تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
(1) وجود باری تعالیٰ کا ثبوت (2) قرآن کے اللہ کا کلام ہونے کا ثبوت اور (3) آپ کی نبوت کا ثبوت۔ اسی لحاظ سے قرآن کو برہان کہا گیا ہے۔ اور نور مبین اس لحاظ سے ہے کہ ہدایت انسانی یعنی دنیوی طریق زندگی اور اخروی نجات کے لیے زندگی کے ہر ہر پہلو پر روشنی ڈالنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ابن جریج وغیرہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس سے مراد قرآن کریم ہے۔ اب جو لوگ اللہ پر ایمان لائیں اور توکل اور بھروسہ اسی پر کریں، اس سے مضبوط رابطہٰ کر لیں، اس کی سرکار میں ملازمت کر لیں، مقام عبودیت اور مقام توکل میں قائم ہو جائیں، تمام امور اسی کو سونپ دیں
اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ پر ایمان لائیں اور مضبوطی کے ساتھ اللہ کی کتاب کو تھام لیں ان پر اللہ اپنا رحم کرے گا، اپنا فضل ان پر نازل فرمائے گا، نعمتوں اور سرور والی جنت میں انہیں لے جائے گا، ان کے ثواب بڑھا دے گا، ان کے درجے بلند کر دے گا اور انہیں اپنی طرف لے جانے والی سیدھی اور صاف راہ دکھائے گا، جو کہیں سے ٹیڑھی نہیں، کہیں سے تنگ نہیں۔ پس وہ مومن دنیا میں صراط مستقیم پر ہوتا ہے۔ راہ اسلام پر ہوتا ہے اور آخرت میں راہ جنت پر اور راہ سلامتی پر ہوتا ہے۔
شروع تفسیر میں ایک پوری حدیث گذر چکی ہے جس میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اللہ کی سیدھی راہ اور اللہ کی مضبوط رسی قرآن کریم ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2906،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يمتنُّ تعالى على سائر الناس بما أوصل إليهم من البراهين القاطعة والأنوار السَّاطعة، ويقيمُ عليهم الحجَّة، ويوضِّح لهم المحجَّة، فقال: {يا أيُّها الناس قد جاءكم برهانٌ من ربِّكم}؛ أي: حججٌ قاطعةٌ على الحقِّ تبيِّنه وتوضِّحه وتبيِّن ضدَّه، وهذا يشمل الأدلَّة العقليَّة والنقليَّة، والآيات الأفقيَّة والنفسيَّة، {سَنُريهم آياتِنا في الآفاق وفي أنْفُسِهِم حتَّى يتبيَّنَ لهم أنه الحقُّ}، وفي قوله: {مِن ربِّكم}: ما يدلُّ على شرف هذا البرهان وعظمتِهِ؛ حيث كان من ربِّكم الذي ربَّاكم التربية الدينيَّة والدنيويَّة؛ فمن تربيته لكم التي يُحمد عليها، ويُشكر أن أوصل إليكم البيِّنات ليهدِيَكم بها إلى الصِّراط المستقيم والوصول إلى جنَّات النعيم. وأنزل {إليكم نُوراً مبيناً}، وهو هذا القرآن العظيم، الذي قد اشتمل على علوم الأوَّلين والآخِرين والأخبار الصَّادقة النافعة والأمر بكلِّ عدل وإحسانٍ وخيرٍ والنهي عن كلِّ ظلم وشرٍّ؛ فالناسُ في ظلمةٍ إنْ لم يستَضيئوا بأنوارِهِ، وفي شقاءٍ عظيم إن لم يقتَبِسوا من خيرِهِ.