تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اَنْ يُّصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا: ”صُلْحًا“ } کی تنکیر (کسی طرح کی صلح) سے معلوم ہوتا ہے کہ میاں بیوی آپس میں کسی طریقے سے بھی صلح کر لیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں: ”کسی مرد کے پاس کوئی عورت ہوتی اور اب وہ اسے مزید نہ رکھنا چاہتا اور طلاق دینے کا ارادہ کرتا تو وہ عورت کہہ دیتی کہ (مجھے طلاق نہ دے، اپنے نکاح میں رہنے دے) میں اپنی باری کے بارے میں تمھیں اجازت دیتی ہوں (کہ تو جس بیوی کے پاس چاہے رہے) چنانچہ یہ آیت اس سلسلے میں نازل ہوئی۔“ [بخاری، التفسیر، باب: «و إن امرأۃ خافت…» : ۴۶۰۱]
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ سودہ رضی اللہ عنھا کو اندیشہ لاحق ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں طلاق دے دیں گے تو انھوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میری باری کا دن عائشہ کو دے دیں مگر مجھے طلاق نہ دیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا، اس پر یہ آیت اتری: «{ وَ اِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِهَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا }» ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”وہ دونوں جس چیز پر صلح کر لیں وہ جائز ہے۔“ [ترمذی، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ النساء: ۳۰۴۰] عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ جب سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنھا عمر رسیدہ ہو گئیں تو انھوں نے اپنا دن عائشہ کو ہبہ کر دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کا دن بھی عائشہ کے پاس گزارتے تھے۔ [بخاری، النکاح، باب المرأۃ تہب یومہا من زوجھا…: ۵۲۱۲]
➌ { وَ الصُّلْحُ خَيْرٌ:} یعنی صلح ہر حال میں بہتر ہے، کیونکہ شیطان اپنے کارندوں میں سے اس کارندے کو اپنے قریب کر کے شاباش دیتا ہے جو میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کروا دے۔ [مسلم، صفات المنافقین و أحکامھم، باب تحریش الشیطان …: 2813/67]
➍ { وَ اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ: ”الشُّحَّ“} کا معنی ہے بخل، جس کے ساتھ حرص بھی ہو، یعنی انسان کا بخل اور لالچ تو فطری امر ہے، مرد کا شح یہ ہے کہ عورت سے فائدہ اٹھائے مگر اس کے پورے حقوق ادا نہ کرے اور عورت کا شح یہ ہے کہ مہر اور نان و نفقہ تو پورا وصول کرے مگر حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کرے۔
➎ { وَ اِنْ تُحْسِنُوْا وَ تَتَّقُوْا …: } یعنی اس لالچ کے جذبے کے باوجود اگر میاں بیوی ایک دوسرے سے احسان اور فیاضی کا سلوک کریں اور اللہ سے ڈرتے رہیں تو اللہ کے ہاں اس کا اجر ضرور پائیں گے، جو ان کے ہر عمل سے پورا با خبر ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔
2۔ سیدنا ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ سیدہ سودہؓ کو اندیشہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں طلاق نہ دے دیں، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ”مجھے طلاق نہ دیجیے اپنے پاس ہی رکھیے اور میں اپنی باری عائشہؓ کو دے دیتی ہوں“ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ گویا میاں بیوی جس شرط پر بھی صلح کر لیں وہ جائز ہے۔ [ترمذي، ابواب التفسير]
[169] یہاں لالچ سے مراد صرف مال و دولت کا لالچ نہیں بلکہ اس میں تمام مرغوبات نفس شامل ہیں جیسا کہ حدیث نمبر 2 سے معلوم ہوتا ہے۔ یعنی اگر عورت اپنے خاوند کی پسند کو ملحوظ خاطر رکھے گی تو یقیناً مرد کا دل بھی نرم ہو جائے گا اور صلح کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔
[170] یعنی اگر تم بغیر کسی لالچ کے محض اللہ سے ڈر کر اپنی بیوی سے بہتر سلوک کرو اور اسے طلاق نہ دو تو اللہ سے یقیناً تمہیں اس احسان کا بدلہ مل جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا جب بہت بڑی عمر کی ہو جاتی ہیں اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جدا کردینے کا ارادہ رکھتے ہیں تو کہتی ہیں کہ میں اپنی باری کاحق سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرما لیا۔ ابوداؤد میں ہے کہ اسی پر یہ آیت اتری۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میاں بیوی جس بات پر رضامند ہو جائیں وہ جائز ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10613:صحیح] آپ فرماتے ہیں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت آپ کی نوبیویاں تھیں جن میں سے آپ نے آٹھ کو باریاں تقسیم کر رکھی تھیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5068]
بخاری مسلم میں ہے کہ { سودہ کا دن بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیتے تھے۔ } عروہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو بڑی عمر میں جب یہ معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ دینا چاہتے ہیں تو خیال کیا کہ آپ کو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوری محبت ہے اگر میں اپنی باری انہیں دیدوں تو کیا عجب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راضی ہو جائیں اور میں آپ کی بیویوں میں ہی آخر دم تک رہ جاؤں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات گزارنے میں اپنی تمام بیویوں کو برابر کے درجے پر رکھا کرتے تھے عموماً ہر روز سب بیویوں کے ہاں آتے بیٹھتے بولتے چالتے مگر ہاتھ نہ بڑھاتے پھر آخر میں جن بیوی صاحبہ کی باری ہوتی ان کے ہاں جاتے اور رات وہیں گزارتے۔ } پھر سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ بیان فرماتے جو اوپر گذار ۱؎ [سنن ابوداود:2135،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہی صورت اس وقت بھی ہے کہ جب کسی کو دو بیویاں ہوں اور ایک سے اس کی بوجہ اس کے بڑھاپے یا بدصورتی کے محبت نہ ہو اور وہ اسے جدا کرنا چاہتا اور یہ بوجہ اپنے لگاؤ یا بعض اور مصالح کے الگ ہونا پسند نہ کرتی تو اسے حق ہے کہ اپنے بعض یا سب حقوق سے الگ ہو جائے اور خاوند اس کی بات کو منظور کر کے اسے جدا نہ کرے۔
ابن جریر میں ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ایک سوال کیا (جسے اس کی بیہودگی کی وجہ سے) آپ نے ناپسند فرمایا اور اسے کوڑا ماردیا پھر ایک اور نے اسی آیت کی بابت سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ ہاں یہ باتیں پوچھنے کی ہیں اس سے ایسی صورت مراد ہے کہ مثلاً ایک شخص کی بیوی ہے لیکن وہ بڑھیا ہو گئی ہے اولاد نہیں ہوتی اس نے اولاد کی خاطر کسی جوان عورت سے اور نکاح کیا پھر یہ دونوں جس چیز پر آپس میں اتفاق کر لیں جائز ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10584]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جب اس آیت کی نسبت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ عورت ہے جو بوجہ اپنے بڑھاپے کے یا بدصورتی کے یا بدخلقی کے یا گندگی کے اپنے خاوند کی نظروں میں گر جائے اور اس کی چاہت یہ ہو کہ خاوند مجھے نہ چھوڑے تو یہ اپنا پورا یا ادھورا مہر معاف کر دے یا اپنی باری معاف کر دے وغیرہ تو اس طرح صلح کر سکتے ہیں ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10580]
سلف اور ائمہ سے برابری اس کی یہی تفسیر مروی ہے بلکہ تقریباً اس پر اتفاق ہے میرے خیال سے تو اس کا کوئی مخالف نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ان دونوں آیتوں میں ذکر ہے اس عورت کا جس سے اس کا خاوند بگڑا ہوا ہو اسے چاہیئے کہ اپنی بیوی سے کہہ دے کہ اگر وہ چاہے تو اسے طلاق دیدے اور اگر وہ چاہے تو اس بات کو پسند کر کے اس کے گھر میں رہے کہ وہ مال کی تقسیم میں اور باری کی تقسیم میں اس پر دوسری بیوی کو ترجیح دے گا اب اسے اختیار ہے اگر یہ دوسری شق کو منظور کر لے تو شرعاً خاوند کو جائز ہے کہ اسے باری نہ دے اور جو مہر وغیرہ اس نے چھوڑا ہے اسے اپنی ملکیت سمجھے۔
سیدنا رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ عنہ کی بیوی صاحبہ جب سن رسید ہو گئیں تو انہوں نے ایک نوجوان لڑکی سے نکاح کیا اور پھر اسے زیادہ چاہنے لگے اور اسے پہلی بیوی پر مقدم رکھنے لگے آخر اس سے تنگ آ کر طلاق طلب کی آپ نے دے دی پھر عدت ختم ہونے کے قریب لوٹالی۔
لیکن پھر وہی حال ہوا کہ جوان بیوی کو زیادہ چاہنے لگے اور اس کی طرف جھک گئے اس نے پھر طلاق مانگی آپ نے دوبارہ طلاق دے دی پھر لوٹالیا لیکن پھر وہی نقشہ پیش آیا پھر اس نے قسم دی کہ مجھے طلاق دے دو تو آپ نے فرمایا دیکھو اب یہ تیسری آخری طلاق ہے اگر تم چاہو تو میں دے دوں اور اگر چاہو تو اسی طرح رہنا منظور کرو اس نے سوچ کر جواب دیا کہ اچھا مجھے اسے طرح منظور ہے چنانچہ وہ اپنے حقوق سے دست بردار ہو گئیں اور اسی طرح رہنے سہنے لگیں۔
جیسے کہ خود نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کو اپنی زوجیت میں رکھا اور انہوں نے اپنا دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا۔ آپ کے اس فعل میں بھی آپ کی امت کے لیے بہترین نمونہ ہے کہ ناموافقت کی صورت میں بھی طلاق کی نوبت نہ آئے۔ چونکہ اللہ اعلیٰ و اکبر کے نزدیک صلح افتراق سے بہتر ہے اس لیے یہاں فرما دیا کہ صلح خیر ہے۔
بلکہ ابن ماجہ وغیرہ کی حدیث میں ہے { تمام حلال چیزوں میں سے سب سے زیادہ ناپسند چیز اللہ کے نزدیک طلاق ہے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:2178،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر فرمایا تمہارا احسان اور تقویٰ کرنا یعنی عورت کی طرف کی ناراضگی سے درگذر کرنا اور اسے باوجود ناپسندیدگی کے اس کا پورا حق دینا باری میں لین دین میں برابری کرنا یہ بہترین فعل ہے جسے اللہ بخوبی جانتا ہے اور جس پر وہ بہت اچھا بدلہ عطا فرمائے گا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ گو تم چاہو کہ اپنی کئی ایک بیویوں کے درمیان ہر طرح بالکل پورا عدل و انصاف اور برابری کرو تو بھی تم کر نہیں سکتے۔ اس لیے کہ گو ایک ایک رات کی باری باندھ لو لیکن محبت چاہت شہوت جماع وغیرہ میں برابری کیسے کر سکتے ہو؟
ابن ملکیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بہت چاہتے تھے، اسی لیے ایک حدیث میں ہے کہ{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے درمیان صحیح طور پر مساوات رکھتے تھے لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے فرماتے تھے الٰہی یہ وہ تقسیم ہے جو میرے بس میں تھی اب جو چیز میرے قبضہ سے باہر ہے یعنی دلی تعلق اس میں تو مجھے ملامت نہ کرنا۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:2134،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کی اسناد صحیح ہے لیکن امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دوسری سند سے یہ مرسلاً مروی ہے اور وہ زیادہ صحیح ہے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس کی دو بیویاں ہوں پھر وہ بالکل ہی ایک کی طرف جھک جائے تو قیامت کے دن اللہ کے سامنے اس طرح آئے گا کہ اس کا آدھا جسم ساقط ہو گا } ۱؎ [سنن ترمذي:1141،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ حدیث مرفوع طریق سے سوائے ہمام کی حدیث کے پہچانی نہیں جاتی۔
پھر فرماتا ہے اگر تم اپنے کاموں کی اصلاح کر لو اور جہاں تک تمہارے اختیار میں ہو عورتوں کے درمیان عدل و انصاف اور مساوات برتو ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہا کرو، اس کے باوجود اگر تم کسی وقت کسی ایک کی طرف کچھ مائل ہو گئے ہو اسے اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا۔
پھر تیسری حالت بیان فرماتا ہے کہ اگر کوئی صورت بھی نباہ کی نہ و اور دونوں الگ ہو جائیں تو اللہ ایک کو دوسرے سے بے نیاز کر دے گا، اسے اس سے اچھا شوہر اور اسے اس سے اچھی بیوی دیدے گا۔ اللہ کا فضل بہت وسیع ہے وہ بڑے احسانوں والا ہے اور ساتھ ہی وہ حکیم ہے تمام افعال ساری تقدیریں اور پوری شریعت حکمت سے سراسر بھرپور ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: إذا خافت المرأة نشوزَ زوجِها؛ أي: ترفُّعه عنها وعدم رغبته فيها وإعراضه عنها؛ فالأحسن في هذه الحالة أن يُصلحا بينهما صلحاً؛ بأن تسمح المرأة عن بعض حقوقها اللاَّزمة لزوجِها على وجهٍ تبقى مع زوجِها إمّا أن ترضى بأقلَّ من الواجب لها من النفقة أو الكسوة أو المسكن أو القَسْم؛ بأن تُسْقِطَ حقَّها منه أو تَهَبَ يومَها وليلتها لزوجها أو لضرَّتها؛ فإذا اتَّفقا على هذه الحالة؛ فلا جناح ولا بأس عليهما فيها، لا عليها ولا على الزوج، فيجوز حينئذٍ لزوجها البقاء معها على هذه الحال، وهي خير من الفرقة، ولهذا قال: {والصُّلْحُ خيرٌ}.
ويؤخذُ من عموم هذا اللفظ والمعنى أنَّ الصُّلح بين من بينَهما حقٌّ أو منازعة في جميع الأشياء أنه خيرٌ من استقصاء كلٍّ منهما على كلِّ حقِّه لما فيها من الإصلاح وبقاء الألفة والاتِّصاف بصفة السماح، وهو جائزٌ في جميع الأشياء؛ إلاَّ إذا أحلَّ حراماً أو حرَّم حلالاً؛ فإنه لا يكون صلحاً، وإنَّما يكون جوراً، واعلم أنَّ كلَّ حكم من الأحكام لا يتمُّ ولا يكملُ إلا بوجود مقتضيه وانتفاء موانعه؛ فمن ذلك هذا الحكم الكبير الذي هو الصلح، فذكر تعالى المقتضي لذلك، ونبَّه على أنه خيرٌ، والخير كلُّ عاقل يطلُبه ويرغبُ فيه؛ فإنْ كان مع ذلك قد أمر الله به وحثَّ عليه؛ ازداد المؤمن طلباً له ورغبةً فيه، وذكر المانع بقوله: {وأحضِرَتِ الأنفس الشُّحَّ}؛ أي: جُبلت النفوس على الشحِّ، وهو عدم الرغبة في بذل ما على الإنسان، والحرص على الحق الذي له؛ فالنفوس مجبولة على ذلك طبعاً؛ أي: فينبغي لكم أن تحرصوا على قلع هذا الخُلُق الدنيء من نفوسكم، وتستبدلوا به ضدَّه، وهو السماحة، وهو بذل الحقِّ الذي عليك، والاقتناعُ ببعض الحقِّ الذي لك؛ فمتى وُفِّق الإنسان لهذا الخلق الحسن؛ سهل حينئذٍ عليه الصلحُ بينه وبين خصمه ومعامله، وتسهَّلت الطريق للوصول إلى المطلوب؛ بخلاف من لم يجتهدْ في إزالة الشُّحِّ من نفسه؛ فإنه يعسر عليه الصلح والموافقة؛ لأنه لا يرضيه إلاَّ جميع مَا لَهُ، ولا يرضى أن يؤدِّي ما عليه؛ فإن كان خصمُهُ مثله، اشتدَّ الأمر.
ثم قال: {وإن تحسنوا وتتَّقوا}؛ أي: تحسنوا في عبادة الخالق؛ بأن يعبدَ العبدُ ربَّه كأنه يراه؛ فإن لم يكن يراه؛ فإنَّه يراه، وتحسِنوا إلى المخلوقين بجميع طرق الإحسان من نفع بمال أو علم أو جاهٍ أو غير ذلك، وتتَّقوا الله بفعل جميع المأمورات وترك جميع المحظورات ، أو تحسِنوا بفعل المأمور وتتَّقوا بترك المحظور؛ {فإنَّ الله كان بما تعملون خبيراً}: قد أحاطَ به علماً وخبراً بظاهرِهِ وباطنِهِ فيحفظه لكم ويجازيكم عليه أتمَّ الجزاء.