مسیح ہرگز اس سے عار نہ رکھے گا کہ وہ اللہ کا بندہ ہو اور نہ مقرب فرشتے ہی اور جو بھی اس کی بندگی سے عار رکھے اور تکبر کرے تو عنقریب وہ ان سب کو اپنی طرف اکٹھا کرے گا۔
En
مسیح اس بات سے عار نہیں رکھتے کہ خدا کے بندے ہوں اور نہ مقرب فرشتے (عار رکھتے ہیں) اور جو شخص خدا کا بندہ ہونے کو موجب عار سمجھے اور سرکشی کرے تو خدا سب کو اپنے پاس جمع کرلے گا
مسیح (علیہ السلام) کو اللہ کا بنده ہونے میں کوئی ننگ و عار یا تکبر وانکار ہرگز ہو ہی نہیں سکتا اور نہ مقرب فرشتوں کو، اس کی بندگی سے جو بھی دل چرائے اور تکبر و انکار کرے، اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا اپنی طرف جمع کرے گا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نصاریٰ کے غلو کا ذکر فرمایا اور بیان فرمایا کہ جناب عیسیٰ اللہ کے بندے اور رسول ہیں تو اب یہاں یہ بھی واضح کر دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے رب کی عبادت میں عار نہیں سمجھتے تھے، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روگردانی نہیں کرتے تھے ﴿وَلَاالْمَلٰٓىِٕكَةُالْ٘مُقَ٘رَّبُوْنَ۠ ﴾”اور نہ اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے“ اس کی عبادت سے منہ موڑتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اس چیز سے پاک رکھا ہے کہ وہ اس کی عبادت کو عار سمجھیں اور تکبر و استکبار سے پاک ہونا تو بدرجہ اولیٰ ان کی صفت ہے۔ کسی چیز کی نفی سے اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے… یعنی عیسیٰ علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے تو اپنے رب کی عبادت میں رغبت رکھتے ہیں، اس کی عبادت کو پسند کرتے ہیں اور اپنے اپنے حسب احوال اس کی عبادت میں سعی کرتے ہیں۔ ان کی یہ عبادت ان کے لیے بہت بڑے شرف اور فوز عظیم کی موجب ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور الوہیت میں اپنے آپ کو بندے سمجھنے میں عار محسوس نہیں کی بلکہ وہ ہر طرح سے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی بندگی کا محتاج سمجھتے ہیں۔
یہ نہ سمجھا جائے کہ عیسیٰ علیہ السلام یا کسی اور کو اس مرتبے سے بڑھانا جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کیا ہے، ان کے لیے کوئی کمال ہے بلکہ یہ تو عین نقص اور مذمت و عذاب کا محل و مقام ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا
﴿وَمَنْیَّسْتَنْكِفْعَنْعِبَادَتِهٖوَیَسْتَؔكْبِرْفَسَیَحْشُ٘رُهُمْ۠اِلَیْهِجَمِیْعًا ﴾”اور جو شخص اللہ کا بندہ ہونے کو موجب عار سمجھے اور سرکشی کرے تو اللہ سب کو اپنے پاس جمع کرلے گا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی عبادت کو عار سمجھنے والوں، متکبروں اور اپنے مومن بندوں، سب کو عنقریب جمع کرے گا اور ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔ اور اپنی جزا سے نوازے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذكر تعالى غلوَّ النصارى في عيسى عليه السلام، وذَكَرَ أنَّه عبده ورسوله؛ ذَكَرَ هنا أنه لا يستنكِف عن عبادتِهِ ربَّه ؛ أي: لا يمتنع عنها رغبةً عنها، لا هو {ولا الملائكة المقربون}، فنزَّههم عن الاستنكاف، وتنزيههم عن الاستكبار من باب أولى، ونفي الشيء فيه إثباتُ ضدِّه؛ أي: فعيسى والملائكة المقربون قد رغبوا في عبادِة ربِّهم وأحبُّوها وسَعَوْا فيها بما يَليق بأحوالهم، فأوجب لهم ذلك الشرف العظيم والفوز العظيم، فلم يستنكِفوا أن يكونوا عبيداً لربوبيَّته ولا لإلهيَّته، بل يَرَوْنَ افتقارهم لذلك فوق كلِّ افتقار. ولا يُظَنُّ أنَّ رفع عيسى أو غيره من الخلق فوق مرتبته التي أنزله الله فيها وترفُّعه عن العبادة كمالاً، بل هو النقص بعينه، وهو محلُّ الذَّمِّ والعقاب، ولهذا قال: {ومن يَسْتَنكِفْ عن عبادتِهِ ويَسْتَكْبِرْ فسيحشُرهم إليه جميعاً}؛ أي: فسيحشر الخلق كلَّهم إليه المستنكِفين والمستكبِرين وعباده المؤمنين، فيحكم بينهم بحكمه العدل وجزائه الفصل.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔