تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[بخاری، کتاب التوحید، باب ماجاء فی قول اللہ إن رحمۃ اللہ قریب من المحسنین]
اور ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا میں تمہیں بتاؤں کہ بہشتی کون ہیں اور دوزخی کون؟ جنتی ہر وہ کمزور اور منکسر المزاج ہے کہ اگر وہ اللہ کے بھروسے پر قسم کھا بیٹھے تو اللہ اسے سچا کر دے۔ اور دوزخی ہر موٹا، اجڈ اور متکبر آدمی ہوتا ہے۔“
[بخاری۔ کتاب الایمان، باب قول اللہ تعالیٰ واقسموا باللہ جہد ایمانہم]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس لیے یہ فرمایا گیا ہے اور رک جانے پر زیادہ قادر ہونے سے افضیلت ثابت نہیں ہوتی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس طرح مسیح علیہ السلام کو لوگ پوجتے تھے، اسی طرح فرشتوں کی بھی عبادت کرتے تھے۔ تو اس آیت میں مسیح علیہ السلام کو اللہ کی عبادت سے رکنے والا بتا کر فرشتوں کی بھی یہی حالت بیان کر دی، جس سے ثابت ہو گیا کہ جنہیں تم پوجتے ہو وہ خود اللہ کو پوجتے ہیں، پھر ان کی پوجا کیسی؟
جیسے اور آیت میں ہے «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا ۗ سُبْحَانَهُ ۚ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُم بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَىٰ وَهُم مِّنْ خَشْيَتِهِ مُشْفِقُونَ وَمَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَـٰهٌ مِّن دُونِهِ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» [21-الأنبياء:26-29]۔
اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ جو اس کی عبادت سے رکے، منہ موڑے اور بغاوت کرے، وہ ایک وقت اسی کے پاس لوٹنے والا ہے اور اپنے بارے میں اس کا فیصلہ سننے والا ہے اور جو ایمان لائیں، نیک اعمال کریں، انہیں ان کا پورا ثواب بھی دیا جائے گا، پھر رحمت ایزدی اپنی طرف سے بھی انعام عطا فرمائے گی۔
پھر فرمایا جو لوگ اللہ کی عبادت و اطاعت سے رک جائیں اور اس سے تکبر کریں، انہیں پروردگار درد ناک عذاب کرے گا اور یہ اللہ کے سوا کسی کو دلی و مددگار نہ پائیں گے۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» ۱؎ [40-غافر:60] ’ جو لوگ میری عبادت سے تکبر کریں، وہ ذلیل و حقیر ہو کر جہنم میں جائیں گے ’ یعنی ان کے انکار اور ان کے تکبر کا یہ بدلہ انہیں ملے گا کہ ذلیل و حقیر خوار و بے بس ہو کر جہنم میں داخل کئے جائیں گے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم فصَّل حكمهَ فيهم، فقال: {فأمَّا الذين آمنوا وعملوا الصالحات}؛ أي: جمعوا بين الإيمان المأمور به وعمل الصالحات من واجبات ومستحبَّات من حقوق الله وحقوق عباده، {فيوفِّيهم أجورَهم}؛ أي: الأجور التي رتَّبها على الأعمال كل بحسب إيمانه وعمله، {ويزيدُهم من فضله}: من الثَّواب الذي لم تَنَلْهُ أعمالُهم ولم تَصِلْ إليه أفعالُهم ولم يخطُرْ على قلوبِهِم، ودَخَلَ في ذلك كلُّ ما في الجنَّة من المآكل والمشارب والمناكح والمناظر والسُّرور ونعيم القلب والرُّوح ونعيم البدن، بل يدخل في ذلك كلُّ خير دينيٍّ ودنيويٍّ رُتِّب على الإيمان والعمل الصالح. {وأمّا الذين اسْتَنكَفوا واسْتَكْبَروا}؛ أي: عن عبادة الله تعالى، {فيعذِّبُهم عذاباً أليماً}، وهو سخط الله وغضبه والنار الموقَدة التي تطَّلع على الأفئدة، {ولا يَجِدون لهم مِن دون الله وليًّا ولا نصيراً}؛ أي: لا يجدون أحداً من الخلق يتولاَّهم فيحصِّل لهم المطلوبَ، ولا من ينصُرُهم فيدفعُ عنهم المرهوبَ، بل قد تَخَلَّى عنهم أرحم الراحمين وتَرَكَهم في عذابِهم خالدين، وما حكم به تعالى؛ فلا رادَّ لحكمِهِ ولا مغيِّرَ لقضائِهِ.