تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس لیے یہ فرمایا گیا ہے اور رک جانے پر زیادہ قادر ہونے سے افضیلت ثابت نہیں ہوتی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس طرح مسیح علیہ السلام کو لوگ پوجتے تھے، اسی طرح فرشتوں کی بھی عبادت کرتے تھے۔ تو اس آیت میں مسیح علیہ السلام کو اللہ کی عبادت سے رکنے والا بتا کر فرشتوں کی بھی یہی حالت بیان کر دی، جس سے ثابت ہو گیا کہ جنہیں تم پوجتے ہو وہ خود اللہ کو پوجتے ہیں، پھر ان کی پوجا کیسی؟
جیسے اور آیت میں ہے «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا ۗ سُبْحَانَهُ ۚ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُم بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَىٰ وَهُم مِّنْ خَشْيَتِهِ مُشْفِقُونَ وَمَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَـٰهٌ مِّن دُونِهِ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» [21-الأنبياء:26-29]۔
اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ جو اس کی عبادت سے رکے، منہ موڑے اور بغاوت کرے، وہ ایک وقت اسی کے پاس لوٹنے والا ہے اور اپنے بارے میں اس کا فیصلہ سننے والا ہے اور جو ایمان لائیں، نیک اعمال کریں، انہیں ان کا پورا ثواب بھی دیا جائے گا، پھر رحمت ایزدی اپنی طرف سے بھی انعام عطا فرمائے گی۔
پھر فرمایا جو لوگ اللہ کی عبادت و اطاعت سے رک جائیں اور اس سے تکبر کریں، انہیں پروردگار درد ناک عذاب کرے گا اور یہ اللہ کے سوا کسی کو دلی و مددگار نہ پائیں گے۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» ۱؎ [40-غافر:60] ’ جو لوگ میری عبادت سے تکبر کریں، وہ ذلیل و حقیر ہو کر جہنم میں جائیں گے ’ یعنی ان کے انکار اور ان کے تکبر کا یہ بدلہ انہیں ملے گا کہ ذلیل و حقیر خوار و بے بس ہو کر جہنم میں داخل کئے جائیں گے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذكر تعالى غلوَّ النصارى في عيسى عليه السلام، وذَكَرَ أنَّه عبده ورسوله؛ ذَكَرَ هنا أنه لا يستنكِف عن عبادتِهِ ربَّه ؛ أي: لا يمتنع عنها رغبةً عنها، لا هو {ولا الملائكة المقربون}، فنزَّههم عن الاستنكاف، وتنزيههم عن الاستكبار من باب أولى، ونفي الشيء فيه إثباتُ ضدِّه؛ أي: فعيسى والملائكة المقربون قد رغبوا في عبادِة ربِّهم وأحبُّوها وسَعَوْا فيها بما يَليق بأحوالهم، فأوجب لهم ذلك الشرف العظيم والفوز العظيم، فلم يستنكِفوا أن يكونوا عبيداً لربوبيَّته ولا لإلهيَّته، بل يَرَوْنَ افتقارهم لذلك فوق كلِّ افتقار. ولا يُظَنُّ أنَّ رفع عيسى أو غيره من الخلق فوق مرتبته التي أنزله الله فيها وترفُّعه عن العبادة كمالاً، بل هو النقص بعينه، وهو محلُّ الذَّمِّ والعقاب، ولهذا قال: {ومن يَسْتَنكِفْ عن عبادتِهِ ويَسْتَكْبِرْ فسيحشُرهم إليه جميعاً}؛ أي: فسيحشر الخلق كلَّهم إليه المستنكِفين والمستكبِرين وعباده المؤمنين، فيحكم بينهم بحكمه العدل وجزائه الفصل.