تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِيْۤ اَرْضَعْنَكُمْ …:} یعنی نسبی ماں اور بہن کی طرح دودھ کی ماں اور بہن بھی حرام ہیں۔ یہاں دو رشتوں کا ذکر ہے، مگر حدیث کی رو سے وہ ساتوں رشتے جو نسب سے حرام ہیں، دودھ سے بھی حرام ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہیں۔“ [بخاری، النکاح، باب: «و أمہاتکم التی أرضعنکم» : ۵۰۹۹، عن عائشۃ رضی اللہ عنہا]
قرآن مجید نے دودھ پینے کو حرمت کا سبب قرار دیا ہے، یہ وضاحت نہیں فرمائی کہ کم از کم کتنی دفعہ دودھ پیا ہو، مگر مسلم میں ام الفضل اور عائشہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک یا دو دفعہ دودھ پینا حرمت کا باعث نہیں ہوتا۔“ [مسلم، الرضاع، باب فی المصۃ والمصتان: ۱۴۵۰، ۱۴۵۱] عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے کہ قرآن میں اترنے والے حکم میں تھا کہ دس دفعہ دودھ پینا جو معلوم ہو، حرام کرتا ہے، پھر وہ پانچ کے ساتھ منسوخ ہو گیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے اور وہ قرآن میں پڑھے جاتے تھے۔ [مسلم، الرضاع، باب التحریم بخمس رضعات: ۱۴۵۲] یاد رہے کہ یہ دودھ پلانا اسی وقت معتبر ہو گا، جب دودھ پلانے کی مدت، یعنی دو سال کے اندر ہو۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۳۳)۔
➌ {وَ اُمَّهٰتُ نِسَآىِٕكُمْ:} اس میں بیویوں کی نانیاں اور دادیاں بھی اوپر تک شامل ہیں۔ بیوی کی ماں(ساس) حرام ہے، خواہ بیوی کو جماع سے پہلے طلاق دے دی ہو، یا اس کا انتقال ہو گیا ہو۔
➍ {وَ رَبَآىِٕبُكُمُ الّٰتِيْ فِيْ حُجُوْرِكُمْ: ”رَبَائِبُ“ } یہ{” رَبِيْبَةٌ “ } کی جمع ہے، یعنی بیوی کی دوسرے خاوند سے جو لڑکی ہو وہ بھی حرام ہے، بشرطیکہ اپنی بیوی (اس لڑکی کی ماں) سے جماع کر لیا ہو، اگر قبل از جماع طلاق دے دی تو عورت کی لڑکی سے نکاح جائز ہے، اس پر علماء کا اتفاق ہے۔ (قرطبی، ابن کثیر)
{ ”فِيْ حُجُوْرِكُمْ“ } (تمھاری گود میں) کی قید شرط کے طور پر نہیں، بلکہ اتفاقی ہے یعنی عام حالات میں ایسا ہوتا ہے، ورنہ اگر اس کی پرورش کسی اور جگہ ہوئی ہو تو بھی وہ حرام ہے۔
➎ {وَحَلَاۤئِلُ أَبْنَاۤئِكُمْ: ”حَلَاۤئِلُ“ } یہ ”{حَلِيْلَةٌ“ } کی جمع ہے، یعنی صلبی بیٹوں کی بیویاں نہ کہ منہ بولے بیٹوں کی بیویاں۔ دیکھیے سورۂ احزاب (37)۔
➏ {وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ.....:} یہ محل رفع میں ہے، یعنی { ”حُرِّمَ عَلَیْکُمُ الْجَمْعُ بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ“ } کہ دو بہنوں کو، صلبی ہوں یا رضاعی، ایک وقت میں نکاح میں جمع رکھنا حرام ہے۔ قرآن مجید میں صرف دو بہنوں کو جمع کرنا منع ہے، مگر حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھوپھی بھتیجی اور خالہ بھانجی کو ایک نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔“ [بخاری، النکاح، باب: لا تنکح المرأۃ علی عمتھا: 5109، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ] اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے علاوہ سنت بھی شریعت کا مستقل مأخذ ہے، قرآن میں صرف دو بہنوں کو جمع کرنا منع آیا ہے اور حدیث میں پھوپھی بھتیجی اور خالہ بھانجی کو جمع کرنا بھی منع آیا ہے، یہ بھی ماننا پڑے گا۔
➐{ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ:} یعنی پہلے جو رشتے ایسے ہو چکے ان کا کچھ گناہ نہیں، اس کے یہ معنی نہیں کہ ان کو برقرار رکھا جائے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو رشتے نسب کی رو سے حرام ہیں وہ رضاعت سے حرام ہو جاتے ہیں۔“
[بخاری، کتاب الشہادات، باب الشہادت علی الانساب]
[بخاری، کتاب العلم، باب الرحلۃ فی المسئلۃ النازلۃ]
3۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رضاعت وہی معتبر ہے جو کم سنی میں بھوک بند کرے۔“
[بخاری کتاب النکاح، باب من قال لارضاع بعد حولین]
4۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ افلح ابو قعیس کا بھائی میرا رضاعی چچا تھا۔ وہ میرے ہاں آیا اور اندر آنے کی اجازت چاہی۔ یہ واقعہ پردہ کا حکم آنے کے بعد کا ہے۔ لہٰذا میں نے اسے اجازت نہ دی۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو میں نے آپ سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے اندر آنے کی اجازت دے دوں۔
[بخاری، کتاب النکاح، باب لبن الفحل]
5۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”ایک بار یا دو بار دودھ چوسنے سے رضاعت کی حرمت ثابت نہیں ہوتی۔“
[ترمذی، ابواب الرضاع، باب لاتحرم المصۃ ولا المصتان]
6۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ قرآن میں ایک آیت اتری تھی عشر رضعات معلومات یعنی دس بار دودھ چوسنے سے حرمت رضاعت ثابت ہوتی ہے۔ پھر وہ منسوخ ہو گئی اور پانچ بار کا حکم باقی رہا اور یہی حکم آپ کی وفات تک رہا۔ اور اسی کے مطابق سیدہ عائشہؓ فتویٰ دیا کرتی تھیں۔
[جائزۃ الشعوذی، جامع ترمذی۔ ابواب الرضاع، باب لاتحرم المصۃ ولا المصتان]
رہی رضاعت کی مدت جس کے اندر دودھ چوسنے سے رضاعت ثابت ہوتی ہے تو وہ بموجب ﴿حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ﴾ دو سال تک ہے اور ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے سوا تمام فقہا اسی کے قائل ہیں۔ البتہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ رضاعت کی مدت اڑھائی سال قرار دیتے ہیں۔ نیز ان کے نزدیک ایک دفعہ چوسنے یا ایک گھونٹ سے بھی رضاعت ثابت ہو جاتی ہے۔
[بخاری، کتاب النکاح، باب لاینکح المراۃ علی عمتھا۔ مسلم، کتاب النکاح 'باب تحریم الجمع بین المرأۃ و عمتھا]
1۔ مائیں۔ اور ان میں دادیاں نانیاں بھی شامل ہیں۔ تا آخر۔ 2۔ بیٹیاں۔ اور ان میں پوتیاں، نواسیاں بھی شامل ہیں۔۔ تا آخر۔ 3۔ بہنیں۔ اور ان میں سگی، علاتی اور اخیافی بہنیں سب شامل ہیں۔ 4۔ پھوپھیاں۔ 5۔ خالائیں۔ خواہ یہ سگی ہوں یا اخیافی یا علاتی، سب حرام ہیں۔ 6۔ بھتیجیاں اور ان کی بیٹیاں۔ 7۔ بھانجیاں اور ان کی بیٹیاں۔ 8۔ رضاعی مائیں۔ 9۔ رضاعی بہنیں۔ اور رضاعت کی رو سے وہ سب رشتے حرام ہیں جو نسب کی رو سے حرام ہیں۔ 10۔ ساس، اور سالیاں جب تک کہ ان کی بہن نکاح میں ہو۔ 11۔ بیٹیاں اور سوتیلی بیٹیاں۔ 12۔ بہو (حقیقی بیٹے کی بیوہ) سے نکاح حرام ہے۔ 13۔ دو بہنوں کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔ اس حکم کے بعد فوراً ایک کو طلاق دے دی جائے گی۔ 14۔ اور اگلی آیت نمبر 24 کی رو سے تمام شوہر والی عورتیں بھی حرام ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جمہور علماء کرام نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ زنا سے جو لڑکی پیدا ہوئی وہ بھی اس زانی پر حرام ہے کیونکہ یہ بھی بیٹی ہے اور بیٹیاں حرام ہیں، یہی مذہب ابوحنیفہ، مالک اور احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہم کا ہے، امام شافعی رحمہ اللہ سے کچھ اس کی اباحت میں بھی بحث کی گئی ہے اس لیے کہ شرعاً یہ بیٹی نہیں پس جیسے کہ ورثے کے حوالے سے یہ بیٹی کے حکم سے خارج ہے اور ورثہ نہیں پاتی اسی طرح اس آیت حرمت میں بھی وہ داخل نہیں ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (صحیح مذہب وہی ہے جس پر جمہور ہیں۔ مترجم)
صحیح مسلم میں ہے رضاعت سے بھی وہ حرام ہے جو نسب سے ہے، بعض فقہاء نے اس میں سے چار صورتیں بعض نے چھ صورتیں مخصوص کی ہیں جو احکام کی فروع کی کتابوں میں مذکور ہیں لیکن تحقیقی بات یہ ہے کہ اس میں سے کچھ بھی مخصوص نہیں اس لیے کہ اسی کے مانند بعض صورتیں نسبت میں بھی پائی جاتی ہیں اور ان صورتوں میں سے بعض صرف سسرالی رشتہ کی وجہ سے حرام ہیں لہٰذا حدیث پر اعتراض خارج از بحث ہے والحمدللہ۔ آئمہ کا اس میں بھی اختلاف ہے کہ کتنی مرتبہ دودھ پینے سے حرمت ثبات ہوتی ہے، بعض تو کہتے ہیں کہ تعداد معین نہیں دودھ پیتے ہی حرمت ثابت ہو گئی امام مالک رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سعید بن مسیب، عروہ بن زبیر اور زہری رحمہ اللہ علیہم کا قول بھی یہی ہے، دلیل یہ ہے کہ رضاعت یہاں عام ہے بعض کہتے ہیں تین مرتبہ جب پئے تو حرمت ثابت ہو گئی، جیسے کہ صحیح مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ کا چوسنا یا دو مرتبہ کا پی لینا حرام نہیں کرتا یہ حدیث مختلف الفاظ سے مروی ہے، ۱؎ [صحیح مسلم:1450] امام احمد، اسحاق بن راہویہ، ابوعبیدہ، ابوثور رحمہ اللہ علیہم بھی یہی فرماتے ہیں، سیدنا علی، سیدہ عائشہ، سیدہ ام الفضل، سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہم، سلیمان بن یسار، سعید بن جبیر رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے۔
دوسری دلیل سیدہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ سالم کو جو ابوحذیفہ کے مولی تھے پانچ مرتبہ دودھ پلا دیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اسی حدیث کے مطابق جس عورت کے گھر کسی کا آنا جانا دیکھتیں اسے یہی حکم دیتیں، امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب کا فرمان بھی یہی ہے کہ پانچ مرتبہ دودھ پینا معتبر ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1453] (مترجم کی تحقیق میں بھی راجح قول یہی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» )
یہ بھی یاد رہے کہ جمہور کا مذہب یہ ہے کہ یہ رضاعت دودھ چھٹنے سے پہلے یعنی دو سال کے اندر اندر کی عمر میں ہو، اس کا مفصل بیان «وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ» ۱؎ [2-البقرة:233] کی تفسیر میں سورۃ البقرہ میں گزر چکا ہے، پھر اس میں بھی اختلاف ہے کہ اس رضاعت کا اثر رضاعی ماں کے خاوند تک بھی پہنچے گا یا نہیں؟ تو جمہور کا اور آئمہ اربعہ کا فرمان تو یہ ہے کہ پہنچے گا اور بعض سلف کا قول ہے کہ صرف دودھ پلانے والی تک ہی رہے گا اور رضاعی باپ تک نہیں پہنچے گا اس کی تفصیل کی جگہ احکام کی بڑے بڑی کتابیں ہیں نہ کہ تفسیر (صحیح قول جمہور کا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» مترجم)
ایک اور روایت میں بھی آپ سے مروی ہے آپ فرماتے تھے جب وہ عورت غیر مدخولہ مر جائے اور یہ خاوند اس کی میراث لے لے تو پھر اس کی ماں کو لانا مکروہ ہے ہاں اگر دخول سے پہلے طلاق دے دی ہے تو اگر چاہے نکاح کر سکتا ہے سیدنا ابوبکر بن کنانہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا نکاح میرے باپ نے طائف کی ایک عورت سے کرایا ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی کہ اس کا باپ میرا چچا فوت ہو گیا اس کی بیوی یعنی میری ساس بیوہ ہو گئی وہ بہت مالدار تھیں میرے باپ نے مجھے مشورہ دیا کہ اس لڑکی کو چھوڑ دوں اور اس کی ماں سے نکاح کر لوں میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا:تمہارے لیے یہ جائز ہے پھر میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا یہ جائز نہیں میں نے اپنے والد سے ذکر کیا انہوں نے تو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ہی سوال کیا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے تحریر فرمایا کہ میں نہ تو حرام کو حلال کروں نہ حلال کر حرام تم جانو اور تمہارا کام تم حالت دیکھ رہے ہو معاملہ کے تمام پہلو تمہاری نگاہوں کے سامنے ہیں۔ عورتیں اس کے علاوہ بھی بہت ہیں۔ غرض نہ اجازت دی نہ انکار کیا چنانچہ میرے باپ نے اپنا خیال اس کی ماں کی طرف سے ہٹا لیا۔
شافعیوں میں سے ابوالحسن احمد بن محمد بن صابونی رحمہ اللہ سے بھی بقول رافعی یہی مروی ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی اسی کے مثل مروی ہے لیکن پھر آپ نے اپنے اس قول سے رجوع کر لیا ہے طبرانی میں ہے کہ قبیلہ فزارہ کی شاخ قبیلہ بنو کمخ کے ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا پھر اس کی بیوہ ماں کے حسن پر فریفتہ ہوا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مسئلہ پوچھا کہ کیا مجھے اس کی ماں سے نکاح کرنا جائز ہے آپ نے فرمایا ہاں چنانچہ اس نے اس لڑکی کو طلاق دے کر اس کی ماں سے نکاح کر لیا اس سے اولاد بھی ہوئی پھر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ مدینہ آئے اور اس مسئلہ کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ حلال نہیں چنانچہ آپ واپس کوفے گئے اور اس سے کہا کہ اس عورت کو الگ کر دے یہ تجھ پر حرام ہے اس نے اس فرمان کی تعمیل کی اور اسے الگ کر دیا جمہور علماء اس طرف ہیں لڑکی تو صرف عقد نکاح سے حرام نہیں ہوتی تاوقتیکہ اس کی ماں سے مباشرت نہ کی ہو ہاں ماں صرف لڑکی کے عقد نکاح ہوتے ہی حرام ہو جاتی ہے گو مباشرت نہ ہوئی ہو۔
«حجور» سے مراد گھر ہے جیسے کہ ابوعبیدہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ جو کنیز ملکیت میں ہو اور اس کے ساتھ اس کی لڑکی ہو اس کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ ایک کے بعد دوسری جائز ہو گی یا نہیں؟ تو آپ نے فرمایا:اسے پسند نہیں کرتا، اس کی سند منقطع ہے۔
ابن جریج رحمہ اللہ نے سوال کیا کہ اگر یہ کام عورت ہی کے گھر میں ہوا ہو فرمایا: وہاں یہاں دونوں کا حکم ایک ہی ہے ایسا اگر ہو گیا تو اس کی لڑکی اس پر حرام ہو گئی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:148/8]
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سنا کرتے تھے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کی بیوی سے نکاح کر لیا تو مکہ کے مشرکوں نے کائیں کائیں شروع کر دی اس پر یہ آیت اور آیت «وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ» ۱؎ [33-الأحزاب:4] اور آیت «مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَـٰكِنْ رَسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّـهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:40] نازل ہوئیں یعنی ’ بیشک صلبی لڑکے کی بیوی حرام ہے۔ تمہارے لے پالک لڑکے شرعاً تمہاری اولاد کے حکم میں نہیں، تمہارے مردوں میں سے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کسی مرد کے باپ نہیں۔ ۱؎ [:تفسیر ابن جریر الطبری:8/149]
حسن بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیتیں مبہم ہیں جیسے تمہارے لڑکوں کی بیویاں تمہاری ساسیں، طاؤس ابراہیم زہری اور مکحول رحمہ اللہ علیہم سے بھی اسی طرح مروی ہے میرے خیال میں مبہم سے مراد عام ہیں۔ یعنی مدخول بہا اور غیر مدخول دونوں ہی شامل ہیں اور صرف نکاح کرتے ہی حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔ خواہ صحبت ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔
جمہور کا مذہب یہی ہے کہ رضاعی بیٹے کی بیوی بھی حرام ہے بعض لوگوں نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ پھر فرماتا ہے دو بہنوں کا نکاح میں جمع کرنا بھی تم پر حرام ہے اسی طرح ملکیت کی لونڈیوں کا حکم ہے کہ دو بہنوں سے ایک ہی وقت وطی حرام ہے مگر جاہلیت کے زمانہ میں جو ہو چکا اس سے ہم درگزر کرتے ہیں پس معلوم ہوا کہ اب یہ کام آئندہ کسی وقت جائز نہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت «لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰى» ۱؎ [44-الدخان:56] یعنی ’ وہاں موت نہیں آئے گی ‘ ہاں پہلی موت جو آنی تھی سو آ چکی تو معلوم ہوا کہ اب آئندہ کبھی موت نہیں آئے گی۔
صحابہ، تابعین، ائمہ اور سلف و خلف کے علماء کرام کا اجماع ہے کہ دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کرنا حرام ہے اور جو شخص مسلمان ہو اور اس کے نکاح میں دو بہنیں ہوں تو اسے اختیار دیا جائے گا کہ ایک کو رکھ لے اور دوسری کو طلاق دیدے اور یہ اسے کرنا ہی پڑے گا فیروز رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں جب مسلمان ہوا تو میرے نکاح میں دو عورتیں تھیں جو آپس میں بہنیں تھیں پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ { ان میں سے ایک کو طلاق دے دو }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1129،قال الشيخ الألباني:حسن] (مسند احمد) ابن ماجہ ابوداؤد اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے۔
جمہور کا قول بھی یہی مشہور ہے اور آئمہ اربعہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں گو بعض سلف نے اس مسئلہ میں توقف فرمایا ہے۔
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے جب یہ مسئلہ پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ایک آیت اسے حلال کرتی ہے دوسری حرام میں تو اس سے منع کرتا سائل وہاں سے نکلا تو راستے میں ایک صحابی سے ملاقات ہوئی اس نے ان سے بھی یہی سوال کیا انہوں نے فرمایا اگر مجھے کچھ اختیار ہوتا تو میں ایسا کرنے والے کو عبرت ناک سزا دیتا، امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرا گمان ہے کہ یہ فرمانے والے غالباً سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے بھی اسی کی مثل مروی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں لونڈیاں مجھ پر میری قرابت کی وجہ سے جو ان سے ہے بعض اور لونڈیوں کو حرام کر دیتی ہیں لیکن انہیں خود آپس میں جو قرابت ہو اس سے مجھ پر حرام نہیں ہوتیں، جاہلیت والے بھی ان عورتوں کو حرام سمجھتے تھے جنہیں تم حرام سمجھتے ہو مگر اپنے باپ کی بیوی کو جو ان کی سگی ماں نہ ہو اور دو بہنوں کو ایک ساتھ ایک وقت میں نکاح میں جمع کرنا وہ حرام نہیں سمجھتے تھے لیکن اسلام نے آ کر ان دونوں کو بھی حرام قرار دیا اس وجہ سے ان دونوں کی حرمت کے بیان کے ساتھ ہی فرما دیا کہ جو نکاح ہو چکے وہ ہو چکے۔
الحمدللہ تفسیر ابن کثیر کا چوتھا پارہ اپنے اختتام کو پہنچا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فأما المحرمات في النسب؛ فهنَّ السبعُ اللاتي ذكرهنَّ الله: الأمُّ: يدخل فيها كلُّ من لها عليك ولادةٌ وإن بَعُدَتْ. ويدخل في البنت كلُّ من لك عليها ولادة. والأخوات الشقيقات أو لأبٍ أو لأمٍ. والعمة: كلُّ أختٍ لأبيك أو لجدِّك وإن علا. والخالة: كلُّ أخت لأمِّك أو جدَّتك وإن علت وارثة أم لا. وبناتُ الأخ وبناتُ الأخت؛ أي: وإن نزلت. فهولاء هنَّ المحرَّمات من النسب بإجماع العلماء؛ كما هو نصُّ الآية الكريمة، وما عداهنَّ؛ فيدخُلُ في قولِهِ: {وأحِلَّ لكم ما وراء ذلكم}، وذلك كبنت العمَّة والعمِّ وبنت الخال والخالة.
وأما المحرَّمات بالرَّضاع؛ فقد ذكر الله منهنَّ الأمَّ والأخت، وفي ذلك تحريم الأم، مع أنَّ اللبن ليس لها، إنَّما هو لصاحب اللبن، دلَّ بتنبيهه على أن صاحب اللبن يكون أباً للمرتضع؛ فإذا ثبتت الأبوة والأمومة؛ ثبت ما هو فرعٌ عنهما؛ كأخوتهما وأصولهما وفروعهما ، وقال النبي - صلى الله عليه وسلم -: «يحرُمُ من الرَّضاع ما يحرُمُ من النسب» ، فينتشر التحريم من جهة المرضعة ومَن له اللبن كما ينتشر في الأقارب وفي الطفل المرتضع إلى ذريَّته فقط، لكن بشرط أن يكون الرضاعُ خمسَ رَضَعات في الحولين؛ كما بيَّنت السنة.
وأما المحرمات بالصهر؛ فهنَّ أربع: حلائل الآباء وإن علوا، وحلائل الأبناء وإن نزلوا وارثين أو محجوبين، وأمهات الزوجة وإن علون؛ فهؤلاء الثلاث يَحْرُمْنَ بمجرَّد العقد، والرابعة الربيبة، وهي بنت زوجته وإن نزلت؛ فهذه لا تحرُمُ حتى يدخلَ بزوجتِهِ؛ كما قال هنا: {وربائبُكُمُ اللاَّتي في حجورِكُم من نسائِكُمُ اللاتي دخلتم بهن ... } الآية. وقد قال الجمهور: إن قوله: {اللاتي في حجوركم}: قيدٌ خَرَجَ بمخرَج الغالب لا مفهوم له؛ فإن الربيبة تحرُمُ ولو لم تكن في حجره، ولكن للتقييد بذلك فائدتان: إحداهما: [فيه] التنبيه على الحكمة في تحريم الربيبة، وأنها كانت بمنزلة البنت؛ فمن المستقبح إباحتها. والثانية: فيه دلالة على جواز الخَلْوة بالربيبة، وأنها بمنزلة من هي في حجره من بناته ونحوهن. والله أعلم.
وأمّا المحرمات بالجمع؛ فقد ذكر الله الجمع بين الأختين وحرَّمه، وحرَّم النبي - صلى الله عليه وسلم - الجمع بين المرأة وعمتها أو خالتها ؛ فكل امرأتين بينهما رحمٌ محرَّم، لو قُدِّرَ إحداهُما ذكراً والأخرى أنثى حَرُمَتْ عليه؛ فإنه يحرُمُ الجمع بينهما، وذلك لما في ذلك من أسباب التقاطع بين الأرحام.