ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 26

یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیُبَیِّنَ لَکُمۡ وَ یَہۡدِیَکُمۡ سُنَنَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ وَ یَتُوۡبَ عَلَیۡکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۶﴾
اللہ چاہتا ہے کہ تمھارے لیے کھول کر بیان کرے اور تمھیں ان لوگوں کے طریقوں پر چلائے جو تم سے پہلے تھے اور تم پر مہربانی فرمائے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔ En
خدا چاہتا ہے کہ (اپنی آیتیں) تم سے کھول کھول کر بیان فرمائے اور تم کو اگلے لوگوں کے طریقے بتائے اور تم پر مہربانی کرے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
En
اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہارے واسطے خوب کھول کر بیان کرے اور تمہیں تم سے پہلے کے (نیک) لوگوں کی راه پر چلائے اور تمہاری توبہ قبول کرے، اور اللہ تعالیٰ جاننے واﻻ حکمت واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 26) { يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ …:} یعنی اللہ تعالیٰ اپنے احکام اس لیے بیان فرما رہا ہے کہ تم کو حلال و حرام کا پتا چل جائے اور پہلے لوگوں کے عمدہ طریق کی ہدایت ہو جائے، پہلے لوگوں سے مراد انبیاء اور ان کی امتوں کے نیک لوگ ہیں۔ (ابن کثیر، شوکانی)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

26۔ اللہ یہ چاہتا ہے کہ سب کچھ واضح طور پر تمہیں بتلا دے اور ان لوگوں کے طریقوں پر تمہیں چلائے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ [45] اور تم پر نظر رحمت سے متوجہ ہو اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے
[45] پہلی شریعتوں کی اتباع کیسے؟
اس سے معلوم ہوا کہ جو عائلی اور معاشرتی احکام اس سورۃ کے آغاز سے بیان ہو رہے ہیں۔ مثلاً یتیموں کے حقوق کی نگہداشت، عورت سے مختلف قسم کی بے انصافیاں، میراث کے احکام، نکاح اور محرمات کا ذکر وغیرہ، اسی طرح کے یا اس سے ملتے جلتے احکام ہی پہلے انبیاء کو بھی وحی کیے گئے تھے اور ہمیں ان طریقوں پر مطلع نہیں کیا جا رہا بلکہ ان کے طریقوں کو اپنانے کی بھی ہدایت دی جا رہی ہے۔ اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے کہ وہ جاہلیت کے طریقہ سے نکال کر صالحین کے طریقہ زندگی کی طرف ہماری رہنمائی کر رہا ہے۔ اس آیت سے بھی رجم کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ تورات میں یہی سزا مقرر تھی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

پچاس سے پانچ نمازوں تک ٭٭
فرمان ہوتا ہے کہ اے مومنو! اللہ تعالیٰ ارادہ کر چکا ہے کہ حلال و حرام تم پر کھول کھول کر بیان فرما دے جیسے کہ اس سورت میں اور دوسری سورتوں میں اس نے بیان فرمایا وہ چاہتا ہے کہ سابقہ لوگوں کی قابل تعریف راہیں تمہیں سمجھا دے تاکہ تم بھی اس کی اس شریعت پر عمل کرنے لگ جاؤ جو اس کی محبوب اور اس کی پسندیدہ ہیں وہ چاہتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول فرما لے جس گناہ سے جس حرام کاری سے تم توبہ کرو وہ فوراً قبول فرما لیتا ہے۔
وہ علم و حکمت والا ہے، اپنی شریعت اپنی اندازے اپنے کام اور اپنے فرمان میں وہ صحیح علم اور کامل حکمت رکھتا ہے، خواہش نفسانی کے پیروکار یعنی شیطانوں کے غلام یہود و نصاریٰ اور بدکاری لوگ تمہیں حق سے ہٹانا اور باطل کی طرف جھکانا چاہتے ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے حکم احکام میں یعنی روکنے اور ہٹانے میں، شریعت اور اندازہ مقرر کرنے میں تمہارے لیے آسانیاں چاہتا ہے اور اسی بنا پر چند شرائط کے ساتھ اس نے لونڈیوں سے نکاح کر لینا تم پر حلال کر دیا۔ انسان چونکہ پیدائشی کمزور ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام میں کوئی سختی نہیں رکھی۔ یہ فی نفسہ بھی کمزور اس کے ارادے اور حوصلے بھی کمزور یہ عورتوں کے بارے میں بھی کمزور، یہاں آ کر بالکل بیوقوف بن جانے والا۔
چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شب معراج میں سدرۃ المنتہیٰ سے لوٹے اور موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو آپ نے دریافت کیا کہ آپ پر کیا فرض کیا گیا؟ فرمایا ہر دن رات میں پچاس نمازیں تو کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا: واپس جائیے اور اللہ کریم سے تخفیف طلب کیجئے آپ کی امت میں اس کی طاقت نہیں میں اس سے پہلے لوگوں کا تجربہ کر چکا ہوں وہ اس سے بہت کم میں گھبرا گئے تھے اور آپ کی امت تو کانوں آنکھوں اور دل کی کمزوری میں ان سے بھی بڑھی ہوئی ہے چنانچہ آپ واپس گئے دس معاف کرا لائے پھر بھی یہی باتیں ہوئیں پھر گئے دس ہوئیں یہاں تک کہ آخری مرتبہ پانچ رہ گئیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:349]‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی عظیم نوازش، بہت بڑے فضل و کرم اور اپنے مومن بندوں کی حسن تربیت اور دین کی سہولت سے آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُبَیِّنَ لَكُمْ اللہ چاہتا ہے کہ تمھارے واسطے بیان کرے یعنی حق و باطل اور حلال و حرام میں سے جس جس چیز کی توضیح کے تم محتاج ہو اللہ تعالیٰ اسے کھول کھول کر بیان کرتا ہے ﴿وَیَهْدِیَكُمْ سُنَ٘نَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ اللہ تعالیٰ تمھیں ان لوگوں کا راستہ دکھاتا ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے احسان کیا یعنی انبیائے کرام اور ان کے متبعین کی سیرت حمیدہ، ان کے افعال صالحہ، ان کی عادات کاملہ اور ان کی توفیق تام کا راستہ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جو ارادہ فرمایا اسے نافذ کیا، تمھارے سامنے اسے پوری طرح واضح کر دیا جیسے تم سے پہلے لوگوں پر اسے پوری طرح واضح کر دیا تھا اور تمھیں علم و عمل میں عظیم ہدایت سے نوازا ﴿وَیَتُوْبَ عَلَیْكُمْ اور رجوع کرے تم پر یعنی اللہ تم پر تمھارے تمام احوال میں اور تمھارے لیے بنائی ہوئی شریعت میں اپنے لطف و کرم کا فیضان کرتا ہے۔ یہاں تک کہ تمھارے لیے ان حدود پر ٹھہرنا ممکن ہو جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہیں اور تم اسی پر اکتفاء کرتے ہو جو اس نے تمھارے لیے حلال ٹھہرایا ہے، پس اس آسانی کے باعث جو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے پیدا کی ہے، تمھارے گناہ کم ہو جاتے ہیں، پس یہ اللہ کا اپنے بندے کی طرف توبہ کے ساتھ پلٹنا ہے۔ نیز اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں کی طرف توبہ کے ساتھ پلٹنا یہ بھی ہے کہ جب ان سے گناہ کا ارتکاب ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور ان کے دلوں میں انابت اور تذلل الہام کر دیتا ہے، پھر وہ توبہ کو قبول کرتا ہے جس کی توفیق اس نے خود عطا کی تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کی حمد و ثنا ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ یعنی وہ کامل حکمت والا ہے یہ اس کے علم ہی کا حصہ ہے کہ اس نے تمھیں اس چیز کی تعلیم دی جس کا تمھیں علم نہیں تھا۔ یہ اشیاء اور یہ حدود اسی زمرے میں آتی ہیں اور اس کی حکمت کے حصے سے یہ ہے کہ وہ اس بندے کی توبہ قبول کرتا ہے جس کی توبہ قبول کرنے کا تقاضا اس کی حکمت اور رحمت کرتی ہے اور اس بندے کو چھوڑ کر اس سے علیحدہ ہو جاتا ہے جس کو اپنے حال پر چھوڑ دینا اس کی حکمت اور عدل تقاضا کرتا ہے اور جو توبہ کی قبولیت کا اہل نہیں ہوتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى بمنَّته العظيمة ومنحته الجسيمة وحسن تربيته لعباده المؤمنين وسهولة دينه، فقال: {يريد الله لِيبيِّنَ لكم}؛ أي: جميع ما تحتاجون إلى بيانه من الحق والباطل والحلال والحرام. {ويهدِيَكم سنن الذين من قبلكم}؛ أي: الذين أنعم الله عليهم من النبيِّين وأتباعهم في سِيَرِهم الحميدة وأفعالهم السديدة وشمائلهم الكاملة وتوفيقهم التام؛ فلذلك نفَّذ ما أراده، ووضَّح لكم، وبيَّن بياناً كما بين لمن قبلكم، وهداكم هدايةً عظيمة في العلم والعمل.

{ويتوبَ عليكم}؛ أي: يلطف [بكم] في أحوالكم وما شَرَعَه لكم، حتى تتمكَّنوا من الوقوف على ما حدَّه الله والاكتفاء بما أحلَّه، فتقلَّ ذنوبُكم بسبب ما يسَّر الله عليكم؛ فهذا من توبته على عباده، ومن توبته عليهم أنهم إذا أذنبوا فتح لهم أبواب الرحمة، وأوزع قلوبَهم الإنابة إليه والتذلُّل بين يديه، ثم يتوب عليهم بقبول ما وفَّقهم له؛ فله الحمد والشكر على ذلك. وقوله: {والله عليم حكيم}؛ أي: [كامل العلم]، كامل الحكمة؛ فمن علمه أن عَلَّمكم ما لم تكونوا تعلمون، ومنها هذه الأشياء والحدود. ومن حكمته أنه يتوبُ على من اقتضت حكمته ورحمته التوبة عليه، ويخذلُ من اقتضت حكمته وعدلُه أن لا يصلُحَ للتوبة.