یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے وہ اسے جنتوں میں داخل کرے گا، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
En
(یہ تمام احکام) خدا کی حدیں ہیں۔ اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر کی فرمانبرداری کرے گا خدا اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔اور یہ بڑی کامیابی ہے
یہ حدیں اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول اللہ ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ کی فرمانبرداری کرے گا اسے اللہ تعالیٰ جنتوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے
En
(آیت 14،13) {تِلْكَحُدُوْدُاللّٰهِ …:} اللہ تعالیٰ نے وراثت کو حدود اللہ قرار دیا اور اس حکم کی اطاعت پر جنت اور فوز عظیم کا وعدہ فرمایا ہے اور نافرمانی اور حدود اللہ کی پامالی کی صورت میں ہمیشہ کی آگ اور عذاب مہین کی سزا سنائی ہے۔ افسوس کہ بڑے بڑے بظاہر متقی لوگ بھی بہنوں کو ان کا حصہ نہیں دیتے، اکثر لوگ کوشش کرتے ہیں کہ جائداد بیٹوں کو دے دیں اور بیٹیوں کو محروم کر دیں۔ اسی طرح اگر کوئی وارث کمزور ہو تو اسے بھی وراثت سے حصہ نہیں دیتے، ان سب کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے اور اس کے رسوا کن عذاب اور ہمیشہ کی آگ سے ڈرنا چاہیے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
13۔ یہ اللہ کی حدود ہیں۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے ایسے باغات میں داخل کرے گا، جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
نافرمانوں کا حشر ٭٭
اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرے اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے آگے نکل جائے اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا جس میں ہمیشہ رہے گا ایسوں کے لیے اہانت کرنے والا عذاب ہے، یعنی یہ فرائض اور یہ مقدار جسے اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے اور میت کے وارثوں کو ان کی قرابت کی نزدیکی اور ان کی حاجت کے مطابق جتنا جسے دلوایا ہے یہ سب اللہ ذوالکرم کی حدود ہیں تم ان حدوں کو نہ توڑو نہ اس سے آگے بڑھو۔ جو شخص اللہ عزوجل کے ان احکام کو مان لے، کوئی حیلہ حوالہ کر کے کسی وارث کو کم بیش دلوانے کی کوشش نہ کرے حکم الہٰ اور فریضہ الہٰ جوں کا توں بجا لائے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اسے ہمیشہ چلنے والی نہروں کی جنت میں داخل کرے گا، یہ کامیاب نصیب ور اور مقصد کو پہنچنے والا اور مراد کو پانے والا ہو گا، اور جو اللہ کے کسی حکم کو بدل دے کسی وارث کے ورثے کو کم و بیش کر دے رضائے الٰہی کو پیش نظر نہ رکھے بلکہ اس کے حکم کو رد کر دے اور اس کے خلاف عمل کرے وہ اللہ کی تقسیم کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا اور اس کے حکم کو عدل نہیں سمجھتا تو ایسا شخص ہمیشہ رہنے والی رسوائی اور اہانت والے درد ناک اور ہیبت ناک عذابوں میں مبتلا رہے گا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایک شخص ستر سال تک نیکی کے عمل کرتا رہتا ہے پھر وصیت کے وقت ظلم و ستم کرتا ہے اس کا خاتمہ برے عمل پر ہوتا ہے اور وہ جہنمی بن جاتا ہے اور ایک شخص برائی کا عمل ستر سال تک کرتا رہتا ہے پھر اپنی وصیت میں عدل کرتا ہے اور خاتمہ اس کا بہتر ہو جاتا ہے تو جنت میں داخل جاتا ہے، پھر اس حدیث کے راوی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس آیت کو پڑھو «تِلْكَحُدُودُاللَّـهِوَمَنْيُطِعِاللَّـهَوَرَسُولَهُيُدْخِلْهُجَنَّاتٍتَجْرِيمِنْتَحْتِهَاالْأَنْهَارُخَالِدِينَفِيهَاوَذَٰلِكَالْفَوْزُالْعَظِيمُ» * «وَمَنْيَعْصِاللَّـهَوَرَسُولَهُوَيَتَعَدَّحُدُودَهُيُدْخِلْهُنَارًاخَالِدًافِيهَاوَلَهُعَذَابٌمُهِينٌ»۱؎[4-النساء:13-14] [مسند احمد:2/278:ضعیف]۔ سنن ابی داؤد کے باب «الاضرار فی الوصیتہ» میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایک مرد یا عورت اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ساٹھ سال تک لگے رہتے ہیں پھر موت کے وقت وصیت میں کوئی کمی بیشی کر جاتے ہیں تو ان کے لیے جہنم واجب ہو جاتی ہے پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے «مِنْبَعْدِوَصِيَّةٍيُوصَىٰبِهَاأَوْدَيْنٍ»۱؎[4-النساء:12] سے آخر آیت تک پڑھی، ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے، ۱؎[سنن ابوداود:2867،قال الشيخ الألباني:ضیعف] امام ترمذی اسے غریب کہتے ہیں، مسند احمد میں یہ حدیث تمام و کمال کے ساتھ موجود ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ تفاصیل جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے میراث کے ضمن میں کیا ہے، اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں جن پر رکنا، ان سے تجاوز نہ کرنا اور ان میں کوتاہی سے بچنا فرض ہے اور اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ وارث کے لیے وصیت منسوخ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام ورثاء کے حصے مقرر کر دیے ہیں اور اس کے بعد فرمایا: ﴿تِلْكَحُدُوْدُاللّٰهِ ﴾”یہ اللہ کی حدیں ہیں“ بنابریں وارث کے لیے اس کے حق سے زیادہ وصیت کرنا اس تعدی میں داخل ہے۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’لَاوَصِیَّۃَلِوَارِثٍ‘ (جامع الترمذی، الوصایا، باب ماجاء لا وصیۃ لوارث، حديث:2120، 2121)”کسی وارث کے حق میں وصیت کرنا جائز نہیں۔“
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے عمومی طور پر اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کا اور نافرمانی سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ تاکہ اس عمومی اطاعت کے حکم میں فرائض (وراثت) کی حدود کا التزام اور اس سے تجاوز نہ کرنا بھی شامل ہو جائے۔ فرمایا: ﴿ وَمَنْیُّ٘طِعِاللّٰهَوَرَسُوْلَهٗ ﴾”اور جو اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے“ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم کو بجا لاکر، جس میں سب سے بڑی چیز توحید میں ان کی اطاعت کرنا ہے، پھر اوامر میں ان کے درجات کے مطابق اطاعت کرنا اور ان کی منع کردہ چیزوں سے اجتناب کرنا ہے، جن میں سب سے بڑا ممنوع اللہ کے ساتھ شرک ہے، پھر دوسری معاصی ہیں، ان کی درجہ بندی کے ساتھ۔ ﴿ یُدْخِلْهُجَنّٰتٍتَجْرِیْمِنْتَحْتِهَاالْاَنْ٘هٰرُخٰؔلِدِیْنَفِیْهَا ﴾”اسے اللہ باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے“ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتا ہے اور منہیات سے بچتا ہے وہ ضرور جنت میں داخل ہو گا اور اسے جہنم سے نجات ملے گی۔ ﴿وَذٰلِكَالْفَوْزُالْعَظِیْمُ﴾”یہی وہ بڑی کامیابی ہے“ جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے نجات کے حصول کی ضمانت ہے اور اسی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رضا، اس کے ثواب اور اس کی دائمی نعمتوں سے بہرہ ور ہوا جا سکتا ہے جن کا کوئی وصف بیان نہیں کر سکتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: تلك التفاصيل التي ذكرها في المواريث حدود الله التي يجب الوقوف معها، وعدم مجاوزتها ولا القصور عنها، وفي ذلك دليل على أن الوصية للوارث منسوخة بتقديره تعالى أنصباء الوارثين. ثم قوله تعالى: {تلك حدود الله فلا تعتدوها}؛ فالوصية للوارث بزيادة على حقه يدخل في هذا التعدي مع قوله - صلى الله عليه وسلم -: «لا وصيةَ لوارث». ثم ذكر طاعة الله ورسوله ومعصيتهما عموماً؛ ليدخل في العموم لزوم حدوده في الفرائض أو ترك ذلك، فقال: {ومن يطع الله ورسوله}: بامتثال أمرهما الذي أعظمه طاعتهما في التوحيد ثم الأوامر على اختلاف درجاتها، واجتناب نهيهما الذي أعظمه الشرك بالله ثم المعاصي على اختلاف طبقاتها. {يُدْخِلْهُ جناتٍ تجري من تحتها الأنهار خالدين فيها}: فمن أدَّى الأوامر واجتنب النواهي؛ فلا بد له من دخول الجنة والنجاة من النار. {وذلك الفوز العظيم}: الذي حصل به النجاة من سخطه وعذابه والفوز بثوابه ورضوانه بالنعيم المقيم الذي لا يصفه الواصفون.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔