تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ احصان کا لفظی معنی محفوظ کرنا ہے، قرآن مجید میں یہ لفظ چند معانی میں آیا ہے: (1) شادی شدہ عورتوں کے معنی میں، جیسے اس آیت کے شروع میں {”الْمُحْصَنٰتُ“} (صاد کے فتحہ کے ساتھ) اسم مفعول کا صیغہ ہے۔ (2) آزاد عورتوں کے معنی میں، جیسے اگلی آیت میں ہے۔ (3) پاک دامن عورتوں کے معنی میں، جیسے اس سے اگلی آیت میں اور سورۂ مائدہ(۵) میں ہے۔
➌ { كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ:} یعنی جن حرام رشتوں کا اوپر ذکر ہوا ہے، ان سے نکاح نہ کرنا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جس کا ماننا تم پر لازم ہے۔ (ابن کثیر)
➍ {وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ:} اور ان کے علاوہ جو عورتیں ہیں وہ تمھارے لیے حلال کی گئی ہیں، بشرطیکہ حدیث میں ان کی حرمت نہ آئی ہو، مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کے ساتھ اس کی خالہ یا پھوپھی کو بیک وقت نکاح میں رکھنے سے منع فرمایا۔ ایسی ہی چند اور صورتیں بھی ہیں، مثلاً چار سے زیادہ عورتیں بیک وقت نکاح میں رکھنا، یا نکاح متعہ کرنا یا حلالہ کرنا، یا بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور بنت عدو اللہ (ابوجہل) کو ایک نکاح میں جمع کرنا یا ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا، یا نکاح شغار یعنی وٹہ سٹہ کا نکاح جس میں یہ شرط ہو کہ اگر تم رشتہ دو گے تو میں رشتہ دوں گا، اس شرط کے بعد مہر مقرر ہو تب بھی نکاح حرام ہے۔ جیسا کہ ابوداوٗد میں ہے کہ عباس بن عبد اللہ بن عباس نے عبد الرحمان بن حکم سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا اور عبد الرحمان بن حکم نے اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کر دیا تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے مروان کی طرف خط لکھا اور اسے حکم دیا کہ ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دیں اور دونوں نے مہر بھی مقرر کیا تھا۔ [أبوداوٗد، النکاح، باب فی الشغار: ۲۰۷۵۔ و صححہ الألبانی]
➎ { اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ …:} موضح میں ہے کہ ان مذکورہ محارم کے سوا سب حلال ہیں، مگر چار شرطوں کے ساتھ، اول یہ کہ طلب کرو، یعنی دونوں طرف سے زبانی ایجاب و قبول ہو، دوسرے یہ کہ مال یعنی مہر دینا قبول کرو، تیسرے یہ کہ ان عورتوں کو قید (دائمی قبضہ) میں لانا غرض ہو، (صرف) مستی نکالنے کی غرض نہ ہو (جیسے زنا میں ہوتا ہے) یعنی وہ عورت اس مرد کی بندی ہو جائے، چھوڑے بغیر نہ چھوٹے، یعنی کسی مہینے یا برس (مدت) کا ذکر نہ آئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ متعہ حرام ہے(اور حلالہ بھی، کیونکہ اس میں بھی جماع کے بعد طلاق کی نیت ہوتی ہے۔) چوتھی یہ کہ چھپی یاری نہ ہو، مراد لوگ نکاح کے شاہد ہوں، کم سے کم دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں، یہی چار شرطیں اس آیت سے سمجھ میں آ رہی ہیں۔ اس چوتھی شرط میں یہ بھی شامل ہے کہ نکاح ولی کرکے دے، کیونکہ ولی کے بغیر نکاح چھپی یاری میں داخل ہے۔ اسلام نے ولی کے بغیر نکاح کو باطل قرار دیا قرآن و حدیث کے دلائل کے لیے دیکھیے صحیح بخاری میں {”کتاب النكاح، باب من قال لا نكاح إلا بولي: ۵۱۲۷“}
➏ {فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ:} یعنی نکاح کے بعد جن عورتوں سے فائدہ اٹھاؤ، یعنی صحبت کرو ان کے پورے مہر ان کے حوالے کرو۔ اکثر پہلے اور پچھلے مفسرین نے یہی معنی کیے ہیں کہ استمتاع سے مراد نکاح شرعی (جس کی چار شرطوں کا اوپر ذکر آیا ہے) کے بعد صحبت ہے۔ رافضیوں نے اس سے متعہ کا جواز ثابت کیا ہے، مگر علمائے اہل سنت بالاجماع اس کی حرمت کے قائل ہیں۔ ہجرت کے ابتدائی برسوں میں بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس آیت کی رو سے نہیں بلکہ) اس رواج کی بنیاد پر جو اسلام سے پہلے چلا آ رہا تھا (جسے استصحابِ حال کہتے ہیں) بعض مواقع پر حسب ضرورت متعہ کی اجازت دی، مگر بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت واضح الفاظ میں اسے قیامت تک کے لیے حرام کر دیا۔ سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! میں نے تمھیں عورتوں سے متعہ کی اجازت دی تھی مگر اب اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت کے دن تک کے لیے حرام قرار دے دیا ہے، سو اب جن کے پاس متعہ والی عورتیں ہیں وہ انھیں چھوڑ دیں اور جو مال تم نے انھیں دیا ہے وہ ان سے واپس نہ لو۔“ [مسلم، النکاح، باب نکاح المتعۃ…: 1406/21] نیز متعہ والی عورتیں نہ لونڈیاں ہیں نہ بیویاں تو ان سے متعہ کیسے جائز ہو سکتا ہے۔ دیکھیے سورۂ مومنون (۵ تا ۷)۔
➐ {وَ لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ …:} یعنی اگر خاوند اور بیوی باہمی رضا مندی سے طے شدہ مہر میں کمی بیشی کر لیں تو کچھ حرج نہیں ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[مسلم۔ کتاب الرضاع، باب جواز وطی المسبیۃ]
اس آیت اور مندرجہ بالا حدیث سے درج ذیل باتوں کا پتہ چلتا ہے۔
1۔ صرف اس قیدی عورت سے تمتع کیا جا سکتا ہے جو امیر لشکر دیگر اموال غنیمت کی طرح کسی مجاہد کی ملکیت میں دے دے۔ اس سے پہلے اگر کوئی شخص کسی عورت سے تمتع کرے گا تو وہ دو گناہوں کا مرتکب ہو گا۔ ایک زنا کا اور دوسرے مشترکہ اموال غنیمت کی تقسیم سے پیشتر ان میں خیانت کا۔
2۔ امیر لشکر کا کسی عورت کو کسی کی ملکیت میں دینے کے بعد اس سے نکاح کی ضرورت نہیں رہتی۔ ملکیت میں دے دینا ہی کافی ہو گا اور اس کا سابقہ نکاح از خود ختم ہو جائے گا۔
3۔ تقسیم کے بعد ایسی عورت سے فوری طور پر جماع نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک اسے کم از کم ایک حیض نہ آلے۔ اور یہ معلوم نہ ہو جائے کہ وہ حاملہ ہے یا نہیں۔ اور اگر وہ حاملہ ہو گی تو اس کی عدت تا وضع حمل ہے۔ اس سے بیشتر اس سے جماع نہیں کیا جا سکتا۔ اور مزید احکام یہ ہیں:
4۔ ایسی عورت سے صرف وہی شخص جماع کر سکتا ہے جس کی ملکیت میں وہ دی گئی ہو۔ کوئی دوسرا نہیں کر سکتا۔
5۔ اگر اس قیدی عورت سے اولاد پیدا ہو جائے تو پھر اسے فروخت نہیں کیا جا سکتا۔
6۔ اگر ایسی قیدی عورت کو اس کا مالک کسی کے نکاح میں دے دے تو پھر وہ اس سے دوسری خدمات تو لے سکتا ہے لیکن صحبت نہیں کر سکتا۔
7۔ جب عورت سے مالک کی اولاد پیدا ہو جائے تو مالک کے مرنے کے بعد وہ از خود آزاد ہو جائے گی۔ شرعی اصطلاح میں ایسی عورت کو ام ولد کہتے ہیں۔
8۔ اگر امیر لشکر یا حکومت ایک عورت کو کسی کی ملکیت میں دے دے تو پھر وہ خود بھی اس کو واپس لینے کی مجاز نہیں ہوتی۔ الا یہ کہ اس تقسیم میں کوئی نا انصافی کی بات واقع ہو جس کا علم بعد میں ہو۔ اس طرح چند در چند شرائط عائد کر کے اسلام نے ایسی عورتوں سے تمتع کی پاکیزہ ترین صورت پیش کر دی ہے جس میں سابقہ اور موجودہ دور کی فحاشی، وحشت اور بربریت کو حرام قرار دے کر اس کا خاتمہ کیا گیا ہے اور تمتع کے بعد اس کے نتائج کی پوری ذمہ داری مالک پر ڈالی گئی ہے۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ’جس شخص کے پاس کوئی لونڈی ہو وہ اس کی تعلیم و تربیت کرے اسے ادب سکھائے پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کر لے تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔‘
[بخاری، کتاب العتق، باب فضل من ادب جاریتہ و علمھا]
ان سب باتوں کے باوجود یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ لونڈیوں سے تمتع ایک رخصت ہے حکم نہیں ہے اور یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے ایسی اجازت دے دی ہے کیونکہ جہاد اور اس میں عورتوں کی گرفتاری ایسی چیز ہے جس سے مفر نہیں اور ایسا بھی عین ممکن ہے کہ جنگ کے بعد قیدیوں کے تبادلہ یا اور کوئی با عزت حل نہ نکل سکے اسی لیے اللہ نے سے کلیتاً حرام قرار نہیں دیا۔
[41] یعنی مذکورہ بالا عورتوں کے علاوہ باقی آزاد عورتوں میں سے جس کے ساتھ تم چاہو، درج ذیل شرائط کے ساتھ نکاح کر سکتے ہو:
1۔
2۔ یہ نکاح مستقلاً ہو۔ محض شہوت رانی کی غرض سے نہ ہو۔ اس سے نکاح متعہ کی حرمت ثابت ہوئی۔
3۔ حق مہر مقرر کرنا اور اس کی ادائیگی۔ الا یہ کہ بیوی اپنی مرضی سے یہ مہر یا اس کا کچھ حصہ چھوڑ دے اسی طرح مرد مقررہ مہر سے زیادہ بھی دے سکتا ہے۔
4۔ اعلان نکاح۔ جیسا کہ اگلی آیت میں ﴿وَّلَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ﴾ سے واضح ہے اور سنت سے اس کی صراحت مذکور ہے۔ یعنی نکاح کے کم از کم دو گواہ موجود ہونے چاہئیں۔ واضح رہے کہ شیعہ حضرات اس آیت اور بعض صحیح احادیث سے نکاح متعہ کے جواز پر استدلال کرتے ہیں۔ لہٰذا نکاح متعہ کے جواز یا حرمت کی تحقیق ضروری ہے۔ اس آیت سے استدلال کی صورت یہ ہے کہ بعض روایات میں وارد ہے کہ ﴿فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ﴾ کے آگے ﴿اِليٰ اَجَلٍ مُّسَمًّي﴾ کے الفاظ بھی موجود تھے جو بعد میں منسوخ ہو گئے مگر ابن عباسؓ اس کے نسخ کے قائل نہیں۔
1۔ ابن ابی عمرو کہتے ہیں کہ متعہ پہلے اسلام میں ایک اضطراری رخصت تھی جیسے مجبور و مضطر شخص کو مردار، خون اور خنزیر کے گوشت کی رخصت ہے پھر اللہ نے اپنے دین کو محکم کر دیا اور نکاح متعہ سے منع کر دیا گیا۔
[مسلم، کتاب النکاح، باب نکاح المتعہ۔۔]
2۔ عبد اللہؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد کرتے تھے اور ہمارے پاس عورتیں نہ تھیں اور ہم نے کہا کہ کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا اور اس بات کی اجازت دی کہ ایک کپڑے کے بدلے ایک معین مدت تک عورت سے نکاح کریں۔ [حواله ايضاً]
3۔ اور اس کا طریق کار یہ ہوتا تھا کہ صحابہ کی التجا پر متعہ کی اجازت کا اعلان تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی صحابیؓ سے کرواتے تھے مگر جنگ کے خاتمہ پر اس کی حرمت کا اعلان خود فرماتے تھے۔ چنانچہ جابر بن عبد اللہؓ اور سلمہ بن اکوعؓ دونوں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی ہمارے پاس آیا اور پکار کر کہنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں عورتوں سے متعہ کی اجازت دی ہے۔ [حواله ايضاً]
4۔ ربیع بن سمرہ اپنے باپ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! میں نے تمہیں عورتوں سے متعہ کی اجازت دی تھی اور اب اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت کے دن تک کے لیے حرام کر دیا ہے۔ سو اگر کسی کے پاس ایسی عورت ہو تو وہ اسے چھوڑ دے اور جو کچھ تم دے چکے ہو وہ واپس نہ لو۔ [حواله ايضاً] متعہ کی حرمت کا یہ اعلان حجتہ الوداع 10ھ میں ہوا تھا جیسا کہ اس دن سود اور جاہلیت کے خون کی بھی ابدی حرمت کا اعلان ہوا تھا۔
5۔ ایاس بن سلمہ بن اکوعؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مرد اور عورت متعہ کی مدت مقرر نہ کریں تو تین دن رات مل کر رہیں۔ پھر اگر چاہیں تو مدت بڑھا لیں اور چاہیں تو جدا ہو جائیں۔
[بخاری کتاب النکاح، باب النھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن نکاح المتعۃ اخیرا]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نکاح متعہ کی صورت ایسی نہ تھی جیسے کہ آج کل کے قحبہ خانوں میں ہوا کرتی ہے کہ ایک بار کی مجامعت کی اجرت طے کر لی جاتی ہے بلکہ اس کی کم سے کم مدت تین دن ہے زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے۔ یہ تین دن کی مدت بھی صرف صحابہ کرامؓ کے لئے مقرر کی گئی تھی۔ بعد میں سیدنا علیؓ کے بیان کے مطابق اسے منسوخ کر دیا گیا۔
6۔ ابن عباسؓ جو متعہ کے قائل تھے وہ بھی صرف اضطراری حالت میں اس کی رخصت کے قائل تھے عام حالات میں نہیں۔ چنانچہ ابن جمرہ کہتے ہیں کہ ابن عباسؓ سے کسی نے پوچھا کہ عورتوں سے متعہ کرنا کیسا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس کی رخصت ہے۔ اس پر ان کا ایک غلام (عکرمہ) کہنے لگا، متعہ اس حالت میں جائز ہے جب مردوں کو سخت ضرورت ہو یا عورتوں کی کمی ہو یا کچھ ایسا ہی اضطراری معاملہ ہو۔ ابن عباسؓ نے کہا ہاں! [بخاري۔ حواله ايضاً] ہم یہاں تمام روایات تو درج نہیں کر سکتے کیونکہ اخذ نتائج کے لیے یہ بھی کافی ہیں اور وہ نتائج درج ذیل ہیں:
(1) ﴿اليٰ اجل مسميٰ﴾ کی قرأت کے راوی صرف عبد اللہ بن عباسؓ ہیں جن کی عمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت صرف 13 سال تھی۔ جمع و تدوین قرآن کے وقت آپ قسم اٹھا کر کہتے ہی رہے کہ یہ آیت اسی طرح نازل ہوئی ہے (اور ممکن ہے کہ جن ایام میں متعہ کا جواز تھا یہ قرأت بھی پڑھی گئی ہو۔ لیکن ایسی قرأت بھی رخصت اور نسخ کے ضمن میں آتی ہیں) مگر آپ کی اس بات کو دو وجوہ کی بنا پر پذیرائی نہ ہو سکی۔ ایک یہ کہ جمع و تدوین قرآن کے معاملہ میں خبر متواتر کو قبول کیا گیا تھا اور آپ کی یہ خبر واحد تھی۔ جس کا دوسرا کوئی راوی نہ تھا۔ اور دوسری وجہ یہ تھی کہ پہلے سے دو مکی سورتوں مومنون اور معارج میں یہ محکم آیات موجود تھیں:
﴿وَالَّذِيْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَ﴾
یعنی حفاظت فروج کے دو ہی ذریعے ہیں ایک بیوی، دوسرا لونڈی۔ ان کے علاوہ جو کچھ ہے وہ حد سے گزرنا ہے۔ اور یہ تو ظاہر ہے کہ ممتوعہ عورت نہ بیوی ہوتی ہے نہ لونڈی۔ لونڈی نہ ہونے میں تو کوئی کلام نہیں اور بیوی اس لیے نہیں ہوتی کہ بیوی کو میراث ملتی ہے۔ اور ایسی عورت کو میراث نہیں ملتی۔
(2) سیدنا ابن عباسؓ بھی صرف متعہ کے معاملہ میں نرم گوشہ رکھتے تھے آپ کو اصرار قطعاً نہ تھا۔ جبکہ کثیر تعداد میں صحابہ متعہ کو حرام قرار دینے میں شدت اختیار کرتے تھے اور ابن عباسؓ کو ٹوکتے بھی تھے۔ چنانچہ سیدنا علیؓ ایسے ہی لوگوں میں سے تھے۔ [مسلم۔ حواله ايضاً]
سیدنا ابن عباسؓ اپنی آخری عمر میں نابینا ہو گئے تھے اور جب یہ جواز متعہ کی بات کرتے تو سیدنا عبد اللہ بن زبیرؓ نے کہا کہ اللہ نے ان کی آنکھوں کو اندھا کرنے کے ساتھ ان کے دلوں کو بھی اندھا کر دیا ہے جو متعہ کے جواز کا فتویٰ دیتے ہیں۔ اس وقت عبد اللہ بن زبیرؓ خلیفہ تھے۔ کسی نے ان سے کہا کہ تم زیادتی کر رہے ہو میری عمر کی قسم! دور نبوی میں متعہ ہوتا رہا ہے۔ تو عبد اللہ بن زبیرؓ نے کہا کہ اس متعہ کو اپنے آپ پر آزماؤ۔ خدا کی قسم! اگر تو ایسا کرے تو میں تمہیں پتھروں سے سنگسار کر دوں۔ [مسلم، حواله ايضاً]
(3) معلوم ایسا ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری ابدی حرمت کا اعلان تمام صحابہ کرام تک نہ پہنچ سکا جو کہ دور دراز علاقوں تک پہنچ چکے تھے۔ یا یہ سیدنا ابن عباسؓ کی لچک کا اثر تھا کہ دور صدیقی اور دور فاروقی کی ابتدا تک درپردہ متعہ کے کچھ واقعات کا سراغ ملتا ہے۔ سیدنا عمرؓ چونکہ متعہ کے شدید مخالف تھے لہٰذا آپ اس ٹوہ میں رہتے تھے کہ ایسا کوئی واقعہ سامنے آئے۔ چنانچہ ایک دفعہ ایک شخص شام سے آیا اور اس نے ام عبد اللہ ابی فتیحہ کے ہاں قیام کیا اور اسے کہا کہ میرے متعہ کے لیے کوئی عورت تلاش کرو۔ ام عبد اللہ نے ایک عورت کا پتہ بتلایا تو اس آدمی نے اس سے متعہ کیا اور کچھ عرصہ اس کے ساتھ رہا۔ پھر شام کو واپس چلا گیا۔ کسی نے اس واقعہ کی سیدنا عمرؓ کو اطلاع کر دی۔ سیدنا عمرؓ نے ام عبد اللہ کو بلا کر دریافت کیا تو اس نے اس واقعہ کی تصدیق کر دی۔ سیدنا عمرؓ نے اسے کہا کہ جب وہ شخص پھر آئے تو مجھے اطلاع دینا۔ جب وہ دوبارہ آیا تو ام عبد اللہ نے سیدنا عمرؓ کو اطلاع کر دی۔ آپ نے اسے بلا کر پوچھا کہ تم نے متعہ کیوں کیا تو وہ کہنے لگا کہ ”میں دور نبوی، دور صدیقی اور آپ کے عہد میں بھی متعہ کرتا رہا مگر کسی نے منع نہیں کیا۔“ سیدنا عمرؓ نے کہا اللہ کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر میں آج سے پہلے ممانعت کا حکم نہ دے چکا ہوتا تو تمہیں سنگسار کر دیتا۔ اچھا اب جدائی اختیار کر لو تاکہ نکاح اور سفاح (بد کاری) میں تمیز ہو سکے۔ یہ واقعہ در اصل مسلم میں جابر بن عبد اللہؓ کی اجمالی روایت کی تفصیل ہے اور اس واقعہ سے درج ذیل نتائج حاصل ہوتے ہیں:
1۔
2۔ جو چند لوگ متعہ کے قائل تھے وہ بھی چوری چھپے یہ کام کرتے تھے۔ اگر یہ عام ہوتے تو سیدنا عمرؓ کو ٹوہ لگانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔
3۔ معاشرہ کی اکثریت متعہ کو نا جائز اور مکروہ فعل ہی سمجھتی تھی۔ اگر یہ رسم عام ہوتی تو اس شامی کو ایسی عورت کا پتہ پوچھنے کی ضرورت نہ تھی۔ اس نے یہ معاملہ ام عبد اللہ سے کیوں نہ طے کر لیا جس کے ہاں وہ ٹھہرا تھا۔ اس تعزیری قانون کے بعد ابن عباسؓ اور آپ کے شاگردوں مثلاً عطاء بن ابی رباح، طاؤس، سعید بن جبیر اور ابن جریج کے لیے اس کے بغیر چارہ نہ رہا کہ وہ متعہ کے ل۔ یے عقلی دلیل مہیا کر کے اپنے دل کا غبار نکال لیں۔ اور وہ دلیل عقلی یہ تھی جو ابن عباسؓ کہا کرتے تھے کہ ”متعہ کا جائز ہونا اللہ کی طرف سے اپنے بندوں پر رحمت کی حیثیت رکھتا تھا۔ اگر عمرؓ نے اس کی ممانعت نہ کر دی ہوتی تو کبھی کسی کو زنا کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔“ [تفسير مظهري 208] پھر جب دور عثمانی میں سیدنا ابن عباسؓ کی قرأت ﴿اليٰ اَجَلٍ مُّسَمّيٰ﴾ کو خبر متواتر نہ ہونے کی وجہ سے شرف قبولیت حاصل نہ ہو سکا اور یہ الفاظ کتاب اللہ میں شامل نہ ہو سکے تو متعہ کا فائدہ بتانے کا میلان بھی ختم ہو گیا۔ اور بالآخر آپ نے اپنے اس فتویٰ رخصت سے بھی رجوع کر لیا۔
[تفسیر حقانی ج 2 ص 145]
[42] آزاد عورت کا لونڈی کی نسبت حق مہر بھی زیادہ اور نان و نفقہ بھی زیادہ ہوتا ہے اور یہ اجازت صرف اس شخص کے لیے ہے، جو ایک تو آزاد عورت سے نکاح کے اخراجات برداشت نہ کر سکتا ہو، دوسرے اسے یہ خطرہ ہو کہ اگر اس نے نکاح نہ کیا تو جنسی بے راہ روی کا شکار ہو جائے گا۔ کیونکہ آزاد عورت سے نکاح بہرحال بہتر ہے۔ اس لئے کہ اس سے جو اولاد پیدا ہو گی اس کے ماتھے پر غلامی کا داغ نہ ہو گا۔ اور مجبوری کی صورت میں نکاح کی اجازت کی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ بھی آخر عورت ہی کی جنس سے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ابن جریر میں ہے کہ لونڈی کی طلاقیں چھ ہیں، بیچنا بھی طلاق ہے آزاد کرنا بھی ہبہ کرنا بھی برات کرنا بھی اور اس کے خاوند کا طلاق دینا بھی (یہ پانچ صورتیں تو بیان ہوئیں چھٹی صورت نہ تفسیر ابن کثیر میں ہے نہ ابن جریر میں۔ مترجم)۔
پس اگر بک جانا ہی طلاق ہوتا جیسے ان بزرگوں کا قول ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو ان کے بک جانے کے بعد اپنے نکاح کے باقی رکھنے نہ رکھنے کا اختیار نہ دیتے، اختیار دینا نکاح کے باقی رہنے کی دلیل ہے، تو آیت میں مراد صرف وہ عورتیں ہیں جو جہاد میں قبضہ میں آئیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ «الْمُحْصَنَاتُ» سے مراد پاک دامن عورتیں ہیں یعنی عفیفہ عورتیں جو تم پر حرام ہیں جب تک کہ تم نکاح اور گواہ اور مہر اور ولی سے ان کی عصمت کے مالک نہ بن جاؤ خواہ ایک ہو خواہ دو خواہ تین خواہ چار ابوالعالیہ اور طاؤس رحمہ اللہ علیہما یہی مطلب بیان فرماتے ہیں۔ عمر اور عبید رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ چار سے زائد عورتیں تم پر حرام ہیں ہاں کنیزوں میں یہ گنتی نہیں۔
پھر فرمایا کہ حکم اللہ تعالیٰ نے تم پر لکھ دیا ہے یعنی چار کا پس تم اس کی کتاب کو لازم پکڑو اور اس کی حد سے آگے نہ بڑھو، اس کی شریعت اور اس کے فرائض کے پابند رہو، یہ بھی کہا گیا ہے کہ حرام عورتیں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ظاہر کر دیں۔
قتادہ رحمہ اللہ اس کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ اس سے مراد لونڈیاں ہیں، یہی آیت ان لوگوں کی دلیل ہے جو دو بہنوں کے جمع کرنے کی حلت کے قائل ہیں اور ان کی بھی جو کہتے ہیں کہ ایک آیت اسے حلال کرتی ہے اور دوسری حرام۔
پھر فرمایا تم ان حلال عورتوں کو اپنے مال سے حاصل کرو چار تک تو آزاد عورتیں اور لونڈیاں بغیر تعین کے لیکن ہو بطریق شرع۔ اسی لیے فرمایا زناکاری سے بچنے کے لیے اور صرف شہوت رانی مقصود نہیں ہونا چاہیئے۔
پھر فرمایا کہ جن عورتوں سے تم فائدہ اٹھاؤ ان کے اس فائدہ کے مقابلہ میں مہر دے دیا کرو، جیسے اور آیت میں ہے «وَكَيْفَ تَأْخُذُونَهُ وَقَدْ أَفْضَى بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ» ۱؎ [4-النساء:21] یعنی ’ تم مہر کو عورتوں سے کیسے لو گے حالانکہ ایک دوسرے سے مل چکے ہو ‘۔
اور فرمایا «وَآتُواْ النَّسَاء صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً» ۱؎ [4-النساء:4] یعنی ’ عورتوں کے مہر بخوشی دے دیا کرو ‘۔
اور جگہ فرمایا «وَلاَ يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَأْخُذُواْ مِمَّآ ءَاتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا» ۱؎ [2-البقرة:229] یعنی ’ تم نے جو کچھ عورتوں کو دے دیا ہو اس میں سے واپس لینا تم پر حرام ہے ‘۔
بعض کہتے ہیں اس سے بھی زیادہ بار مباح اور منسوخ ہوا، اور بعض کا قول ہے کہ صرف ایک بار مباح ہوا پھر منسوخ ہو گیا پھر مباح نہیں ہوا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور چند دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم سے ضرورت کے وقت اس کی اباحت مروی ہے۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت ایسی ہی مروی ہے سیدنا ابن عباس، سیدنا ابی بن کعب، سیدنا سعید بن جیبر اور سدی رضی اللہ عنہم سے «مِنْهُنَّ» کے بعد «الیٰ أَجَلٌ مُّسَمًّى» کی قرأت مروی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:176/8]
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت نکاح متعہ کی بابت نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور اس کے برخلاف ہیں اور اس کا بہترین فیصلہ بخاری و مسلم کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ والی روایت کر دیتی ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والے دن نکاح متعہ سے اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرما دیا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4216] اس حدیث کے الفاظ کتب احکام میں مقرر ہیں۔
حضرمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ مہر مقرر کر دیتے ہیں پھر ممکن ہے کہ تنگی ہو جائے تو اگر عورت اپنا حق چھوڑ دے تو جائز ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی قول کو پسند کرتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/180]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ مہر کی رقم پوری پوری اس کے حوالے کر دے پھر اسے بسنے اور الگ ہونے کا پورا پورا اختیار دے، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ علیم و حکیم ہے ان کا احکام میں جو حلت و حرمت کے متعلق ہیں جو رحمتیں ہیں اور جو مصلحتیں ہیں انہیں وہی بخوبی جانتا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومن المحرَّمات في النكاح {المحصناتُ من النساء}؛ أي: ذوات الأزواج؛ فإنَّه يَحْرُمُ نكاحهنَّ ما دمنَ في ذمة الزوج حتى تَطْلُقَ وتنقضيَ عِدَّتُها؛ {إلا ما ملكت أيمانكُم}؛ أي: بالسبي؛ فإذا سُبِيَتِ الكافرةُ ذات الزوج؛ حلَّت للمسلمين بعد أن تُسْتَبْرأ، وأما إذا بيعت الأمة المزوَّجةَ أو وُهِبَتْ؛ فإنَّه لا ينفسخُ نكاحُها؛ لأنَّ المالك الثاني نزل منزلة الأول، ولقصة بَريرة حين خيَّرها النبيُّ - صلى الله عليه وسلم -.
وقوله: {كتاب الله عليكم}؛ أي: الزموه واهتدوا به؛ فإن فيه الشفاء والنور، وفيه تفصيل الحلال من الحرام.
ودخل في قوله: {وأحِلَّ لكم ما وراء ذلكم}: كلُّ ما لم يُذْكَرْ في هذه الآية؛ فإنه حلال طيب؛ فالحرام محصورٌ، والحلال ليس له حدٌّ ولا حصرٌ؛ لطفاً من الله ورحمة وتيسيراً للعباد. وقوله: {أن تبتغوا بأموالكم}؛ أي: تطلُبوا مَن وَقَعَ عليه نظرُكُم واختيارُكُم من اللاتي أباحهنَّ الله لكم حالة كونكم {محصنينَ}؛ أي: مستعفين عن الزنا ومعفين نساءكم. {غير مسافحين}: والسفحُ سفحُ الماء في الحلال والحرام؛ فإنَّ الفاعل لذلك لا يحصن زوجته؛ لكونه وضع شهوته في الحرام، فتضعف داعيته للحلال، فلا يبقى محصناً لزوجته. وفيها دلالة على أنه لا يزوَّج غيرُ العفيف؛ لقوله تعالى: {الزاني لا ينكح إلا زانيةً أو مشركةً والزانيةُ لا ينكِحُها إلا زانٍ أو مشركٌ}.
{فما استمتعتم به منهن}؛ أي: من تزوَّجْتُموها. {فآتوهنَّ أجورهنَّ}؛ أي: الأجور في مقابلة الاستمتاع، ولهذا إذا دخل الزوج بزوجته؛ تقرَّر عليه صداقها {فريضةً}؛ أي: إتيانكم إياهنَّ أجورهنَّ فرضٌ فرضه الله عليكم، ليس بمنزلة التبرُّع الذي إن شاء أمضاه وإن شاء ردَّه، أو معنى قوله: {فريضةً}؛ أي: مقدَّرة، قد قدَّرتموها، فوجبت عليكم؛ فلا تنقصوا منها شيئاً. {ولا جُناح عليكم فيما تراضيتم به من بعد الفريضة}؛ أي: بزيادةٍ من الزوج أو إسقاطٍ من الزوجة عن رضا وطيب نفس. هذا قولُ كثيرٍ من المفسِّرين. وقال كثيرٌ منهم: إنها نزلت في متعة النساء التي كانت حلالاً في أول الإسلام، ثم حرَّمها النبي - صلى الله عليه وسلم -، وأنه يؤمر بتوقيتها وأجرها، ثم إذا انقضى الأمد الذي بينهما، فتراضيا بعد الفريضة؛ فلا حرج عليهما. والله أعلم. {إنَّ الله كان عليماً حكيماً}؛ أي: كامل العلم واسعه، كامل الحكمة؛ فمن علمه وحكمته شرع لكم هذه الشرائع، وحدَّ لكم هذه الحدود الفاصلة بين الحلال والحرام. ثم قال تعالى: