تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { بَعْضُكُمْ مِّنْ بَعْضٍ:} یعنی تم سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہو اور تمھاری ملت بھی ایک ہے، پھر محض لونڈی ہونے کی وجہ سے اس سے نکاح میں تردد نہ کرو۔ (شوکانی)
➌ { فَانْكِحُوْهُنَّ۠ بِاِذْنِ اَهْلِهِنَّ:} یعنی جیسے آزاد مسلمان عورت سے نکاح کے لیے ولی (سرپرست) کی اجازت ضروری ہے، اسی طرح لونڈی سے نکاح کے لیے بھی اس کے مالک کی اجازت ضروری ہے۔ اسی طرح غلام بھی اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کر سکتا۔
➍ { وَ اٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ:} ان الفاظ سے بعض نے سمجھا ہے کہ مہر لونڈی کا حق ہے، لیکن اکثر علمائے سلف کے نزدیک یہ مہر لونڈی کے مالک کا ہو گا، لونڈی کی طرف مہر کی اضافت مجازی ہے۔ (فتح القدیر)
➎ { وَ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ: ”اَخْدَانٍ“ ”خِدْنٌ “} کی جمع ہے ”خفیہ آشنا۔“ چھپی یاری سے منع فرمایا تو نکاح میں گواہ لازم ہوئے۔
➏ { نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ: ”الْمُحْصَنٰتُ“ }میں الف لام عہدکا ہے، اس سے مخصوص محصنات یعنی کنواری آزاد عورتیں مراد ہیں، کیونکہ ان کی سزا سو کوڑے ہے جس کا نصف ہو سکتا ہے، شادی شدہ آزاد عورتوں کی سزا رجم ہے، اس کا نہ نصف ہو سکتا ہے نہ یہاں {”الْمُحْصَنٰتُ“} سے وہ مراد ہیں یعنی لونڈیاں اگر شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کریں تو انھیں کنواری آزاد عورتوں کی سزا سے نصف سزا دی جائے گی جو پچاس کوڑے ہے۔ جن لوگوں نے اس آیت کو رجم کے انکار کی دلیل بنایا ہے کہ چونکہ رجم کا نصف ہو نہیں سکتا ہے، اس لیے رجم شریعت میں ہے ہی نہیں، انھوں نے اپنی کم علمی سے الف لام کا مفہوم سمجھا ہی نہیں، نہ {” الْمُحْصَنٰتُ “} کی صحیح مراد سمجھی ہے۔ عبد اللہ بن عیاش مخزومی فرماتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے اور قریش کے چند نوجوانوں کو حکم دیا تو ہم نے حکومتی لونڈیوں میں سے کچھ لونڈیوں کو زنا کرنے کی وجہ سے پچاس پچاس کوڑے لگائے۔ [الموطأ، الحدود، باب ما جاء فی حد الزنا: ۱۶]
➐ { ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ:} یعنی مذکورہ شرطوں کے ساتھ لونڈی سے نکاح صرف اسی صورت میں جائز ہے جب بدکاری میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو۔ (قرطبی)
➑ { وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ:} اس سے اکثر علمائے سلف نے استدلال کیا ہے کہ لونڈی سے نکاح نہ کرنا ہی بہتر ہے، کیونکہ ایسی منکوحہ لونڈی کی اولاد بھی اس کے مالک کی غلام ہوتی ہے۔ (ابن کثیر)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[44] یعنی ایک آزاد مرد اگر آزاد عورت سے شادی کے اخراجات کا متحمل نہ ہو اور اسے یہ بھی خدشہ ہو کہ اگر نکاح نہ کرے تو جنسی آوارگی کا شکار ہو جائے گا تو اس صورت میں اسے مومنہ لونڈی سے نکاح کر لینے کی اجازت دی گئی اور ساتھ ہی فرمایا کہ پھر بھی اگر تم صبر کرو تو تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اس بہتری کی صورت اور حکمت تو اللہ ہی جانتا ہے بظاہر تو یہی بہتری نظر آتی ہے کہ اولاد آزاد پیدا ہو گی اور اس صبر کا جو طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ ہم کچھ نوجوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہا کرتے اور ہمیں شادی کرنے کا مقدور نہ تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے نوجوانو! تم میں سے جو شخص خانہ داری کی استطاعت رکھتا ہے اسے چاہیے کہ شادی کر لے۔ کیونکہ نکاح سے نگاہ نیچی اور شرمگاہ بچی رہتی ہے۔ اور جو یہ طاقت نہ رکھتا ہو وہ روزے رکھا کرے جو اس کی شہوت کو توڑ دیں گے۔“
[بخاری۔ کتاب النکاح، باب من لم یستطع الباءۃ فلیصم]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
حدیث میں ہے جو غلام بغیر اپنے آقا کی اجازت کے اپنا نکاح کر لے وہ زانی ہے، ۱؎ [سنن ترمذي:1111،قال الشيخ الألباني:صحیح] ہاں اگر کسی لونڈی کی مالکہ کوئی عورت ہو تو اس کی اجازت سے اس لونڈی کا نکاح وہ کرائے جو عورت کا نکاح کراسکتا ہے۔ کیونکہ حدیث میں ہے عورت عورت کا نکاح نہ کرائے نہ عورت اپنا نکاح کرائے، وہ عورتیں زنا کار ہیں جو اپنا نکاح آپ کرتی ہیں۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1882:صحیح]
ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ان کا احصان اسلام اور عفت ہے لیکن یہ حدیث منکر ہے اس میں ضعف بھی ہے اور ایک راوی کا نام نہیں، ایسی حدیث حجت کے لائق نہیں ہوتی۔ دوسرا قول یعنی احصان سے مراد نکاح ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:8/202]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مجاہد، عکرمہ، طاؤس، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی قول ہے، امام شافعی رحمہ اللہ سے بھی ابوعلی طبری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ایضاح میں یہی نقل کیا ہے، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں لونڈی کا محصن ہونا یہ ہے کہ وہ کسی آزاد کے نکاح میں چلی جائے، اسی طرح غلام کا احصان یہ ہے کہ وہ کسی آزاد مسلمہ سے نکاح کر لے۔
اسی لیے کہ سیاق آیات کی دلالت اسی پر ہے، ایمان کا ذکر تو لفظوں میں موجود ہے بہر دو صورت جمہور کے مذہب کے مطابق آیت کے معنی میں ابھی بھی اشکال باقی ہے اس لیے کہ جمہور کا قول ہے کہ لونڈی کو زنا کی وجہ سے پچاس کوڑے لگائے جائیں گے خواہ وہ مسلمہ ہو یا کافرہ ہو شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ ہو باوجود یہ کہ آیت کے مفہوم کا تقاضا یہ ہے کہ غیر محصنہ لونڈی پر حد ہی نہ ہو، پس اس کے مختلف جوابات دیئے گئے ہیں۔
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں فرمایا: لوگو! اپنی لونڈیوں پر حدیں قائم رکھو خواہ وہ محصنہ ہوں یا نہ ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی لونڈی کے زنا پر حد مارنے کو فرمایا، چونکہ وہ نفاس میں تھی اس لیے مجھے ڈر لگا کہ کہیں حد کے کوڑے لگنے سے یہ مر نہ جائے چنانچہ میں نے اس وقت اسے حد نہ لگائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا تم نے اچھا کیا جب تک وہ ٹھیک ٹھاک نہ ہو جائے حد نہ مارنا۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1705]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے اور زنا ظاہر ہو جائے تو اسے وہ حد مارے اور برا بھلا نہ کہے پھر اگر دوبارہ زنا کرے تو بھی حد لگائے اور ڈانٹ جھڑک نہ کرے، پھر اگر تیسری مرتبہ زنا کرے اور ظاہر ہو تو اسے بیچ ڈالے اگرچہ بالوں کی رسی کے ٹکڑے کے بدلے ہی ہو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6839]
اور صحیح مسلم میں ہے کہ جب تین بار یہ فعل اس سے سرزد ہو تو چوتھی دفعہ فروخت کر ڈالے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1703] عبداللہ بن عیاش بن ابو ربیعہ مخزومی فرماتے ہیں کہ ہم چند قریشی نوجوانوں کو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے امارت کی لونڈیوں سے کئی ایک پر حد جاری کرنے کو فرمایا ہم نے انہیں زنا کی حد میں پچاس پچاس کوڑے لگائے۔ ۱؎ [بیہقی:242/8:موقوف صحیح]
دوسرا جواب ان کا ہے جو اس بات کی طرف گئے ہیں کہ لونڈی پر احصان بغیر حد نہیں وہ فرماتے ہیں کہ یہ مارنا صرف بطور ادب سکھانے اور باز رکھنے کے ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اسی طرف گئے ہیں طاؤس، سعید، ابو عبید، داؤد ظاہری رحمہ اللہ علیہم کا مذہب بھی یہی ہے ان کی بڑی دلیل مفہوم آیت ہے اور یہ شرط کے مفہوموں میں سے ہے اور اکثر کے نزدیک یہ محض حجت ہے اس لیے ان کے نزدیک ایک عموم پر مقدم ہو سکتا ہے۔
اور سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہما کی حدیث جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ جب لونڈی زنا کرے اور وہ محصنہ نہ ہو یعنی اس کا نکاح نہ ہوا ہو تو کیا کیا جائے؟ آپ نے فرمایا: ”اگر وہ زنا کرے تو اسے حد لگاؤ، پھر زنا کرے تو پھر کوڑے لگاؤ، پھر بیچ ڈالو اگر ایک بالوں کی رسی کے عوض ہی کیوں نہ بیچنا پڑے“، راوی حدیث ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں جانتا کہ تیسری مرتبہ کے بعد یہ فرمایا یا چوتھی مرتبہ کے بعد۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2153]
اس سے بھی زیادہ صراحت والی وہ روایت ہے جو سعید بن منصور نے بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی لونڈی پر حد نہیں جب تک کہ وہ «احصان» والی نہ ہو جائے یعنی جب تک نکاح والی نہ ہو جائے پس جب خاوند والی بن جائے تو اس پر آدھی حد ہے بہ نسبت اس حد کے جو آزاد نکاح والیوں پر ہے۔“ [بیہقی:364/6] یہ حدیث ابن خزیمہ میں بھی ہے لیکن وہ فرماتے ہیں اسے مرفوع کہنا خطا ہے یہ موقوف ہے یعنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے، بیہقی میں بھی یہ روایت ہے اور آپ کا بھی یہی فیصلہ ہے اور کہتے ہیں کہ سیدنا علی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما والی حدیثیں ایک واقعہ کا فیصلہ ہیں، اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث دوسرے واقعہ کا فیصلہ ہیں۔
اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث کے بھی کئی جوابات ہیں ایک تو یہ کہ یہ محمول ہے اس لونڈی پر جو شادی شدہ ہو اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق اور جمع ہو جاتی ہے دوسرے یہ کہ اس حدیث میں لفظ حد کسی راوی کا داخل کیا ہوا ہے اور اس کی دلیل جواب کا فقرہ ہے۔
چوتھا جواب یہ ہے کہ یہ بھی بعید نہیں کہ کسی راوی نے جلد کو حد خیال کر لیا ہو یا لفظ حد کا اطلاق کر دیا ہو اور اس نے جلد کو حد خیال کر لیا ہو یا لفظ حد کا اطلاق تادیب کے طور پر سزا دینے پر کر دیا ہو جیسے کہ لفظ حد کا اطلاق اس سزا پر بھی کیا گیا ہے جو بیمار زانی کو کھجور کا ایک خوشہ مارا گیا تھا جس میں ایک سو چھوٹی چھوٹی شاخیں تھیں، اور جیسے کہ لفظ حد کا اطلاق اس شخص پر بھی کیا گیا ہے جس نے اپنی بیوی کی اس لونڈی کے ساتھ زنا کیا جسے بیوی نے اس کے لیے حلال کر دیا تھا حالانکہ اسے سو کوڑوں کا لگنا تعزیر کے طور پر صرف ایک سزا ہے جیسے کہ امام احمد رحمہ اللہ وغیرہ سلف کا خیال ہے۔ حد حقیقی صرف یہ ہے کہ کنوارے کو سو کوڑے اور بیاہے ہوئے کو یا لوطی کو رجم۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
تیسرا جواب یہ ہے کہ آیت میں دلالت ہے کہ محصنہ لونڈی پر بہ نسبت آزاد عورت کے آدھی حد ہے، لیکن محصنہ ہونے سے پہلے کتاب و سنت کے عموم میں یہ بھی شامل ہے کہ اسے بھی سو کوڑے مارے جائیں جیسے اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے «اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُـمَا مِائَـةَ جَلْدَ» ۱؎ [24-النور:2] یعنی ’ زنا کار عورت زنا کار مرد کو ہر ایک کو سو سو کوڑے مارو ‘۔
جیسے حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میری بات لے لو، میری بات سمجھ لو، اللہ نے ان کے لیے راستہ نکال لیا، اگر دونوں جانب غیر شادی شدہ ہیں تو سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی اور اگر دونوں طرف شادی شدہ ہیں تو سو کوڑے اور پتھروں سے رجم کر دینا۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:1690] یہ حدیث صحیح مسلم کی ہے اور اسی طرح کی اور حدیثیں بھی ہیں۔
دیکھئیے شارع علیہ السلام سے آپ کے صحابہ غیر شادی شدہ لونڈی کے زنا کی سزا پوچھتے ہیں اور آپ انہیں جواب دیتے ہیں کہ اسے کوڑے مارو لیکن یہ نہیں فرماتے کہ ایک سو کوڑے لگاؤ پس اگر اس کا حکم وہی ہوتا جو داؤد رحمہ اللہ سمجھتے ہیں تو اسے بیان کر دینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر واجب تھا اس لیے کہ ان کا یہ سوال تو صرف اسی وجہ سے تھا کہ لونڈی کے شادی شدہ ہو جانے کے بعد اسے کوڑے مارنے کا بیان نہیں ورنہ اس قید کے لگانے کی کیا ضرورت تھی کہ سوال میں کہتے وہ غیر شادی شدہ ہے کیونکہ پھر تو شادی شدہ اور غیر شادی شدہ میں کوئی فرق ہی نہ رہا اگر یہ آیت اتری ہوئی نہ ہوتی لیکن چونکہ ان دونوں صورتوں میں سے ایک کا علم تو انہیں ہو چکا تھا اس لیے دوسری کی بابت سوال کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دے کر معلوم کرا دیا جیسے بخاری و مسلم میں ہے کہ جب صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ پر درود پڑھنے کی نسبت پوچھا تو آپ نے اسے بیان فرمایا اور فرمایا: ”سلام تو اسی طرح ہے جس طرح تم خود جانتے ہو۔“
پس ٹھیک اسی طرح یہ سوال ہے۔ مفہوم آیت کا چوتھا جواب ابوثور کا ہے جو داؤد رحمہ اللہ کے جواب سے زیادہ بودا ہے، وہ فرماتے ہیں جب لونڈیاں شادی شدہ ہو جائیں تو ان کی زناکاری کی حد ان پر آدھی ہے اس حد کی جو شادی شدہ آزاد عورتوں کی زناکاری کی حد ہے تو ظاہر ہے کہ آزاد عورتوں کی حد اس صورت میں رجم ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ رجم آدھا نہیں ہو سکتا تو لونڈی کو اس صورت میں رجم کرنا پڑے گا اور شادی سے پہلے اسے پچاس کوڑے لگیں گے، کیونکہ اس حالت میں آزاد عورت پر سو کوڑے ہیں۔
مسند احمد میں ایک واقعہ ہے جو ابثور کے مذہب پوری تردید کرتا ہے اس میں ہے کہ صفیہ لونڈی نے ایک غلام سے زناکاری کی اور اسی زنا سے بچہ ہوا جس کا دعویٰ زانی نے کیا مقدمہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس کا تصفیہ سونپا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس میں وہی فیصلہ کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے بچہ تو اس کا سمجھا جائے گا جس کی یہ لونڈی ہے اور زانی کو پتھر مارے جائیں گے پھر ان دونوں کو پچاس پچاس کوڑے لگائے گئے۔ ۱؎ [مسند احمد:1/104:ضعیف ولہ شواھد]
یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد مفہوم سے تنبیہہ ہے اعلیٰ کے ساتھ ادنیٰ پر یعنی جب کہ وہ شادی شدہ ہوں تو ان پر بہ نسبت آزاد عورتوں کے آدھی حد ہے پس ان پر رجم تو سرے سے کسی صورت میں ہے ہی نہیں نہ قبل از نکاح نہ بعد نکاح، دونوں حالتوں میں صرف کوڑے ہیں جس کی دلیل حدیث ہے، صاحب الایضاح یہی فرماتے ہیں اور امام شافعی رحمہ اللہ سے بھی اسکو ذکر کرتے ہیں، امام بیہقی اپنی کتاب سنن و آثار میں بھی اسے لائے ہیں لیکن یہ قول لفظ آیت سے بہت دور ہے اس طرح کی آدھی حد کی دلیل صرف آیت ہے اس کے سوا کچھ نہیں پس اس کے علاوہ میں آدھا ہونا کس طرح سمجھا جائے گا؟
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگو اپنے ماتحتوں پر حدیں جاری کرو شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ اور وہ عام حدیثیں جو پہلے گزر چکی ہیں جن میں خاوندوں والی اور بغیر خاوندوں والیوں کی کوئی تفصیل نہیں، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت والی حدیث جس سے جمہور نے دلیل پکڑی ہے یہ ہے کہ جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے اور پھر اس کا زنا ظاہر ہو جائے تو اسے چاہیئے کہ اس پر حد جاری کرے اور ڈانٹ ڈپٹ نہ کرے (ملخص)
الغرض لونڈی کی زناکاری کی حد میں کئی قول ہیں ایک تو یہ کہ جب تک اس کا نکاح نہیں ہوا اسے پچاس کوڑے مارے جائیں گے اور نکاح ہو جانے کے بعد بھی یہی حد رہے گی اور اسے جلا وطن بھی کیا جائے گا یا نہیں؟ اس میں تین قول ہیں ایک یہ کہ جلا وطنی ہو گی دوسرے یہ کہ نہ ہو گی تیسرے یہ کہ جلا وطنی میں آدھے سال کو ملحوظ رکھا جائے گا یعنی چھ مہینے کا دیس نکالا دیا جائے گا پورے سال کا نہیں، پورا سال آزاد عورتوں کے لیے ہے۔
اس سے معنی مراد یہی ہے کہ اس کی حفاظت رہے اور عورت کو وطن سے نکالے جانے میں یہ حفاظت بالکل ہی نہیں ہو سکتی۔ «واللہ اعلم»
پھر فرمان ہے کہ لونڈیوں سے نکاح کرنا ان شرائط کی موجودگی میں جو بیان ہوئیں ان کے لیے جنہیں زنا میں واقع ہونے کا خطرہ ہو اور تجرد اس پر بہت شاق گزر رہا ہو اور اس کی وجہ سے سخت تکلیف میں ہو تو بےشک اسے انہیں پاکدامن لونڈیوں سے نکاح کر لینا جائز ہے گو اس حالت میں بھی اپنے نفس کو روکے رکھنا اور ان سے نکاح نہ کرنا بہت بہتر ہے اس لیے کہ اس سے جو اولاد ہوگی وہ اس کے مالک کی لونڈی غلام ہوگی ہاں اگر خاوند غریب ہو تو اس کی یہ اولاد اس کے آقا کی ملکیت امام شافعی رحمہ اللہ کے قول قدیم کے مطابق نہ ہو گی۔
پس وہ کہتے ہیں یہ آیت عام ہے جس میں آزاد اور غیر آزاد سب ہی شامل ہیں اور محصنات سے مراد پاکدامن باعصمت عورتیں ہیں لیکن اس کی ظاہری دلالت بھی اسی مسئلہ پر ہے جو جمہور کا مذہب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: ومن لم يستطع الطَّول ـ الذي هو المهر ـ لنكاح المحصنات؛ أي: الحرائر المؤمنات، وخاف على نفسه العنت؛ أي: الزنا والمشقة الكثيرة؛ فيجوز له نكاح الإماء المملوكات المؤمنات، وهذا بحسب ما يظهر، وإلاَّ؛ فالله أعلم بالمؤمن الصادق من غيره؛ فأمور الدنيا مبنيَّة على ظواهر الأمور، وأحكام الآخرة مبنيَّة على ما في البواطن. {فانكِحوهنَّ}؛ أي: المملوكات {بإذن أهلهنَّ}؛ أي: سيِّدهن واحداً أو متعدداً. {وآتوهنَّ أجورهنَّ بالمعروف}؛ أي: ولو كنَّ إماءً؛ فإنه كما يجب المهر للحرة؛ فكذلك يجب للأمة، ولكن لا يجوز نكاح الإماء إلاَّ إذا كنَّ {محصنات}؛ أي: عفيفات عن الزنا، {غير مسافِحاتٍ}؛ أي: زانيات علانية، {ولا متَّخذاتِ أخدانٍ}؛ أي: أخلاء في السرِّ.
فالحاصل أنه لا يجوز للحرِّ المسلم نكاح أمةٍ إلاَّ بأربعة شروط ذكرها الله: الإيمان بهنّ، والعفة ظاهراً وباطناً، وعدم استطاعة طَوْل الحرة، وخوف العنت؛ فإذا تمت هذه الشروط؛ جاز له نكاحهنَّ، ومع هذا؛ فالصبر عن نكاحهنَّ أفضلُ؛ لما فيه من تعريض الأولاد للرقِّ، ولما فيه من الدناءة والعيب، وهذا إذا أمكن الصبر؛ فإن لم يمكن الصبر عن الحرام إلاَّ بنكاحهنَّ؛ وجب ذلك، ولهذا قال: {وأن تصبروا خير لكم والله غفور رحيم}.
وقوله: {فإذا أحْصِنَّ}؛ أي: تزوَّجن أو أسلمن؛ أي: الإماء. فعليهن نصف ما على المحصنات؛ أي: الحرائر {من العذاب}. وذلك الذي يمكن تنصيفُهُ وهو الجلد، فيكون عليهن خمسون جلدةً، وأما الرجم؛ فليس على الإماء رجمٌ؛ لأنه لا يتنصَّف؛ فعلى القول الأول: إذا لم يتزوَّجن؛ فليس عليهن حدٌّ، إنما عليهن تعزيرٌ يردعهنَّ عن فعل الفاحشة. وعلى القول الثاني: إن الإماء غير المسلمات إذا فعلن فاحشةً أيضاً عزِّرْن.
وختم هذه الآية بهذين الاسمين الكريمين: الغفور، والرحيم؛ لكون هذه الأحكام رحمة بالعباد وكرماً وإحساناً إليهم، فلم يضيِّق عليهم، بل وسَّع غاية السعة. ولعل في ذكر المغفرة بعد ذكر الحدِّ إشارة إلى أن الحدود كفاراتٌ يغفرُ الله بها ذنوبَ عباده كما وردَ بذلك الحديث.
وحُكم العبد الذَّكر في الحد المذكور حُكم الأمة لعدم الفارق بينهما.