تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
مولانا محمد عبدہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ آیت میں {” مَوَالِيَ “} سے مراد عصبہ ہیں اور عصبہ کی وراثت میں { ”اَلْأَقْرَبُ فَالْأَقْرَبُ“ } کا اصول مقرر ہے، یعنی اول سب سے قریبی، پھر دوسرا اور ایک حدیث میں بھی [فَلِأَوْلٰي رَجُلٍ ذَكَرٍ] کے الفاظ ہیں، یعنی اصحاب فروض سے جو کچھ بچ جائے گا وہ عصبہ میں سے اس شخص کو ملے گا جو میت کے مردوں میں سب سے زیادہ قریب ہو گا اور اس پر علماء کا اجماع بھی ہو چکا ہے۔ [دیکھیے فتح الباری: 294/6۔ المحلٰی: 271/9۔ أحکام القرآن للجصاص: 224/2]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[بخاری، کتاب التفسیر نیز کتاب الکفالہ باب قول اللہ والذین عقدت ایمانکم]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بعض کہتے ہیں «عصبہ» مراد ہیں؟ چچا کی اولاد کو بھی «موالی» کہا جاتا ہے جیسے فضل بن عباس رحمہ اللہ کے شعر میں ہے۔ پس مطلب آیت کا یہ ہوا کہ اے لوگو! تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے عصبہ مقرر کر دئیے ہیں جو اس مال کے وارث ہوں گے جسے ان کے ماں باپ اور قرابتدار چھوڑ مریں اور تمہارے منہ بولے بھائی ہیں تم جن کی قسمیں کھا کر بھائی بنے ہو اور وہ تمہارے بھائی بنے ہیں انہیں ان کی میراث کا حصہ دو جیسے کہ قسموں کے وقت تم میں عہد و پیمان ہو چکا تھا، یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا پھر منسوخ ہو گیا اور حکم ہوا کہ جن سے عہد و پیمان ہوئے وہ نبھائے جائیں اور بھولے نہ جائیں لیکن میراث انہیں نہیں ملے گی۔
صحیح بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ موالی سے مراد وارث ہیں اور بعد کے جملہ سے مراد یہ ہے کہ مہاجرین جب مدینہ شریف میں تشریف لائے تو یہ دستور تھا کہ ہر مہاجر اپنے انصاری بھائی بند کا وارث ہوتا اس کے ذو رحم رشتہ دار وارث نہ ہوتے پس آیت نے اس طریقے کو منسوخ قرار دیا اور حکم ہوا کہ ان کی مدد کرو انہیں فائدہ پہنچاؤ ان کی خیر خواہی کرو لیکن میراث انہیں نہیں ملے گی ہاں وصیت کر جاؤ۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4580]
ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں اپنے بچپنے میں اپنے ماموؤں کے ساتھ حلف طیبین میں شامل تھا میں اس قسم کو سرخ اونٹوں کے بدلے بھی توڑنا پسند نہیں کرتا“ پس یاد رہے کہ قریش و انصار میں جو تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کیا تھا وہ صرف الفت و یگانگت پیدا کرنے کے لیے تھا ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:9297:صحیح بالشواھد]
لوگوں کے سوال کے جواب میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مروی ہے کہ جاہلیت کے حلف نبھاؤ۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:9293:صحیح بالشواھد] لیکن فتح مکہ والے دن بھی آپ نے کھڑے ہو کر اپنے خطبہ میں اسی بات کا اعلان فرمایا۔
پس آیت میں ارشاد ہے کہ ہر شخص کے وارث اس کے قرابتی لوگ ہیں اور کوئی نہیں۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں حصہ دار وارثوں کو ان کے حصوں کے مطابق دے کر پھر جو بچ رہے تو عصبہ کو ملے [صحیح بخاری:6732:6725]
اور وارث وہ ہیں جن کا ذکر فرائض کی دو آیتوں میں ہے اور جن سے تم سے مضبوط عہد و پیمان اور قسموں کا تبادلہ کیا ہے یعنی آس آیت کے نازل ہونے سے پہلے سے انہیں ان کا حصہ دو یعنی میراث کا اور اور اس کے بعد جو حلف ہو وہ کالعدم ہو گا اور یہ بھی کہا گیا ہے خواہ اس سے پہلے کے وعدے اور قسمیں ہوں خواہ اس آیت کے اترنے کے بعد ہوں سب کا یہی حکم ہے کہ ایسے حلف برداروں کو میراث نہ ملے۔
اور بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ان کا حصہ نصرت امداد خیر خواہی اور وصیت ہے میراث نہیں آپ فرماتے ہیں لوگ عہدو پیمان کر لیا کرتے تھے کہ ان میں سے جو پہلے مرے گا بعد والا اس کا وارث بنے گا پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے «وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّـهِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ إِلَّا أَنْ تَفْعَلُوا إِلَىٰ أَوْلِيَائِكُمْ مَعْرُوفًا» ۱؎ [33-الأحزاب:6] نازل فرما کر حکم دیا کہ ذی رحم محرم ایک سے اولیٰ ہے البتہ اپنے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرو یعنی اگر ان سے مال کا تیسرا حصہ دینے کی وصیت کر جاؤ تو جائز ہے یہی معروف و مشہور امر۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک مختار قول یہ ہے کہ انہیں حصہ دو یعنی نصرت نصیحت اور معونت کا یہ نہیں کہ انہیں ان کے ورثہ کا حصہ دو تو یہ معنی کرنے سے پھر آیت کو منسوخ بتلانے کی وجہ باقی نہیں رہتی نہ یہ کہنا پڑتا ہے کہ یہ حکم پہلے تھا اب نہیں رہا۔ بلکہ آیت کی دلالت صرف اسی امر پر ہے کہ جو عہد و پیمان آپس میں امداد و اعانت کے خیر خواہی اور بھلائی کے ہوتے تھے انہیں وفا کرو پس یہ آیت محکم اور غیر منسوخ ہے لیکن امام صاحب کے قول میں ذرا اشکال سے اس لیے کہ اس میں تو شک نہیں کہ بعض عہد و پیمان صرف نصرت و امداد کے ہی ہوتے تھے لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ بعض عہد و پیمان ورثے کے بھی ہوتے تھے جیسے کہ بہت سے سلف صالحین سے مروی ہے۔
اور جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر بھی منقول ہے۔ جس میں انہوں نے صاف فرمایا ہے کہ مہاجر انصار کا وارث ہوتا تھا اس کے قرابتی لوگ وارث نہیں ہوتے تھے نہ ذی رحم رشتہ دار وارث ہوتے تھے یہاں تک کہ یہ منسوخ ہو گیا پھر امام صاحب کیسے فرما سکتے ہیں کہ یہ آیت محکم اور غیر محکم منسوخ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {ولكلٍّ}: من الناس {جعلنا مواليَ}؛ أي: يتولَّوْنَهُ ويتولاَّهم بالتعزُّز والنُّصرة والمعاونة على الأمور، {ممَّا ترك الوالدن والأقربون}: وهذا يشملُ سائر الأقارب من الأصول والفروع والحواشي، هؤلاء الموالي من القرابة. ثم ذكر نوعاً آخر من الموالي، فقال: {والذين عَقدَت أيمانُكم}؛ أي: حالفتُموهم بما عَقَدْتُم معهم من عقد المحالفة على النُّصرة والمساعدة والاشتراك بالأموال وغير ذلك، وكل هذا من نعم الله على عباده؛ حيث كان الموالي يتعاونون بما لا يقدِرُ عليه بعضُهم مفرداً. قال تعالى: {فآتوهم نصيبَهم}؛ أي: آتوا الموالي نصيبهم الذي يجب القيام به من النُّصرة والمعاونة والمساعدة على غير معصيةِ الله والميراث للأقارب الأدْنَيْنَ من الموالي. {إنَّ الله كان على كلِّ شيءٍ شهيداً}؛ أي: مطَّلعاً على كلِّ شيءٍ بعلمه لجميع الأمور وبصرِهِ لحركات عبادِهِ وسمعه لجميع أصواتهم.