ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 22

وَ لَا تَنۡکِحُوۡا مَا نَکَحَ اٰبَآؤُکُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَ ؕ اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً وَّ مَقۡتًا ؕ وَ سَآءَ سَبِیۡلًا ﴿٪۲۲﴾
اور ان عورتوں سے نکاح مت کرو جن سے تمھارے باپ نکاح کر چکے ہوں، مگر جو پہلے گزر چکا، بے شک یہ ہمیشہ سے بڑی بے حیائی اور سخت غصے کی بات ہے اور برا راستہ ہے۔ En
اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نے نکاح کیا ہو ان نکاح مت کرنا (مگر جاہلیت میں) جو ہوچکا (سوہوچکا) یہ نہایت بےحیائی اور (خدا کی) ناخوشی کی بات تھی۔ اور بہت برا دستور تھا
En
اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہے مگر جو گزر چکا ہے، یہ بے حیائی کا کام اور بغض کا سبب ہے اور بڑی بری راه ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 22) {وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ …:} جاہلیت کے دستور میں بیٹے کے لیے اپنے باپ کی منکوحہ (سوتیلی ماں) سے شادی کر لینا جائز تھا، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اہل جاہلیت ان رشتوں کو حرام سمجھتے تھے جنھیں اللہ تعالیٰ نے حرام کیا، سوائے باپ کی بیوی اور دو بہنوں کو جمع کرنے کے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں: «وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ» [النساء: ۲۲] اور «وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ» [النساء: ۲۳] [ابن جریر: 369/4 صحیح] اللہ تعالیٰ نے اسے سخت حرام قرار دیا، حتیٰ کہ اگر باپ نے صرف عقد ہی کیا ہو تو بھی بیٹے کا اس سے نکاح حرام ہے۔ یہ سخت بے حیائی اور اللہ کی سخت ناراضگی کا باعث اور برا راستہ ہے کہ آج تم نے اپنے باپ کی منکوحہ سے نکاح کیا ہے، کل تمھاری منکوحہ سے تمھارا بیٹا نکاح کرے گا، اللہ تعالیٰ نے یہ راستہ ہی بند کر دیا۔ براء بن عازب رضی اللہ عنھما سے روایت ہے، وہ اپنے ماموں ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی طرف بھیجا جس نے اپنے باپ کے بعد اس کی بیوی سے نکاح کر لیا تھا کہ اسے قتل کر دیں اور اس کا مال لے لیں۔ [أبو داوٗد، الحدود، باب فی الرجل یزنی بحریمہ: ۴۴۵۷۔ ترمذی: ۱۳۶۲۔ نسائی: ۳۳۳۴۔ ابن ماجہ: ۲۶۰۷ و قال الألبانی صحیح] معلوم ہوا ایسا شخص واجب القتل ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

22۔ 1 زمانہ جاہلیت میں سوتیلے بیٹے اپنے باپ کی بیوی سے (یعنی سوتیلی ماں سے) نکاح کرلیتے تھے، اس سے روکا جا رہا ہے، کہ یہ بہت بےحیائی کا کام ہے اسلام ایسی عورت سے نکاح کو ممنوع قرار دیتا ہے جس سے اس کے باپ نے نکاح کیا لیکن دخول سے قبل ہی طلاق دے دی۔ حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ بات مروی ہے اور علماء اسی کے قائل ہیں (تفسیر طبری)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

22۔ اور جن عورتوں کو تمہارے باپ نکاح میں لا چکے ہیں ان سے نکاح نہ کرو مگر پہلے جو ہو چکا [36] سو ہو چکا۔ یہ بڑی بے حیائی اور بیزاری کی بات ہے اور برا چلن ہے
[36] سوتیلی ماؤں سے نکاح:۔
یعنی تمہاری سوتیلی مائیں بھی ماؤں ہی کے مقام پر ہیں لہٰذا انہیں ورثہ کا مال سمجھنا اور زبردستی ان سے نکاح کرنا، ان کے ترکہ کے وارث بن بیٹھنا، یہ سب باتیں انتہائی شرمناک اور قابل مذمت ہیں۔ البتہ جو نکاح اس حکم کے آنے سے پہلے تک تم کر چکے ہو وہ کالعدم قرار نہیں دیئے جائیں گے، نہ ان سے پیدا شدہ اولاد حرامی تصور ہو گی۔ وراثت کے احکام بھی ان پر لاگو ہوں گے لیکن اس حکم کے بعد تم پر سوتیلی ماؤں سے نکاح کرنا حرام ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمھارے باپ اور دادا نکاح کر چکے ہوں ﴿ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً یہ بہت قبیح کام ہے اور اس کی قباحت بہت بڑھی ہوئی ہے ﴿ وَّمَقْتًا تمھارے لیے اللہ تعالیٰ اور مخلوق کی ناراضی کا باعث ہے۔ بلکہ اس کے سبب سے بیٹا باپ سے اور باپ بیٹے سے ناراض ہو جاتا ہے، حالانکہ بیٹے کو باپ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کا حکم ہے ﴿ وَسَآءَؔ سَبِیْلًا (اس راستے پر) چلنے والے کے لیے یہ برا راستہ ہے۔ کیونکہ یہ جاہلیت کی قبیح رسم و عادات ہیں جن سے (معاشرے کو) پاک کرنے کے لیے اسلام آیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: لا تتزوَّجوا من النساء ما تزوَّجهنَّ آباؤكم؛ أي: الأب وإن علا. {إنه كان فاحشة}؛ أي: أمراً قبيحاً يفحُشُ ويعظُمُ قبحُهُ. {ومَقْتاً}: من الله لكم، ومن الخلق، بل يَمْقُتُ بسبب ذلك الابن أباه والأب ابنه مع الأمر ببرِّه. {وساء سبيلاً}؛ أي: بئس الطريق طريقاً لمن سلكه؛ لأنَّ هذا من عوائد الجاهلية التي جاء الإسلام بالتنزُّه عنها والبراءة منها.