حد لگائے یا طمانچہ مارے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کر دے۔“ [مسلم۔ حواله ايضاً]
8۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا ”میں اپنے غلام کو کتنی بار معاف کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ اس نے اپنی بات دہرائی تو بھی آپ خاموش رہے۔ پھر تیسری بار جب یہی بات پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”خادم کو ہر دن میں ستر دفعہ معاف کرو“
[ابو داؤد، کتاب الادب باب فی حق المملوک]
9۔ سیدنا ابو الدرداءؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ کے دروازہ کے پاس ایک حاملہ عورت لائی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ”غالباً وہ شخص (جس کے حصہ میں یہ آئی ہے) اس سے جماع کرنا چاہتا تھا؟“ صحابہ نے کہا جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں چاہتا ہوں کہ اس پر ایسی لعنت کروں جو قبر میں اس کے ساتھ داخل ہو بھلا وہ اس بچہ کا کیسے وارث ہو سکتا ہے حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں اور وہ اس بچہ کو کیسے غلام بنا سکتا ہے۔ حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں۔“
[مسلم، کتاب النکاح۔ باب تحریم وطی الحامل المسبیۃ]
10۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص کسی آزاد آدمی کو غلام بنائے، قیامت کے دن میں خود اس کے خلاف استغاثہ کروں گا۔“
[بخاری بحوالہ مشکوٰۃ۔ کتاب البیوع۔ باب الاجارۃ۔ فصل اول]
جنگ بدر کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگی قیدیوں کو مختلف صحابہ کے گھروں میں بانٹ دیا اور ساتھ ہی یہ تاکید فرمائی کہ: «استَوْصُوْا بِالْاُسَاريٰ خَيْرًا» یعنی ان قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ انہی قیدیوں میں سے ایک قیدی ابو عزیز کا بیان ہے کہ مجھے جس انصاری کے گھر میں رکھا گیا تھا وہ خود تو کھجوریں کھاتے تھے۔ لیکن مجھے صبح و شام روٹی کھلاتے تھے۔
11۔
[مسلم کتاب المساجد۔ باب تحریم الکلام فی الصلٰوۃ]
اسلام سے پہلے غلاموں کی جس قدر بد تر حالت تھی وہ سب کو معلوم ہے۔ اسلام نے غلاموں کو اتنے حقوق عطا کیے کہ وہ معاشرہ کا معزز فرد بن گئے۔ اسلام نے ان سے حسن سلوک کی جو تاکید کی تھی یہ اسی کا اثر تھا کہ نام کے علاوہ غلام اور آزاد میں کچھ فرق نہ رہ گیا۔ غلاموں کا فقیہ اور محدث ہونا تاریخ سے ثابت ہے اور یہ بہت بڑا اعزاز ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیدؓ بن حارثہ کو اپنا متبنیٰ بنایا۔ پھر اپنی پھوپھی زاد بہن سے ان کا نکاح کر دیا۔ زیدؓ بن حارثہ اور ان کے بیٹے اسامہؓ بن زیدؓ دونوں کو کئی بار سپہ سالار لشکر بنایا۔ جن کے تحت صحابہ کبار جنگ میں شریک ہوئے۔ سیدنا بلالؓ کو جو کالے رنگ اور موٹے ہونٹوں والے حبشی غلام تھے سیدنا عمرؓ سیدنا بلالؓ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ سیدنا عمرؓ نے اپنی وفات کے وقت ابو حذیفہؓ کے آزاد کردہ غلام سیدنا سالمؓ کے متعلق فرمایا کہ آج اگر وہ زندہ ہوتے تو میں انہیں خلیفہ نامزد کر دیتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ”اگر تم پر نکٹا غلام بھی امیر بنا دیا جائے تو جب تک وہ تمہیں اللہ کے احکام کے مطابق چلاتا رہے اس کی بات سنو اور اطاعت کرو۔“
[مسلم، کتاب الامارۃ باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ۔۔]
چنانچہ تاریخ میں ایسے بے شمار مسلمان بادشاہ گزرے ہیں جو غلام تھے۔ محمود غزنوی مشہور فاتح ہند بھی آزاد کردہ غلام تھا۔ ہندوستان اور مصر میں غلاموں کے خاندان نے صدیوں تک حکومت کی۔ مغلوں کی ہند میں آمد سے بہت پہلے خاندان غلاماں کے کئی فرمانرواؤں نے ہند پر حکومت کی۔ اب وہ کونسا اعزاز باقی رہ جاتا ہے جو آزاد کے ساتھ مخصوص ہو اور غلام اس سے محروم ہو۔ اور بعض لوگوں نے ﴿اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ﴾ میں ان جانوروں اور مویشیوں کو بھی شامل کیا ہے جو انسان اپنی ضرورت کے تحت اپنے گھر میں پالتا ہے مثلاً سواری کے لیے گھوڑا یا اونٹ۔ دودھ حاصل کرنے کے لیے بھیڑ بکری یا گائے بھینس اور انڈوں اور گوشت وغیرہ کے لیے مرغیاں پالنا وغیرہ۔ کہ یہ جانور بھی اپنے مالک کے حسن سلوک کے مستحق ہیں اور یہ توجیہ اس لحاظ سے بہت خوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں پر رحم کرنے اور ان سے بہتر سلوک کرنے کی بہت تاکید فرمائی ہے۔
[69] یعنی وہ لوگ جو اپنی انا میں مست و مغرور رہتے ہیں اور شیخی بگھارتے ہیں اور اللہ کے احکام کی پروا نہیں کرتے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جانتے ہو اللہ عزوجل کا حق بندوں پر کیا ہے؟“ آپ جواب دیتے ہیں اللہ اور اس کا رسول بہت زیادہ جاننے والے ہیں آپ نے فرمایا: ”یہ کہ وہ اسی کی عبادت کریں اسی کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں“، پھر فرمایا: ”جانتے ہو جب بندے یہ کریں تو ان کا حق اللہ تعالیٰ کے ذمہ کیا ہے؟ یہ کہ انہیں وہ عذاب نہ کرے“ ۱؎ [صحیح بخاری:6500]
پھر فرماتا ہے ماں باپ کے ساتھ احسان کرتے رہو وہی تمہارے عدم سے وجود میں آنے کا سبب بنے ہیں۔
قرآن کریم کی بہت سی آیتوں میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی عبادت کے ساتھ ہی ماں باپ سے سلوک و احسان کرنے کا حکم دیا ہے جیسے فرمایا «اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ» ۱؎ [31-لقمان:14]
اور «وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا» ۱؎ [17-الإسراء:23] یہاں بھی یہ بیان فرما کر پھر حکم دیتا ہے کہ اپنے رشتہ داروں سے بھی سلوک و احسان کرتے رہو۔
حدیث میں ہے مسکین کو صدقہ دینا صرف صدقہ ہی ہے لیکن قریبی رشتہ داروں کو دینا صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی،۱؎ [سنن ترمذي:685،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر حکم ہوتا ہے کہ یتیموں کے ساتھ بھی سلوک و احسان کرو اس لیے کہ ان کی خبرگیری کرنے والا ان کے سر پر محبت سے ہاتھ پھیرنے والا ان کے ناز، لاڈ اٹھانے والا نہیں محبت کے ساتھ کھلانے پلانے والا ان کے سر سے اٹھ گیا ہے۔ پھر مسکینوں کے ساتھ نیکی کرنے کا ارشاد کیا کہ وہ حاجت مند ہے ہاتھ میں محتاج ہیں ان کی ضرورتیں تم پوری کرو ان کی احتیاج تم رفع کرو ان کے کام تم کر دیا کرو۔ فقیرو مسکین کا پورا بیان سورۃ براۃ کی تفسیر میں آئے گا۔ «ان شاءاللہ تعالیٰ»
پڑوسیوں کے حق میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں کچھ سن لیجئے۔
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مجھے جبرائیل علیہ السلام پڑوسیوں کے بارے میں یہاں تک وصیت و نصیحت کرتے ہیں کہ مجھے گمان ہوا کہ شاید یہ پڑوسیوں کو وارث بنا دیں گے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6015]
فرماتے ہیں: { ”بہتر ساتھی اللہ کے نزدیک وہ ہے جو اپنے ہمراہیوں کے ساتھ خوش سلوک زیادہ ہو اور پڑوسیوں میں سے سب سے بہتر اللہ کے نزدیک وہ ہے جو ہمسایوں سے نیک سلوک میں زیادہ ہو“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1944،قال الشيخ الألباني:صحیح]
فرماتے ہیں: { ”انسان کو نہ چاہیئے کہ اپنے پڑوسی کی آسودگی بغیر خود شکم سیر ہو جائے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:1/54:منقطع ولہ شواھد]
{ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے سوال کیا: ”زنا کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟“ لوگوں نے کہا: وہ حرام ہے اللہ نے اور اس کے رسول نے اسے حرام کیا ہے اور قیامت تک وہ حرام ہی رہے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو دس عورتوں سے زناکاری کرنے والا اس شخص کے گناہ سے کم گنہگار ہے جو اپنے پڑوسی کی عورت سے زنا کرے“، پھر دریافت فرمایا: ”تم چوری کی نسبت کیا کہتے ہو؟“ انہوں نے جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالیٰ نے اس کے رسول نے حرام کیا ہے اور وہ بھی قیامت تک حرام ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو دس گھروں سے چوری کرنے والے گناہ کا اس شخص کے گناہ سے ہلکا ہے جو اپنے پڑوسی کے گھر سے کچھ چرالے“ }۔۱؎ [مسند احمد:8/6،قال الشيخ الألباني:صحیح]
{ ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے گھر سے چلا وہاں پہنچ کر دیکھتا ہوں کہ ایک صاحب کھڑے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہیں میں نے خیال کیا کہ شاید انہیں آپ سے کچھ کام ہو گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہیں اور ان سے باتیں ہو رہی ہیں بڑی دیر ہو گئی یہاں تک کہ مجھے آپ کے تھک جانے کے خیال نے بےچین کر دیا بہت دیر کے بعد آپ لوٹے اور میرے پاس آئے میں نے کہا اے اللہ کے رسول! اس شخص نے تو آپ کو بہت دیر کھڑا رکھا میں تو پریشان ہو گیا آپ کے پاوں تھک گئے ہوں گے، آپ نے فرمایا: ”اچھا تم نے انہیں دیکھا“، میں نے کہا: ہاں خوب اچھی طرح دیکھا فرمایا: ”جانتے ہو وہ کون تھے؟ وہ جبرائیل علیہ السلام تھے، مجھے پڑوسیوں کے حقوق کی تاکید کرتے رہے یہاں تک ان کے حقوق بیان کئے کہ مجھے کھٹکا ہوا کہ غالباً آج تو پڑوسی کو وارث ٹھہرا دیں گے“ } ۱؎ [مسند احمد:5/32،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند عبد بن حمید میں ہے { سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص عوالی مدینہ سے آیا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور جبرائیل علیہ الصلوۃ والسلام اس جگہ نماز پڑھ رہے تھے جہاں جنازوں کی نماز پڑھی جاتی ہے جب آپ فارغ ہوئے تو اس شخص نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ دوسرا شخص کون نماز پڑھ رہا تھا، آپ نے فرمایا: ”تم نے انہیں دیکھا؟“ اس نے کہا: ہاں، فرمایا: ”تو نے بہت بڑی بھلائی دیکھی یہ جبرائیل تھے مجھے پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ عنقریب اسے وارث بنا دیں گے“ }۔ ۱؎ [مسند بزار:1897:صحیح بالشواھد]
نویں حدیث مسند احمد میں ہے { سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ میرے دو پڑوسی ہیں میں ایک کو ہدیہ بھیجنا چاہتی ہوں تو کسے بھجواؤں؟ آپ نے فرمایا: ”جس کا دروازہ قریب ہو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2259]
دسویں حدیث طبرانی میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا لوگوں نے آپ کے وضو کے پانی کو لینا اور ملنا شروع کیا آپ نے پوچھا: ایسا کیوں کرتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں، آپ نے فرمایا: ”جسے یہ خوش لگے کہ اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کریں تو اسے چاہیئے کہ جب بات کرے سچ کرے اور جب امانت دیا جائے تو ادا کرے“ }۔ (تفسیر ابن کثیر میں یہ حدیث یہیں پر ختم ہے لیکن شاید اگلا جملہ اس کا سہوا رہ گیا ہے جس کا صحیح تعلق اس مسئلہ سے ہے وہ یہ کہ اسے چاہیئے پڑوسی کے ساتھ سلوک و احسان کرے۔ مترجم)۔ ۱؎ [بیہقی:2/1533،قال الشيخ الألباني:صحیح]
گیارھویں حدیث مسند احمد میں ہے کہ { قیامت کے دن سب سے پہلے جو جھگڑا اللہ کے سامنے پیش ہو گا وہ دو پڑوسیوں کا ہو گا}۔۱؎ [مسند احمد:4/151،قال الشيخ الألباني:حسن]
مسلم میں ہے کہ { سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ دراوغہ سے فرمایا کہ کیا غلاموں کو تم نے ان کی خوراک دے دی؟ اس نے کہا اب تک نہیں دی فرمایا جاؤ دے کر آؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے انسان کو یہی گناہ کافی ہے کہ جن کی خوراک کا وہ مالک ہے ان سے روک رکھے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:996]
مسلم میں ہے { مملوکہ ماتحت کا حق ہے کہ اسے کھلایا پلایا پہنایا اڑھایا جائے اور اس کی طاقت سے زیادہ کام اس سے نہ لیا جائے}۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1662]
بخاری شریف میں ہے { جب تم میں سے کسی کا خادم اس کا کھانا لے کر آئے تو تمہیں چاہیئے کہ اگر ساتھ بٹھا کر نہیں کھلاتے تو کم از کم اسے لقمہ دو لقمہ دے دو خیال کرو کہ اس نے پکانے کی گرمی اور تکلیف اٹھائی ہے}۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5460]
اور روایت میں ہے کہ { چاہیئے تو یہ کہ اسے اپنے ساتھ بٹھا کر کھلائے اور اگر کھانا کم ہو تو لقمہ دو لقمے ہی دے دیا کرو، آپ فرماتے ہیں تمہارے غلام بھی تمہارے بھائی ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہارے ماتحت کر دیا ہے پس جس کے ہاتھ تلے اس کا بھائی ہو اسے اپنے کھانے سے کھلائے اور اپنے پہننے میں سے پہنائے اور ایسا کام نہ کرے کہ وہ عاجز ہو جائے اگر کوئی ایسا ہی مشکل کام آ پڑے تو خود بھی اس کا ساتھ دے}۔ ۱؎ [صحیح بخاری:30]
ابورجاہروی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر بدخلق متکبر اور خود پسند ہوتا ہے پھر اسی آیت کو تلاوت کیا اور فرمایا ہر ماں باپ کا نافرمان سرکش اور بدنصیب ہوتا ہے پھر آپ نے آیت «وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا» ۱؎ [19-مريم:32] پڑھی، عوام بن حوشب رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
مطرب رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی ایک روایت ملی تھی میرے دل میں تمنا تھی کہ کسی وقت خود سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مل کر اس روایت کو انہی کی زبانی سنوں چنانچہ ایک مرتبہ ملاقات ہو گئی تو میں نے کہا مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بیان فرماتے ہیں کہ { اللہ تعالیٰ تین قسم کے لوگوں کو دوست رکھتا ہے اور تین قسم کے لوگوں کو ناپسند فرماتا ہے ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں یہ سچ ہے میں بھلا اپنے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم پر بہتان کیسے باندھ سکتا ہوں؟ میں نے کہا اچھا پھر وہ تین کون ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ دشمن رکھتا ہے۔ آپ نے اسی آیت «إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا» ۱؎ [4-النساء:36] کی تلاوت کی اور فرمایا اسے تو تم کتاب اللہ میں پاتے بھی ہو } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:3/5313:صحیح]
بنو ہجیم کا ایک شخص رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتا ہے { مجھے کچھ نصیحت کیجئے آپ نے فرمایا کپڑا ٹخنے سے نیچا نہ لٹکاؤ کیونکہ یہ تکبر اور خود پسندی ہے جسے اللہ ناپسند رکھتا ہے}۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2721:صحیح]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يأمر تعالى عباده بعبادتِهِ وحدَه لا شريك له، وهو الدخول تحت رقِّ عبوديَّتِهِ والانقياد لأوامره ونواهيه محبةً وذلًّا وإخلاصاً له في جميع العبادات الظاهرة والباطنة، وينهى عن الشرك به شيئاً، لا شركاً أصغر، ولا أكبر، لا مَلَكاً، ولا نبيًّا، ولا وليًّا، ولا غيرهم من المخلوقين الذين لا يملِكون لأنفسهم نفعاً ولا ضرًّا ولا موتاً ولا حياة ولا نشوراً، بل الواجبُ المتعيِّن إخلاصُ العبادة لمن له الكمالُ المطلق من جميع الوجوه، وله التدبير الكامل الذي لا يَشْرَكُه ولا يعينُهُ عليه أحدٌ.
ثم بعد ما أمر بعبادتِهِ والقيام بحقِّه أمر بالقيام بحقوق العبادِ الأقرب فالأقرب، فقال: {وبالوالدين إحساناً}؛ أي: أحسنوا إليهم بالقول الكريم والخطاب اللطيف والفعل الجميل، بطاعةِ أمرِهما واجتنابِ نهيِهِما، والإنفاق عليهما، وإكرام من له تعلُّق بهما، وصلة الرحم التي لا رحمَ لك إلاَّ بهما. وللإحسان ضدَّانِ الإساءةُ وعدمُ الإحسان، وكلاهما منهيٌّ عنه. {وبذي القربى} أيضاً إحساناً، ويشمل ذلك جميع الأقارب، قَرُبوا أو بَعُدوا، بأن يُحْسِنَ إليهم بالقول والفعل، وأنْ لا يقطعَ برحمه بقولِهِ أو فعلِهِ. {واليتامى}؛ أي: الذين فُقِدَ آباؤهم وهم صغارٌ، فلهم حقٌّ على المسلمين، سواءٌ كانوا أقارب أو غيرهم، بكفالتهم وبِرِّهم وجبرِ خواطرِهم وتأديبِهم وتربيتهم أحسن تربية في مصالح دينهم ودنياهم. {والمساكين}: وهم الذين أسكنتهم الحاجةُ والفقرُ، فلم يحصُلوا على كفايتهم ولا كفاية من يمونون، فأمر الله تعالى بالإحسان إليهم بسدِّ خلَّتهم وبدفع فاقتهم والحضِّ على ذلك والقيام بما يمكن منه. {والجار ذي القربى}؛ أي: الجار القريب الذي له حقَّان؛ حقُّ الجوار وحقُّ القرابة؛ فله على جارِهِ حقٌّ وإحسانٌ راجعٌ إلى العرف. وكذلك {الجار الجُنُب}؛ أي: الذي ليس له قرابةٌ، وكلَّما كان الجارُ أقربَ باباً؛ كان آكد حقًّا، فينبغي للجار أن يتعاهدَ جارَه بالهدية والصدقة والدعوة واللطافة بالأقوال والأفعال وعدم أذيَّتِهِ بقول أو فعل. {والصاحب بالجنب}: قيل: الرفيقُ في السفر، وقيل: الزوجة، وقيل: الصاحب مطلقاً، ولعله أولى؛ فإنه يَشْمَلُ الصاحبَ في الحضر والسفر ويَشْمَلُ الزوجةَ؛ فعلى الصاحب لصاحبه حقٌّ زائد على مجرَّد إسلامه، من مساعدته على أمور دينه ودنياه، والنصح له، والوفاء معه في اليسر والعسر والمنشط والمكره، وأن يحبَّ له ما يحبُّ لنفسه، ويكره له مايكره لنفسه، وكلَّما زادت الصحبة؛ تأكد الحق وزاد. {وابن السبيل}: وهو الغريب الذي احتاج في بلد الغربة أو لم يحتج؛ فله حقٌّ على المسلمين لشدَّة حاجتِهِ وكونِهِ في غير وطنه بتبليغه إلى مقصوده أو بعض مقصوده وبإكرامه وتأنيسه. {وما ملكت أيمانكم}؛ أي: من الآدميين والبهائم، بالقيام بكفايتهم وعدم تحميلهم ما يشقُّ عليهم، وإعانتُهم على ما تحمَّلوه وتأديبهم لما فيه مصلحتُهم؛ فَمَنْ قام بهذه المأمورات؛ فهو الخاضع لربه، المتواضع لعباد الله، المنقاد لأمر الله وشرعه، الذي يستحقُّ الثواب الجزيل والثناء الجميل، ومن لم يقم بذلك؛ فإنه عبد معرِضٌ عن ربه، غير منقاد لأوامره، ولا متواضع للخلق، بل هو متكبِّر على عباد الله، معجبٌ بنفسه، فخورٌ بقوله. ولهذا قال: {إنَّ الله لا يحبُّ من كان مختالاً}؛ أي: معجَباً بنفسه متكبراً على الخلق، {فخوراً}؛ يثني على نفسه ويمدحُها على وجه الفخر والبطرِ على عباد الله؛ فهؤلاء ما بهم من الاختيال والفخر يمنعُهم من القيام بالحقوق، ولهذا ذمَّهم بقوله: {الذين يبخلون}؛ أي: يمنعون ما عليهم من الحقوق الواجبة، {ويأمرون الناس بالبُخل}: بأقوالهم وأفعالهم، {ويكتُمون ما آتاهمُ الله من فضلِهِ}؛ أي: من العلم الذي يهتدي به الضالون ويسترشِدُ به الجاهلون، فيكتُمونه عنهم، ويُظْهِرون لهم من الباطل ما يَحولُ بينَهم وبين الحقِّ، فجمعوا بين البخل بالمال والبخل بالعلم وبين السعي في خسارة أنفسهم وخسارة غيرهم، وهذه هي صفات الكافرين؛ فلهذا قال تعالى: {وأعتَدْنا للكافرين عذاباً مهيناً}؛ أي: كما تكبَّروا على عباد الله، ومنعوا حقوقه، وتسبَّبوا في منع غيرِهم من البخل وعدم الاهتداء؛ أهانهم بالعذاب الأليم والخزي الدائم؛ فعياذاً بك اللهمَّ من كلِّ سوء.