اللہ چاہتا ہے کہ تمھارے لیے کھول کر بیان کرے اور تمھیں ان لوگوں کے طریقوں پر چلائے جو تم سے پہلے تھے اور تم پر مہربانی فرمائے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
En
خدا چاہتا ہے کہ (اپنی آیتیں) تم سے کھول کھول کر بیان فرمائے اور تم کو اگلے لوگوں کے طریقے بتائے اور تم پر مہربانی کرے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہارے واسطے خوب کھول کر بیان کرے اور تمہیں تم سے پہلے کے (نیک) لوگوں کی راه پر چلائے اور تمہاری توبہ قبول کرے، اور اللہ تعالیٰ جاننے واﻻ حکمت واﻻ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی عظیم نوازش، بہت بڑے فضل و کرم اور اپنے مومن بندوں کی حسن تربیت اور دین کی سہولت سے آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿یُرِیْدُاللّٰهُلِیُبَیِّنَلَكُمْ﴾”اللہ چاہتا ہے کہ تمھارے واسطے بیان کرے“ یعنی حق و باطل اور حلال و حرام میں سے جس جس چیز کی توضیح کے تم محتاج ہو اللہ تعالیٰ اسے کھول کھول کر بیان کرتا ہے ﴿وَیَهْدِیَكُمْسُنَ٘نَالَّذِیْنَمِنْقَبْلِكُمْ﴾ اللہ تعالیٰ تمھیں ان لوگوں کا راستہ دکھاتا ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے احسان کیا یعنی انبیائے کرام اور ان کے متبعین کی سیرت حمیدہ، ان کے افعال صالحہ، ان کی عادات کاملہ اور ان کی توفیق تام کا راستہ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جو ارادہ فرمایا اسے نافذ کیا، تمھارے سامنے اسے پوری طرح واضح کر دیا جیسے تم سے پہلے لوگوں پر اسے پوری طرح واضح کر دیا تھا اور تمھیں علم و عمل میں عظیم ہدایت سے نوازا ﴿وَیَتُوْبَعَلَیْكُمْ﴾”اور رجوع کرے تم پر“ یعنی اللہ تم پر تمھارے تمام احوال میں اور تمھارے لیے بنائی ہوئی شریعت میں اپنے لطف و کرم کا فیضان کرتا ہے۔ یہاں تک کہ تمھارے لیے ان حدود پر ٹھہرنا ممکن ہو جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہیں اور تم اسی پر اکتفاء کرتے ہو جو اس نے تمھارے لیے حلال ٹھہرایا ہے، پس اس آسانی کے باعث جو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے پیدا کی ہے، تمھارے گناہ کم ہو جاتے ہیں، پس یہ اللہ کا اپنے بندے کی طرف توبہ کے ساتھ پلٹنا ہے۔ نیز اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں کی طرف توبہ کے ساتھ پلٹنا یہ بھی ہے کہ جب ان سے گناہ کا ارتکاب ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور ان کے دلوں میں انابت اور تذلل الہام کر دیتا ہے، پھر وہ توبہ کو قبول کرتا ہے جس کی توفیق اس نے خود عطا کی تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کی حمد و ثنا ہے۔ ﴿وَاللّٰهُعَلِیْمٌحَكِیْمٌ﴾”اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔“ یعنی وہ کامل حکمت والا ہے یہ اس کے علم ہی کا حصہ ہے کہ اس نے تمھیں اس چیز کی تعلیم دی جس کا تمھیں علم نہیں تھا۔ یہ اشیاء اور یہ حدود اسی زمرے میں آتی ہیں اور اس کی حکمت کے حصے سے یہ ہے کہ وہ اس بندے کی توبہ قبول کرتا ہے جس کی توبہ قبول کرنے کا تقاضا اس کی حکمت اور رحمت کرتی ہے اور اس بندے کو چھوڑ کر اس سے علیحدہ ہو جاتا ہے جس کو اپنے حال پر چھوڑ دینا اس کی حکمت اور عدل تقاضا کرتا ہے اور جو توبہ کی قبولیت کا اہل نہیں ہوتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى بمنَّته العظيمة ومنحته الجسيمة وحسن تربيته لعباده المؤمنين وسهولة دينه، فقال: {يريد الله لِيبيِّنَ لكم}؛ أي: جميع ما تحتاجون إلى بيانه من الحق والباطل والحلال والحرام. {ويهدِيَكم سنن الذين من قبلكم}؛ أي: الذين أنعم الله عليهم من النبيِّين وأتباعهم في سِيَرِهم الحميدة وأفعالهم السديدة وشمائلهم الكاملة وتوفيقهم التام؛ فلذلك نفَّذ ما أراده، ووضَّح لكم، وبيَّن بياناً كما بين لمن قبلكم، وهداكم هدايةً عظيمة في العلم والعمل.
{ويتوبَ عليكم}؛ أي: يلطف [بكم] في أحوالكم وما شَرَعَه لكم، حتى تتمكَّنوا من الوقوف على ما حدَّه الله والاكتفاء بما أحلَّه، فتقلَّ ذنوبُكم بسبب ما يسَّر الله عليكم؛ فهذا من توبته على عباده، ومن توبته عليهم أنهم إذا أذنبوا فتح لهم أبواب الرحمة، وأوزع قلوبَهم الإنابة إليه والتذلُّل بين يديه، ثم يتوب عليهم بقبول ما وفَّقهم له؛ فله الحمد والشكر على ذلك. وقوله: {والله عليم حكيم}؛ أي: [كامل العلم]، كامل الحكمة؛ فمن علمه أن عَلَّمكم ما لم تكونوا تعلمون، ومنها هذه الأشياء والحدود. ومن حكمته أنه يتوبُ على من اقتضت حكمته ورحمته التوبة عليه، ويخذلُ من اقتضت حكمته وعدلُه أن لا يصلُحَ للتوبة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔