تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيْكُمْ فِيْهِنَّ وَ مَا يُتْلٰى عَلَيْكُمْ …:} یہاں دراصل کچھ سوالوں کے جواب کے لیے پچھلی آیات کا حوالہ دیا ہے کہ کتاب کی اسی سورت میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے وہ اسی سے متعلق ہے، مثلاً آیت (۳) اور اس کے بعد کی آیات یتیم لڑکیوں کے نکاح سے متعلق ہیں، پھر عورتوں کے حقوق اور نا بالغ بچوں کی نگہداشت اور ان کا مال کھانے سے اجتناب اور ان کا ورثہ دینا یہ سب اسی کے بارے میں ہے۔
➌ {وَ تَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ:} ”اور رغبت رکھتے ہو کہ ان سے نکاح کر لو “ یہ ترجمہ اس صورت میں ہے کہ جب {”تَرْغَبُوْنَ“} کا صلہ {” فِيْ “} محذوف مانا جائے، جس کا معنی رغبت کرنا ہے اور اگر اس کا صلہ{ ” عَنْ “ } محذوف مانا جائے تو ترجمہ یوں ہو گا کہ تم ان سے نکاح کرنا پسند نہیں کرتے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا کی حدیث سے اس دوسرے ترجمے کی تائید ہوتی ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں یتیم بچیوں پر دونوں طرح کا ظلم کیا جاتا تھا۔ ابتدا سورت میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔ (قرطبی) اس آیت کے مطلب میں شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اس سورت کے اول میں یتیم کے حق کا ذکر تھا اور فرمایا تھا کہ یتیم لڑکی، جس کا کوئی ولی نہ ہو مگر اس کا چچا زاد، سو وہ اگر سمجھے کہ میں اس کا حق ادا نہ کر سکوں گا تو وہ اسے اپنے نکاح میں نہ لائے، کسی دوسرے سے اس کا نکاح کر دے اور خود اس کا ولی بن جائے۔ اب مسلمانوں نے ایسی عورتوں کو نکاح میں لانا موقوف کر دیا، پھر دیکھا گیا کہ بعض اوقات لڑکی کے ولی ہی کے لیے اسے اپنے نکاح میں رکھنا بہتر ہوتا ہے، اس بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت مانگی گئی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اجازت مل گئی اور فرمایا کہ وہ جو کتاب میں منع کیا گیا تھا وہ اس وقت ہے کہ اس کا حق پورا نہ دو، اگر ان کے حق کی بہتری کی سوچو تو رخصت ہے۔“ (موضح)
➍ { وَ الْمُسْتَضْعَفِيْنَ:} یعنی ان کے بارے میں بھی اپنے احکام یاد دلاتا ہے جو اس سورت کے شروع میں میراث کے تحت دیے گئے ہیں۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۰، ۱۱)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[167] یعنی ایسے یتیم بچے جو ان کے ولی کے زیر کفالت ہیں ان کے حقوق بھی انہیں پورے پورے ادا کرو۔ اور کسی طرح سے بھی ان سے نا انصافی نہ کرو، یتیموں سے حسن سلوک کے سلسلہ میں بھی پہلے سورۃ نساء کی ابتدا میں تفصیل گزر چکی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایک روایت میں ہے کہ اس آیت کے اترنے کے بعد جب پھر لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے «وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ ۖ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْوِلْدَانِ وَأَن تَقُومُوا لِلْيَتَامَىٰ بِالْقِسْطِ ۚ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِهِ عَلِيمًا» ۱؎ [4-النساء:127] نازل فرمائی۔
فرماتی ہیں کہ اس آیت میں جو یہ فرمایا گیا ہے «وَمَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ» اس سے مراد پہلی آیت «وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاۗءِ مَثْنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ ۭ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَلَّا تَعُوْلُوْا» ۱؎ [4-النساء:3] ہے
آپ سے بھی منقول ہے کہ یتیم لڑکیوں کے ولی وارث جب ان کے پاس مال کم پاتے یا وہ حسین نہ ہوتیں تو ان سے نکاح کرنے سے باز رہتے اور اگر مالدار اور صاحب جمال پاتے تو نکاح کی رغبت کرتے لیکن اس حال میں بھی چونکہ ان لڑکیوں کا اور کوئی محافظ نہیں ہوتا تھا ان کے مہر اور حقوق میں کمی کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں روک دیا کہ بغیر پورا مہر اور پورے حقوق دینے کے نکاح کر لینے کی اجازت نہیں۔
مقصد یہ ہے کہ ایسی یتیم بچی جس سے اس کے ولی کو نکاح حلال ہو تو وہ اس سے نکاح کر سکتا ہے بشرطیکہ جو مہر اس جیسی اس کے کنبے قبیلے کی اور لڑکیوں کو ملا ہے اسے بھی اتنا ہی دے اور اگر ایسا نہ کرے تو اسے چاہیئے اس سے نکاح بھی نہ کرے۔ اس سورت کے شروع کی اس مضمون کی پہلی آیت کا بھی یہی مطلب ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس یتیم بچی سے خود اس کا ایسا ولی جسے اس سے نکاح کرنا حلال ہے اسے اپنے نکاح میں لانا نہیں چاہتا خواہ کسی وجہ سے ہو لیکن یہ جان کر کہ جب یہ دوسرے کے نکاح میں چلی جائے گی تو جو مال میرے اس لڑکی کے درمیان شراکت میں ہے وہ بھی میرے قبضے سے جاتا رہے گا۔ تو ایسے ناواجبی فعل سے اس آیت میں روک دیا گیا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے ساتھ ہی یہ بھی مروی ہے کہ جاہلیت والے چھوٹے لڑکوں اور چھوٹی لڑکیوں کو وارث نہیں سمجھتے تھے اس رسم کو بھی قرآن نے ختم دیا اور ہر ایک کو حصہ دلوایا اور فرمایا کہ «لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ» ۱؎ [4-النساء:11] لڑکی اور لڑکے کو خواہ چھوٹے ہوں خواہ بڑے حصہ ضرور دو۔
البتہ لڑکی کو آدھا اور لڑکے کو پورا یعنی دو لڑکیوں کے برابر اور یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف کا حکم دیا کہ جب جمال و مال والی سے خود تم اپنا نکاح کر لیتے ہو تو پھر ان سے بھی کر لیا کرو جو مال وجمال میں کم ہوں پھر فرمایا یقین مانو کہ تمہارے تمام اعمال سے اللہ تعالیٰ باخبر ہے۔ تمہیں چاہیئے کہ خیر کے کام کرو فرماں برداری کرو اور نیک جزا حاصل کرو۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
الاستفتاء طلبُ السائل من المسؤول بيان الحكم الشرعيِّ في ذلك المسؤول عنه، فأخبر عن المؤمنين أنَّهم يستفتون الرسول - صلى الله عليه وسلم - في حكم النساء المتعلِّق بهم، فتولَّى الله هذه الفتوى بنفسه، فقال: {قل الله يُفتيكم فيهنَّ}؛ فاعملوا على ما أفتاكم به في جميع شؤون النساء من القيام بحقوقهنَّ وترك ظلمهنَّ عموماً وخصوصاً، وهذا أمرٌ عام يشمل جميع ما شرع الله أمراً ونهياً في حقِّ النساء الزوجات وغيرهنَّ الصغار والكبار، ثم خصَّ بعد التعميم الوصيةَ بالضِّعاف من اليتامى والولدان اهتماماً بهم وزجراً عن التفريط في حقوقهم، فقال: {وما يُتلى عليكم في الكتاب في يتامى النساء}؛ أي: ويُفتيكم أيضاً بما يتلى عليكم في الكتاب في شأن اليتامى من النساء، {اللاَّتي لا تؤتونهنَّ ما كُتِبَ لهنَّ}: وهذا إخبار عن الحالة الموجودة الواقعة في ذلك الوقت؛ فإنَّ اليتيمة إذا كانت تحت ولاية الرجل؛ بَخَسَها حقَّها، وظلمها إمَّا بأكل مالها الذي لها، أو بعضِهِ، أو مَنْعِها من التزوُّج؛ لينتفع بمالها خوفاً من استخراجه من يدِهِ إن زوَّجها، أو يأخذَ من صهرها الذي تتزوَّج به بشرطٍ أو غيره، هذا إذا كان راغباً عنها، أو يرغب فيها وهي ذات جمال ومال ولا يُقْسِطُ في مهرها، بل يعطيها دون ما تستحقُّ؛ فكلُّ هذا ظلمٌ يدخل تحت هذا النصِّ، ولهذا قال: {وترغبون أن تنكِحوهنَّ}؛ أي: ترغبون عن نكاحهنَّ أو في نكاحهنَّ كما ذكرنا تمثيلَه.
{والمستضعفينَ من الوِلدانِ}؛ أي: ويُفتيكم في المستضعفين من الولدان الصغارِ أن تُعطوهم حقَّهم من الميراث وغيرِهِ، وأن لا تستولوا على أموالهم على وجه الظُّلم والاستبداد، {وأن تقوموا لليتامى بالقِسْط}؛ أي: بالعدل التامِّ، وهذا يشمَلُ القيامَ عليهم بإلزامِهم أمرَ الله وما أوجبه على عبادِهِ، فيكونُ الأولياءُ مكلَّفين بذلك يلزمونهم بما أوجبه الله، ويشملُ القيام عليهم في مصالحهم الدنيويَّة بتنمية أموالهم وطلبِ الأحظِّ لهم فيها وأن لا يقربوها إلا بالتي هي أحسن، وكذلك لا يُحابون فيهم صديقاً ولا غيره في تزوُّج وغيره على وجه الهضم لحقوقهم، وهذا من رحمته تعالى بعبادِهِ؛ حيث حثَّ غاية الحثِّ على القيام بمصالح مَن لا يقومُ بمصلحةِ نفسه لضعفِهِ وفقد أبيه.
ثم حثَّ على الإحسان عموماً، فقال: {وما تفعلوا من خيرٍ}: لليتامى ولغيرهم، سواء كان الخير متعدياً أو لازماً، {فإنَّ الله كان به عليماً}؛ أي: قد أحاط علمُهُ بعمل العاملين للخير، قلَّةً وكثرةً، حسناً وضدّه، فيجازي كلًّا بحسب عمله.