ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 174

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَکُمۡ بُرۡہَانٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ نُوۡرًا مُّبِیۡنًا ﴿۱۷۴﴾
اے لوگو! بلاشبہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل آئی ہے اور ہم نے تمھاری طرف ایک واضح نور نازل کیا ہے۔ En
لوگو تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس دلیل (روشن) آچکی ہے اور ہم نے (کفر اور ضلالت کا اندھیرا دور کرنے کو) تمہاری طرف چمکتا ہوا نور بھیج دیا ہے
En
اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے سند اور دلیل آپہنچی اور ہم نے تمہاری جانب واضح اور صاف نور اتار دیا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 174) {يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ ……:} جب اﷲ تعالیٰ نے تمام گمراہ فرقوں کفار، منافقین، یہود و نصاریٰ پر دلائل قائم کر دیے اور ان کے شکوک و شبہات کی بھی مکمل تردید فرما دی تو اب اس آیت میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لانے کی عام دعوت دی کہ تمھارے پاس رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی برحق ہونے کی واضح دلیل آ چکی اور ہم نے حق کو واضح کرنے والا نور، یعنی قرآن مجید نازل فرما دیا جو انسان کو ضلالت کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی کی طرف لاتا ہے اور دل میں نور ایمان پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

174۔ 1 برہان ایسی دلیل قاطع جس کے بعد کسی کو عذر کی گنجائش نہ رہے اور ایسی حجت جس سے ان کے شبہات زائل ہوجائیں، اسی لئے آگے اسے نور سے تعبیر فرمایا۔ 174۔ 2 اس سے مراد قرآن کریم ہے جو کفر اور شرک کی تاریکیوں میں ہدایت کا نور ہے۔ ضلالت کی پگڈنڈیوں میں صراط مستقیم اور حبل اللہ المتین ہے۔ پس اس کے مطابق ایمان لانے والے اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے مستحق ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

174۔ لوگو! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح [231] دلیل آچکی ہے اور ہم نے تمہاری طرف صاف صاف راہ دکھانے والا نور (قرآن کریم) نازل کیا ہے
[231] قرآن برہان کیوں ہے؟
برہان ایسی واضح دلیل کو کہتے ہیں کہ فریقین کے درمیان فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہو۔ قرآن اس لحاظ سے برہان ہے کہ اس نے اپنے مخالف تمام کفار کو چیلنج کیا کہ ”اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ اللہ کا کلام نہیں بلکہ کسی انسان کا کلام ہے تو تم سب مل کر اور ایک دوسرے کی مدد کر کے قرآن جیسی ایک سورت ہی بنا لاؤ“ لیکن عرب بھر کے تمام فصحاء، بلغاء اور شعراء ایسا کلام پیش کرنے سے عاجز رہ گئے۔ اسی ایک چیلنج سے تین چیزوں کا ثبوت ملتا ہے اور یہ ثبوت بھی ایسا ہے جو فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔
(1) وجود باری تعالیٰ کا ثبوت (2) قرآن کے اللہ کا کلام ہونے کا ثبوت اور (3) آپ کی نبوت کا ثبوت۔ اسی لحاظ سے قرآن کو برہان کہا گیا ہے۔ اور نور مبین اس لحاظ سے ہے کہ ہدایت انسانی یعنی دنیوی طریق زندگی اور اخروی نجات کے لیے زندگی کے ہر ہر پہلو پر روشنی ڈالنے والا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قرآن مجید اللہ تعالٰی کی مکمل دلیل اور حجت تمام ہے ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ تمام انسانوں کو فرماتا ہے کہ میری طرف سے کامل دلیل اور عذر معذرت کو توڑ دینے والی چیز، شک و شبہ کو الگ کرنے والی برہان (‏‏‏‏دلیل) تمہاری طرف نازل ہو چکی ہے اور ہم نے تمہاری طرف کھلا نور، صاف روشنی، پورا اجالا اتار دیا ہے، جس سے حق کی راہ صحیح طور پر واضح ہو جاتی ہے۔
ابن جریج وغیرہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس سے مراد قرآن کریم ہے۔ اب جو لوگ اللہ پر ایمان لائیں اور توکل اور بھروسہ اسی پر کریں، اس سے مضبوط رابطہٰ کر لیں، اس کی سرکار میں ملازمت کر لیں، مقام عبودیت اور مقام توکل میں قائم ہو جائیں، تمام امور اسی کو سونپ دیں
اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ پر ایمان لائیں اور مضبوطی کے ساتھ اللہ کی کتاب کو تھام لیں ان پر اللہ اپنا رحم کرے گا، اپنا فضل ان پر نازل فرمائے گا، نعمتوں اور سرور والی جنت میں انہیں لے جائے گا، ان کے ثواب بڑھا دے گا، ان کے درجے بلند کر دے گا اور انہیں اپنی طرف لے جانے والی سیدھی اور صاف راہ دکھائے گا، جو کہیں سے ٹیڑھی نہیں، کہیں سے تنگ نہیں۔ پس وہ مومن دنیا میں صراط مستقیم پر ہوتا ہے۔ راہ اسلام پر ہوتا ہے اور آخرت میں راہ جنت پر اور راہ سلامتی پر ہوتا ہے۔
شروع تفسیر میں ایک پوری حدیث گذر چکی ہے جس میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اللہ کی سیدھی راہ اور اللہ کی مضبوط رسی قرآن کریم ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2906،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏