تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {يُوْرَثُ كَلٰلَةً:} اگر کوئی مرد یا عورت مر جائے، اس کا نہ والد ہو اور نہ وارث بننے والی اولاد ہو تو اسے ”کلالہ“ کہتے ہیں۔ بعض ایسی میت کے وارثوں کو ”کلالہ“ کہتے ہیں۔ بہرحال دونوں پر یہ لفظ بولا جاتا ہے۔
➌ {وَ لَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ:} بھائی بہن تین طرح کے ہوتے ہیں: (1) عینی یعنی جن کے ماں باپ ایک ہوں۔ (2) علاتی، یعنی جن کا باپ ایک ہو، مائیں مختلف ہوں۔ (3) اخیافی، جن کی ماں ایک ہو اور باپ مختلف ہوں۔ یہاں بالاتفاق اخیافی بھائی بہن مراد ہیں، جیسا کہ ایک قراء ت میں بھی ہے۔
➍ اخیافی بھائی چار احکام میں دوسرے وارثوں سے مختلف ہیں: (1) یہ صرف ماں کی جہت سے ورثہ لیتے ہیں۔ (2) ان میں سے مرد اور عورت کو مساوی حصہ دیا جاتا ہے۔ (3) ان کو صرف میت کے کلالہ ہونے کی صورت میں حصہ ملتا ہے۔ (4) خواہ کتنے ہی ہوں ان کا حصہ ثلث سے زیادہ نہیں ہوتا، مثلاً ایک میت کا شوہر، ماں، دو اخیافی اور دو عینی بھائی موجود ہوں تو جمہور اہل علم کے نزدیک شوہر کو نصف (۲؍۱) ملے گا، ماں کو سدس(۶؍۱) ملے گا اور بقیہ تہائی حصے میں اخیافی بھائیوں کے ساتھ عینی بھائی بھی شریک ہوں گے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مقدمہ میں یہی فیصلہ صادر فرمایا تھا۔ صحابہ میں سے عثمان، ابن مسعود، ابن عباس اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اور ائمہ میں سے امام مالک اور امام شافعی رحمھما اللہ کا یہی مسلک ہے، البتہ علی رضی اللہ عنہ اخیافی بھائیوں کے اصحاب الفروض ہونے کی وجہ سے دوسرے سگے بھائیوں کو عصبہ ہونے کی وجہ سے محروم قرار دیتے ہیں۔ امام شوکانی رحمہ اللہ نے اس دوسرے مسلک کو ترجیح دی ہے۔ (ابن کثیر، فتح القدیر)
➎ {فَهُمْ شُرَكَآءُ فِي الثُّلُثِ:} اخیافی بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو مرد ہو یا عورتیں، یا مرد اور عورتیں ملے ہوئے ہوں، سب میں تیسرا حصہ برابر تقسیم کر دیا جائے گا، یعنی یہاں مرد کو عورت پر فضیلت نہیں ہو گی، جیسا کہ آیت میں «شُرَكَآءُ فِي الثُّلُثِ» سے معلوم ہوتا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کے مطابق فیصلہ فرمایا اور ظاہر ہے کہ ایسا فیصلہ محض اجتہاد سے نہیں کیا جا سکتا۔ (ابن کثیر)
➏ {غَيْرَ مُضَآرٍّ:} یہ حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے اور اس کا تعلق وصیت اور قرض دونوں سے ہے۔ وصیت میں نقصان پہنچانا ایک تو یہ ہے کہ تہائی مال سے زیادہ وصیت کرے، اس صورت میں تہائی سے زائد وصیت کا نفاذ نہیں ہوگا۔ مگر یہ کہ ورثاء اجازت دے دیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی وارث کو مزید رعایت سے زائد مال دلوایا جائے، اس کا بھی اعتبار نہیں ہو گا، الا یہ کہ تمام وارث برضا و رغبت اسے قبول کر لیں۔ قرض میں نقصان پہنچانا یہ ہے کہ محض وارثوں کا حق تلف کرنے کے لیے مرنے والا اپنے ذمے کسی ایسے قرض کا اقرار کرے جو حقیقت میں اس کے ذمے نہ ہو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”وصیت میں نقصان پہنچانا کبیرہ گناہ ہے۔“ [السنن الکبرٰی للنسائی: 60/10، ح: ۱۱۰۲۶، و سندہ صحیح]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
(1) عینی یا حقیقی یا سگے بھائی جن کے والدین ایک ہوں۔ (2) علاتی یا سوتیلے بہن بھائی جن کی مائیں الگ الگ اور باپ ایک ہو (3) اخیافی یعنی ایسے سوتیلے بہن بھائی جن کی ماں ایک ہو اور باپ الگ الگ ہوں۔ اس آیت میں جن بہن بھائیوں کا ذکر ہے وہ بالاتفاق اخیافی یعنی ماں کی طرف سے بھائیوں کا ہے اور اسی سورۃ کی آیت نمبر 176 میں دوسرے بہن بھائیوں کا ذکر ہے اخیافی بہن بھائیوں کا حصہ 3/1 ہے۔ اگر ایک بھائی اور ایک بہن ہو تو ہر ایک کا 6/1 اور اگر بہن بھائی زیادہ ہوں تو بھی انہیں 3/1 سے زیادہ نہیں ملے گا۔ اور یہ 3/1 حصہ ان میں برابر تقسیم ہو گا۔ مرد کو عورت سے دگنا نہیں ملے گا۔ اور اگر صرف ایک ہی بھائی یا ایک ہی بہن ہو تو اسے 6/ 1 ملے گا۔ باقی پہلی صورت میں 3/2 اور دوسری صورت میں 6/5 بچ جائے گا۔ کلالہ باقی پورے حصہ کے متعلق وصیت کر سکتا ہے یا پھر یہ حصہ ذوی الارحام میں تقسیم ہو گا بشرطیکہ کوئی عصبہ نہ مل رہا ہو۔
[ترمذی، ابواب الفرائض، باب فی میراث الجد، ابو داؤد۔ کتاب الفرائض۔ باب ماجاء فی میراث الجد]
[ابو داؤد۔ کتاب الفرائض۔ باب فی الجدۃ]
[بخاری، کتاب الفرائض، باب میراث ابنۃ ابن مع ابنۃ]
[بخاری، کتاب الفرائض، باب میراث البنات]
اور ابو داؤد میں یہ الفاظ زیادہ ہیں۔ ”اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقید حیات تھے۔“
[ابو داؤد، كتاب الفرائض۔ باب من كان ليس له ولد وله اخوات]
[موطا۔ کتاب الفرائض، باب فی میراث العمۃ]
[بخاری، کتاب الفرائض، باب میراث الولدمن ابیہ وأمہ۔ مسلم۔ کتاب الفرائض۔ باب الحقوا الفرائض باھلھا]
بسا اوقات ذوی الفروض عصبہ کے ساتھ مل کر عصبہ بن جاتے ہیں مثلاً میت کی اولاد صرف دو بیٹیاں ہیں۔ نہ والدین ہیں نہ بیوی۔ تو بیٹیوں کو 3/2 ملے گا اور باقی کے لیے عصبہ تلاش کرنا پڑے گا لیکن اگر ان بیٹیوں کے ساتھ ایک بیٹا بھی ہو تو بیٹا چونکہ عصبہ ہے لہٰذا وہ بہنوں کو بھی عصبہ بنا دے گا اور تقسیم اس طرح ہو گی، بیٹے کا 2/1 اور دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کا 4/1۔ عصبہ کی تلاش۔ سب سے پہلے عصبہ اولاد سے دیکھا جائے گا۔ پھر اوپر کی طرف سے۔ پھر چچاؤں میں سے پھر ان کے بیٹوں سے۔
[بخاری کتاب الفرائض باب میراث السائبة مسلم، کتاب الفرائض۔ باب انما الولاء لمن اعتق]
5۔
6۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کا کوئی وارث نہ ہو اس کا وارث ماموں ہے۔ وہی اس کی طرف سے دیت دے گا اور وہی وارث ہو گا۔“
[ابو داؤد، کتاب الفرائض۔ باب میراث ذوی الارحام]
اب ہم قانون میراث کی چند مزید وضاحتیں پیش کرتے ہیں:
(1) ایک دوسرے سے عہد۔ یعنی کوئی شخص کسی دوسرے کو کہہ دیتا کہ میری جان تیری جان، میرا خون تیرا خون، میں تیرا وارث تو میرا وارث۔ جب کوئی شخص کسی سے ایسا عہد کر لیتا تو اس کے مقابلہ میں بھائی یا بیٹے کسی کو بھی ورثہ نہیں ملتا تھا۔
(2) اور اقرباء کو وراثت سے محروم کرنے کا دوسرا طریقہ «متبنّيٰ» بنانے کا تھا۔ اگر کسی کی نرینہ اولاد نہ ہوتی تو وہ کوئی متبنیٰ بنا لیتا تھا جو اس کی پوری میراث کا حقدار سمجھا جاتا تھا۔
(3) اور اگر اولاد میں میراث تقسیم ہوتی تو اس کی صورت یہ تھی کہ حصہ صرف ان بیٹوں کو ملتا تھا جو میت کی طرف سے نیزہ لے کر لڑ سکتے تھے۔ اسلام کے قانون میراث نے پہلے دو طریق کو تو کلیۃً منسوخ کر دیا اور تیسرے میں یہ اصلاح کی کہ ورثہ لڑکیوں کو بھی ملے، چھوٹے بچوں کو بھی ملے اور والدین کو بھی۔ جب مہاجرین نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور مہاجرین کی معاش اور آباد کاری کا مسئلہ پیش آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار میں مواخات کا سلسلہ قائم کیا۔ اس وقت تک احکام میراث نازل نہیں ہوئے تھے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان بھائی بھائی مہاجرین و انصار کو ایک دوسرے کا وارث قرار دیا۔ پھر جب مہاجرین کی معاشی حالت قدرے سنبھل گئی تو یہ قانون منسوخ کر دیا گیا اور وراثت کے تفصیلی احکام اس سورۃ میں نازل ہوئے۔
(1) نسب میں تین پہلوؤں کو اس ترتیب سے ملحوظ رکھا کہ سب سے پہلے اولاد کا جیسا کہ ابتدا ہی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِيْٓ اَوْلَادِكُمْ ۤ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ﴾
دوسرے نمبر پر والدین کے حصوں کا ذکر ہوا اور تیسرے نمبر پر بہن بھائیوں کا ذکر ہے۔
(2) نکاح سے مراد مختلف صورتوں میں میاں اور بیوی کے حصوں کا ذکر ہے۔
(3) اور ولاء سے مراد یہ ہے کہ ایک ایسا آزاد کردہ غلام جس کا کوئی رشتہ دار موجود نہ ہو تو اس کا وارث وہ مالک ہوتا ہے جس نے اسے آزاد کیا تھا اور یہ صورت آج کل مفقود ہے۔ نکاح کی بنا پر بھی حصوں کا ذکر نسبتاً آسان ہے کہ میت اگر عورت ہو اور بے اولاد ہو تو مرد کو اس کی میراث کا آدھا ملے گا اور اگر صاحب اولاد ہو تو خاوند کو چوتھائی حصہ ملے گا۔ اسی طرح اگر میت مرد بے اولاد ہو تو بیوی کو یا اس کی سب بیویوں کو چوتھائی حصہ ملے گا اور اولاد والا ہے تو بیوی کو یا سب بیویوں کو آٹھواں حصہ بحصہ برابر ملے گا۔ اب نسب کے رشتہ داروں کے حصے ذرا قابل فہم ہیں۔ کیونکہ ان کی بہت سی صورتیں ہیں ان میں سے چند مشہور و معروف عام صورتیں درج ذیل ہیں:
1۔ جو مرد یا عورت بوڑھا ہو کر اپنی طبعی موت مرتا ہے تو اس وقت عموماً اس کے والدین دنیا سے رخصت ہو چکے ہوتے ہیں اور اگر بہن بھائی ہوں تو الگ گھروں والے ہوتے ہیں۔ اس صورت میں اولاد ہی وارث ہوتی ہے۔ اب اگر اولاد ایک بیٹا ہی ہے تو زوجین میں سے کسی ایک کا حصہ نکالنے کے بعد باقی سب میراث کا وارث ہو گا اور زیادہ بیٹے ہوں تو سب اس باقی حصہ میں برابر کے حصہ دار ہوں گے اور بہن بھائی اگر ملے جلے ہیں تو لڑکے کے دو حصے اور لڑکی کا ایک حصہ کی نسبت سے ورثہ ملے گا۔ اور اگر لڑکا ایک بھی نہیں ایک لڑکی ہے تو اسے کل کا نصف ملے گا اور اگر دو یا دو سے زیادہ ہیں تو انہیں کل کا 3/2 ملے گا۔
2۔ اس کے بعد عام صورت یہ ہے کہ میت کے ماں باپ دونوں یا ان میں سے کوئی ایک زندہ ہو۔ اگر دونوں زندہ ہیں تو ان میں سے ہر ایک کو کل کا چھٹا حصہ ملے گا۔ اگر باپ زندہ نہیں اور دادا زندہ ہے تو باپ کا حصہ دادا کو مل جائے گا۔ اور ماں زندہ نہیں لیکن نانی زندہ ہے تو ماں کا حصہ نانی کو مل جائے گا اور بقول بعض اگر نانی زندہ نہیں اور دادی زندہ ہے تو ماں کا حصہ دادی کو مل جائے گا۔ اور اگر دونوں زندہ ہیں تو یہی چھٹا حصہ دونوں میں برابر برابر تقسیم ہو گا۔ والدین کا اور زوجین میں سے کسی ایک کا حصہ نکال لینے کے بعد باقی میراث اولاد میں تقسیم ہو گی بحساب مذکر 2 حصے اور مونث ایک حصہ۔ اس صورت میں کبھی ایک الجھن بھی پیش آ سکتی ہے مثلاً میت عورت ہے جس کے والدین بھی زندہ ہیں شوہر بھی اور دو لڑکیاں بھی۔ لڑکیوں کا 3/2 حصہ اور والدین میں سے ہر ایک کا 6/1 یعنی دونوں کا 3/1 حصہ، اور خاوند کا 4/1۔ بالفاظ دیگر جائیداد کے کل بارہ حصے کرنے چاہئیں۔ جن میں سے 8 تو لڑکیاں لے گئیں 3 خاوند لے گیا اور 2 حصے والدہ کے اور 2 حصے والد کے۔ یہ کل 15 حصے بنتے ہیں (یعنی حاصل جمع ایک سے بڑھ جاتی ہے) ایسی صورت کو فقہی اصطلاح میں عول کہتے ہیں۔ اس صورت میں کل جائیداد کے 12 کے بجائے پندرہ حصے کر کے انہیں مذکورہ بالا حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔ اسی طرح اگر عصبہ نہ مل رہا ہو تو اس کے برعکس صورت بھی پیش آ سکتی ہے۔ مثلاً میت مرد ہے جس کی بیوی فوت ہو چکی ہے۔ ماں زندہ ہے لیکن باپ فوت ہو چکا ہے۔ دادا بھی نہیں اور اولاد صرف ایک لڑکی ہے۔ گویا اس کے وارث صرف ماں اور بیٹی میں اور عصبہ کوئی بھی نہیں مل رہا۔ حصوں کے لحاظ سے جائیداد 6 حصوں میں تقسیم ہو گی جن میں سے 3 حصے تو بیٹی لے گی اور ایک حصہ ماں۔ باقی 2 حصے بچ جائیں گے ایسی صورت کو فقہی اصطلاح میں رد کہتے ہیں۔ اس صورت میں یہ حصے بھی اسی نسبت سے ان دونوں کو مل جائیں گے۔ بالفاظ دیگر یہ میراث ہی 6 کی بجائے 4 حصوں میں تقسیم کر کے 3 حصے بیٹی کو اور ایک ماں کو دے دیا جائے گا۔ (واضح رہے کہ ذوی الفروض کی موجودگی میں بقیہ ترکہ ذوی الارحام کو نہیں ملتا۔ بلکہ پھر انہیں پر تقسیم ہو جاتا ہے۔)
(3) تیسری عام صورت یہ ہے کہ ابھی نئی نئی شادی ہوئی تھی اور ابھی اولاد بھی نہ ہوئی تھی کہ زوجین میں سے کسی ایک کا انتقال ہو گیا اور اس کے والدین زندہ ہیں لیکن اور کوئی بہن بھائی نہیں تو اس صورت میں ماں کو ایک تہائی، میت اگر مرد ہے تو عورت کو ایک چوتھائی اور باقی 12/ 5 باپ کو ملے گا۔ اور اگر میت عورت ہے تو ماں کے 4 حصے، خاوند کے 6 حصے اور باپ کو صرف 2 حصے یا ماں کا نصف ملے گا۔ اور اگر بہن بھائی بھی ہیں تو ماں کو 6/1 حصہ ملے گا۔ یعنی ماں کے دو حصے، بیوی کے تین حصے باقی سات حصے باپ کو ملیں گے۔ اور اگر میت بیوی تھی تو ماں کے 2 خاوند کو اور باپ کو 4 حصے مل جائیں گے۔ یہ چند عام صورتیں بیان کر دی گئیں ورنہ میراث کی اتنی صورتیں بن جاتی ہیں جن کا حصران حواشی میں ممکن نہیں۔ میں نے ان کی تفصیل اپنی کتاب ’تجارت اور لین دین کے احکام‘ کے پندرہویں باب ’احکام وراثت‘ میں درج کر دی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے آخری زمانہ پانے والا میں ہوں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے بات وہی ہے جو میں نے کہی ٹھیک اور درست یہی ہے کہ «كَلَالَةً» اسے کہتے ہیں جس کا نہ ولد ہو والد۔
اہل مدینہ، اہل کوفہ، اہل بصرہ کا بھی یہی قول ہے۔ ساتوں فقہاء چاروں امام اور جمہور سلف و خلف بلکہ تمام یہی فرماتے ہیں، بہت سے بزرگوں نے اس پر اجماع نقل کیا ہے اور ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی آیا ہے، ۱؎ [مستدرک حاکم:336/4:ضعیف]
ابن لباب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ «کلالہ» وہ ہے جس کی اولاد نہ ہو لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور ممکن ہے کہ راوی نے مراد سمجھی ہی نہ ہو۔
نسائی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول بھی اسی طرح مروی ہے بعض روایتوں میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس فرمان کے بعد آیت کے اس ٹکڑے کی تلاوت کرنا بھی مروی ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ کے قول کی مطابق ٹھیک بات یہی ہے کہ یہ مرفوع حدیث نہیں موقوف قول ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے پھر فرمایا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں بہ سبب وارثوں کے ساتھ بدگمانی کے اس کا یہ اقرار جائز نہیں، لیکن میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے ”بدگمانی سے بچو بدگمانی تو سب سے زیادہ جھوٹ ہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:6064]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم قال تعالى: {ولكم} أيها الأزواج {نصف ما ترك أزواجكم إن لم يكن لهن ولد فإن كان لهن ولد فلكم الربع مما تركن من بعد وصية يوصين بها أو دين ولهن الربع مما تركتم إن لم يكن لكم ولد، فإن كان لكم ولد فلهن الثمن مما تركتم من بعد وصية توصون بها أو دين}، ويدخل في مسمى الولد المشروط وجوده أو عدمه ولد الصلب، أو ولد الابن، الذكر والأنثى، الواحد، والمتعدد الذي من الزوج أو من غيره، ويخرج عنه ولد البنات إجماعاً.
ثم قال تعالى: {وإن كان رجل يورث كلالة أو امرأة وله أخ أو أخت}؛ أي: من أم؛ كما هي في بعض القراءات، وأجمع العلماء على أن المراد بالإخوة هنا الإخوة للأم؛ فإذا كان يورث كلالة؛ أي: ليس للميت والد ولا ولد؛ أي: لا أب ولا جد ولا ابن ولا ابن ابن ولا بنت ولا بنت ابن وإن نزلوا، وهذه هي الكلالة كما فسرها بذلك أبو بكر الصديق رضي الله عنه، وقد حصل على ذلك الاتفاق ولله الحمد، {فلكل واحد منهما}؛ أي؛ من الأخ والأخت {السدس، فإن كانوا أكثر من ذلك}؛ أي: من واحد؛ {فهم شركاء في الثلث}؛ أي: لا يزيدون على الثلث ولو زادوا عن اثنين. ودل قوله: {فهم شركاء في الثلث}: أن ذكرهم وأنثاهم سواء؛ لأن لفظ الشريك يقتضي التسوية. ودل لفظ {الكلالة} على أن الفروع وإن نزلوا، والأصول الذكور وإن علوا، يسقطون أولاد الأم؛ لأن الله لم يورثهم إلا في الكلالة؛ فلو لم يكن يورث كلالة؛ لم يرثوا منه شيئاً اتفاقاً. ودل قوله: {فهم شركاء في الثلث}: أن الإخوة الأشقاء يسقطون في المسألة المسماة بالحمارية، وهي زوج وأم وإخوة لأم وإخوة أشقاء: للزوج النصف، وللأم السدس، وللإخوة للأم الثلث، ويسقط الأشقاء لأن الله أضاف الثلث للإخوة من الأم؛ فلو شاركهم الأشقاء؛ لكان جمعاً لما فرق الله حكمه. وأيضاً؛ فإن الإخوة للأم أصحاب فروض والأشقاء عصبات، وقد قال النبي - صلى الله عليه وسلم -: «ألحقوا الفرائض بأهلها؛ فما بقي؛ فلأولى رجل ذكر».
وأهل الفروض هم الذين قدر الله أنصباءهم؛ ففي هذه المسألة لا يبقى بعدهم شيء، فيسقط الأشقاء، وهذا هو الصواب في ذلك. وأما ميراث الإخوة والأخوات الأشقاء أو لأب؛ فمذكور في قوله: {يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة ... } الآية؛ فالأخت الواحدة شقيقة أو لأب لها النصف، والثنتان لهما الثلثان، والشقيقة الواحدة مع الأخت للأب أو الأخوات تأخذ النصف والباقي من الثلثين للأخت أو أخوات الأب وهوالسدس تكملة الثلثين، وإذا استغرقت الشقيقات الثلثين؛ تسقط الأخوات للأب؛ كما تقدم في البنات وبنات الابن، وإن كان الإخوة رجالاً ونساء؛ فللذكر مثل حظ الأنثيين.
فإن قيل: فهل يستفاد حكم ميراث القاتل والرقيق والمخالف في الدين والمُبَعَّضُ والخنثى والجد مع الإخوة لغير أُمٍّ والعَوْل والردِّ وذوي الأرحام وبقية العَصَبة والأخوات لغير أم مع البنات أو بنات الابن من القرآن أم لا؟ قيل: نعم فيه تنبيهات وإشارات دقيقة يَعْسُرُ فهمُها على غير المتأمل تدلُّ على جميع المذكورات:
فأما القاتل والمخالف في الدين؛ فيُعْرَفُ أنهما غير وارثين من بيان الحكمة الإلهية في توزيع المال على الورثة بحسَبِ قربهم ونفعهم الديني والدنيوي، وقد أشار تعالى إلى هذه الحكمة بقوله: {لا تدرونَ أيُّهم أقربُ لكم نفعاً}، وقد عُلِمَ أن القاتلَ قد سعى لموروثه بأعظم الضَّرر، فلا ينتهضُ ما فيه من موجب الإرث أن يقاوم ضرر القتل الذي هو ضد النفع الذي رُتِّبَ عليه الإرثُ، فُعِلمَ من ذلك أن القتل أكبر مانع يمنع الميراث ويقطع الرحم الذي قال الله فيه: {وأولو الأرحام بعضُهم أولى ببعضٍ في كتاب الله}، مع أنه قد استقرَّتِ القاعدة الشرعية: أن من استعجل شيئاً قبل أوانه؛ عوقب بحرمانه.
وبهذا ونحوه يُعْرَفُ أن المخالف لدين الموروث لا إرثَ له، وذلك أنه قد تعارض الموجبُ الذي هو اتصال النسب الموجب للإرث والمانعُ الذي هو المخالفة في الدين الموجبةُ للمباينة من كلِّ وجه، فقوي المانع، ومنع موجِبَ الإرث الذي هو النسب، فلم يعمل الموجِبُ لقيام المانع. يوضِّحُ ذلك أن الله تعالى قد جعل حقوق المسلمين أولى من حقوق الأقارب الكفار الدنيوية؛ فإذا مات المسلم؛ انتقلَ مالُهُ إلى من هو أولى وأحق به، فيكون قوله تعالى: {وأولو الأرحام بعضُهم أولى ببعض في كتاب الله}: إذا اتَّفقت أديانُهم، وأما مع تبايُنِهِم؛ فالأخوَّةُ الدينيةُ مقدَّمة على الأخوَّة النسبيَّة المجرَّدة.
قال ابن القيم في «جلاء الأفهام»: «وتأمَّل هذا المعنى في آية المواريث وتعليقه سبحانه التوارثَ فيها بلفظِ الزوجة دون المرأةِ؛ كما في قوله تعالى: {وَلكم نصفُ ما تَرَكَ أزواجكم}: إيذانٌ بأن هذا التوارثَ إنَّما وقع بالزوجيةِ المقتضيةِ للتشاكل والتناسب، والمؤمِنُ والكافر لا تشاكلَ بينهما ولا تناسبَ، فلا يقع بينهما التوارثُ، وأسرار مفردات القرآن ومركباته فوق عقول العالمين». انتهى.
وأما الرقيق؛ فإنه لا يَرِثُ ولا يورث: أما كونه لا يورث؛ فواضحٌ؛ لأنه ليس له مال يورث عنه، بل كل ما معه فهو لسيده. وأما كونه لا يرث؛ فلأنه لا يملك؛ فإنه لو ملك لكان لسيده، وهو أجنبيٌّ من الميت، فيكون مثل قوله تعالى: {للذكر مثل حظ الأنثيين} {ولكم نصف ما ترك أزواجكم} {فلكل واحد منهما السدس} .... ونحوها لمن يتأتَّى منه التملُّك، وأما الرقيق؛ فلا يتأتَّى منه ذلك، فعُلِمَ أنه لا ميراث له.
وأما من بعضُهُ حرٌّ وبعضُهُ رقيقٌ؛ فإنَّه تتبعَّض أحكامُه؛ فما فيه من الحرية يستحقُّ بها ما رتبه الله في المواريث؛ لكون ما فيه من الحرية قابلاً للتملُّك وما فيه من الرقِّ؛ فليس بقابل لذلك؛ فإذاً يكون المبَعَّض يرث ويورِّث ويحجب بقدر ما فيه من الحرية، وإذا كان العبد يكون محموداً ومذموماً مثاباً ومعاقباً بقدر ما فيه من موجبات ذلك؛ فهذا كذلك.
وأمَّا الخنثى؛ فلا يخلو إما أن يكون واضحاً ذكوريَّته أو أنوثيَّته أو مشكلاً؛ فإن كان واضحاً؛ فالأمر فيه واضحٌ: إن كان ذكراً؛ فله حكم الذكور، ويشمله النص الوارد فيهم، وإن كانت أنثى؛ فلها حكم الإناث، ويشملها النص الوارد فيهن. وإن كان مشكلاً؛ فإن كان الذكر والأنثى لا يختلف إرثهما ـ كالإخوة للأم ـ؛ فالأمر فيه واضح، وإن كان يختلف إرثه بتقدير ذكوريَّته وبتقدير أنوثيَّته، ولم يبق لنا طريق إلى العلم بذلك؛ لم نعطه أكثر التقديرين لاحتمال ظلم من معه من الورثة، ولم نعطه الأقل لاحتمال ظلمنا له، فوجب التوسُّط بين الأمرين وسلوك أعدل الطريقين، قال تعالى: {اعْدِلوا هو أقربُ للتقوى}؛ فليس لنا طريق إلى العدل في مثل هذا أكثر من هذا الطريق المذكور، ولا يكلفُ الله نفساً إلا وسعها؛ فاتقوا الله ما استطعتم.
وأما ميراث الجد مع الإخوة الأشقاء أو لأب، وهل يرثون معه أم لا؟ فقد دلَّ كتاب الله على قول أبي بكر الصديق رضي الله عنه ، وأن الجد يحجب الإخوة أشقاء أو لأب أو لأم كما يحجبهم الأبُ، وبيان ذلك أن الجد أبٌ في غير موضع من القرآن؛ كقوله تعالى: {إذ حَضَرَ يعقوبَ الموتُ إذ قال لبنيه ما تعبدون من بعدي قالوا نعبد إلهك وإله آبائك إبراهيم وإسماعيل وإسحق ... } الآية، وقال يوسف عليه السلام: {واتبعتُ ملة آبائي إبراهيم وإسحق ويعقوب}، فسمى الله الجدَّ وجدَّ الأب أباً، فدل ذلك على أن الجد بمنزلة الأب، يرث ما يرثه الأب، ويحجب من يحجبه، وإذا كان العلماء قد أجمعوا على أن الجدَّ حكمُهُ حكم الأب عند عدمه في ميراثه مع الأولاد وغيرهم من بين الإخوة والأعمام وبنيهم وسائر أحكام المواريث؛ فينبغي أيضاً أن يكون حكمُهُ حكمَهُ في حجب الإخوة لغير أم، وإذا كان ابن الأب بمنزلة ابن الصلب؛ فلم لا يكون الجد بمنزلة الأب؟ وإذا كان جد الأب مع ابن الأخ قد اتفق العلماء على أنه يحجبه؛ فلم لا يحجب جد الميت أخاه؟ فليس مع من يورِّث الإخوة مع الجدِّ نصٌّ ولا إشارة ولا تنبيه ولا قياس صحيح.
وأمَّا مسائل العَوْل؛ فإنه يُستفاد حكمها من القرآن، وذلك أن الله تعالى قد فرض وقدر لأهل المواريث أنصباء، وهم بين حالتين: إما أن يحجب بعضهم بعضاً، أو لا؛ فإن حجب بعضهم بعضاً؛ فالمحجوب ساقط لا يزاحم ولا يستحق شيئاً، وإن لم يحجب بعضهم بعضاً؛ فلا يخلو: إما أن لا تستغرق الفروض التركة، أو تستغرقها من غير زيادة ولا نقص، أو تزيد الفروض على التركة؛ ففي الحالتين الأوليين كلٌّ يأخذ فرضَه كاملاً، وفي الحالة الأخيرة، وهي ما إذا زادت الفروض على التركة؛ فلا يخلو من حالين:
إما أن ننقص بعض الورثة عن فرضه الذي فرضه الله له ونكمل للباقين منهم فروضهم، وهذا ترجيحٌ بغير مرجح، وليس نقصان أحدهم بأولى من الآخر، فتعينت الحال الثانية، وهو أننا نعطي كل واحد منهم نصيبه بقدر الإمكان، ونحاصص بينهم؛ كديون الغرماء الزائدة على مال الغريم، ولا طريق موصل إلى ذلك إلا بالعول، فعلم من هذا أن العول في الفرائض قد بينه الله في كتابه.
وبعكس هذه الطريقة بعينها يُعْلَمُ الردُّ؛ فإن أهل الفروض إذا لم تستغرق فروضُهم التركة، وبقي شيءٌ ليس له مستحقٌّ من عاصبٍ قريب ولا بعيد؛ فإن ردَّه على أحدهم ترجيح بغير مرجِّح، وإعطاءه غيرهم ممن ليس بقريب للميت جَنَفٌ وميل ومعارضة لقوله: {وأولو الأرحام بعضهم أولى ببعض في كتاب الله}، فتعيَّن أن يُرَدَّ على أهل الفروض بقدر فروضهم، ولما كان الزوجان ليسا من القرابة؛ لم يستحق الزيادة على فرضهم المقدَّر [عند القائلين بعدم الرد عليهم، وأما على القول الصحيح أن حكم الزوجين حكم باقي الورثة في الرد؛ فالدليل المذكور شامل للجميع كما شملهم دليل العول].
وبهذا يُعْلَمُ أيضاً ميراث ذوي الأرحام؛ فإنَّ الميت إذا لم يخلِّف صاحب فرض ولا عاصباً، وبقي الأمر دائراً بين كون ماله يكون لبيت المال لمنافع الأجانب وبين كون ماله يرجع إلى أقربائه المُدْلين بالورثة المجمع عليهم؛ تعين الثاني، ويدل على ذلك قوله تعالى: {وأولو الأرحام بعضُهم أولى ببعضٍ في كتاب الله}، فصرفه لغيرهم تركٌ لمن هو أولى من غيره، فتعيَّن توريثُ ذوي الأرحام، وإذا تعيَّن توريثُهم؛ فقد علم أنه ليس لهم نصيب مقدر بأعيانهم في كتاب الله، وأن بينهم وبين الميت وسائط صاروا بسببها من الأقارب، فينزَّلُون منزلة من أدْلَوا به من تلك الوسائط. والله أعلم.
وأمّا ميراث بقية العَصَبَة؛ كالبنوة والأخوة وبنيهم والأعمام وبنيهم ... إلخ؛ فإن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: «ألحقوا الفرائض بأهلها، فما بقي؛ فلأولى رجل ذكر» ، وقال تعالى: {ولكلٍّ جعلنا موالي مما ترك الوالدان والأقربون}؛ فإذا ألحقنا الفروض بأهلها ولم يبق شيءٌ؛ لم يستحق العاصب شيئاً، وإن بقي شيءٌ؛ أخذه أولي العَصَبة بحسب جهاتهم ودرجاتهم؛ فإنَّ جهات العصوبة خَمْسٌ: البنوة، ثمَّ الأبوة، ثمَّ الأخوة وبنوهم، ثمَّ العمومة وبنوهم، ثمَّ الولاء، ويقدم منهم الأقرب جهة؛ فإن كانوا في جهة واحدة؛ فالأقرب منزلة؛ فإن كانوا بمنزلة واحدة؛ فالأقوى، وهو الشقيق؛ فإن تساووا من كل وجه؛ اشتركوا؛ والله أعلم.
وأمَّا كون الأخوات لغير أم مع البنات أو بنات الابن عصبات يأخذن ما فضل عن فروضهنَّ؛ فلأنه ليس في القرآن ما يدل على أن الأخوات يَسْقُطْن بالبنات؛ فإذا كان الأمر كذلك، وبقي شيء بعد أخذ البنات فرضهنَّ؛ فإنه يُعطى للأخوات ولا يُعْدَلُ عنهنَّ إلى عَصَبَةٍ أبعد منهن كابن الأخ والعم ومن هو أبعد منهم. والله أعلم.