ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 128

وَ اِنِ امۡرَاَۃٌ خَافَتۡ مِنۡۢ بَعۡلِہَا نُشُوۡزًا اَوۡ اِعۡرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَاۤ اَنۡ یُّصۡلِحَا بَیۡنَہُمَا صُلۡحًا ؕ وَ الصُّلۡحُ خَیۡرٌ ؕ وَ اُحۡضِرَتِ الۡاَنۡفُسُ الشُّحَّ ؕ وَ اِنۡ تُحۡسِنُوۡا وَ تَتَّقُوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرًا ﴿۱۲۸﴾
اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے کسی قسم کی زیادتی یا بے رخی سے ڈرے تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ آپس میں کسی طرح کی صلح کر لیں اور صلح بہتر ہے، اور تمام طبیعتوں میں حرص (حاضر) رکھی گئی ہے اور اگر تم نیکی کرو اور ڈرتے رہو تو بے شک اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، ہمیشہ سے پورا باخبر ہے۔ En
اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے زیادتی یا بےرغبتی کا اندیشہ ہو تم میاں بیوی پر کچھ گناہ نہیں کہ آپس میں کسی قرارداد پر صلح کرلیں۔ اور صلح خوب (چیز) ہے اور طبیعتیں تو بخل کی طرف مائل ہوتی ہیں اور اگر تم نیکوکاری اور پرہیزگاری کرو گے تو خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے
En
اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی بد دماغی اور بے پرواہی کا خوف ہو تو دونوں آپس میں جو صلح کر لیں اس میں کسی پر کوئی گناه نہیں۔ صلح بہت بہتر چیز ہے، طمع ہر ہر نفس میں شامل کر دی گئی ہے۔ اگر تم اچھا سلوک کرو اور پرہیزگاری کرو تو تم جو کر رہے ہو اس پر اللہ تعالیٰ پوری طرح خبردار ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 128) ➊ { وَ اِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ …: نُشُوْزًا } کا مطلب ہے زیادتی، لڑائی جھگڑا، اعراض، بے رخی۔ نشوز یا اعراض یہ ہے کہ اس سے بدسلوکی کرے، اس کو حقیر سمجھے، اس کے پاس سونا بیٹھنا چھوڑ دے، اسے نان و نفقہ نہ دے، مارنے کے لیے بہانے تراشے، یا اس کے پاس اور بیوی ہے جسے وہ زیادہ چاہتا ہے، اس لیے اس کی طرف توجہ کم ہے، تو اس صورت میں دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں، ایک تو یہ کہ عورت سمجھے کہ میں اسی شخص کے نکاح میں رہوں تو میرے حق میں بہتر ہے، خواہ مجھے اپنے کچھ حقوق چھوڑنے پڑیں۔ دوسری یہ کہ وہ اس سے علیحدہ ہو جائے، آیت (۱۲۸) میں پہلی صورت کا ذکر ہے اور آیت (۱۳۰) میں دوسری صورت کا ذکر ہے۔
➋ { اَنْ يُّصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا: صُلْحًا } کی تنکیر (کسی طرح کی صلح) سے معلوم ہوتا ہے کہ میاں بیوی آپس میں کسی طریقے سے بھی صلح کر لیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں: کسی مرد کے پاس کوئی عورت ہوتی اور اب وہ اسے مزید نہ رکھنا چاہتا اور طلاق دینے کا ارادہ کرتا تو وہ عورت کہہ دیتی کہ (مجھے طلاق نہ دے، اپنے نکاح میں رہنے دے) میں اپنی باری کے بارے میں تمھیں اجازت دیتی ہوں (کہ تو جس بیوی کے پاس چاہے رہے) چنانچہ یہ آیت اس سلسلے میں نازل ہوئی۔ [بخاری، التفسیر، باب: «و إن امرأۃ خافت…» ‏‏‏‏: ۴۶۰۱]
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ سودہ رضی اللہ عنھا کو اندیشہ لاحق ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں طلاق دے دیں گے تو انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری باری کا دن عائشہ کو دے دیں مگر مجھے طلاق نہ دیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا، اس پر یہ آیت اتری: «{ وَ اِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِهَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: وہ دونوں جس چیز پر صلح کر لیں وہ جائز ہے۔ [ترمذی، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ النساء: ۳۰۴۰] عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ جب سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنھا عمر رسیدہ ہو گئیں تو انھوں نے اپنا دن عائشہ کو ہبہ کر دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کا دن بھی عائشہ کے پاس گزارتے تھے۔ [بخاری، النکاح، باب المرأۃ تہب یومہا من زوجھا…: ۵۲۱۲]
➌ { وَ الصُّلْحُ خَيْرٌ:} یعنی صلح ہر حال میں بہتر ہے، کیونکہ شیطان اپنے کارندوں میں سے اس کارندے کو اپنے قریب کر کے شاباش دیتا ہے جو میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کروا دے۔ [مسلم، صفات المنافقین و أحکامھم، باب تحریش الشیطان …: 2813/67]
➍ { وَ اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ: الشُّحَّ} کا معنی ہے بخل، جس کے ساتھ حرص بھی ہو، یعنی انسان کا بخل اور لالچ تو فطری امر ہے، مرد کا شح یہ ہے کہ عورت سے فائدہ اٹھائے مگر اس کے پورے حقوق ادا نہ کرے اور عورت کا شح یہ ہے کہ مہر اور نان و نفقہ تو پورا وصول کرے مگر حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کرے۔
➎ { وَ اِنْ تُحْسِنُوْا وَ تَتَّقُوْا …: } یعنی اس لالچ کے جذبے کے باوجود اگر میاں بیوی ایک دوسرے سے احسان اور فیاضی کا سلوک کریں اور اللہ سے ڈرتے رہیں تو اللہ کے ہاں اس کا اجر ضرور پائیں گے، جو ان کے ہر عمل سے پورا با خبر ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

128۔ 1 خاوند اگر کسی وجہ سے اپنی بیوی کو ناپسند کرے اور اس سے دور رہنا اور اعراض کرنا معمول بنا لے یا ایک سے زیادہ بیویاں ہونے کی صورت میں کسی کو کم ترخوب صورت بیوی سے اعراض کرے تو عورت اپنا کچھ حق چھوڑ کر (مہر سے یا نان و نفقہ سے یا باری سے) خاوند سے مصالحت کرلے تو اس مصالحت میں خاوند یا بیوی پر کوئی گناہ نہیں کیونکہ صلح بہرحال بہتر ہے۔ حضرت ام المومنیں سودۃ ؓ نے بھی بڑھاپے میں اپنی باری حضرت عائشہ ؓ کے لئے ہبہ کردی تھی جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرما لیا۔ (صحیح بخاری) 128۔ 2 شُحّ بخل اور طمع کو کہتے ہیں۔ یہاں مراد اپنا اپنا مفاد ہے جو ہر نفس کو عزیز ہوتا ہے یعنی ہر نفس اپنے مفاد میں بخل اور طمع سے کام لیتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

128۔ اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند سے بدسلوکی یا بے رخی کا اندیشہ ہو تو اگر میاں بیوی آپس میں (کچھ کمی بیشی کر کے) سمجھوتہ کر لیں تو دونوں پر کچھ گناہ نہیں اور صلح [168] بہرحال بہتر ہے۔ اور لالچ تو ہر نفس [169] کو لگا ہوا ہے لیکن اگر تم احسان کرو [170] اور اللہ سے ڈرتے رہو تو جو کچھ تم کرو گے اللہ یقیناً اس سے خوب واقف ہے
[168] اس آیت کی تفسیر میں درج ذیل دو احادیث ملاحظہ فرمائیے:
زوجین کا باہمی سمجھوتہ:۔
سیدہ عائشہؓ اس آیت کا مطلب یہ بیان فرماتی ہیں کہ مثلاً ایک شخص کے پاس عورت ہو جس سے وہ کوئی میل جول نہ رکھتا ہو اور اسے چھوڑ دینا چاہے اور عورت کہے کہ اچھا میں تجھے اپنی باری یا نان و نفقہ معاف کر دیتی ہوں (مگر مجھے طلاق نہ دے) یہ آیت اس باب میں اتری۔ [بخاري، كتاب التفسير]
2۔ سیدنا ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ سیدہ سودہؓ کو اندیشہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں طلاق نہ دے دیں، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ”مجھے طلاق نہ دیجیے اپنے پاس ہی رکھیے اور میں اپنی باری عائشہؓ کو دے دیتی ہوں“ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ گویا میاں بیوی جس شرط پر بھی صلح کر لیں وہ جائز ہے۔ [ترمذي، ابواب التفسير]
[169] یہاں لالچ سے مراد صرف مال و دولت کا لالچ نہیں بلکہ اس میں تمام مرغوبات نفس شامل ہیں جیسا کہ حدیث نمبر 2 سے معلوم ہوتا ہے۔ یعنی اگر عورت اپنے خاوند کی پسند کو ملحوظ خاطر رکھے گی تو یقیناً مرد کا دل بھی نرم ہو جائے گا اور صلح کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔
[170] یعنی اگر تم بغیر کسی لالچ کے محض اللہ سے ڈر کر اپنی بیوی سے بہتر سلوک کرو اور اسے طلاق نہ دو تو اللہ سے یقیناً تمہیں اس احسان کا بدلہ مل جائے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

میاں بیوی میں صلح و خیر کا اصول ٭٭
اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے حالات اور ان کے احکام بیان فرما رہا ہے کبھی مرد اس سے ناخوش ہو جاتا ہے کبھی چاہنے لگتا ہے اور کبھی الگ کر دیتا ہے۔ پس پہلی حالت میں جبکہ عورت کو اپنے شوہر کی ناراضگی کا خیال ہے اور اسے خوش کرنے کے لیے اپنے تمام حقوق سے یا کسی خاص حق سے وہ دست برداری کرنا چاہے تو کر سکتی ہے۔ مثلاً اپنا کھانا کپڑا چھوڑ دے یا شب باشی کا حق معاف کر دے تو دونوں کے لیے جائز ہے۔ پھر اسی کی رغبت دلاتا ہے کہ صلح ہی بہتر ہے۔
سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا جب بہت بڑی عمر کی ہو جاتی ہیں اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جدا کردینے کا ارادہ رکھتے ہیں تو کہتی ہیں کہ میں اپنی باری کاحق سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرما لیا۔ ابوداؤد میں ہے کہ اسی پر یہ آیت اتری۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میاں بیوی جس بات پر رضامند ہو جائیں وہ جائز ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10613:صحیح]‏‏‏‏ آپ فرماتے ہیں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت آپ کی نوبیویاں تھیں جن میں سے آپ نے آٹھ کو باریاں تقسیم کر رکھی تھیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5068]‏‏‏‏
بخاری مسلم میں ہے کہ { سودہ کا دن بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیتے تھے۔ } عروہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو بڑی عمر میں جب یہ معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ دینا چاہتے ہیں تو خیال کیا کہ آپ کو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوری محبت ہے اگر میں اپنی باری انہیں دیدوں تو کیا عجب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راضی ہو جائیں اور میں آپ کی بیویوں میں ہی آخر دم تک رہ جاؤں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات گزارنے میں اپنی تمام بیویوں کو برابر کے درجے پر رکھا کرتے تھے عموماً ہر روز سب بیویوں کے ہاں آتے بیٹھتے بولتے چالتے مگر ہاتھ نہ بڑھاتے پھر آخر میں جن بیوی صاحبہ کی باری ہوتی ان کے ہاں جاتے اور رات وہیں گزارتے۔ } پھر سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ بیان فرماتے جو اوپر گذار ۱؎ [سنن ابوداود:2135،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
معجم ابوالعباس کی ایک مرسل حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو طلاق کی خبر بجھوائی یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں جابیٹھیں جب آپ تشریف لائے تو کہنے لگیں آپ کو اس اللہ تعالیٰ کی قسم ہے جس نے آپ پر اپنا کلام نازل فرمایا اور اپنی مخلوق میں سے آپ کو برگزیدہ اور اپنا پسندیدہ بنایا آپ مجھ سے رجوع کر لیجئے میری عمر بڑی ہو گئی ہے مجھے مرد کی خاص خواہش نہیں رہی لیکن یہ چاہت ہے کہ قیامت کے دن آپ کی بیویوں میں اٹھائی جاؤں چنانچہ آپ نے یہ منظور فرما لیا اور رجوع کر لیا پھر یہ کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنی باری کا دن اور رات آپ کی محبوب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کرتی ہوں۔ }
بخاری شریف میں آتا ہے کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ { ایک بڑھیا عورت جو اپنے خاوند کو دیکھتی ہے کہ وہ اس سے محبت نہیں کر سکتا بلکہ اسے الگ کرنا چاہتا ہے تو وہ کہتی ہے کہ میں اپنے حق چھوڑتی ہوں تو مجھے جدانہ کر تو آیت دونوں کو رخصت دیتی ہے۔} ۱؎ [صحیح بخاری:2450]‏‏‏‏
یہی صورت اس وقت بھی ہے کہ جب کسی کو دو بیویاں ہوں اور ایک سے اس کی بوجہ اس کے بڑھاپے یا بدصورتی کے محبت نہ ہو اور وہ اسے جدا کرنا چاہتا اور یہ بوجہ اپنے لگاؤ یا بعض اور مصالح کے الگ ہونا پسند نہ کرتی تو اسے حق ہے کہ اپنے بعض یا سب حقوق سے الگ ہو جائے اور خاوند اس کی بات کو منظور کر کے اسے جدا نہ کرے۔
ابن جریر میں ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ایک سوال کیا (‏‏‏‏جسے اس کی بیہودگی کی وجہ سے) آپ نے ناپسند فرمایا اور اسے کوڑا ماردیا پھر ایک اور نے اسی آیت کی بابت سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ ہاں یہ باتیں پوچھنے کی ہیں اس سے ایسی صورت مراد ہے کہ مثلاً ایک شخص کی بیوی ہے لیکن وہ بڑھیا ہو گئی ہے اولاد نہیں ہوتی اس نے اولاد کی خاطر کسی جوان عورت سے اور نکاح کیا پھر یہ دونوں جس چیز پر آپس میں اتفاق کر لیں جائز ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10584]‏‏‏‏
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جب اس آیت کی نسبت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ عورت ہے جو بوجہ اپنے بڑھاپے کے یا بدصورتی کے یا بدخلقی کے یا گندگی کے اپنے خاوند کی نظروں میں گر جائے اور اس کی چاہت یہ ہو کہ خاوند مجھے نہ چھوڑے تو یہ اپنا پورا یا ادھورا مہر معاف کر دے یا اپنی باری معاف کر دے وغیرہ تو اس طرح صلح کر سکتے ہیں ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10580]‏‏‏‏
سلف اور ائمہ سے برابری اس کی یہی تفسیر مروی ہے بلکہ تقریباً اس پر اتفاق ہے میرے خیال سے تو اس کا کوئی مخالف نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
محمد بن مسلم کی صاحبزادی سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھیں بوجہ بڑھاپے کے یا کسی اور امر کے یہ انہیں چاہتے نہ تھے یہاں تک کہ طلاق دینے کا ارادہ کر لیا اس پر انہوں نے کہا آپ مجھے طلاق تو نہ دیجئیے اور جو آپ چاہیں فیصلہ کریں مجھے منظور ہے۔ اس پر یہ آیت اتری۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:308/2]‏‏‏‏
ان دونوں آیتوں میں ذکر ہے اس عورت کا جس سے اس کا خاوند بگڑا ہوا ہو اسے چاہیئے کہ اپنی بیوی سے کہہ دے کہ اگر وہ چاہے تو اسے طلاق دیدے اور اگر وہ چاہے تو اس بات کو پسند کر کے اس کے گھر میں رہے کہ وہ مال کی تقسیم میں اور باری کی تقسیم میں اس پر دوسری بیوی کو ترجیح دے گا اب اسے اختیار ہے اگر یہ دوسری شق کو منظور کر لے تو شرعاً خاوند کو جائز ہے کہ اسے باری نہ دے اور جو مہر وغیرہ اس نے چھوڑا ہے اسے اپنی ملکیت سمجھے۔
سیدنا رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ عنہ کی بیوی صاحبہ جب سن رسید ہو گئیں تو انہوں نے ایک نوجوان لڑکی سے نکاح کیا اور پھر اسے زیادہ چاہنے لگے اور اسے پہلی بیوی پر مقدم رکھنے لگے آخر اس سے تنگ آ کر طلاق طلب کی آپ نے دے دی پھر عدت ختم ہونے کے قریب لوٹالی۔
لیکن پھر وہی حال ہوا کہ جوان بیوی کو زیادہ چاہنے لگے اور اس کی طرف جھک گئے اس نے پھر طلاق مانگی آپ نے دوبارہ طلاق دے دی پھر لوٹالیا لیکن پھر وہی نقشہ پیش آیا پھر اس نے قسم دی کہ مجھے طلاق دے دو تو آپ نے فرمایا دیکھو اب یہ تیسری آخری طلاق ہے اگر تم چاہو تو میں دے دوں اور اگر چاہو تو اسی طرح رہنا منظور کرو اس نے سوچ کر جواب دیا کہ اچھا مجھے اسے طرح منظور ہے چنانچہ وہ اپنے حقوق سے دست بردار ہو گئیں اور اسی طرح رہنے سہنے لگیں۔
اس جملے کا کہ صلح خیر ہے ایک معنی تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ خاوند کا اپنی بیوی کو یہ اختیار دینا کہ اگر تو چاہے تو اسی طرح رہ کر دوسری بیوی کے برابر تیرے حقوق نہ ہوں اور اگر تو چاہے تو طلاق لے لے، یہ بہتر ہے اس سے کہ یونہی دوسری کو اس پر ترجیح دئے ہوئے رہے۔ لیکن اس سے اچھا مطلب یہ ہے کہ بیوی اپنا کچھ چھوڑے دے اور خاوند اسے طلاق نہ دے اور آپس میں مل کر رہیں یہ طلاق دینے اور لینے سے بہتر ہے۔
جیسے کہ خود نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کو اپنی زوجیت میں رکھا اور انہوں نے اپنا دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا۔ آپ کے اس فعل میں بھی آپ کی امت کے لیے بہترین نمونہ ہے کہ ناموافقت کی صورت میں بھی طلاق کی نوبت نہ آئے۔ چونکہ اللہ اعلیٰ و اکبر کے نزدیک صلح افتراق سے بہتر ہے اس لیے یہاں فرما دیا کہ صلح خیر ہے۔
بلکہ ابن ماجہ وغیرہ کی حدیث میں ہے { تمام حلال چیزوں میں سے سب سے زیادہ ناپسند چیز اللہ کے نزدیک طلاق ہے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:2178،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
پھر فرمایا تمہارا احسان اور تقویٰ کرنا یعنی عورت کی طرف کی ناراضگی سے درگذر کرنا اور اسے باوجود ناپسندیدگی کے اس کا پورا حق دینا باری میں لین دین میں برابری کرنا یہ بہترین فعل ہے جسے اللہ بخوبی جانتا ہے اور جس پر وہ بہت اچھا بدلہ عطا فرمائے گا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ گو تم چاہو کہ اپنی کئی ایک بیویوں کے درمیان ہر طرح بالکل پورا عدل و انصاف اور برابری کرو تو بھی تم کر نہیں سکتے۔ اس لیے کہ گو ایک ایک رات کی باری باندھ لو لیکن محبت چاہت شہوت جماع وغیرہ میں برابری کیسے کر سکتے ہو؟
ابن ملکیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بہت چاہتے تھے، اسی لیے ایک حدیث میں ہے کہ{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے درمیان صحیح طور پر مساوات رکھتے تھے لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے فرماتے تھے الٰہی یہ وہ تقسیم ہے جو میرے بس میں تھی اب جو چیز میرے قبضہ سے باہر ہے یعنی دلی تعلق اس میں تو مجھے ملامت نہ کرنا۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:2134،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏ اس کی اسناد صحیح ہے لیکن امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دوسری سند سے یہ مرسلاً مروی ہے اور وہ زیادہ صحیح ہے۔
پھر فرمایا بالکل ہی ایک جانب جھک نہ جاؤ کہ دوسری کو لٹکا دو وہ نہ بے خاوند کی رہے نہ خاوند والی وہ تمہاری زوجیت میں ہو اور تم اس سے بےرخی برتو نہ تو اسے طلاق ہی دو کہ اپنا دوسرا نکاح کر لے نہ اس کے وہ حقوق ادا کرو جو ہر بیوی کے لیے اس کے میاں پر ہیں۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس کی دو بیویاں ہوں پھر وہ بالکل ہی ایک کی طرف جھک جائے تو قیامت کے دن اللہ کے سامنے اس طرح آئے گا کہ اس کا آدھا جسم ساقط ہو گا } ۱؎ [سنن ترمذي:1141،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ حدیث مرفوع طریق سے سوائے ہمام کی حدیث کے پہچانی نہیں جاتی۔
پھر فرماتا ہے اگر تم اپنے کاموں کی اصلاح کر لو اور جہاں تک تمہارے اختیار میں ہو عورتوں کے درمیان عدل و انصاف اور مساوات برتو ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہا کرو، اس کے باوجود اگر تم کسی وقت کسی ایک کی طرف کچھ مائل ہو گئے ہو اسے اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا۔
پھر تیسری حالت بیان فرماتا ہے کہ اگر کوئی صورت بھی نباہ کی نہ و اور دونوں الگ ہو جائیں تو اللہ ایک کو دوسرے سے بے نیاز کر دے گا، اسے اس سے اچھا شوہر اور اسے اس سے اچھی بیوی دیدے گا۔ اللہ کا فضل بہت وسیع ہے وہ بڑے احسانوں والا ہے اور ساتھ ہی وہ حکیم ہے تمام افعال ساری تقدیریں اور پوری شریعت حکمت سے سراسر بھرپور ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی جب عورت اپنے شوہر کے سخت رویے اور ظلم سے ڈرے یعنی خاوند اپنے آپ کو اس سے برتر سمجھے اور اس میں عدم رغبت کی وجہ سے اعراض کرے تو اس حالت میں بہتر صورت یہ ہے کہ وہ دونوں آپس میں مصالحت کر لیں۔ اور وہ اس طرح کہ بیوی اپنے بعض ان حقوق کو، جو شوہر پر لازم ہیں اس طرح نظر انداز کر دے کہ وہ شوہر کے ساتھ رہ سکے۔ یا تو وہ نان و نفقہ لباس، مکان وغیرہ میں سے قلیل ترین واجب پر راضی ہو جائے۔ یا اپنی باری میں سے اپنا حق ساقط کر دے یا اپنی باری کے شب و روز اپنی سوکن کو ہبہ کر دے اگر میاں بیوی اس صورت حال پر راضی ہو جائیں تو اس میں دونوں کے لیے کوئی حرج نہیں، اس میں میاں بیوی دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔ تب اس صورت حال میں اپنی بیوی کے ساتھ باقی رہنا جائز ہے اور یہ علیحدگی سے بہتر ہے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَالصُّلْ٘حُ خَیْرٌ صلح بہتر ہے۔ اس لفظ اور معنی کے عموم سے یہ بات اخذ کی جاتی ہے کہ فریقین کے درمیان کسی حق یا تمام اشیاء میں نزاع ہو تو صلح اس سے بہتر ہے کہ وہ تمام اشیاء میں پورا پورا حق وصول کرنے کا مطالبہ کریں۔ کیونکہ اس صلح میں اصلاح، دونوں کے مابین الفت کی بقا اور سماحت (درگزر کرنے) کی صفت سے متصف ہونا ہے۔ یہ صلح تمام اشیاء میں جائز ہے سوائے اس صورت کے جس میں کسی حرام کو حلال یا کسی حلال کو حرام ٹھہرایا گیا ہو۔ تب یہ صلح نہیں بلکہ ظلم و جور ہے۔
معلوم ہونا چاہیے کہ کوئی حکم اس کے مقتضی کے وجود اور موانع کی نفی کے بغیر مکمل اور پورا نہیں ہوتا اس کی مثال یہی بڑا حکم ہے یعنی فریقین کے درمیان صلح، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کا تقاضا بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ بھلائی ہے اور عمل کرنے والا ہر شخص بھلائی کا طالب اور بھلائی میں رغبت رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر اللہ تعالیٰ نے اس بھلائی کا حکم دیا ہو اور اس کی طرف رغبت دلائی ہو تو اس میں مومن کی طلب اور رغبت اور بڑھ جاتی ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَاُحْضِرَتِ الْاَنْ٘فُ٘سُ الشُّ٘حَّ طمع ہر نفس میں شامل کر دی گئی ہے یعنی بخل انسان کی جبلت ہے یہاں (الشُّ٘حَّ) بخل سے مراد یہ ہے کہ جو کچھ انسان پر خرچ کرنا واجب ہے اسے خرچ کرنے میں راغب نہ ہو۔ اور اپنا حق حاصل کرنے کا بڑا حریص ہو۔ تمام نفوس طبعی طور پر اسی جبلت پر پیدا کیے گئے ہیں۔ یعنی تمھارے لیے مناسب یہ ہے کہ تم اپنے نفس سے اس گھٹیا خلق کا قلع قمع کرنے اور اس کی جگہ اس کی ضد یعنی سماحت کو اختیار کرنے کی کوشش کرو۔ سماحت سے مراد یہ ہے کہ تم اس حق کو ادا کرو جو تمھارے ذمہ ہے اور اپنے حق کے بارے میں اس کے کچھ حصے پر قناعت کرو۔ جب کبھی انسان کو اس خلق حسن کو اپنانے کی توفیق مل جاتی ہے تو اس کے لیے اپنے اور اپنے مخالف کے درمیان صلح آسان ہو جاتی ہے اور منزل مقصود تک پہنچنے کا راستہ سہل ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اپنی طبیعت سے بخل کو دور کرنے کی کوشش نہیں کرتا تو اس کے لیے صلح اور موافقت بہت مشکل کام ہے کیونکہ وہ اپنا پورا حق لیے بغیر راضی نہیں ہوتا اور اس پر جو حق واجب ہے اسے ادا کرنے پر تیار نہیں ہوتا۔ اگر دوسرے فریق کا رویہ بھی ایسا ہی ہو تو معاملہ اور زیادہ سخت ہو جاتا ہے۔
پھر فرمایا: ﴿ وَاِنْ تُحْسِنُوْا وَتَتَّقُوْا اگر تم اچھا سلوک کرو اور پرہیز گاری اختیار کرو یعنی اگر تم خالق کی عبادت میں احسان سے کام لو یعنی بندہ اپنے رب کی عبادت اس طرح کرے گویا کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے اگر ایسی کیفیت پیدا نہیں ہو سکتی تو یہ تصور پیدا کرے کہ وہ تو اسے دیکھ رہا ہے۔ اور تم احسان کے تمام طریقوں سے یعنی مال، اور جاہ وغیرہ کے ذریعے سے لوگوں سے بھلائی کرو ﴿ وَتَتَّقُوْا پرہیز گاری اختیار کرو۔ یعنی تمام مامورات پر عمل کرتے ہوئے اور تمام محظورات سے اجتناب کرتے ہوئے اللہ سے ڈرو۔ یا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم مامورات پر عمل کرنے میں احسان سے کام لو اور محظورات کو ترک کر کے اللہ سے ڈرو۔ ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا اللہ تمھارے سب کاموں سے باخبر ہے۔ اللہ تعالیٰ بندے کے ظاہر و باطن کا اپنے علم و خبر کے ذریعے سے احاطہ کیے ہوئے ہے پس وہ تمھارے اعمال کو محفوظ کر رہا ہے وہ تمھیں ان اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: إذا خافت المرأة نشوزَ زوجِها؛ أي: ترفُّعه عنها وعدم رغبته فيها وإعراضه عنها؛ فالأحسن في هذه الحالة أن يُصلحا بينهما صلحاً؛ بأن تسمح المرأة عن بعض حقوقها اللاَّزمة لزوجِها على وجهٍ تبقى مع زوجِها إمّا أن ترضى بأقلَّ من الواجب لها من النفقة أو الكسوة أو المسكن أو القَسْم؛ بأن تُسْقِطَ حقَّها منه أو تَهَبَ يومَها وليلتها لزوجها أو لضرَّتها؛ فإذا اتَّفقا على هذه الحالة؛ فلا جناح ولا بأس عليهما فيها، لا عليها ولا على الزوج، فيجوز حينئذٍ لزوجها البقاء معها على هذه الحال، وهي خير من الفرقة، ولهذا قال: {والصُّلْحُ خيرٌ}.

ويؤخذُ من عموم هذا اللفظ والمعنى أنَّ الصُّلح بين من بينَهما حقٌّ أو منازعة في جميع الأشياء أنه خيرٌ من استقصاء كلٍّ منهما على كلِّ حقِّه لما فيها من الإصلاح وبقاء الألفة والاتِّصاف بصفة السماح، وهو جائزٌ في جميع الأشياء؛ إلاَّ إذا أحلَّ حراماً أو حرَّم حلالاً؛ فإنه لا يكون صلحاً، وإنَّما يكون جوراً، واعلم أنَّ كلَّ حكم من الأحكام لا يتمُّ ولا يكملُ إلا بوجود مقتضيه وانتفاء موانعه؛ فمن ذلك هذا الحكم الكبير الذي هو الصلح، فذكر تعالى المقتضي لذلك، ونبَّه على أنه خيرٌ، والخير كلُّ عاقل يطلُبه ويرغبُ فيه؛ فإنْ كان مع ذلك قد أمر الله به وحثَّ عليه؛ ازداد المؤمن طلباً له ورغبةً فيه، وذكر المانع بقوله: {وأحضِرَتِ الأنفس الشُّحَّ}؛ أي: جُبلت النفوس على الشحِّ، وهو عدم الرغبة في بذل ما على الإنسان، والحرص على الحق الذي له؛ فالنفوس مجبولة على ذلك طبعاً؛ أي: فينبغي لكم أن تحرصوا على قلع هذا الخُلُق الدنيء من نفوسكم، وتستبدلوا به ضدَّه، وهو السماحة، وهو بذل الحقِّ الذي عليك، والاقتناعُ ببعض الحقِّ الذي لك؛ فمتى وُفِّق الإنسان لهذا الخلق الحسن؛ سهل حينئذٍ عليه الصلحُ بينه وبين خصمه ومعامله، وتسهَّلت الطريق للوصول إلى المطلوب؛ بخلاف من لم يجتهدْ في إزالة الشُّحِّ من نفسه؛ فإنه يعسر عليه الصلح والموافقة؛ لأنه لا يرضيه إلاَّ جميع مَا لَهُ، ولا يرضى أن يؤدِّي ما عليه؛ فإن كان خصمُهُ مثله، اشتدَّ الأمر.

ثم قال: {وإن تحسنوا وتتَّقوا}؛ أي: تحسنوا في عبادة الخالق؛ بأن يعبدَ العبدُ ربَّه كأنه يراه؛ فإن لم يكن يراه؛ فإنَّه يراه، وتحسِنوا إلى المخلوقين بجميع طرق الإحسان من نفع بمال أو علم أو جاهٍ أو غير ذلك، وتتَّقوا الله بفعل جميع المأمورات وترك جميع المحظورات ، أو تحسِنوا بفعل المأمور وتتَّقوا بترك المحظور؛ {فإنَّ الله كان بما تعملون خبيراً}: قد أحاطَ به علماً وخبراً بظاهرِهِ وباطنِهِ فيحفظه لكم ويجازيكم عليه أتمَّ الجزاء.