تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ بعض لوگوں نے اس آیت اور اس سورت کی آیت (۳) دونوں کو ملا کر نتیجہ نکالا ہے کہ ایک سے زیادہ بیویوں کے درمیان عدل ممکن ہی نہیں۔ دوسرا حکم ہے کہ اگر عدل نہ کر سکنے کا خوف ہو تو بس ایک بیوی یا لونڈی رکھو۔ معلوم ہوا کہ ایک سے زیادہ نکاح جائز نہیں۔ اس کے جواب کے لیے سورۂ نساء کی آیت (۳) کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیں۔ بلکہ زیر تفسیر آیت میں تو عورتوں کے درمیان عدل میں اتنی رعایت دی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے منع نہ کیا ہوتا تو آدمی چار سے زیادہ بیویاں بھی رکھ سکتا تھا، بشرطیکہ کوئی عورت ایسی لٹکی ہوئی نہ ہوتی کہ خاوند اس کے پاس چکر ہی نہ لگاتا، نہ اس کے کھانے پینے کی فکر کرتا۔ اگر آدمی اصلاح کرے اور ڈرے تو جو کمی بیشی ہے وہ اللہ معاف کر دے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان میں سے ایک کی طرف میلان رکھے تو قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہو گا۔“
[دارمی، کتاب النکاح، باب فی العدل بین النساء]
2۔ سیدہ سودہ بنت زمعہؓ نے اپنا باری کا دن (اور ایک روایت میں ہے کہ دن اور رات) سیدہ عائشہؓ کو ہبہ کر دیا تھا۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہؓ کے ہاں دو دن رہا کرتے، ایک ان کا اپنا باری کا دن اور ایک سودہؓ کا دن۔
[بخاری، کتاب النکاح باب المراۃ تھب یومھا من زوجہا لضر تھا و کیف یقسم ذلک]
3۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ کا یہ دستور تھا کہ عصر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام بیویوں کے ہاں جایا کرتے تھے۔
[بخاری، کتاب النکاح، باب دخول الرجل علی نساۂٖ فی الیوم]
4۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب (مرض الموت میں) بیمار ہوئے اور بیماری شدت اختیار کر گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی بیویوں سے اجازت لی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیمار داری میرے گھر میں کی جائے تو تمام بیویوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت دے دی۔
[بخاری، کتاب الہبہ، باب ھبۃ الرجل لامرأتِہٖ و المراۃ لزوجھا]
5۔
[بخاری کتاب النکاح، باب اذاتزوج البکر علی الثیب و باب اذاتزوج الثیب علی البکر]
بعض مسلمان جو تہذیب مغرب سے مرعوب ہیں اور یک زوجگی کے قائل ہیں، یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام ایک طرف تو تعدد ازواج کی اجازت دیتا ہے لیکن دوسری طرف عدل کو نا ممکن قرار دے کر عملاً اس اجازت کو منسوخ کر دیتا ہے۔ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عدل کو نا ممکن صرف ان امور میں کہا ہے جو انسان کے بس سے باہر ہیں اور ان پر مواخذہ بھی نہیں جیسا کہ اوپر ذکر ہوا۔ اور دوسرا جواب اسی آیت کے اندر موجود ہے جو اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا کہ ”لہٰذا ایک ہی بیوی کی طرف نہ جھک جاؤ۔“ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایک سے زیادہ بیویوں کی اللہ نے اجازت دے رکھی ہے۔ اس طرح ان کے شبہ یا اعتراض کی مکمل تردید ہو جاتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا جب بہت بڑی عمر کی ہو جاتی ہیں اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جدا کردینے کا ارادہ رکھتے ہیں تو کہتی ہیں کہ میں اپنی باری کاحق سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرما لیا۔ ابوداؤد میں ہے کہ اسی پر یہ آیت اتری۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میاں بیوی جس بات پر رضامند ہو جائیں وہ جائز ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10613:صحیح] آپ فرماتے ہیں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت آپ کی نوبیویاں تھیں جن میں سے آپ نے آٹھ کو باریاں تقسیم کر رکھی تھیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5068]
بخاری مسلم میں ہے کہ { سودہ کا دن بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیتے تھے۔ } عروہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو بڑی عمر میں جب یہ معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ دینا چاہتے ہیں تو خیال کیا کہ آپ کو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوری محبت ہے اگر میں اپنی باری انہیں دیدوں تو کیا عجب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راضی ہو جائیں اور میں آپ کی بیویوں میں ہی آخر دم تک رہ جاؤں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات گزارنے میں اپنی تمام بیویوں کو برابر کے درجے پر رکھا کرتے تھے عموماً ہر روز سب بیویوں کے ہاں آتے بیٹھتے بولتے چالتے مگر ہاتھ نہ بڑھاتے پھر آخر میں جن بیوی صاحبہ کی باری ہوتی ان کے ہاں جاتے اور رات وہیں گزارتے۔ } پھر سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ بیان فرماتے جو اوپر گذار ۱؎ [سنن ابوداود:2135،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہی صورت اس وقت بھی ہے کہ جب کسی کو دو بیویاں ہوں اور ایک سے اس کی بوجہ اس کے بڑھاپے یا بدصورتی کے محبت نہ ہو اور وہ اسے جدا کرنا چاہتا اور یہ بوجہ اپنے لگاؤ یا بعض اور مصالح کے الگ ہونا پسند نہ کرتی تو اسے حق ہے کہ اپنے بعض یا سب حقوق سے الگ ہو جائے اور خاوند اس کی بات کو منظور کر کے اسے جدا نہ کرے۔
ابن جریر میں ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ایک سوال کیا (جسے اس کی بیہودگی کی وجہ سے) آپ نے ناپسند فرمایا اور اسے کوڑا ماردیا پھر ایک اور نے اسی آیت کی بابت سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ ہاں یہ باتیں پوچھنے کی ہیں اس سے ایسی صورت مراد ہے کہ مثلاً ایک شخص کی بیوی ہے لیکن وہ بڑھیا ہو گئی ہے اولاد نہیں ہوتی اس نے اولاد کی خاطر کسی جوان عورت سے اور نکاح کیا پھر یہ دونوں جس چیز پر آپس میں اتفاق کر لیں جائز ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10584]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جب اس آیت کی نسبت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ عورت ہے جو بوجہ اپنے بڑھاپے کے یا بدصورتی کے یا بدخلقی کے یا گندگی کے اپنے خاوند کی نظروں میں گر جائے اور اس کی چاہت یہ ہو کہ خاوند مجھے نہ چھوڑے تو یہ اپنا پورا یا ادھورا مہر معاف کر دے یا اپنی باری معاف کر دے وغیرہ تو اس طرح صلح کر سکتے ہیں ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10580]
سلف اور ائمہ سے برابری اس کی یہی تفسیر مروی ہے بلکہ تقریباً اس پر اتفاق ہے میرے خیال سے تو اس کا کوئی مخالف نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ان دونوں آیتوں میں ذکر ہے اس عورت کا جس سے اس کا خاوند بگڑا ہوا ہو اسے چاہیئے کہ اپنی بیوی سے کہہ دے کہ اگر وہ چاہے تو اسے طلاق دیدے اور اگر وہ چاہے تو اس بات کو پسند کر کے اس کے گھر میں رہے کہ وہ مال کی تقسیم میں اور باری کی تقسیم میں اس پر دوسری بیوی کو ترجیح دے گا اب اسے اختیار ہے اگر یہ دوسری شق کو منظور کر لے تو شرعاً خاوند کو جائز ہے کہ اسے باری نہ دے اور جو مہر وغیرہ اس نے چھوڑا ہے اسے اپنی ملکیت سمجھے۔
سیدنا رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ عنہ کی بیوی صاحبہ جب سن رسید ہو گئیں تو انہوں نے ایک نوجوان لڑکی سے نکاح کیا اور پھر اسے زیادہ چاہنے لگے اور اسے پہلی بیوی پر مقدم رکھنے لگے آخر اس سے تنگ آ کر طلاق طلب کی آپ نے دے دی پھر عدت ختم ہونے کے قریب لوٹالی۔
لیکن پھر وہی حال ہوا کہ جوان بیوی کو زیادہ چاہنے لگے اور اس کی طرف جھک گئے اس نے پھر طلاق مانگی آپ نے دوبارہ طلاق دے دی پھر لوٹالیا لیکن پھر وہی نقشہ پیش آیا پھر اس نے قسم دی کہ مجھے طلاق دے دو تو آپ نے فرمایا دیکھو اب یہ تیسری آخری طلاق ہے اگر تم چاہو تو میں دے دوں اور اگر چاہو تو اسی طرح رہنا منظور کرو اس نے سوچ کر جواب دیا کہ اچھا مجھے اسے طرح منظور ہے چنانچہ وہ اپنے حقوق سے دست بردار ہو گئیں اور اسی طرح رہنے سہنے لگیں۔
جیسے کہ خود نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کو اپنی زوجیت میں رکھا اور انہوں نے اپنا دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا۔ آپ کے اس فعل میں بھی آپ کی امت کے لیے بہترین نمونہ ہے کہ ناموافقت کی صورت میں بھی طلاق کی نوبت نہ آئے۔ چونکہ اللہ اعلیٰ و اکبر کے نزدیک صلح افتراق سے بہتر ہے اس لیے یہاں فرما دیا کہ صلح خیر ہے۔
بلکہ ابن ماجہ وغیرہ کی حدیث میں ہے { تمام حلال چیزوں میں سے سب سے زیادہ ناپسند چیز اللہ کے نزدیک طلاق ہے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:2178،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر فرمایا تمہارا احسان اور تقویٰ کرنا یعنی عورت کی طرف کی ناراضگی سے درگذر کرنا اور اسے باوجود ناپسندیدگی کے اس کا پورا حق دینا باری میں لین دین میں برابری کرنا یہ بہترین فعل ہے جسے اللہ بخوبی جانتا ہے اور جس پر وہ بہت اچھا بدلہ عطا فرمائے گا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ گو تم چاہو کہ اپنی کئی ایک بیویوں کے درمیان ہر طرح بالکل پورا عدل و انصاف اور برابری کرو تو بھی تم کر نہیں سکتے۔ اس لیے کہ گو ایک ایک رات کی باری باندھ لو لیکن محبت چاہت شہوت جماع وغیرہ میں برابری کیسے کر سکتے ہو؟
ابن ملکیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بہت چاہتے تھے، اسی لیے ایک حدیث میں ہے کہ{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے درمیان صحیح طور پر مساوات رکھتے تھے لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے فرماتے تھے الٰہی یہ وہ تقسیم ہے جو میرے بس میں تھی اب جو چیز میرے قبضہ سے باہر ہے یعنی دلی تعلق اس میں تو مجھے ملامت نہ کرنا۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:2134،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کی اسناد صحیح ہے لیکن امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دوسری سند سے یہ مرسلاً مروی ہے اور وہ زیادہ صحیح ہے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس کی دو بیویاں ہوں پھر وہ بالکل ہی ایک کی طرف جھک جائے تو قیامت کے دن اللہ کے سامنے اس طرح آئے گا کہ اس کا آدھا جسم ساقط ہو گا } ۱؎ [سنن ترمذي:1141،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ حدیث مرفوع طریق سے سوائے ہمام کی حدیث کے پہچانی نہیں جاتی۔
پھر فرماتا ہے اگر تم اپنے کاموں کی اصلاح کر لو اور جہاں تک تمہارے اختیار میں ہو عورتوں کے درمیان عدل و انصاف اور مساوات برتو ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہا کرو، اس کے باوجود اگر تم کسی وقت کسی ایک کی طرف کچھ مائل ہو گئے ہو اسے اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا۔
پھر تیسری حالت بیان فرماتا ہے کہ اگر کوئی صورت بھی نباہ کی نہ و اور دونوں الگ ہو جائیں تو اللہ ایک کو دوسرے سے بے نیاز کر دے گا، اسے اس سے اچھا شوہر اور اسے اس سے اچھی بیوی دیدے گا۔ اللہ کا فضل بہت وسیع ہے وہ بڑے احسانوں والا ہے اور ساتھ ہی وہ حکیم ہے تمام افعال ساری تقدیریں اور پوری شریعت حکمت سے سراسر بھرپور ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أن الأزواج لا يستطيعون وليس في قُدرتهم العدل التامُّ بين النساء، وذلك لأن العدل يستلزم وجود المحبَّة على السَّواء، والداعي على السواء، والميل في القلب إليهنَّ على السواء، ثم العمل بمقتضى ذلك، وهذا متعذِّر غير ممكن؛ فلذلك عفا الله عمّا لا يستطاع ونهى عما هو ممكنٌ بقوله: {فلا تميلوا كلَّ الميل فتذروها كالمعلَّقة}؛ أي: لا تميلوا ميلاً كثيراً بحيث لا تؤدُّون حقوقَهن الواجبة، بل افعلوا ما هو باستطاعتكم من العدل؛ فالنفقة والكسوة والقَسْم ونحوها عليكم أن تعدِلوا بينهنَّ فيها؛ بخلاف الحبِّ والوطء ونحو ذلك؛ فإنَّ الزوجة إذا ترك زوجها ما يجب لها؛ صارت كالمعلقة التي لا زوج لها فتستريح وتستعدُّ للتزوج، ولا ذات زوج يقوم بحقوقها. {وإن تُصْلِحوا} ما بينكم وبين زوجاتِكم بإجبار أنفسكم على فعل ما لا تهواه النفس احتساباً وقياماً بحقِّ الزوجة، وتصلحوا أيضاً فيما بينكم وبين الناس، وتصلحوا أيضاً بين الناس فيما تنازعوا فيه، وهذا يستلزم الحثَّ على كلِّ طريق يوصل إلى الصُّلح مطلقاً كما تقدم. {وتَتَّقوا}: الله بفعل المأمور وترك المحظور والصَّبر على المقدور، {فإنَّ الله كان غفوراً رحيماً}: يَغْفِرُ ما صَدَرَ منكم من الذُّنوب والتقصير في الحقِّ الواجب، ويرحمكم كما عطفتم على أزواجكم ورحمتموهنَّ.