ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 12

وَ لَکُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَکَ اَزۡوَاجُکُمۡ اِنۡ لَّمۡ یَکُنۡ لَّہُنَّ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ کَانَ لَہُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِیَّۃٍ یُّوۡصِیۡنَ بِہَاۤ اَوۡ دَیۡنٍ ؕ وَ لَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکۡتُمۡ اِنۡ لَّمۡ یَکُنۡ لَّکُمۡ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ کَانَ لَکُمۡ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکۡتُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ وَصِیَّۃٍ تُوۡصُوۡنَ بِہَاۤ اَوۡ دَیۡنٍ ؕ وَ اِنۡ کَانَ رَجُلٌ یُّوۡرَثُ کَلٰلَۃً اَوِ امۡرَاَۃٌ وَّ لَہٗۤ اَخٌ اَوۡ اُخۡتٌ فَلِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنۡہُمَا السُّدُسُ ۚ فَاِنۡ کَانُوۡۤا اَکۡثَرَ مِنۡ ذٰلِکَ فَہُمۡ شُرَکَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِیَّۃٍ یُّوۡصٰی بِہَاۤ اَوۡ دَیۡنٍ ۙ غَیۡرَ مُضَآرٍّ ۚ وَصِیَّۃً مِّنَ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَلِیۡمٌ ﴿ؕ۱۲﴾
اور تمھارے لیے اس کا نصف ہے جو تمھاری بیویاں چھوڑ جائیں، اگر ان کی کوئی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی کوئی اولاد ہو تو تمھارے لیے اس میں سے چوتھا حصہ ہے، جو انھوں نے چھوڑا، اس وصیت کے بعد جو وہ کر جائیں، یا قرض (کے بعد)۔ اور ان کے لیے اس میں سے چوتھا حصہ ہے جو تم چھوڑ جائو، اگر تمھاری کوئی اولاد نہ ہو، پھر اگر تمھاری کوئی اولاد ہو تو ان کے لیے اس میں سے آٹھواں حصہ ہے جو تم نے چھوڑا، اس وصیت کے بعد جو تم کر جائو، یا قرض (کے بعد)۔ اور اگر کوئی مرد، جس کا ورثہ لیا جا رہا ہے، ایسا ہے جس کا نہ باپ ہو نہ اولاد، یا ایسی عورت ہے اور اس کا ایک بھائی یا بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے، پھر اگر وہ اس سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں حصے دار ہیں، اس وصیت کے بعد جو کی جائے، یا قرض (کے بعد)، اس طرح کہ کسی کا نقصان نہ کیا گیا ہو۔ اللہ کی طرف سے تاکیدی حکم ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، نہایت بردبار ہے۔ En
اور جو مال تمہاری عورتیں چھوڑ مریں۔ اگر ان کے اولاد نہ ہو تو اس میں نصف حصہ تمہارا۔ اور اگر اولاد ہو تو ترکے میں تمہارا حصہ چوتھائی۔ (لیکن یہ تقسیم) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو انہوں نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو ان کے ذمے ہو، کی جائے گی) اور جو مال تم (مرد) چھوڑ مرو۔ اگر تمہارے اولاد نہ ہو تو تمہاری عورتوں کا اس میں چوتھا حصہ۔ اور اگر اولاد ہو تو ان کا آٹھواں حصہ (یہ حصے) تمہاری وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو تم نے کی ہو اور (ادائے) قرض کے (بعد تقسیم کئے جائیں گے) اور اگر ایسے مرد یا عورت کی میراث ہو جس کے نہ باپ ہو نہ بیٹا مگر اس کے بھائی بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ اور اگر ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے (یہ حصے بھی ادائے وصیت و قرض بشرطیکہ ان سے میت نے کسی کا نقصان نہ کیا ہو (تقسیم کئے جائیں گے) یہ خدا کا فرمان ہے۔ اور خدا نہایت علم والا (اور) نہایت حلم والا ہے
En
تمہاری بیویاں جو کچھ چھوڑ مریں اور ان کی اوﻻد نہ ہو تو آدھوں آدھ تمہارا ہے اور اگر ان کی اوﻻد ہو تو ان کے چھوڑے ہوئے مال میں سے تمہارے لئے چوتھائی حصہ ہے۔ اس وصیت کی ادائیگی کے بعد جو وه کر گئی ہوں یا قرض کے بعد۔ اور جو (ترکہ) تم چھوڑ جاؤ اس میں ان کے لئے چوتھائی ہے، اگر تمہاری اوﻻد نہ ہو اور اگر تمہاری اوﻻد ہو تو پھر انہیں تمہارے ترکہ کا آٹھواں حصہ ملے گا، اس وصیت کے بعد جو تم کر گئے ہو اور قرض کی ادائیگی کے بعد۔ اور جن کی میراث لی جاتی ہے وه مرد یا عورت کلالہ ہو یعنی اس کا باپ بیٹا نہ ہو۔ اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے اور اس سے زیاده ہوں تو ایک تہائی میں سب شریک ہیں، اس وصیت کے بعد جو کی جائے اور قرض کے بعد جب کہ اوروں کا نقصان نہ کیا گیا ہو یہ مقرر کیا ہوا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اللہ تعالیٰ دانا ہے بردبار En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 12) ➊ {وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ …:} اللہ تعالیٰ نے شوہروں کو خطاب کر کے فرمایا کہ اگر تمھاری بیویاں مال چھوڑ کر مریں اور ان کی کوئی اولاد نہ ہو تو تمھیں آدھا مال ملے گا اور اگر ان کی اولاد ہے، ایک یا زائد بیٹے بیٹیاں یا پوتے یا پڑپوتے، خواہ تم سے یا کسی اور خاوند سے تو تمھیں چوتھا حصہ ملے گا اور اگر تمھاری اولاد نہ ہو تو تمھاری بیویوں کو چوتھا حصہ ملے گا اور تمھارے فوت ہونے کی صورت میں اگر تمھاری وارث بننے والی اولاد یا اولا کی فرع ہے، پھر وہ خواہ ان بیویوں سے ہے یا کسی اور سے، بہرحال بیویوں کو آٹھواں حصہ ملے گا، قرض اور وصیت کی ادائیگی کے بعد، پھر بیوی ایک ہو یا زیادہ سب چوتھائی یا آٹھویں حصے میں شریک ہوں گی، اس پر اجماع ہے۔
➋ {يُوْرَثُ كَلٰلَةً:} اگر کوئی مرد یا عورت مر جائے، اس کا نہ والد ہو اور نہ وارث بننے والی اولاد ہو تو اسے کلالہ کہتے ہیں۔ بعض ایسی میت کے وارثوں کو کلالہ کہتے ہیں۔ بہرحال دونوں پر یہ لفظ بولا جاتا ہے۔
➌ {وَ لَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ:} بھائی بہن تین طرح کے ہوتے ہیں: (1) عینی یعنی جن کے ماں باپ ایک ہوں۔ (2) علاتی، یعنی جن کا باپ ایک ہو، مائیں مختلف ہوں۔ (3) اخیافی، جن کی ماں ایک ہو اور باپ مختلف ہوں۔ یہاں بالاتفاق اخیافی بھائی بہن مراد ہیں، جیسا کہ ایک قراء ت میں بھی ہے۔
➍ اخیافی بھائی چار احکام میں دوسرے وارثوں سے مختلف ہیں: (1) یہ صرف ماں کی جہت سے ورثہ لیتے ہیں۔ (2) ان میں سے مرد اور عورت کو مساوی حصہ دیا جاتا ہے۔ (3) ان کو صرف میت کے کلالہ ہونے کی صورت میں حصہ ملتا ہے۔ (4) خواہ کتنے ہی ہوں ان کا حصہ ثلث سے زیادہ نہیں ہوتا، مثلاً ایک میت کا شوہر، ماں، دو اخیافی اور دو عینی بھائی موجود ہوں تو جمہور اہل علم کے نزدیک شوہر کو نصف (۲؍۱) ملے گا، ماں کو سدس(۶؍۱) ملے گا اور بقیہ تہائی حصے میں اخیافی بھائیوں کے ساتھ عینی بھائی بھی شریک ہوں گے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مقدمہ میں یہی فیصلہ صادر فرمایا تھا۔ صحابہ میں سے عثمان، ابن مسعود، ابن عباس اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اور ائمہ میں سے امام مالک اور امام شافعی رحمھما اللہ کا یہی مسلک ہے، البتہ علی رضی اللہ عنہ اخیافی بھائیوں کے اصحاب الفروض ہونے کی وجہ سے دوسرے سگے بھائیوں کو عصبہ ہونے کی وجہ سے محروم قرار دیتے ہیں۔ امام شوکانی رحمہ اللہ نے اس دوسرے مسلک کو ترجیح دی ہے۔ (ابن کثیر، فتح القدیر)
➎ {فَهُمْ شُرَكَآءُ فِي الثُّلُثِ:} اخیافی بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو مرد ہو یا عورتیں، یا مرد اور عورتیں ملے ہوئے ہوں، سب میں تیسرا حصہ برابر تقسیم کر دیا جائے گا، یعنی یہاں مرد کو عورت پر فضیلت نہیں ہو گی، جیسا کہ آیت میں «شُرَكَآءُ فِي الثُّلُثِ» سے معلوم ہوتا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کے مطابق فیصلہ فرمایا اور ظاہر ہے کہ ایسا فیصلہ محض اجتہاد سے نہیں کیا جا سکتا۔ (ابن کثیر)
➏ {غَيْرَ مُضَآرٍّ:} یہ حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے اور اس کا تعلق وصیت اور قرض دونوں سے ہے۔ وصیت میں نقصان پہنچانا ایک تو یہ ہے کہ تہائی مال سے زیادہ وصیت کرے، اس صورت میں تہائی سے زائد وصیت کا نفاذ نہیں ہوگا۔ مگر یہ کہ ورثاء اجازت دے دیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی وارث کو مزید رعایت سے زائد مال دلوایا جائے، اس کا بھی اعتبار نہیں ہو گا، الا یہ کہ تمام وارث برضا و رغبت اسے قبول کر لیں۔ قرض میں نقصان پہنچانا یہ ہے کہ محض وارثوں کا حق تلف کرنے کے لیے مرنے والا اپنے ذمے کسی ایسے قرض کا اقرار کرے جو حقیقت میں اس کے ذمے نہ ہو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: وصیت میں نقصان پہنچانا کبیرہ گناہ ہے۔ [السنن الکبرٰی للنسائی: 60/10، ح: ۱۱۰۲۶، و سندہ صحیح]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

12۔ 1 اولاد کی عدم موجودگی میں بیٹے کی اولاد یعنی پوتے بھی اولاد کے حکم میں ہیں، اس پر امت کے علماء کا اجماع ہے (فتح القدیر، ابن کثیر) اس طرح مرنے والے شوہر کی اولاد خواہ اس کی وارث ہونے والی موجودہ بیوی سے ہو یا کسی اور بیوی سے۔ اسی طرح مرنے والی عورت کی اولاد اس کے وارث ہونے والے موجودہ خاوند سے یا پہلے کسی خاوند سے۔ 12۔ 2 بیوی اگر ایک ہوگی تب بھی اسے چوتھا یا آٹھواں حصہ ملے گا اگر زیادہ ہونگی تب بھی یہی حصہ ان کے درمیان تقسیم ہوگا، ایک ایک کو چوتھائی یا آٹھواں حصہ نہیں ملے گا یہ بھی ایک اجماعی مسئلہ ہے (فتح القدیر) 12۔ 3 کلالہ سے مراد وہ میت ہے، جس کا نہ باپ ہو نہ بیٹا۔ یہ اکلیل سے مشتق ہے اکلیل ایسی چیز کو کہتے ہی جو کہ سر کو اس کے اطراف و جوانب سے وارث قرار پایا جائے (فتح القدیر و ابن کثیر) اور کہا جاتا ہے کہ کلالہ کلل سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں تھک جانا۔ گویا اس شخص تک پہنچتے پہنچتے سلسلہ نسل ونسب تھک گیا اور آگے نہ چل سکا۔ 12۔ 4 اس سے مراد اخیافی بہن بھائی ہیں جن کی ماں ایک اور باپ الگ الگ کیونکہ عینی بھائی بہن یا علاتی بہن بھائی کا حصہ میراث میں اس طرح نہیں ہے اور اس کا بیان اس سورت کے آخر میں آرہا ہے یہ مسئلہ بھی اجماعی ہے (فتح القدیر) اور دراصل نسل کے لئے مرد و زن (ۤ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ) 4:11 کا قانون چلتا ہے یہی وجہ ہے کہ بیٹے بیٹیوں کے لئے اس جگہ اور بہن بھائیوں کے لئے آخری آیت نساء میں ہر دو جگہ یہی قانون ہے البتہ صرف ماں کی اولاد میں چونکہ نسل کا حصہ نہیں ہوتا اس لئے وہاں ہر ایک کو برابر کا حصہ دیا جاتا ہے بہرحال ایک بھائی یا ایک بہن کی صورت میں ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا۔ 12۔ 5 ایک سے زیادہ ہونے کی صورت میں یہ سب ایک تہائی حصے میں شریک ہونگے، نیز ان میں مذکر اور مؤنث کے اعتبار سے بھی فرق نہیں کیا جائے گا۔ بلا تفریق سب کو مساوی حصہ ملے گا، مراد مرد ہو یا عورت۔ 12۔ 6 میراث کے احکام بیان کرنے کے ساتھ تیسری مرتبہ کہا جا رہا ہے کہ ورثے کی تقسیم، وصیت پر عمل کرنے اور قرض کی ادائیگی کے بعد کی جائے جس سے معلوم ہوتا ہے ان دونوں باتوں پر عمل کرنا کتنا ضروری ہے۔ پھر اس پر بھی اتفاق ہے کہ سب سے پہلے قرضوں کی ادائیگی کی جائے گا اور وصیت پر عمل اس کے بعد کیا جائے گا لیکن اللہ تعالیٰ نے تینوں جگہ وصیت کا ذکر دین (قرض) سے پہلے کیا حالانکہ ترتیب کے اعتبار سے دین کا ذکر پہلے ہونا چاہیے تھا۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ قرض کی ادائیگی کو تو لوگ اہمت نہیں دیتے ہیں نہ بھی دیں تو لینے والے زبردستی بھی وصول کرلیتے ہیں لیکن وصیت پر عمل کرنے کو غیر ضروری سمجھا جاتا ہے اور اکثر لوگ اس معاملے میں تساہل یا تغافل سے کام لیتے ہیں اس لئے وصیت کا پہلے ذکر فرما کر اس کی اہمیت واضح کردی گئی (روح المعانی) 12۔ 7 بایں طور پر وصیت کے ذریعے سے کسی وارث کو محروم کردیا جائے یا کسی کا حصہ گھٹا دیا جائے یا کسی کا حصہ بڑھا دیا جائے یا یوں ہی وارثوں کو نقصان پہنچانے کے لئے کہہ دے کہ فلاں شخص سے میں نے اتنا قرض لیا ہے درآں حالیکہ کچھ بھی نہیں لیا ہو، گویا اقرار کا تعلق وصیت اور دین دونوں سے ہے اور دونوں کے ذریعے سے نقصان پہنچانا ممنوع اور کبیرہ گناہ ہے۔ نیز ایسی وصیت بھی باطل ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

12۔ اور تمہاری بیویوں کی اگر اولاد [23] نہ ہو تو ان کے ترکہ سے تمہارا نصف حصہ ہے اور اگر اولاد ہو تو پھر چوتھا حصہ ہے۔ اور یہ تقسیم ترکہ ان کی وصیت کی تعمیل اور ان کا قرضہ ادا کرنے کے بعد ہو گی۔ اور اگر تمہاری اولاد نہ ہو تو بیویوں کا چوتھا حصہ ہے اور اگر اولاد ہو تو پھر آٹھواں حصہ ہے اور یہ تقسیم تمہاری وصیت کی تعمیل اور تمہارے قرضے کی ادائیگی کے بعد ہو گی۔ اگر میت کلالہ ہو خواہ وہ مرد ہو یا عورت ہو اور اس کا ایک بھائی اور ایک بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے اور اگر بہن بھائی زیادہ ہوں تو وہ سب تہائی حصہ میں شریک [24] ہوں گے اور یہ تقسیم میت کی وصیت کی تعمیل اور اس کے قرضہ کی ادائیگی کے بعد ہو گی۔ بشرطیکہ اس کے قرضہ کی ادائیگی یا وصیت کی تعمیل میں کسی کو نقصان [25] نہ پہنچ رہا ہو۔ یہ اللہ کی طرف سے مقرر کردہ حصے ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور بردبار ہے
[23] میت اگر عورت ہے تو اس کے خاوند کو آدھا ترکہ ملے گا۔ بشرطیکہ میت کی اولاد نہ ہو اور اگر اولاد ہو تو خاوند کو 4/1 ملے گا۔ اور اگر میت مرد ہے تو بیوی کو 4/1 ملے گا بشرطیکہ میت کی اولاد نہ ہو اور اگر بیویاں ایک سے زیادہ ہوں تو 4/1 ان میں برابر تقسیم ہو گا۔ اور اگر میت کی اولاد بھی ہو خواہ وہ کسی بھی بیوی سے ہو تو بیوی یا بیویوں کو 8/1 ملے گا۔ ایک سے زیادہ بیویوں کی صورت میں یہ ان میں برابر برابر تقسیم ہو گا۔ (یہ زوجین کے حصے ہوئے)
[24] کلالہ کی میراث:۔
کَلالۃ وہ شخص ہے جس کے نہ والدین ہوں نہ دادا دادی، اور نہ اولاد اور نہ پوتے پوتیاں۔ خواہ وہ میت مرد ہو یا عورت وہ کلالہ ہے البتہ اس کے بہن بھائی ہو سکتے ہیں۔ بہن بھائی بھی تین قسم کے ہوتے ہیں۔
(1) عینی یا حقیقی یا سگے بھائی جن کے والدین ایک ہوں۔ (2) علاتی یا سوتیلے بہن بھائی جن کی مائیں الگ الگ اور باپ ایک ہو (3) اخیافی یعنی ایسے سوتیلے بہن بھائی جن کی ماں ایک ہو اور باپ الگ الگ ہوں۔ اس آیت میں جن بہن بھائیوں کا ذکر ہے وہ بالاتفاق اخیافی یعنی ماں کی طرف سے بھائیوں کا ہے اور اسی سورۃ کی آیت نمبر 176 میں دوسرے بہن بھائیوں کا ذکر ہے اخیافی بہن بھائیوں کا حصہ 3/1 ہے۔ اگر ایک بھائی اور ایک بہن ہو تو ہر ایک کا 6/1 اور اگر بہن بھائی زیادہ ہوں تو بھی انہیں 3/1 سے زیادہ نہیں ملے گا۔ اور یہ 3/1 حصہ ان میں برابر تقسیم ہو گا۔ مرد کو عورت سے دگنا نہیں ملے گا۔ اور اگر صرف ایک ہی بھائی یا ایک ہی بہن ہو تو اسے 6/ 1 ملے گا۔ باقی پہلی صورت میں 3/2 اور دوسری صورت میں 6/5 بچ جائے گا۔ کلالہ باقی پورے حصہ کے متعلق وصیت کر سکتا ہے یا پھر یہ حصہ ذوی الارحام میں تقسیم ہو گا بشرطیکہ کوئی عصبہ نہ مل رہا ہو۔
[25] وصیت کے ذریعہ نقصان پہچانے کی صورتیں:۔
وصیت میں میت یوں نقصان پہنچا سکتا ہے کہ اندازہ سے زیادہ وصیت کر جائے۔ اور یہ تہائی سے بھی زیادہ ہو یا عمداً ایسا کرے تو اس سے وارثوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور ایسی وصیت کی اصلاح کر دینی چاہیے تاکہ ورثاء کو نقصان نہ ہو۔ اسی طرح میت مرتے وقت کسی فرضی قسم کے قرضہ کا اقرار کر جائے تو وہ قرض لینے والے کو ممنون اور ورثاء کو نقصان پہنچا سکتا ہے حتیٰ کہ محروم بھی بنا سکتا ہے اسی لیے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ سب کچھ جاننے والا ہے اور حلیم اس لحاظ سے ہے کہ اس نے ان قوانین کے مقرر کرنے میں سختی نہیں کی۔ بلکہ ان کی زیادہ سے زیادہ سہولت کا خیال رکھا ہے۔ کتاب و سنت میں جن ورثاء کے حصے مقرر کر دیئے گئے ہیں انہیں ذوی الفروض کہتے ہیں۔ قرآن کے علاوہ درج ذیل ورثاء کے حصے سنت کی رو سے مقرر ہیں۔ چنانچہ درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے:
(1) دادا کا حصہ :
1۔ سیدنا عمرانؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگا۔ ”میرا پوتا مر گیا ہے، مجھے اس کے ترکہ سے کیا ملے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چھٹا حصہ“ وہ چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر کہا کہ تیرے لیے ایک چھٹا حصہ اور ہے۔ پھر اس کی وضاحت کی کہ یہ دوسرا چھٹا حصہ تمہارے لیے بطور خوراک ابو داؤد اور ترمذی میں «لك» عصبہ یعنی بطور عصبہ ہے۔
[ترمذی، ابواب الفرائض، باب فی میراث الجد، ابو داؤد۔ کتاب الفرائض۔ باب ماجاء فی میراث الجد]
(2) دادی اور نانی کا حصہ:
2۔ سیدنا بریدہؓ فرماتے ہیں کہ جب ماں نہ ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جدہ (دادی یا نانی) کا چھٹا حصہ مقرر فرمایا۔
[ابو داؤد۔ کتاب الفرائض۔ باب فی الجدۃ]
(3) اگر ایک بیٹی اور ایک پوتی ہو:
3۔ سیدنا ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ میں بیٹی، پوتی اور بہن کے متعلق وہی فیصلہ کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ بیٹی کو نصف ملے گا، پوتی کو چھٹا حصہ تاکہ دو تہائی پورا ہو جائے (مونث اولاد کا زیادہ سے زیادہ حصہ) باقی بہن کو ملے گا۔
[بخاری، کتاب الفرائض، باب میراث ابنۃ ابن مع ابنۃ]
(4) اگر ایک بیٹی اور ایک بہن ہو :
4۔ اسود بن یزیدؓ کہتے ہیں کہ معاذ بن جبلؓ یمن میں ہمارے پاس معلم اور امیر بن کر آئے۔ ہم نے ان سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے مرتے وقت ایک بیٹی اور ایک بہن چھوڑی انہوں نے بیٹی کو نصف دیا اور بہن کو بھی نصف دیا۔
[بخاری، کتاب الفرائض، باب میراث البنات]
اور ابو داؤد میں یہ الفاظ زیادہ ہیں۔ ”اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقید حیات تھے۔“
[ابو داؤد، كتاب الفرائض۔ باب من كان ليس له ولد وله اخوات]
(5) بھتیجے کا حصہ پھوپھی سے :
5۔ سیدنا عمرؓ (تعجب سے) فرمایا کرتے تھے کہ ”بھتیجا تو پھوپھی کا وارث ہے مگر پھوپھی بھتیجے کی وارث نہیں۔“
[موطا۔ کتاب الفرائض، باب فی میراث العمۃ]
مزید احکام وراثت :۔
1۔ ذوی الفروض یعنی جن کے حصے کتاب و سنت نے مقرر کر دیئے ہیں ان کی تفصیل اوپر گزر چکی۔
وارثوں کی دو اقسام:۔
2۔ عصبات۔ عصبہ میت کے قریب ترین رشتہ دار مرد کو کہتے ہیں اور ذوی الفروض کی ادائیگی کے بعد جو بچے وہ اسے ملتا ہے۔ جیسے سعد بن ربیع کے بھائی کو آپ نے دو بیٹوں کا 3/2 اور بیوی کا 8/1، باقی 24/ 5 حصہ دلایا تھا۔ عصبہ کے متعلق آپ نے فرمایا: 3۔ ”اللہ کے مقرر کردہ حصے حصہ داروں کو ادا کرو۔ پھر جو باقی بچے وہ قریب ترین رشتہ دار مرد کا ہے۔“
[بخاری، کتاب الفرائض، باب میراث الولدمن ابیہ وأمہ۔ مسلم۔ کتاب الفرائض۔ باب الحقوا الفرائض باھلھا]
بسا اوقات ذوی الفروض عصبہ کے ساتھ مل کر عصبہ بن جاتے ہیں مثلاً میت کی اولاد صرف دو بیٹیاں ہیں۔ نہ والدین ہیں نہ بیوی۔ تو بیٹیوں کو 3/2 ملے گا اور باقی کے لیے عصبہ تلاش کرنا پڑے گا لیکن اگر ان بیٹیوں کے ساتھ ایک بیٹا بھی ہو تو بیٹا چونکہ عصبہ ہے لہٰذا وہ بہنوں کو بھی عصبہ بنا دے گا اور تقسیم اس طرح ہو گی، بیٹے کا 2/1 اور دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کا 4/1۔ عصبہ کی تلاش۔ سب سے پہلے عصبہ اولاد سے دیکھا جائے گا۔ پھر اوپر کی طرف سے۔ پھر چچاؤں میں سے پھر ان کے بیٹوں سے۔
مولیٰ کا عصبہ :
4۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ (”آزاد کردہ غلام کے) ورثہ کا (عصبہ کی حیثیت سے) حقدار وہ ہے جس نے اسے آزاد کیا ہو۔“
[بخاری کتاب الفرائض باب میراث السائبة مسلم، کتاب الفرائض۔ باب انما الولاء لمن اعتق]
ذوی الارحام:
اگر ذوی الفروض اور عصبہ بھی موجود نہ ہو اور صرف بھانجے بھانجیاں، دوہتے دوہتیاں، ماموں وغیرہ ہوں۔
6۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کا کوئی وارث نہ ہو اس کا وارث ماموں ہے۔ وہی اس کی طرف سے دیت دے گا اور وہی وارث ہو گا۔“
[ابو داؤد، کتاب الفرائض۔ باب میراث ذوی الارحام]
اب ہم قانون میراث کی چند مزید وضاحتیں پیش کرتے ہیں:
عرب میں رائج وراثت کے تین طریقے:۔
اسلام کا قانون میراث نازل ہونے سے پیشتر عرب میں وراثت کے تین طریقے رائج تھے۔
(1) ایک دوسرے سے عہد۔ یعنی کوئی شخص کسی دوسرے کو کہہ دیتا کہ میری جان تیری جان، میرا خون تیرا خون، میں تیرا وارث تو میرا وارث۔ جب کوئی شخص کسی سے ایسا عہد کر لیتا تو اس کے مقابلہ میں بھائی یا بیٹے کسی کو بھی ورثہ نہیں ملتا تھا۔
(2) اور اقرباء کو وراثت سے محروم کرنے کا دوسرا طریقہ «متبنّيٰ» بنانے کا تھا۔ اگر کسی کی نرینہ اولاد نہ ہوتی تو وہ کوئی متبنیٰ بنا لیتا تھا جو اس کی پوری میراث کا حقدار سمجھا جاتا تھا۔
(3) اور اگر اولاد میں میراث تقسیم ہوتی تو اس کی صورت یہ تھی کہ حصہ صرف ان بیٹوں کو ملتا تھا جو میت کی طرف سے نیزہ لے کر لڑ سکتے تھے۔ اسلام کے قانون میراث نے پہلے دو طریق کو تو کلیۃً منسوخ کر دیا اور تیسرے میں یہ اصلاح کی کہ ورثہ لڑکیوں کو بھی ملے، چھوٹے بچوں کو بھی ملے اور والدین کو بھی۔ جب مہاجرین نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور مہاجرین کی معاش اور آباد کاری کا مسئلہ پیش آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار میں مواخات کا سلسلہ قائم کیا۔ اس وقت تک احکام میراث نازل نہیں ہوئے تھے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان بھائی بھائی مہاجرین و انصار کو ایک دوسرے کا وارث قرار دیا۔ پھر جب مہاجرین کی معاشی حالت قدرے سنبھل گئی تو یہ قانون منسوخ کر دیا گیا اور وراثت کے تفصیلی احکام اس سورۃ میں نازل ہوئے۔
اسلامی قانون وراثت کا مدار تین چیزوں پر ہے:
نسب، نکاح اور ولاء
(1) نسب میں تین پہلوؤں کو اس ترتیب سے ملحوظ رکھا کہ سب سے پہلے اولاد کا جیسا کہ ابتدا ہی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِيْٓ اَوْلَادِكُمْ ۤ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ
دوسرے نمبر پر والدین کے حصوں کا ذکر ہوا اور تیسرے نمبر پر بہن بھائیوں کا ذکر ہے۔
(2) نکاح سے مراد مختلف صورتوں میں میاں اور بیوی کے حصوں کا ذکر ہے۔
(3) اور ولاء سے مراد یہ ہے کہ ایک ایسا آزاد کردہ غلام جس کا کوئی رشتہ دار موجود نہ ہو تو اس کا وارث وہ مالک ہوتا ہے جس نے اسے آزاد کیا تھا اور یہ صورت آج کل مفقود ہے۔ نکاح کی بنا پر بھی حصوں کا ذکر نسبتاً آسان ہے کہ میت اگر عورت ہو اور بے اولاد ہو تو مرد کو اس کی میراث کا آدھا ملے گا اور اگر صاحب اولاد ہو تو خاوند کو چوتھائی حصہ ملے گا۔ اسی طرح اگر میت مرد بے اولاد ہو تو بیوی کو یا اس کی سب بیویوں کو چوتھائی حصہ ملے گا اور اولاد والا ہے تو بیوی کو یا سب بیویوں کو آٹھواں حصہ بحصہ برابر ملے گا۔ اب نسب کے رشتہ داروں کے حصے ذرا قابل فہم ہیں۔ کیونکہ ان کی بہت سی صورتیں ہیں ان میں سے چند مشہور و معروف عام صورتیں درج ذیل ہیں:
1۔ جو مرد یا عورت بوڑھا ہو کر اپنی طبعی موت مرتا ہے تو اس وقت عموماً اس کے والدین دنیا سے رخصت ہو چکے ہوتے ہیں اور اگر بہن بھائی ہوں تو الگ گھروں والے ہوتے ہیں۔ اس صورت میں اولاد ہی وارث ہوتی ہے۔ اب اگر اولاد ایک بیٹا ہی ہے تو زوجین میں سے کسی ایک کا حصہ نکالنے کے بعد باقی سب میراث کا وارث ہو گا اور زیادہ بیٹے ہوں تو سب اس باقی حصہ میں برابر کے حصہ دار ہوں گے اور بہن بھائی اگر ملے جلے ہیں تو لڑکے کے دو حصے اور لڑکی کا ایک حصہ کی نسبت سے ورثہ ملے گا۔ اور اگر لڑکا ایک بھی نہیں ایک لڑکی ہے تو اسے کل کا نصف ملے گا اور اگر دو یا دو سے زیادہ ہیں تو انہیں کل کا 3/2 ملے گا۔
2۔ اس کے بعد عام صورت یہ ہے کہ میت کے ماں باپ دونوں یا ان میں سے کوئی ایک زندہ ہو۔ اگر دونوں زندہ ہیں تو ان میں سے ہر ایک کو کل کا چھٹا حصہ ملے گا۔ اگر باپ زندہ نہیں اور دادا زندہ ہے تو باپ کا حصہ دادا کو مل جائے گا۔ اور ماں زندہ نہیں لیکن نانی زندہ ہے تو ماں کا حصہ نانی کو مل جائے گا اور بقول بعض اگر نانی زندہ نہیں اور دادی زندہ ہے تو ماں کا حصہ دادی کو مل جائے گا۔ اور اگر دونوں زندہ ہیں تو یہی چھٹا حصہ دونوں میں برابر برابر تقسیم ہو گا۔ والدین کا اور زوجین میں سے کسی ایک کا حصہ نکال لینے کے بعد باقی میراث اولاد میں تقسیم ہو گی بحساب مذکر 2 حصے اور مونث ایک حصہ۔ اس صورت میں کبھی ایک الجھن بھی پیش آ سکتی ہے مثلاً میت عورت ہے جس کے والدین بھی زندہ ہیں شوہر بھی اور دو لڑکیاں بھی۔ لڑکیوں کا 3/2 حصہ اور والدین میں سے ہر ایک کا 6/1 یعنی دونوں کا 3/1 حصہ، اور خاوند کا 4/1۔ بالفاظ دیگر جائیداد کے کل بارہ حصے کرنے چاہئیں۔ جن میں سے 8 تو لڑکیاں لے گئیں 3 خاوند لے گیا اور 2 حصے والدہ کے اور 2 حصے والد کے۔ یہ کل 15 حصے بنتے ہیں (یعنی حاصل جمع ایک سے بڑھ جاتی ہے) ایسی صورت کو فقہی اصطلاح میں عول کہتے ہیں۔ اس صورت میں کل جائیداد کے 12 کے بجائے پندرہ حصے کر کے انہیں مذکورہ بالا حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔ اسی طرح اگر عصبہ نہ مل رہا ہو تو اس کے برعکس صورت بھی پیش آ سکتی ہے۔ مثلاً میت مرد ہے جس کی بیوی فوت ہو چکی ہے۔ ماں زندہ ہے لیکن باپ فوت ہو چکا ہے۔ دادا بھی نہیں اور اولاد صرف ایک لڑکی ہے۔ گویا اس کے وارث صرف ماں اور بیٹی میں اور عصبہ کوئی بھی نہیں مل رہا۔ حصوں کے لحاظ سے جائیداد 6 حصوں میں تقسیم ہو گی جن میں سے 3 حصے تو بیٹی لے گی اور ایک حصہ ماں۔ باقی 2 حصے بچ جائیں گے ایسی صورت کو فقہی اصطلاح میں رد کہتے ہیں۔ اس صورت میں یہ حصے بھی اسی نسبت سے ان دونوں کو مل جائیں گے۔ بالفاظ دیگر یہ میراث ہی 6 کی بجائے 4 حصوں میں تقسیم کر کے 3 حصے بیٹی کو اور ایک ماں کو دے دیا جائے گا۔ (واضح رہے کہ ذوی الفروض کی موجودگی میں بقیہ ترکہ ذوی الارحام کو نہیں ملتا۔ بلکہ پھر انہیں پر تقسیم ہو جاتا ہے۔)
(3) تیسری عام صورت یہ ہے کہ ابھی نئی نئی شادی ہوئی تھی اور ابھی اولاد بھی نہ ہوئی تھی کہ زوجین میں سے کسی ایک کا انتقال ہو گیا اور اس کے والدین زندہ ہیں لیکن اور کوئی بہن بھائی نہیں تو اس صورت میں ماں کو ایک تہائی، میت اگر مرد ہے تو عورت کو ایک چوتھائی اور باقی 12/ 5 باپ کو ملے گا۔ اور اگر میت عورت ہے تو ماں کے 4 حصے، خاوند کے 6 حصے اور باپ کو صرف 2 حصے یا ماں کا نصف ملے گا۔ اور اگر بہن بھائی بھی ہیں تو ماں کو 6/1 حصہ ملے گا۔ یعنی ماں کے دو حصے، بیوی کے تین حصے باقی سات حصے باپ کو ملیں گے۔ اور اگر میت بیوی تھی تو ماں کے 2 خاوند کو اور باپ کو 4 حصے مل جائیں گے۔ یہ چند عام صورتیں بیان کر دی گئیں ورنہ میراث کی اتنی صورتیں بن جاتی ہیں جن کا حصران حواشی میں ممکن نہیں۔ میں نے ان کی تفصیل اپنی کتاب ’تجارت اور لین دین کے احکام‘ کے پندرہویں باب ’احکام وراثت‘ میں درج کر دی ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

وراثت کی مزید تفصیلات ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مرد و تمہاری عورتیں جو چھوڑ کر مریں اگر ان کی اولاد نہ ہو تو اس میں سے آدھوں آدھ حصہ تمہارا ہے اور اگر ان کے بال بچے ہوں تو تمہیں چوتھائی ملے گا، وصیت اور قرض کے بعد۔ ترتیب اس طرح ہے پہلے قرض ادا کیا جائے پھر وصیت پوری کی جائے پھر ورثہ تقسیم ہو، یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر تمام علماء امت کا اجماع ہے، پوتے بھی اس مسئلہ میں حکم میں بیٹوں کی ہی طرح ہیں بلکہ ان کی اولاد در اولاد کا بھی یہی حکم ہے کہ ان کی موجودگی میں خاوند کو چوتھائی ملے گا۔ پھر عورتوں کا حصہ بتایا کہ انہیں یا چوتھائی ملے گا یا آٹھواں حصہ چوتھائی تو اس حالت میں کہ مرنے والے خاوند کی اولاد نہ ہو، اور آٹھواں حصہ اس حالت میں کہ اولاد ہو، اس چوتھائی یا آٹھویں حصے میں مرنے والے کی سب بیویاں شامل ہیں چار ہوں تو ان میں یہ حصہ برابر برابر تقسیم ہو جائے گا تین یا دو ہوں تب بھی اور اگر ایک ہو تو اسی کا یہ حصہ ہے
آیت «مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ» کی تفسیر اس سے پہلی آیت میں گزر چکی ہے۔ «كَلَالَةً» ‏‏‏‏ مشتق ہے «اکلیل» سے، «اکلیل» کہتے ہیں اس تاج وغیرہ کو جو سر کو ہر طرف سے گھیر لے، یہاں مراد ہے کہ اس کے وارث اردگرد حاشیہ کے لوگ ہیں اصل اور فرع یعنی جڑیا شاخ نہیں، صرف سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے «كَلَالَةً» کا معنی پوچھا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں میں اپنی رائے سے جواب دیتا ہوں اگر ٹھیک ہو تو اللہ کی طرف سے ہے اور اگر غلط ہو تو میری اور شیطان کی طرف سے ہے اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بری الذمہ ہیں، «كَلَالَةً» وہ ہے جس کا نہ لڑکا ہو نہ باپ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب خلیفہ ہوئے تو آپ نے بھی اس سے موافقت کی اور فرمایا مجھے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے سے خلاف کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:53/8]‏‏‏‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے آخری زمانہ پانے والا میں ہوں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے بات وہی ہے جو میں نے کہی ٹھیک اور درست یہی ہے کہ «كَلَالَةً» اسے کہتے ہیں جس کا نہ ولد ہو والد۔
سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود، سیدنا ابن عباس، سیدنا زید بن ثابت رضوان اللہ علیہم اجمعین، شعبی، نخعی، حسن، قتادہ، جابر بن زید، حکم رحمتہ اللہ علیہم اجمعین بھی یہی فرماتے ہیں، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:55/8]‏‏‏‏
اہل مدینہ، اہل کوفہ، اہل بصرہ کا بھی یہی قول ہے۔ ساتوں فقہاء چاروں امام اور جمہور سلف و خلف بلکہ تمام یہی فرماتے ہیں، بہت سے بزرگوں نے اس پر اجماع نقل کیا ہے اور ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی آیا ہے، ۱؎ [مستدرک حاکم:336/4:ضعیف]‏‏‏‏
ابن لباب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ «کلالہ» وہ ہے جس کی اولاد نہ ہو لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور ممکن ہے کہ راوی نے مراد سمجھی ہی نہ ہو۔
پھر فرمایا کہ اس کا بھائی یا بہن ہو یعنی ماں زاد، جیسے کہ سعد بن وقاص وغیرہ بعض سلف کی قرأت ہے، سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ وغیرہ سے بھی یہی تفسیر مروی ہے تو ان میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے اگر زیادہ ہوں تو ایک ثلث میں سب شریک ہیں، ماں زاد بھائی باقی وارثوں سے کئی وجہ سے مختلف ہیں، ایک تو یہ کہ یہ باوجود اپنے ورثے کے دلانے والے کے بھی وارث ہوتے ہیں مثلاً ماں، دوسرے یہ کہ ان کے مرد و عورت یعنی بہن بھائی میراث میں برابر ہیں تیسرے یہ کہ یہ اسی وقت وارث ہوتے ہیں جبکہ میت کلالہ ہو پس باپ دادا کی یعنی پوتے کی موجودگی میں یہ وارث نہیں ہوتے، چوتھے یہ کہ انہیں ثلث سے زیادہ نہیں ملتا تو گویہ کتنے ہی ہوں مرد ہوں یا عورت، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ ہے کہ ماں زاد بہن بھائی کا ورثہ آپس میں اس طرح بٹے گا کہ مرد کے لیے دوہرا اور عورت کے لیے اکہرا، زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایسا فیصلہ نہیں کر سکتے تاوقت یہ کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہو، آیت میں اتنا تو صاف ہے کہ اگر اس سے زیادہ ہوں تو ثلث میں شریک ہیں، اس صورت میں علماء کا اختلاف ہے کہ اگر میت کے وارثوں میں خاوند ہو اور ماں ہو یا دادی ہو اور دو ماں زاد بھائی ہوں اور ایک یا ایک سے زیادہ باپ کی طرف سے بھائی ہوں تو جمہور تو کہتے ہیں کہ اس صورت میں خاوند کو آدھا ملے گا اور ماں یا دادی کو چھٹا حصہ ملے گا اور ماں زاد بھائی کو تہائی ملے گا اور اسی میں سگے بھائی بھی شامل ہوں گے قدر مشترک کے طور پر جو ماں زاد بھائی ہے۔
امیرالمؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک ایسی ہی صورت پیش آئی تھی تو آپ نے خاوند کو آدھا دلوایا اور ثلث ماں زاد بھائیوں کو دلوایا تو سگے بھائیوں نے بھی اپنے تئیں پیش کیا آپ نے فرمایا:تم ان کے ساتھ شریک ہو، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح شریک کر دینا مروی ہے، اور دو روایتوں میں سے ایک روایت ایسی ہے سیدنا ابن مسعود اور سیدنا زید بن ثابت اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے، سعید بن مسیب، قاضی شریح، مسروق، طاؤس، محمد بن سیرین، ابراہیم نخعی، عمر بن عبدالعزیز، ثوری اور شریک رحمہ اللہ علیہم کا قول بھی یہی ہے، امام مالک اور امام شافعی اور امام اسحٰق بن راھویہ رحمہ اللہ علیہم بھی اسی طرف گئے ہیں، ہاں سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اس میں شرکت کے قائل نہ تھے بلکہ آپ اولاد «ام» کو اس حالت میں ثلث دلواتے تھے اور ایک ماں باپ کی اولاد کو کچھ نہیں دلاتے تھے اس لیے کہ یہ عصبہ ہیں اور عصبہ اس وقت پاتے ہیں جب ذوی الفرض سے بچ جائے، بلکہ وکیع بن جراح رحمہ اللہ کہتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف مروی ہی نہیں، سیدنا ابی بن کعب، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کا قول بھی یہی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مشہور یہی ہے، شعبی، ابن ابی لیلیٰ، ابوحنیفہ، ابو یوسف، محمد بن حسن، حسن بن زیادہ، زفر بن ہذیل، امام احمد، یحییٰ بن آدم، نعیم بن حماد، ابوثور، داؤد ظاہری رحمہ اللہ علیہم بھی اسی طرف گئے ہیں ابوالحسن بن لبان فرضی رحمہ اللہ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے، ملاحظہ ہو ان کی کتاب الایجاز۔
پھر فرمایا یہ وصیت کے جاری کرنے کے بعد ہے، وصیت ایسی ہو جس میں خلاف عدل نہ ہو کسی کو ضرر اور نقصان نہ پہنچایا گیا ہو، نہ کسی پر جبر و ظلم کیا گیا ہو، کسی وارث کا نہ ورثہ مارا گیا ہو، نہ کم و بیش کیا گیا ہو، اس کے خلاف وصیت کرنے والا اور ایسی خلاف شرع وصیت میں کوشش کرنے والا، اللہ کے حکم اور اس کی شریعت میں اس کے خلاف کرنے والا اور اس سے لڑنے والا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں وصیت میں کسی کو ضرر و نقصان پہنچانا کبیرہ گناہ ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8789:موقوف صحیح]‏‏‏‏ (‏‏‏‏ابن ابی حاتم)
نسائی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول بھی اسی طرح مروی ہے بعض روایتوں میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس فرمان کے بعد آیت کے اس ٹکڑے کی تلاوت کرنا بھی مروی ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ کے قول کی مطابق ٹھیک بات یہی ہے کہ یہ مرفوع حدیث نہیں موقوف قول ہے۔
ائمہ کرام کا اس میں اختلاف ہے کہ وارث کے لیے جو اقرار میت کر جائے آیا وہ صحیح ہے یا نہیں؟ بعض کہتے ہیں صحیح نہیں ہے اس لیے کہ اس میں تہمت لگنے کی گنجائش ہے، حدیث شریف میں بہ سند صحیح آ چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق پہنچا دیا ہے اب وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں ۱؎ [سنن ابوداود:2870،قال الشيخ الألباني::صحیح]‏‏‏‏ مالک، احمد بن حنبل، ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہم کا قول یہی ہے، شافعی رحمہ اللہ کا بھی پہلا قول یہی تھا لیکن آخری قول یہ ہے کہ اقرار کرنا صحیح مانا جائے گا طاؤس، حسن، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہم کا قول بھی یہی ہے، امام بخاری رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند کرتے ہیں اور اپنی کتاب صحیح بخاری شریف میں اسی کو ترجیح دیتے ہیں، ان کی دلیل ایک یہ روایت بھی ہے کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے وصیت کی کہ فزاریہ نے جس چیز پر اپنے دروازے بند کر رکھے ہیں وہ نہ کھولے جائیں،
امام بخاری رحمہ اللہ نے پھر فرمایا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں بہ سبب وارثوں کے ساتھ بدگمانی کے اس کا یہ اقرار جائز نہیں، لیکن میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے بدگمانی سے بچو بدگمانی تو سب سے زیادہ جھوٹ ہے۔‏‏‏‏ ۱؎ [صحیح بخاری:6064]‏‏‏‏
قرآن کریم میں اللہ کا فرمان موجود ہے کہ «إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا» ۱؎ [4-النساء:58]‏‏‏‏ ’ اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ جس کی جو امانت ہو وہ پہنچا دو ‘، اس میں وارث اور غیر وارث کی کوئی تخصیص نہیں، یہ یاد رہے کہ یہ اختلاف اس وقت ہے جب اقرار فی الواقع صحیح ہو اور نفس الامر کے مطابق ہو اور اگر صرف حیلہ سازی ہو اور بعض وارثوں کو زیادہ دینے اور بعض کو کم پہنچانے کے لیے ایک بہانہ بنا لیا ہو تو بالاجماع اسے پورا کرنا حرام ہے اور اس آیت کے صاف الفاظ بھی اس کی حرمت کا فتویٰ دیتے ہیں (‏‏‏‏اقرار فی الواقع صحیح ہونے کی صورت میں اس کا پورا کرنا ضروری ہے جیسا کہ دوسری جماعت کا قول ہے اور جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔ مترجم) پھر فرمایا یہ اللہ عزوجل کے احکام ہیں جو اللہ عظیم و اعلیٰ علم و حلم والا ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَكُمْ یعنی اے شوہرو! ﴿ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ یَكُ٘نْ لَّ٘هُنَّ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَ٘هُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّؔا تَرَؔكْ٘نَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَلَ٘هُنَّ الرُّبُعُ مِمَّؔا تَرَؔكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَؔكُ٘نْ لَّـكُمْ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَ٘لَ٘هُنَّ الثُّ٘مُنُ مِمَّؔا تَرَؔكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ اور جو کچھ تمھاری بیویاں (ترکے میں) چھوڑ جائیں اس میں سے نصف کے تم حق دار ہو بشرطیکہ ان سے اولاد نہ ہو۔ اگر ان کے اولاد ہے تو تمھیں جو کچھ وہ چھوڑ جائیں اس کا چوتھائی ملے گا (یہ تقسیم) مرنے والی کی وصیت کی تعمیل اور اس کے قرضے کی (ادائیگی) کے بعد (عمل میں لائی جائے) اور ان کے لیے جو کچھ تم چھوڑ جاؤ اس کا چوتھائی حصہ ہے بشرطیکہ تمھاری اولاد نہ ہو اور اگر تمھاری اولاد ہو تو ان کے لیے تمھارے ترکے کا آٹھواں حصہ ہوگا (یہ تقسیم) تمھاری وصیت کی تکمیل یا قرضے (کی ادائیگی) کے بعد (عمل میں لائی جائے) اولاد کے مسمیٰ کے زمرے میں جس کے وجود اور عدم وجود کو میاں بیوی کی وراثت میں شرط بنایا گیا ہے، صلبی اولاد یا بیٹے کی اولاد لڑکے یا لڑکیاں خواہ ایک ہو یا متعدد جو اس شوہر یا بیوی سے ہوں یا کسی اور سے، شمار ہوتی ہیں اس میں بیٹیوں کی اولاد شامل نہیں اور اس پر اجماع ہے۔
(کلالہ) کا معنی اور اس کے احکام:
﴿ وَاِنْ كَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ كَلٰ٘لَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّلَهٗۤ اَخٌ٘ اَوْ اُخْتٌ اور اگر کوئی مرد یا عورت ہو (جو ترکہ چھوڑ جائے) اور اس کا نہ باپ ہو نہ بیٹا اور بھائی یا بہن ہو اس سے مراد اخیافی (ماں شریک) بہن بھائی ہیں جیسا کہ بعض قراء ت میں بھی وارد ہے۔ اور فقہاء کا اجماع ہے کہ یہاں بہن بھائی سے مراد اخیافی بہن بھائی ہیں۔ اگر میت کلالہ ہے۔ یعنی میت کا باپ ہے نہ بیٹا، یعنی باپ ہے نہ دادا، بیٹا ہے نہ پوتا، بیٹی ہے نہ پوتی۔۔۔۔ خواہ نیچے تک چلے جائیں۔۔۔۔ ایسی میت کو کلالہ کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس کی تفسیر بیان کی ہے اور اسی مفہوم پر اجماع واقع ہو گیا۔ وَلِلہِ الْحَمْدُ!
﴿ فَ٘لِكُ٘لِّ وَاحِدٍ مِّؔنْهُمَا یعنی بھائی اور بہن دونوں میں سے ہر ایک کے لیے ﴿ السُّدُسُ چھٹا حصہ ہے ﴿ فَاِنْ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ یعنی اگر وہ ایک سے زائد ہوں ﴿ فَهُمْ شُرَؔكَآءُ فِی الثُّلُثِ یعنی ایک تہائی میں سب شریک ہیں اور ایک تہائی سے زیادہ نہیں ملے گا خواہ ان کی تعداد دو سے بڑھ جائے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿ فَهُمْ شُرَؔكَآءُ فِی الثُّلُثِ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ اس میں مرد اور عورتیں سب برابر ہیں کیونکہ لفظ شریک مساوات کا تقاضا کرتا ہے۔ (یعنی اس صورت میں مرد کو عورت سے دگنا حصہ نہیں، بلکہ برابر کا حصہ ملے گا)
لفظ کلالہ دلالت کرتا ہے کہ فروع نیچے تک اور اصول مرد اوپر تک خواہ کتنی ہی دور کیوں نہ جائیں، وہ ماں کی اولاد کو ساقط کر دیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اخیافی بہن بھائیوں کو صرف کلالہ کی صورت میں وارث بنایا ہے اور اگر وہ کلالہ کی صورت میں وارث نہیں بنتے تو وہ کسی اور صورت میں میت کے وارث نہیں بن سکتے۔ اس پر اہل علم کا اتفاق ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ فَهُمْ شُرَؔكَآءُ فِی الثُّلُثِ دلالت کرتا ہے کہ مسئلہ حماریہ کے مطابق حقیقی بھائی ساقط ہو جاتے ہیں۔۔۔۔ یعنی اگر میت کا شوہر، ماں اور حقیقی بھائی بھی ہوں تو شوہر کے لیے نصف ترکہ، ماں کے لیے چھٹا حصہ اور اخیافی بھائیوں کے لیے ایک تہائی حصہ ہے اور حقیقی بھائی ساقط ہو جائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک تہائی ترکہ کو اخیافی بھائیوں کی طرف مضاف کیا ہے اگر اس ترکہ میں حقیقی بھائیوں کو شریک کر لیا جائے تو یہ اس چیز کو جمع کرنا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے تفریق کی ہے۔ نیز اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ اخیافی بھائی اصحاب فروض ہیں اور حقیقی بھائی عصبہ ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میراث کے مقررہ حصے ان کے حق داروں کو دو جو بچ جائے وہ اس مرد کو دے دو جو میت کا سب سے زیادہ قریبی ہے۔(صحیح البخاری، الفرائض، حديث:6732، وصحیح مسلم، الفرائض، حديث:1615) اور اصحاب فروض وہ لوگ ہیں جن کا حصہ اللہ تعالیٰ نے مقرر کر دیا ہے۔
زیر بحث کلالہ کے مسئلہ میں اصحاب فروض کو دینے کے بعد کچھ باقی نہیں بچتا اس لیے حقیقی بھائی ساقط ہو جائیں گے اور یہی صحیح موقف ہے۔ رہی حقیقی بھائیوں اور بہنوں کی وراثت یا باپ کی طرف سے بھائیوں اور بہنوں کی وراثت، تو یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ یَسْتَفْتُوْنَكَ۠١ؕ قُ٘لِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِی الْكَلٰ٘لَةِ (النساء:4؍176) میں مذکور ہے۔ پس ایک حقیقی یا باپ کی طرف سے بہن کے لیے نصف ترکہ ہے۔ اگر دو ہوں تو ان کے لیے دو تہائی ترکہ ہے۔
اگر کلالہ کی ایک حقیقی بہن، ایک یا زائد باپ کی طرف سے بہنیں ہوں تو ترکہ کا نصف حصہ حقیقی بہن کو ملے گا اور دو تہائی میں سے باقی جو کہ چھٹا حصہ بنتا ہے دو تہائی کی تکمیل کے لیے باپ کی طرف سے بہن یا بہنوں کو ملے گا۔ اگر حقیقی بہنیں دو تہائی حصہ لے لیں تو باپ کی طرف سے بہنیں ساقط ہو جائیں گی جیسا کہ بیٹیوں اور پوتیوں کے بارے میں گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ اگر بھائی اور بہنیں وارث ہوں تو ایک بھائی کو دو بہنوں کے مساوی حصہ ملے گا۔
قاتل اور مختلف دین رکھنے والے کے لیے وراثت:
اگر یہ کہا جائے کہ آیا قرآن کریم سے قاتل، غلام، غیر مسلم، جزوی غلام، مخنث، باپ کی طرف سے بھائیوں کی معیت میں دادا، عول، رد، ذوالارحام، بقیہ عصبہ، بیٹیوں کی معیت میں باپ شریک بہنوں یا پوتیوں کی وراثت مستفاد ہوتی ہے یا نہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں اس بارے میں بعض دقیق اشارے اور تنبیہات موجود ہیں، گہرے غور و فکر کے بغیر ان اشارات کو سمجھنا مشکل ہے۔
رہا قاتل اور مخالف دین یعنی غیر مسلم، تو یہ بات معروف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مال کو ورثاء میں ان کے میت سے قرب اور دینی اور دنیاوی فوائد کے اعتبار سے تقسیم کرنے کی جو حکمت بیان کی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ وارث نہیں بن سکتے… اللہ تعالیٰ نے اپنی اس حکمت بالغہ کی طرف ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے ﴿ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْ٘رَبُ لَكُمْ نَفْعًا (النساء: 4؍11) تم نہیں جانتے کہ ان میں سے کون نفع کے اعتبار سے تمھارے زیادہ قریب ہے۔
یہ بات معلوم اور واضح ہے کہ قاتل نے اپنے مورث کو سب سے بڑا نقصان پہنچایا ہے لہٰذا وہ امر جو اس کے لیے وراثت کا موجب ہے، قتل کے ضرر کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ قتل اس نفع کی ضد ہے جس پر وراثت مرتب ہوتی ہے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ قتل سب سے بڑا مانع ہے جو میراث کے حصول سے روکتا ہے اور قطع رحمی کا باعث بنتا ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُ٘هُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْؔ كِتٰبِ اللّٰهِ (الانفال:8؍75) اور رشتہ دار اللہ کے حکم کے مطابق ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔ نیز ایک شرعی قاعدہ مشہور ہے کہ جو کوئی وقت سے پہلے کوئی چیز حاصل کرنے میں جلدی کرتا ہے اسے اس چیز سے محرومی کی سزا دی جاتی ہے۔
مندرجہ بالا توضیح سے واضح ہوتا ہے کہ اگر وارث، مورث کے دین سے مختلف دین رکھتا ہے تو وہ وراثت سے محروم ہے۔ وراثت کا موجب، جو کہ نسب کا اتصال ہے اور وراثت کا مانع جو کہ اختلاف دین ہے اور اختلاف دین ہر لحاظ سے وارث کو مورث سے علیحدہ کر دیتا ہے۔ پس موجب اور مانع میں تعارض ہے۔ مانع زیادہ قوی ہے اور موجب وراثت کو روک دیتا ہے۔ بنا بریں مانع کے ہوتے ہوئے موجب پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ اس اصول کی وضاحت اس امر سے ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے حقوق کو کفار رشتہ داروں کے حقوق پر اولیت دی ہے۔ اس لیے جب مسلمان وفات پا جاتا ہے تو اس کا مال اس شخص کی طرف منتقل ہو گا جو اس کا سب سے زیادہ حق دار ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ﴿ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُ٘هُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْؔ كِتٰبِ اللّٰهِ تو اسی صورت میں صادق آئے گا جب وارث اور مورث کا دین ایک ہو۔
وارث اور مورث کے دین میں تباین اور اختلاف کی صورت میں دینی اخوت مجرد نسبی اخوت پر مقدم ہے۔ علامہ ابن القیم رحمہ اللہ جلاء الافھام میں رقمطراز ہیں اس لفظ کے معنیٰ پر مواریث کی آیت میں غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے درمیان توارث کو عورت کی بجائے زوجہ کے لفظ کے ساتھ معلق کیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں آیا ہے ﴿ وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اس میں اس بات کی تعلیم ہے کہ یہ توارث اس زوجیت کی بنا پر واقع ہوا ہے جو کامل مشابہت اور تناسب کا تقاضا کرتی ہے۔ مومن اور کافر کے مابین کوئی مشابہت اور کوئی تناسب نہیں ہوتا اس لیے ان کے مابین توارث واقع نہیں ہو سکتا قرآن کریم کے مفردات اور مرکبات کے اسرار نہاں اس سے بہت بلند ہیں کہ عقل مندوں کی عقل اس کا احاطہ کر سکے۔۔۔
غلاموں کے لیے وراثت کے احکام:
جہاں تک غلام کا معاملہ ہے تو نہ وہ خودکسی کا وارث بن سکتا ہے اور نہ کوئی اس کا وارث بن سکتا ہے۔۔۔ رہا یہ معاملہ کہ کوئی اس کا وارث نہیں بن سکتا تو یہ بالکل واضح ہے کیونکہ اس کا کوئی مال ہی نہیں جس کا کوئی وارث ٹھہرے، بلکہ اس کے برعکس اس کا تمام مال اس کے آقا کی ملکیت ہے رہی یہ بات کہ وہ وارث بھی نہیں ہو سکتا، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا، اگر اس کے ہاتھ میں کوئی چیز آتی بھی ہے تو وہ اس کے مالک کی ملکیت ہوتی ہے۔ پس وہ میت کے لیے اجنبی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ کے اس قسم کے ارشادات: ﴿ وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ، ﴿ لِلذَّكَرِ مِثْ٘لُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِاور ﴿لِكُ٘لِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ وغیرہ اس کے لیے ہے جو ملکیت کا اثبات کر سکتا ہو اور غلام کے لیے چونکہ ملکیت کا اثبات ممکن نہیں، اس لیے معلوم ہوا کہ وہ میراث کا حق دار نہیں۔
رہا وہ شخص جو جزوی طور پر آزاد اور جزوی طور پر غلام ہو تو اس کے احکام میں بھی تبعیض ہوگی۔ پس اس میں جو آزادی کا حصہ ہے، اس کی وجہ سے اللہ نے وراثت کا جو حق مترتب کیا ہے، اس کا وہ مستحق ہو گا، کیونکہ آزادی کی وجہ سے وہ مالک بننے کے قابل ہے اور اس میں جو غلامی کا حصہ ہے، اس کی وجہ سے وہ اس کے قابل نہیں۔ تب اس صورت میں یہ جزوی طور پر آزاد ہے۔ وراثت میں حصہ لے گا اور خود اس کی میراث بھی اس کے ورثاء میں تقسیم ہوگی اور اپنی آزادی کی مقدار کے مطابق دوسروں کو وراثت سے محجوب کرے گا اور جب غلام، قابل تعریف اور قابل مذمت، ثواب کا حق دار اور عذاب کا حق دار، ان موجبات کی مقدار کے مطابق ہو سکتا ہے جو اسے ان امور کا مستحق بناتی ہیں تو یہ معاملہ بھی اسی طرح ہے۔
مخنث کے لیے وراثت کے احکام:
مخنث کا معاملہ تین امور سے خالی نہیں ہوتا:
مخنث کی ذکوریت واضح ہوتی ہے (یعنی اس میں مرد کی علامتیں پائی جاتی ہیں) یا اس کی انوثیت واضح ہوتی ہے۔ (اس میں عورت کی علامتیں غالب ہوتی ہیں) یا اس کا مذکر ہونا یا مونث ہونا واضح نہیں ہوتا تب اس کو مشکل کہتے ہیں۔
اگر مخنث کا معاملہ واضح ہے تو اس کی وراثت کا مسئلہ بھی واضح ہے۔ چنانچہ اگر اس میں مرد کی علامتیں غالب ہیں تو اس پر اس نص کا اطلاق ہو گا جو مردوں کے بارے میں وارد ہوئی ہے اور اگر اس میں عورت کی علامتیں غالب ہیں تو اس پر عورتوں کے احکام کا اطلاق ہو گا۔ اگر وہ مشکل ہے تو اگر وہ مرد اور عورت ہیں جن کا حصہ وراثت مختلف نہیں۔ (بلکہ یکساں ہے) جیسے اخیافی بہن بھائیوں کا معاملہ ہے تو اس میں معاملہ بالکل واضح ہے۔
اور اگر اس کو مرد مقدر کرتے ہوئے یا عورت مقدر کرتے ہوئے اس کا حصہ وراثت مختلف ہو اور ہمارے پاس اس کے بارے میں تیقن کا کوئی ذریعہ نہ ہو۔ تو ہم اسے وہ حصہ نہ دیں گے جو دونوں صورتوں میں سب سے زیادہ بنتا ہے کیونکہ اس میں ان لوگوں پر ظلم کا احتمال ہے جو اس کی معیت میں وراثت کے حق دار ہیں اور نہ ہم اسے کم ترین حصہ دیں گے کیونکہ اس صورت میں خود اس پر ظلم کا احتمال ہے۔ پس ان کے درمیان اعتدال کی راہ اختیار کرنا واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ اِعْدِلُوْا١۫ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى (المائدہ: 5؍8) عدل کیا کرو یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔
اس قسم کی صورتحال میں ہمارے پاس اس سے زیادہ کوئی عدل کا راستہ نہیں جس کا گزشتہ سطور میں ہم ذکر کر چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا (البقرۃ: 2؍286) اللہ کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی طاقت کے مطابق۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ (التغابن:64؍16) پس جہاں تک ہو سکے اللہ سے ڈرو۔
دادا کے لیے وراثت کے احکام
رہا حقیقی بھائیوں یا باپ شریک (علاتی) بھائیوں کی موجودگی میں میت کے دادا کے لیے وراثت کا مسئلہ کہ آیا مذکورہ بھائی دادا کی معیت میں وراثت میں سے حصہ لیں گے یا نہیں۔۔۔ تو اللہ تعالیٰ کی کتاب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اس فتویٰ کی تائید کرتی ہے کہ دادا بھائیوں کو محجوب کر دے گا، چاہے وہ حقیقی بھائی ہوں یا علاتی (باپ شریک) یا اخیافی (ماں شریک) ہوں۔ جیسے باپ ان سب کو محجوب کر دیتا ہے۔
اس کی توضیح یہ ہے کہ قرآن مجید میں ایک سے زائد مقامات پر دادا کو باپ کہا گیا ہے مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْ٘مَوْتُ١ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِیْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِیْ١ؕ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَاِلٰهَ اٰبـَآىِٕكَ اِبْرٰهٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰؔقَ (البقرۃ:2؍133) جب یعقوب وفات پانے لگے تو انھوں نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟ انھوں نے جواب دیا تیرے معبود اور تیرے آباء ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کا قول نقل فرمایا: ﴿ وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَاِسْحٰؔقَ وَیَعْقُوْبَ (یوسف:12؍38) میں نے اپنے آباء ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کی ملت کی پیروی کی ہے۔
پس اللہ تعالیٰ نے دادا اور باپ کے دادا کو باپ کے نام سے موسوم کیا ہے یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ دادا باپ کے مقام پر ہوتا ہے اور وراثت میں اس کا وہی حصہ ہے جو باپ کا حصہ ہے جس کو باپ محجوب کرتا ہے اس کو دادا بھی محجوب کرے گا(یعنی باپ کی عدم موجودگی میں)
اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ میت کے باپ کی عدم موجودگی میں میت کی میراث میں میت کی اولاد وغیرہ کی معیت میں اس کے بھائیوں، چچاؤں اور چچاؤں کے بیٹوں کے ہوتے ہوئے دادا کا وہی حکم ہے جو باپ کا حکم ہے۔۔۔۔ اس لیے مناسب یہی ہے کہ اخیافی بھائیوں کے علاوہ دوسرے بھائیوں کو محجوب کرنے میں بھی دادا کا وہی حکم ہو جو باپ کا حکم ہے اور جب بیٹے کا بیٹا صلبی بیٹے کی مانند ہے تو دادا باپ کے مقام پر کیوں نہیں ہو سکتا اور جب باپ کا دادا میت کے بھتیجے کی موجودگی میں، اہل علم کے اجماع کے مطابق، بھتیجے کو محجوب کر دے گا۔ تو پھر میت کا دادا میت کے بھائی کو کیوں محجوب نہیں کر سکتا؟ لہٰذا جو دادا کی معیت میں بھائیوں کو وارث قرار دیتا ہے اس کے پاس کوئی نص ہے نہ اشارہ نہ تنبیہ اور نہ قیاس صحیح۔
عول اور اس کے احکام
عول کے مسائل کے احکام قرآن مجید سے مستفاد ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اصحاب مواریث کے لیے حصے مقرر کر دیے ہیں اور ان کی دو حالتیں ہوتی ہیں۔
وہ ایک دوسرے کو محجوب کرتے ہیں یا نہیں کرتے۔ اگر وہ ایک دوسرے کو محجوب کرتے ہیں تو وراثت میں محجوب ساقط ہو جاتا ہے اور وہ کسی چیز کا مستحق نہیں رہتا۔ اگر وہ ایک دوسرے کو محجوب نہیں کرتے تو وہ مندرجہ ذیل دو صورتوں سے خالی نہیں۔ یا تو وہ ترکہ کے تمام حصے کے وارث نہیں بنتے۔ (یعنی ورثاء کو ان کے شرعی حصے دینے کے بعد بھی ترکہ بچ جاتا ہے)
یا وہ ترکہ کے تمام حصوں کے وارث اس طرح بنتے ہیں کہ یہ مقرر کردہ حصے مجموعی طور پر نہ تو ترکہ سے کم ہوتے ہیں اور نہ زیادہ۔ یا مقرر کردہ حصے ترکہ سے بڑھ جاتے ہیں۔
پہلی دو صورتوں میں ہر وارث اپنا پورا حصہ حاصل کرتا ہے مگر آخری صورت میں جب حصے ترکہ سے بڑھ جائیں تویہ بھی دو حالتوں سے خالی نہیں۔ یا تو ہم بعض ورثاء کا وہ حصہ کم کر دیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر کیا ہے اور ان میں سے باقی ورثاء کا حصہ پورا پورا عطا کرتے ہیں۔ یہ ترجیح بلادلیل ہے ان میں سے کوئی ایک نقصان اٹھانے کا کسی دوسرے سے زیادہ مستحق نہیں۔
پس دوسری صورت کا یوں تعین ہوتا ہے کہ ہم امکانی حد تک ہر وارث کو اس کا پورا حصہ ادا کرتے ہیں اور موجود ترکہ کو ان کے درمیان ان کے حصوں کے مطابق تقسیم کر دیتے ہیں جیسے مقروض کے اس مال کو قرض خواہوں کے مابین تقسیم کیا جاتا ہے جو قرض خواہوں کے مطالبے سے کم ہوتا ہے۔ اب اس مال کو عول کے اصول کو استعمال کیے بغیر تقسیم کرنے کا کوئی راستہ نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ علم فرائض (وراثت) میں عول کا مسئلہ بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرما دیا ہے۔
رد اور اس کے احکام
عول کے اس طریقے کے بالکل برعکس رد کا اصول معلوم ہوا، اس لیے کہ جب اصحاب فروض میں ترکہ کو تقسیم کرنے کے بعد ترکہ میں سے کچھ بچ جائے۔ اور اس کا کوئی حق دار نہ ہو اور قریب یا دور میت کا عصبہ بھی نہ ہو۔ اگر یہ بچا ہوا ترکہ کسی ایک کو عطا کر دیں تو یہ بلادلیل ترجیح ہے۔ اور یہ بچا ہوا کسی ایسے شخص کو دے دینا جو میت کا قریبی نہیں ہے تو یہ گناہ، کج روی اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مخالفت ہے ﴿ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُ٘هُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْؔ كِتٰبِ اللّٰهِ (الانفال:8؍75) اور رشتہ دار اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔ پس یہ بات متحقق ہو گئی کہ بچا ہوا ترکہ اصحاب فروض کو ان کے حصے کے مطابق واپس لوٹا دینا چاہیے۔
زوجین کی طرف رد کے احکام
ان فقہاء کے نزدیک جو بچے ہوئے ترکے کو زوجین کی طرف لوٹانے کے قائل نہیں، ان کے مسلک کے مطابق زوجین اپنے مقررہ حصے سے زیادہ لینے کے مستحق نہیں، کیونکہ ان کے درمیان نسبی قرابت نہیں ہوتی۔ مگر صحیح مسلک یہ ہے کہ رد کے ضمن میں زوجین کا حکم بھی وہی ہے جو باقی ورثاء کا ہے۔ مذکورہ بالا دلیل سب کو اسی طرح شامل ہے جس طرح اصول عول میں سب شامل ہیں۔
میراث میں ذوی الارحام کا حکم
اس کے ذریعے سے ذوی الارحام کی وراثت بھی معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے کہ اگر میت کے پیچھے کوئی ایسا شخص نہ بچے جو اصحاب فروض (جن کے حصے اللہ کی طرف سے مقرر ہیں) یا عصبہ (میت کا قریب ترین رشتے دار) میں شمار ہوتا ہو تو میراث کا معاملہ دو امور کے مابین گھومتا ہے۔ ترکہ کا مال بیت المال میں جمع ہو جس سے اجنبی لوگ استفادہ کریں یا ترکہ میت کے ان اقارب کی طرف لوٹ جائے جو ورثاء کے متفق علیہ قریبی ہیں۔ ان دونوں میں سے دوسرا مسلک متعین ہے اور اس کی صحت پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے ﴿ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُ٘هُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْؔ كِتٰبِ اللّٰهِ (الانفال:8؍75)
اس لیے میراث کو اولو الارحام کے علاوہ کسی اور طرف پھیرنا اس شخص کو محروم کرنا ہے جو دوسروں سے زیادہ اس کا مستحق ہے۔ پس ذوی الارحام کو وارث بنانا متعین ہو گیا اور جب ان کو وارث بنانا متعین ہو گیا تو یہ معلوم ہو گیا کہ کتاب اللہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے حصے مقرر نہیں فرمائے۔ نیز یہ کہ ان کے اور میت کے درمیان کچھ واسطے ہیں جن کے سبب سے وہ میت کے رشتہ دار بنے پس ان کو اسی مقام پر رکھا جائے گا جس کے ذریعے سے وہ میت کے قریبی بنتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
میت کا عصبہ کون ہے؟ اور میراث میں اس کا حکم
رہی باقی عصبہ کی وراثت جیسے بیٹے، بھائی، بھتیجے، چچا اور چچاؤں کے بیٹے، تو ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’الحقوا الفرائض باھلھا، فمابقی فلاولیٰ رجل ذکر‘ (صحیح البخاری، الفرائض، باب میراث ابن الابن اذا لم يکن ابن، حديث: 6735 و صحیح مسلم، الفرائض، باب الحقوا الفرائض بأھلھا......، حديث: 1615)وراثت کے مقررہ حصے ان کے حق داروں کو دے دو جو بچ جائے اس مرد کو دے دو جو میت کا سب سے زیادہ قریبی ہے۔
اور فرمایا: ﴿ وَلِكُ٘لٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّؔا تَرَكَ الْوَالِدٰؔنِ وَالْاَقْ٘رَبُوْنَ (النساء: 4؍33) جو مال ماں باپ اور قریبی رشتہ دار چھوڑ کر مر جاتے ہیں ہم نے ہر ایک کے حق دار مقرر کر دیے ہیں۔ جب ہم اصحاب فروض کو ان کے مقررہ حصے عطا کر دیں اور کچھ باقی نہ بچے تو عصبہ کسی چیز کا حق دار نہیں ہوتا اور اگر ترکہ میں سے کچھ باقی بچ جائے تو عصبہ میں سے جو سب سے زیادہ مستحق ہیں وہ اپنی جہات اور درجات کے مطابق حصہ لیں گے۔
عصبہ کی جہات
عصبہ کی پانچ جہات ہیں: بیٹے، باپ، بھائی اور بھتیجے، چچا اور چچاؤں کے بیٹے، پھر ولاء۔ ان میں سے اس کو مقدم رکھا جائے گا جو جہت کے اعتبار سے سب سے قریب ہے۔ اگر تمام ایک ہی جہت میں واقع ہوں تو ان میں وہ زیادہ مستحق ہے جو منزلت کے اعتبار سے زیادہ قریب ہے۔ اگر منزلت کے اعتبار سے سب برابر ہوں تو جو سب سے زیادہ قوی ہے وہ زیادہ مستحق ہے اور وہ حقیقی بھائی ہے۔ اگر ہر پہلو سے برابر ہوں تو سب عصبہ میں شریک ہوں گے، اللہ اعلم۔
رہا باپ شریک بہنوں کا بیٹیوں کی معیت یا بھتیجیوں کی معیت میں عصبہ ہونا اور ان کا ترکہ میں سے اپنے حصوں سے زائد لینا۔۔۔۔ تو قرآن مجید میں ایسی کوئی چیز نہیں جو یہ دلالت کرتی ہو کہ بہنیں بیٹیوں کی وجہ سے ساقط ہو جائیں گی۔ جب صورتحال یہ ہو اور بیٹیوں کے اپنا حصہ لینے کے بعد کچھ بچ جائے تو وہ بہنوں کو دیا جائے گا اور ان کو چھوڑ کر اس عصبہ کی طرف توجہ نہیں کی جائے گی جو ان سے بعید تر ہے۔ مثلاً بھتیجا اور چچا اور وہ لوگ جو ان سے بھی بعید تر ہیں۔ واللہ اعلم۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم قال تعالى: {ولكم} أيها الأزواج {نصف ما ترك أزواجكم إن لم يكن لهن ولد فإن كان لهن ولد فلكم الربع مما تركن من بعد وصية يوصين بها أو دين ولهن الربع مما تركتم إن لم يكن لكم ولد، فإن كان لكم ولد فلهن الثمن مما تركتم من بعد وصية توصون بها أو دين}، ويدخل في مسمى الولد المشروط وجوده أو عدمه ولد الصلب، أو ولد الابن، الذكر والأنثى، الواحد، والمتعدد الذي من الزوج أو من غيره، ويخرج عنه ولد البنات إجماعاً.

ثم قال تعالى: {وإن كان رجل يورث كلالة أو امرأة وله أخ أو أخت}؛ أي: من أم؛ كما هي في بعض القراءات، وأجمع العلماء على أن المراد بالإخوة هنا الإخوة للأم؛ فإذا كان يورث كلالة؛ أي: ليس للميت والد ولا ولد؛ أي: لا أب ولا جد ولا ابن ولا ابن ابن ولا بنت ولا بنت ابن وإن نزلوا، وهذه هي الكلالة كما فسرها بذلك أبو بكر الصديق رضي الله عنه، وقد حصل على ذلك الاتفاق ولله الحمد، {فلكل واحد منهما}؛ أي؛ من الأخ والأخت {السدس، فإن كانوا أكثر من ذلك}؛ أي: من واحد؛ {فهم شركاء في الثلث}؛ أي: لا يزيدون على الثلث ولو زادوا عن اثنين. ودل قوله: {فهم شركاء في الثلث}: أن ذكرهم وأنثاهم سواء؛ لأن لفظ الشريك يقتضي التسوية. ودل لفظ {الكلالة} على أن الفروع وإن نزلوا، والأصول الذكور وإن علوا، يسقطون أولاد الأم؛ لأن الله لم يورثهم إلا في الكلالة؛ فلو لم يكن يورث كلالة؛ لم يرثوا منه شيئاً اتفاقاً. ودل قوله: {فهم شركاء في الثلث}: أن الإخوة الأشقاء يسقطون في المسألة المسماة بالحمارية، وهي زوج وأم وإخوة لأم وإخوة أشقاء: للزوج النصف، وللأم السدس، وللإخوة للأم الثلث، ويسقط الأشقاء لأن الله أضاف الثلث للإخوة من الأم؛ فلو شاركهم الأشقاء؛ لكان جمعاً لما فرق الله حكمه. وأيضاً؛ فإن الإخوة للأم أصحاب فروض والأشقاء عصبات، وقد قال النبي - صلى الله عليه وسلم -: «ألحقوا الفرائض بأهلها؛ فما بقي؛ فلأولى رجل ذكر».

وأهل الفروض هم الذين قدر الله أنصباءهم؛ ففي هذه المسألة لا يبقى بعدهم شيء، فيسقط الأشقاء، وهذا هو الصواب في ذلك. وأما ميراث الإخوة والأخوات الأشقاء أو لأب؛ فمذكور في قوله: {يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة ... } الآية؛ فالأخت الواحدة شقيقة أو لأب لها النصف، والثنتان لهما الثلثان، والشقيقة الواحدة مع الأخت للأب أو الأخوات تأخذ النصف والباقي من الثلثين للأخت أو أخوات الأب وهوالسدس تكملة الثلثين، وإذا استغرقت الشقيقات الثلثين؛ تسقط الأخوات للأب؛ كما تقدم في البنات وبنات الابن، وإن كان الإخوة رجالاً ونساء؛ فللذكر مثل حظ الأنثيين.

فإن قيل: فهل يستفاد حكم ميراث القاتل والرقيق والمخالف في الدين والمُبَعَّضُ والخنثى والجد مع الإخوة لغير أُمٍّ والعَوْل والردِّ وذوي الأرحام وبقية العَصَبة والأخوات لغير أم مع البنات أو بنات الابن من القرآن أم لا؟ قيل: نعم فيه تنبيهات وإشارات دقيقة يَعْسُرُ فهمُها على غير المتأمل تدلُّ على جميع المذكورات:

فأما القاتل والمخالف في الدين؛ فيُعْرَفُ أنهما غير وارثين من بيان الحكمة الإلهية في توزيع المال على الورثة بحسَبِ قربهم ونفعهم الديني والدنيوي، وقد أشار تعالى إلى هذه الحكمة بقوله: {لا تدرونَ أيُّهم أقربُ لكم نفعاً}، وقد عُلِمَ أن القاتلَ قد سعى لموروثه بأعظم الضَّرر، فلا ينتهضُ ما فيه من موجب الإرث أن يقاوم ضرر القتل الذي هو ضد النفع الذي رُتِّبَ عليه الإرثُ، فُعِلمَ من ذلك أن القتل أكبر مانع يمنع الميراث ويقطع الرحم الذي قال الله فيه: {وأولو الأرحام بعضُهم أولى ببعضٍ في كتاب الله}، مع أنه قد استقرَّتِ القاعدة الشرعية: أن من استعجل شيئاً قبل أوانه؛ عوقب بحرمانه.

وبهذا ونحوه يُعْرَفُ أن المخالف لدين الموروث لا إرثَ له، وذلك أنه قد تعارض الموجبُ الذي هو اتصال النسب الموجب للإرث والمانعُ الذي هو المخالفة في الدين الموجبةُ للمباينة من كلِّ وجه، فقوي المانع، ومنع موجِبَ الإرث الذي هو النسب، فلم يعمل الموجِبُ لقيام المانع. يوضِّحُ ذلك أن الله تعالى قد جعل حقوق المسلمين أولى من حقوق الأقارب الكفار الدنيوية؛ فإذا مات المسلم؛ انتقلَ مالُهُ إلى من هو أولى وأحق به، فيكون قوله تعالى: {وأولو الأرحام بعضُهم أولى ببعض في كتاب الله}: إذا اتَّفقت أديانُهم، وأما مع تبايُنِهِم؛ فالأخوَّةُ الدينيةُ مقدَّمة على الأخوَّة النسبيَّة المجرَّدة.

قال ابن القيم في «جلاء الأفهام»: «وتأمَّل هذا المعنى في آية المواريث وتعليقه سبحانه التوارثَ فيها بلفظِ الزوجة دون المرأةِ؛ كما في قوله تعالى: {وَلكم نصفُ ما تَرَكَ أزواجكم}: إيذانٌ بأن هذا التوارثَ إنَّما وقع بالزوجيةِ المقتضيةِ للتشاكل والتناسب، والمؤمِنُ والكافر لا تشاكلَ بينهما ولا تناسبَ، فلا يقع بينهما التوارثُ، وأسرار مفردات القرآن ومركباته فوق عقول العالمين». انتهى.

وأما الرقيق؛ فإنه لا يَرِثُ ولا يورث: أما كونه لا يورث؛ فواضحٌ؛ لأنه ليس له مال يورث عنه، بل كل ما معه فهو لسيده. وأما كونه لا يرث؛ فلأنه لا يملك؛ فإنه لو ملك لكان لسيده، وهو أجنبيٌّ من الميت، فيكون مثل قوله تعالى: {للذكر مثل حظ الأنثيين} {ولكم نصف ما ترك أزواجكم} {فلكل واحد منهما السدس} .... ونحوها لمن يتأتَّى منه التملُّك، وأما الرقيق؛ فلا يتأتَّى منه ذلك، فعُلِمَ أنه لا ميراث له.

وأما من بعضُهُ حرٌّ وبعضُهُ رقيقٌ؛ فإنَّه تتبعَّض أحكامُه؛ فما فيه من الحرية يستحقُّ بها ما رتبه الله في المواريث؛ لكون ما فيه من الحرية قابلاً للتملُّك وما فيه من الرقِّ؛ فليس بقابل لذلك؛ فإذاً يكون المبَعَّض يرث ويورِّث ويحجب بقدر ما فيه من الحرية، وإذا كان العبد يكون محموداً ومذموماً مثاباً ومعاقباً بقدر ما فيه من موجبات ذلك؛ فهذا كذلك.

وأمَّا الخنثى؛ فلا يخلو إما أن يكون واضحاً ذكوريَّته أو أنوثيَّته أو مشكلاً؛ فإن كان واضحاً؛ فالأمر فيه واضحٌ: إن كان ذكراً؛ فله حكم الذكور، ويشمله النص الوارد فيهم، وإن كانت أنثى؛ فلها حكم الإناث، ويشملها النص الوارد فيهن. وإن كان مشكلاً؛ فإن كان الذكر والأنثى لا يختلف إرثهما ـ كالإخوة للأم ـ؛ فالأمر فيه واضح، وإن كان يختلف إرثه بتقدير ذكوريَّته وبتقدير أنوثيَّته، ولم يبق لنا طريق إلى العلم بذلك؛ لم نعطه أكثر التقديرين لاحتمال ظلم من معه من الورثة، ولم نعطه الأقل لاحتمال ظلمنا له، فوجب التوسُّط بين الأمرين وسلوك أعدل الطريقين، قال تعالى: {اعْدِلوا هو أقربُ للتقوى}؛ فليس لنا طريق إلى العدل في مثل هذا أكثر من هذا الطريق المذكور، ولا يكلفُ الله نفساً إلا وسعها؛ فاتقوا الله ما استطعتم.

وأما ميراث الجد مع الإخوة الأشقاء أو لأب، وهل يرثون معه أم لا؟ فقد دلَّ كتاب الله على قول أبي بكر الصديق رضي الله عنه ، وأن الجد يحجب الإخوة أشقاء أو لأب أو لأم كما يحجبهم الأبُ، وبيان ذلك أن الجد أبٌ في غير موضع من القرآن؛ كقوله تعالى: {إذ حَضَرَ يعقوبَ الموتُ إذ قال لبنيه ما تعبدون من بعدي قالوا نعبد إلهك وإله آبائك إبراهيم وإسماعيل وإسحق ... } الآية، وقال يوسف عليه السلام: {واتبعتُ ملة آبائي إبراهيم وإسحق ويعقوب}، فسمى الله الجدَّ وجدَّ الأب أباً، فدل ذلك على أن الجد بمنزلة الأب، يرث ما يرثه الأب، ويحجب من يحجبه، وإذا كان العلماء قد أجمعوا على أن الجدَّ حكمُهُ حكم الأب عند عدمه في ميراثه مع الأولاد وغيرهم من بين الإخوة والأعمام وبنيهم وسائر أحكام المواريث؛ فينبغي أيضاً أن يكون حكمُهُ حكمَهُ في حجب الإخوة لغير أم، وإذا كان ابن الأب بمنزلة ابن الصلب؛ فلم لا يكون الجد بمنزلة الأب؟ وإذا كان جد الأب مع ابن الأخ قد اتفق العلماء على أنه يحجبه؛ فلم لا يحجب جد الميت أخاه؟ فليس مع من يورِّث الإخوة مع الجدِّ نصٌّ ولا إشارة ولا تنبيه ولا قياس صحيح.

وأمَّا مسائل العَوْل؛ فإنه يُستفاد حكمها من القرآن، وذلك أن الله تعالى قد فرض وقدر لأهل المواريث أنصباء، وهم بين حالتين: إما أن يحجب بعضهم بعضاً، أو لا؛ فإن حجب بعضهم بعضاً؛ فالمحجوب ساقط لا يزاحم ولا يستحق شيئاً، وإن لم يحجب بعضهم بعضاً؛ فلا يخلو: إما أن لا تستغرق الفروض التركة، أو تستغرقها من غير زيادة ولا نقص، أو تزيد الفروض على التركة؛ ففي الحالتين الأوليين كلٌّ يأخذ فرضَه كاملاً، وفي الحالة الأخيرة، وهي ما إذا زادت الفروض على التركة؛ فلا يخلو من حالين:

إما أن ننقص بعض الورثة عن فرضه الذي فرضه الله له ونكمل للباقين منهم فروضهم، وهذا ترجيحٌ بغير مرجح، وليس نقصان أحدهم بأولى من الآخر، فتعينت الحال الثانية، وهو أننا نعطي كل واحد منهم نصيبه بقدر الإمكان، ونحاصص بينهم؛ كديون الغرماء الزائدة على مال الغريم، ولا طريق موصل إلى ذلك إلا بالعول، فعلم من هذا أن العول في الفرائض قد بينه الله في كتابه.

وبعكس هذه الطريقة بعينها يُعْلَمُ الردُّ؛ فإن أهل الفروض إذا لم تستغرق فروضُهم التركة، وبقي شيءٌ ليس له مستحقٌّ من عاصبٍ قريب ولا بعيد؛ فإن ردَّه على أحدهم ترجيح بغير مرجِّح، وإعطاءه غيرهم ممن ليس بقريب للميت جَنَفٌ وميل ومعارضة لقوله: {وأولو الأرحام بعضهم أولى ببعض في كتاب الله}، فتعيَّن أن يُرَدَّ على أهل الفروض بقدر فروضهم، ولما كان الزوجان ليسا من القرابة؛ لم يستحق الزيادة على فرضهم المقدَّر [عند القائلين بعدم الرد عليهم، وأما على القول الصحيح أن حكم الزوجين حكم باقي الورثة في الرد؛ فالدليل المذكور شامل للجميع كما شملهم دليل العول].

وبهذا يُعْلَمُ أيضاً ميراث ذوي الأرحام؛ فإنَّ الميت إذا لم يخلِّف صاحب فرض ولا عاصباً، وبقي الأمر دائراً بين كون ماله يكون لبيت المال لمنافع الأجانب وبين كون ماله يرجع إلى أقربائه المُدْلين بالورثة المجمع عليهم؛ تعين الثاني، ويدل على ذلك قوله تعالى: {وأولو الأرحام بعضُهم أولى ببعضٍ في كتاب الله}، فصرفه لغيرهم تركٌ لمن هو أولى من غيره، فتعيَّن توريثُ ذوي الأرحام، وإذا تعيَّن توريثُهم؛ فقد علم أنه ليس لهم نصيب مقدر بأعيانهم في كتاب الله، وأن بينهم وبين الميت وسائط صاروا بسببها من الأقارب، فينزَّلُون منزلة من أدْلَوا به من تلك الوسائط. والله أعلم.

وأمّا ميراث بقية العَصَبَة؛ كالبنوة والأخوة وبنيهم والأعمام وبنيهم ... إلخ؛ فإن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: «ألحقوا الفرائض بأهلها، فما بقي؛ فلأولى رجل ذكر» ، وقال تعالى: {ولكلٍّ جعلنا موالي مما ترك الوالدان والأقربون}؛ فإذا ألحقنا الفروض بأهلها ولم يبق شيءٌ؛ لم يستحق العاصب شيئاً، وإن بقي شيءٌ؛ أخذه أولي العَصَبة بحسب جهاتهم ودرجاتهم؛ فإنَّ جهات العصوبة خَمْسٌ: البنوة، ثمَّ الأبوة، ثمَّ الأخوة وبنوهم، ثمَّ العمومة وبنوهم، ثمَّ الولاء، ويقدم منهم الأقرب جهة؛ فإن كانوا في جهة واحدة؛ فالأقرب منزلة؛ فإن كانوا بمنزلة واحدة؛ فالأقوى، وهو الشقيق؛ فإن تساووا من كل وجه؛ اشتركوا؛ والله أعلم.

وأمَّا كون الأخوات لغير أم مع البنات أو بنات الابن عصبات يأخذن ما فضل عن فروضهنَّ؛ فلأنه ليس في القرآن ما يدل على أن الأخوات يَسْقُطْن بالبنات؛ فإذا كان الأمر كذلك، وبقي شيء بعد أخذ البنات فرضهنَّ؛ فإنه يُعطى للأخوات ولا يُعْدَلُ عنهنَّ إلى عَصَبَةٍ أبعد منهن كابن الأخ والعم ومن هو أبعد منهم. والله أعلم.