تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ:} مطلب یہ ہے کہ جب اولاد میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں موجود ہوں تو لڑکے کو لڑکی سے دگنا ملے گا۔ اسے دو حصے دینے کی وجہ یہ ہے کہ مرد پر عورت کی نسبت معاشی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ (مہر ہی کو لے لیجیے کہ مرد دیتا ہے، عورت لیتی ہے، اسی طرح عورت کا نان و نفقہ بھی خاوند کے ذمے ہوتا ہے) اس بنا پر مرد کے لیے عورت سے دگنا حصہ دینا عین قرین انصاف ہے۔ (قرطبی، ابن کثیر)
➌ {فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ …:} دو سے زیادہ ہی کا نہیں دو عورتوں کا بھی یہی حکم ہے، جیسا کہ اس آیت کے پہلے فائدے میں سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی دو بیٹیوں کو دو تہائی دینے کا ذکر ہوا ہے، پھر اس سورت کی آخری آیت میں جب دو بہنوں کو دو تہائی حصہ دیا گیا ہے تو دو بیٹیوں کو بدرجۂ اولیٰ دیا جانا چاہیے۔ کیونکہ بیٹی بہن کے مقابلہ میں آدمی کے زیادہ قریب ہے، لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ دو لڑکیوں کا دو تہائی حصہ قرآن و حدیث دونوں سے ثابت ہے۔ (ابن کثیر)
➍ اس حکم سے چند صورتیں مستثنیٰ ہیں:(1) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَا نُوْرَثَ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ] [بخاری، فرض الخمس، باب فرض الخمس: ۳۰۹۳] ”ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔“ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث تقسیم نہیں ہوئی۔ دیکھیے سورۂ مریم آیت (۶) کی تفسیر۔ (2) جان بوجھ کر قتل کرنے والا اپنے مقتول کا وارث نہیں ہو گا۔ یہ حکم سنت سے ثابت ہے اور اس پر اجماع ہے۔ [ابن ماجہ، الفرائض، باب میراث القاتل: ۲۷۳۵، و قال الألبانی صحیح] (3) اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوتا اور نہ مسلمان کافر کا وارث ہوتا ہے۔“ [بخاری، الفرائض، باب لا یرث المسلم الکافر…: ۶۷۶۴] لہٰذا کافر مسلمان کی وراثت سے محروم ہو گا بیٹا ہو یا بیٹی، باپ ہو یا ماں، بھائی ہو یا بہن، خاوند ہو یا بیوی، یا کوئی اور رشتہ دار، اسی طرح مسلمان کافر کی وراثت سے محروم ہو گا، اسی طرح وہ وارث جو غلام لونڈی ہو وہ آزاد کا وارث نہیں ہو گا اور آزاد غلام کا وارث نہیں ہو گا۔(4) اسی طرح وہ وارث جو غلام لونڈی ہو وہ آزاد کا وارث نہیں ہو گا اور آزاد غلام کا وارث نہیں ہو گا۔
➎ {وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ:} اس سے بھی معلوم ہوا کہ جب ایک بیٹی کا نصف ہے تو دو یا دو سے زیادہ بیٹیوں کا دو تہائی ہونا چاہیے۔
➏ {وَ لِاَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ …:} یعنی میت کی اولاد ہونے کی صورت میں ماں باپ دونوں میں سے ہر ایک کو کل ترکے کا چھٹا حصہ ملے گا، مثلا میت کی ایک بیٹی اور ماں باپ ہیں تو ترکہ کے چھ مساوی حصے کر لیے جائیں۔ بیٹی کو تین حصے (نصف) ماں کو ایک حصہ (سدس) باپ کو ایک حصہ (سدس) مقررشدہ اور ایک حصہ (سدس) عصبہ ہونے کی وجہ سے ملے گا اور اگر میت کی دو یا زیادہ بیٹیاں ہیں تو ترکہ کے چھ حصوں میں سے چار حصے (دو ثلث) بیٹیوں کے اور ایک ایک حصہ (سدس) ماں باپ کا ہو گا اور اگر ماں باپ کے ساتھ لڑکے لڑکیاں دونوں ہیں تو ماں باپ میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ دینے کے بعد جو باقی بچے اس میں سے لڑکے کے دو حصے اور لڑکی کا ایک حصہ ہو گا۔
➐ {فَاِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ …:} یہ ماں باپ کی دوسری حالت ہے، یعنی اگر میت کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کے ماں باپ زندہ ہوں تو ماں کو ایک تہائی ملے گا اور بقیہ دو تہائی حصہ باپ کو مل جائے گا اور اگر ماں باپ کے ساتھ میت کے مرد ہونے کی صورت میں بیوی اور عورت ہونے کی صورت میں اس کا شوہر بھی زندہ ہو تو شوہر یا بیوی کا حصہ، جس کا ذکر آگے آ رہا ہے، پہلے نکالنے کے بعد باقی ماندہ سے ماں کو ایک تہائی اور باپ کو دو تہائی ملے گا۔ والدین کی مذکورہ دونوں صورتیں قرآن مجید ہی سے واضح ہو رہی ہیں، کیونکہ پہلی صورت میں ساتھ یہ ہے {”وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ“} یعنی اس کے وارث صرف ماں باپ ہوں، بیوی یا خاوند موجود ہونے کی صورت دوسری ہے۔ اس میں والدہ کو باقی کا ثلث اس لیے دیا جائے گا کہ عورت (ماں) کا حصہ، مرد (باپ) کے نصف سے زیادہ نہ ہو جائے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہی قول فقہائے سبعہ، ائمہ اربعہ اور جمہور اہل علم کا ہے۔
➑ {فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ …:} یہ ماں باپ کی تیسری حالت کا بیان ہے، یعنی اگر میت کی کوئی اولاد نہ ہو، ماں باپ کے علاوہ بھائی بھی ہوں (خواہ ماں باپ دونوں سے یا صرف ماں سے یا صرف باپ سے) تو باپ کی موجودگی میں انھیں حصہ تو نہیں ملے گا، البتہ وہ ماں کا حصہ تہائی سے چھٹا کر دیں گے اور اگر ماں کے ساتھ سوائے باپ کے کوئی دوسرا وارث نہ ہو تو بقیہ سارا ۶؍۵ حصہ باپ کو مل جائے گا۔ یاد رہے کہ {” اِخْوَةٌ “} کا لفظ جمع ہے اور یہ جمہور علماء کے نزدیک دو کو بھی شامل ہے، لہٰذا اگر صرف ایک بھائی ہو تو وہ ماں کا تہائی سے چھٹا حصہ نہیں کر سکتا۔(ابن کثیر)
➒ {مِنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ …:} میت کے مال میں سے اول کفن دفن پر صرف کیا جائے، پھر باقی ماندہ سے حسب مراتب قرض ادا کیا جائے، سب سے زیادہ ادا کیے جانے کا حق دار اللہ تعالیٰ کا قرض ہے، مثلاً اگر زکاۃ یا حج اس کے ذمے ہے تو وہ ادا کیا جائے، پھر دوسرے قرض اد اکیے جائیں، پھر مال کے تہائی حصے سے وصیت پوری کی جائے، اس کے بعد وارثوں کے درمیان باقی ترکے کے حصے کیے جائیں۔ (قرطبی) قرآن میں گو قرض کا ذکر وصیت کے بعد ہے، مگر سلف و خلف کا اس پر اجماع ہے کہ ادائے قرض وصیت پر مقدم ہے، لہٰذا پہلے قرض ادا کیا جائے، پھر وصیت کا نفاذ ہونا چاہیے۔ غور سے دیکھیں تو آیت کے معنی و مفہوم سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ آیت میں وصیت کو قرض سے پہلے ذکر کرنے کی اہل علم نے کئی حکمتیں بیان فرمائی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ عام طور پر وصیت پر عمل میں کوتاہی کی جاتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تاکید کے لیے اسے پہلے ذکر فرمایا۔
➓ {اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا:} یعنی اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے علیم و حکیم ہے، اس نے خود میراث کا یہ قانون اس لیے مقرر فرمایا کہ تم اپنے نفع و نقصان کو نہیں سمجھتے، اگر تم اپنے اجتہاد سے ورثہ تقسیم کرتے توحصوں کا ضبط میں لانا مشکل تھا۔ (قرطبی، ابن کثیر) شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ” یعنی ان حصوں میں عقل کا دخل نہیں، اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں، وہ سب سے دانا ہے۔“ (موضح)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[ترمذی: ابواب الفرائض، باب فی تعلیم الفرائض]
2۔
[دار قطنی، ابن ماجہ، حاشیہ حدیث ترمذی مذکورہ بالا]
4۔
[ترمذی، ابواب الوصایا باب لا وصیہ لوارث]
اسی طرح وصیت کی آخری حد ایک تہائی مال سے زیادہ نہیں ہے۔
5۔ سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ فرماتے ہیں کہ میں مکہ میں بیمار ہوا اور مرنے کے قریب ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کو تشریف لائے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس مال بہت ہے اور ایک بیٹی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں۔ کیا میں اپنا مال (اللہ کی راہ میں) دے دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“ پھر میں نے کہ ”دو تہائی دے دوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“ پھر میں نے کہا ”نصف دے دوں؟“ فرمایا: ”نہیں۔“ پھر میں نے پوچھا: تہائی دے دوں؟ فرمایا: ”تہائی دے سکتے ہو اور یہ بھی بہت ہے۔“ پھر فرمایا: ”اگر تم اپنی اولاد کو مالدار چھوڑ جاؤ تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں محتاج چھوڑ جاؤ اور وہ لوگوں سے مانگتے پھریں۔ بے شک جو مال تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے تمہیں اس کا اجر ملے گا۔ حتیٰ کہ اس نوالہ پر بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں دو گے۔“
[بخاری، کتاب الفرائض، باب میراث البنات۔ نیز مسلم: کتاب الوصیۃ، باب وصیۃ بالثلث]
6۔ سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں۔ ”کاش! لوگ تہائی سے کم کر کے چوتھائی کی وصیت کریں۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تہائی بھی بہت ہے۔“ اور وکیع کی روایت میں کثیر اور کبیر کے الفاظ ہیں۔ [مسلم، كتاب الوصيه]
7۔
[ترمذی، ابواب الفرائض باب فی ابطال میراث القاتل]
8۔
میراث کی تقسیم سے متعلقہ احکام نازل ہونے سے پہلے مسلمانوں پر وصیت فرض کی گئی تھی کہ وہ اپنی موت سے پہلے اپنے والدین اور دوسرے اقرباء کے متعلق وصیت کر جائیں کہ انہیں میت کی جائیداد سے کتنا کتنا حصہ دیا جائے۔ پھر میت کی وصیت میں اگر کوئی شخص گڑ بڑ کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کا بار گناہ انہی لوگوں پر ہو گا جو اس کی وصیت میں تبدیلی کریں گے۔ ہاں اگر کسی قریبی کو یہ خطرہ لاحق ہو جائے کہ وصیت کرنے والے نے جانبداری سے کام لیا ہے یا حصوں کی تقسیم کے متعلق انصاف کے ساتھ وصیت نہیں کی۔ اور ایسے غلط وصیت کردہ حصوں میں اصلاح کر دے (یعنی تبدیلی کرنے والے کی نیت بخیر ہو اور خود غرضی پر منحصر نہ ہو) تو اسے ایسی تبدیلی کرنے پر کچھ گناہ نہ ہو گا (سورہ بقرہ کی آیات نمبر 180 تا 182 کا ترجمہ) پھر جب اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں خود ہی والدین اور اقرباء کے حصے مقرر فرما دیئے (جسے علم الفرائض یا علم میراث کی اصطلاح میں ذوی الفروض یا ذوی الفرائض کہتے ہیں) تو ان آیات میراث کی رو سے وصیت کی فرضیت ختم ہو گئی۔ بالفاظ دیگر وصیت کی فرضیت کا حکم منسوخ ہو گیا۔ اور اب وصیت کی حیثیت فرض کے بجائے محض اختیاری رہ گئی۔ یعنی اگر کوئی شخص وصیت کرنا چاہے تو کر سکتا ہے اور اگر نہ کرے یا کر ہی نہ سکے تو بھی کوئی حرج نہیں۔ البتہ اس وصیت پر سنت نبویہ کی رو سے دو پابندیاں لگا دی گئیں۔ ایک یہ کہ کوئی شخص اپنے تہائی مال سے زیادہ کی وصیت نہیں کر سکتا اور دوسرے یہ کہ وصیت ذوی الفروض کے حق میں نہیں کی جا سکتی جیسا کہ مندرجہ بالا احادیث میں ان دونوں باتوں کی وضاحت آ گئی ہے۔ اور ان دونوں پابندیوں کی غرض و غایت یہ ہے کہ اس طرح اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں میں گڑبڑ اور بے انصافی ہو جاتی ہے۔ گویا آپ کو پہلی شکایت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تہائی مال کی پابندی کیوں لگائی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات تو قرآن سے ثابت ہے کہ وراثت کے اصل حقدار والدین اور اقربین ہیں اور ان کے حصے اللہ نے خود مقرر کر دیئے جو غیر متبدل ہیں۔ پھر کوئی شخص سارے مال کی وصیت کیسے کر سکتا ہے؟ سوچنے کی بات ہے کہ وصیت میں اصلاح کا حق اگر کسی دوسرے شخص کو دیا جا سکتا ہے جیسا کہ سورۃ بقرہ کی مذکورہ بالا آیت 182 سے ثابت ہے تو آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں نہیں دیا جا سکتا۔ وارثوں کے حق میں وصیت کی نفی بھی قرآن سے ثابت ہے کیونکہ یہ دوسرے حقداروں کے حق پر اثرانداز ہوتی ہے اور یہی وہ جانبداری یا نا انصافی کی بات ہے جس کا ذکر سورۃ بقرہ کی مندرجہ بالا آیات میں آیا ہے۔ پھر فرماتے ہیں کہ: ”آپ اس کا خیال بھی کر سکتے ہیں کہ قرآن کریم وصیت کو فرض قرار دے اور بلا مشروط یعنی پورے مال میں وصیت کا حق دے اور رسول اللہ یہ فرمائیں کہ نہیں وصیت ایک تہائی مال میں ہو سکتی ہے اور وہ بھی غیر وارثین کے لیے۔ خدا کے حکم میں ایسا رد و بدل یقیناً رسول اللہ کی شان کے خلاف ہے جن کا ایک ایک سانس قرآن کی اتباع میں گزرا (قرآنی فیصلے 111) اب دیکھئے پرویز صاحب کو کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کا خیال آتا ہے اور کبھی مسلمانوں کی روایت پرستی کا۔ مگر انہیں یہ خیال کبھی بھولے سے بھی نہیں آتا کہ کہیں میری قرآنی بصیرت ہی کسی ٹیڑھے راستے پر تو نہیں چل نکلی؟ اور اس قرآنی بصیرت کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ نے وصیت اور ترکہ کے الگ الگ احکام کو یوں گڈ مڈ کر دیا کہ دونوں کا جنازہ نکال دیا۔ اور ان کا اپنا موقف یہ ہے کہ ”میت کو اپنی جائیداد و اموال کی تقسیم میں پورا پورا اختیار ہے کہ وہ اپنے مصالح و مقتضیات کے مطابق جسے جی چاہے اور جتنا جی چاہے دے۔ ہاں اگر پھر بھی وصیت اور قرضہ کی ادائیگی کے بعد کچھ بچ جائے تو وہ تقسیم ہو گا اور اگر نہیں بچتا تو نہ سہی“ [ايضاً ص 109] لہٰذا اب ہم ایک دوسرے انداز سے قرآن ہی سے یہ ثابت کریں گے کہ پرویز صاحب کا یہ موقف قرآن کے صریحاً خلاف ہے۔ نیز یہ کہ محولہ بالا دونوں احادیث قرآن کے عین مطابق ہیں آپ کے موقف کا پہلا حصہ یہ ہے کہ ”میت جسے چاہے دے دے۔“ اس ”جسے چاہے“ میں سے والدین اور اقربین کو بہرحال خارج کرنا پڑے گا۔ یعنی جسے چاہے کا اطلاق غیر وارثوں پر ہی ہو سکتا ہے۔ اس لیے کہ والدین اور اقربین کے حصے تو اللہ نے خود مقرر کر دیئے ہیں۔ لہٰذا وارثوں کے حق میں وصیت کی ضرورت ختم ہو گئی۔ اور اگر کوئی شخص وارثوں کے مقررہ حصوں کے بعد کسی وارث کے حق میں وصیت کرے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ اللہ کے مقررہ کردہ حصوں سے مطمئن نہیں، نہ ہی اسے اللہ کے علم و حکمت پر کچھ اعتماد ہے۔ ایسا شخص اگر کسی وارث کے حق میں وصیت کر کے اللہ کے مقرر کردہ حق میں اضافہ کرتا ہے تو اس کا لامحالہ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دوسرے وارثوں کے حصوں میں اسی نسبت سے کمی واقع ہو گی اور اگر کسی کے حصہ میں کمی کرتا ہے یا اس کا حصہ ختم کرتا ہے تو ایسی وصیت باطل قرار پائے گی۔ کیونکہ ایسی وصیت سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 181 کی رو سے ﴿جَنَفًا اَوْ اِثْمًا﴾ کے ضمن میں آتی ہے جس کی اصلاح کر دینا ازروئے قرآن نہایت ضروری ہے۔ علاوہ ازیں جو شخص وارثوں کے حق میں کچھ وصیت کرتا ہے تو یہ وصیت خواہ کمی کی ہو یا بیشی کی یا تو آبائی جانب یعنی والدین کے متعلق ہو گی یا ابنائی جانب یعنی اولاد کے متعلق ہو گی اور ان دونوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ لَا تَدْرُوْنَ اَيّهُُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ۭ فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ ۭاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا﴾ [4: 11]
تم نہیں جانتے کہ فائدہ کے لحاظ سے تمہارے باپ داداؤں اور بیٹوں پوتوں میں سے کون تم سے نفع کے لحاظ سے زیادہ قریب ہے۔ یہ حصے اللہ کے مقرر کردہ ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ اگر کوئی شخص وارثوں کے حق میں اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے علی الرغم وصیت کرتا ہے تو وہ صرف اس آیت کی خلاف ورزی ہی نہیں کرتا بلکہ اللہ کے علم و حکمت کو بھی چیلنج بھی کرتا ہے۔ اور
﴿لَا تَدْرُوْنَ اَيّهُُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا﴾
کو بھی۔ ان قرآنی دلائل سے واضح طور پر یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ وارثوں کے حق میں وصیت کرنا قرآن کے منشا کے خلاف ہے نیز پرویز صاحب کا یہ نظریہ کہ ’جتنا چاہے دے دے‘ کے زمرہ سے وارثوں کو بہرحال خارج کرنا ہی پڑے گا۔ اب پرویز صاحب کے موقف کے دوسرے حصہ ’جتنا چاہے دے دے‘ کی طرف آئیے۔ سورۃ بقرہ کی آیت 180 کی رو سے والدین اور اقربین کے لیے وصیت فرض قرار دی گئی اور سورۃ نساء کی آیت نمبر 11 کی رو سے اللہ تعالیٰ نے خود ہی والدین اور اقربوں کا حصہ مقرر فرما دیا۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ تقسیم ورثہ کے وقت والدین اور اقربون کو کسی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ان دونوں کے نتائج کو ملانے سے نتیجہ یہ نکلا کہ کوئی شخص اپنا سارا مال غیر وارثین کے لیے وصیت نہیں کر سکتا۔ وہ 'جتنا جی چاہے ' مال نہیں دے سکتا۔ بلکہ مال کا کچھ حصہ ہی وصیت کے ذریعہ دے سکتا ہے اور وہ بھی صرف غیر وارثوں کو دے سکتا ہے وارثوں کو نہیں۔ اب رہی یہ بات کہ میت اپنے مال کا ”کچھ حصہ“ جو وصیت کر سکتا ہے وہ کیا ہونا چاہیے تو قرآن کے دونوں مقامات کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ متروکہ مال کے اصل حقدار والدین اور اقربوں ہی ہیں۔ لہٰذا مال کا زیادہ تر حصہ انہیں ہی ملنا چاہیے اور کم تر حصہ ایسا ہونا چاہیے جو میت اپنے اختیار سے کسی غیر وارث کو بذریعہ وصیت دے سکتا ہے۔ اب 'اس کم تر حصہ' کی تحدید فی الواقع قرآن میں مذکور نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ یہ کم تر حصہ زیادہ سے زیادہ ایک تہائی مال تک ہے اس سے زیادہ حصہ کی وصیت کی جائے گی تو یہ ﴿جَنَفًا اَوْ اِثْمًا﴾ کے ضمن میں آئے گی جس میں رد و بدل اور ترمیم کی جا سکتی ہے اور اس اصلاح کا حق اللہ تعالیٰ نے ہر مصلح کو دیا ہے۔ اور پرویز صاحب یہ حق میت کی موجودگی میں جماعت کو اور میت کی موت کے بعد اسلامی عدالت کو دیتے ہیں (قرآنی فیصلے ص 110) اور یہ بات تو شاید طلوع اسلام بھی تسلیم کرے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے سب سے بڑے مصلح، ہمدرد اور خیر خواہ بھی تھے اور اسلامی عدالت بھی۔ پھر اگر آپ کی یہ تحدید با اعتماد ذرائع سے درست ثابت ہو جائے اور یہ تحدید قرآن کے خلاف بھی نہ ہو بلکہ اس قاعدہ کے مطابق ہو کہ آپ کو قرآن کے مجمل احکام کی تفسیر و تعیین کا حق بھی قرآن ہی نے دیا ہو تو پھر معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی متعین کی ہوئی حد کو تسلیم کرنے میں طلوع اسلام کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ اور وہ اس بات کا واویلا کرنے میں کیسے حق بجانب سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ احادیث قرض کے صریحاً خلاف ہیں۔ واضح رہے کہ مسلمانوں کی اکثریت، جو سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حجت تسلیم کرتی ہے، کے عقیدہ کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تحدید وحی خفی کے ذریعہ فرمائی تھی جو ﴿بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ﴾ میں شامل ہوتی ہے۔
1۔ عمرو بن حارث کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی دینار (بطور ترکہ) چھوڑا اور نہ درہم۔ نہ کوئی غلام اور نہ لونڈی۔ صرف ایک سفید خچر چھوڑا جس پر آپ سواری کرتے تھے یا کچھ جنگی ہتھیار تھے اور جو زمین تھی وہ آپ مسافروں کے لیے صدقہ کر گئے تھے۔
[بخاری، کتاب الفرائض، باب قول النبی لا نورث ماترکنا صدقۃ]
2۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کی زرہ (ابو الشحم) یہودی کے پاس تیس صاع جو کے عوض گروی رکھی ہوئی تھی۔
[بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب ما قیل فی درع النبی]
3۔ سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو کی روٹی اور کچھ باسی چربی لے گیا اس وقت آپ کی یہ حالت تھی کہ آپ نے اپنی زرہ مدینہ کے ایک یہودی کے پاس گروی رکھی ہوئی تھی اور اس سے اپنی بیویوں کے لیے جو لیے تھے۔ اور میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے کہ محمد کے گھر والوں کے پاس کبھی شام کو ایک صاع گیہوں یا غلہ جمع نہیں رہا۔ حالانکہ اس وقت آپ کے پاس نو بیویاں تھیں۔
[بخاری، کتاب البیوع، باب شری النبی النسیئۃ]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت کے تین مدعی ان احادیث سے معلوم ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی ترکہ کچھ بھی نہ تھا۔ باقی اموال فے ہی رہ جاتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ اختیار دیا تھا کہ آپ اپنی صوابدید کے مطابق ان اموال کو جیسے چاہیں اور جہاں چاہیں صرف کریں۔ ان اموال میں ایک تو فدک کا باغ تھا، دوسرے کچھ خیبر کی زمین اور کچھ زمین مدینہ کی بھی تھی۔ جس کا کوئی مالک نہ تھا اور وہ سرکاری تحویل میں تھی۔ ان اموال میں سے ایک تو آپ اپنی بیویوں کا سالانہ خرچہ رکھ لیتے تھے۔ وہ بھی بڑی کفایت شعاری کے ساتھ۔ کچھ اپنے نادار اقربا میں تقسیم کرتے تھے۔ کچھ جہاد کے اخراجات اور رفاہ عامہ کے کاموں میں خرچ فرماتے۔ گویا یہ بیت المال کی ملکیت ہوتی تھی۔ یہی وہ اموال تھے جن کے متعلق ورثاء نے سیدنا ابو بکرؓ اور پھر سیدنا عمرؓ کے ہاں دعویٰ کیا تھا اور مدعی تین فریق تھے۔ ایک سیدہ فاطمہ جن کا آیت میراث کی رو سے 2/1 حصہ بنتا تھا۔ دوسرے آپ کی بیویاں، جن کا 8/1 حصہ بنتا تھا اور تیسرے آپ کے چچا سیدنا عباسؓ جن کا بطور عصبہ باقی یعنی 8/3 حصہ بنتا تھا۔ اب ان سے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے:
1۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ کی وفات کے بعد سیدہ فاطمہؓ نے سیدنا ابو بکر صدیقؓ سے اس ترکے سے حصہ مانگا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو بطور فے عطا فرمائے تھے۔ ابو بکر صدیقؓ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ جو کچھ ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔“ اس بات پر سیدہ فاطمہؓ ناراض ہو کر چلی گئیں۔ پھر سیدہ فاطمہؓ نے اپنی وفات تک ابو بکرؓ سے ملاقات نہ کی اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں۔ آپ باغ فدک، خیبر اور مدینہ کی زمینوں سے اپنا حصہ مانگتی تھیں تو سیدنا ابو بکرؓ نے یہ جواب دیا کہ میں کوئی بات چھوڑنے والا نہیں جو آپ کیا کرتے تھے۔ ان اموال کی تقسیم جیسے آپ کیا کرتے تھے۔ میں ویسے ہی کرتا رہوں گا اور میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ آپ کی کوئی بات چھوڑ کر گمراہ نہ ہو جاؤں۔
[بخاری، کتاب الجہاد، باب فرض الخمس]
2۔ اور ایک دوسری حدیث کے مطابق جو سیدہ عائشہؓ ہی سے مروی ہے۔ سیدہ فاطمہ اور سیدنا عباسؓ دونوں نے سیدنا ابو بکرؓ سے اموال فے کے ترکہ میں حصہ کا مطالبہ کیا اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ الگ الگ مواقع ہوں۔ اور سیدنا ابو بکرؓ نے ان دونوں کو وہی جواب دیا جو مندرجہ بالا حدیث میں مذکور ہے۔ [بخاري، كتاب المغازي۔ باب حديث بني نضير و مخرج رسول الله اليهم]
3۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے سیدنا عثمانؓ کو سیدنا ابو بکر صدیقؓ کے پاس بھیجا اور وہ اموال فے میں سے اپنا آٹھواں حصہ مانگتی تھیں۔ میں نے انہیں منع کیا اور کہا ”تمہیں اللہ کا خوف نہیں۔ کیا تم یہ نہیں جانتیں کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔“ چنانچہ آپ کی بیویاں ترکہ مانگنے سے باز آگئیں۔
[بخاری کتاب المغازی۔ باب حدیث بنی نضیر ومخرج رسول اللہ الیھم]
مندرجہ بالا تین احادیث تو دور صدیقی سے متعلق ہیں۔ اور دور فاروقی میں مدعی صرف دو تھے۔ ایک سیدنا علیؓ اپنی زوجہ سیدہ فاطمہؓ کی طرف سے اور دوسرے سیدنا عباسؓ عصبہ کی حیثیت سے۔ ان دونوں نے اموال فے سے ترکہ کا مطالبہ کیا تو سیدنا عمرؓ نے دلائل دینے کے بعد کہا کہ میں یہ اموال صرف اس شرط پر آپ کے حوالہ کر سکتا ہوں کہ تم ان کے متولی بن کر رہو اور اسی طرح تقسیم کرو جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تقسیم فرمایا کرتے تھے۔ یہ بات ان دونوں نے تسلیم نہ کی۔ پھر دوسری بار گئے تو بھی سیدنا عمرؓ نے وہی جواب دیا تو ان دونوں حضرات نے اس مرتبہ تولیت کی شرط قبول کر لی اور سیدنا عمرؓ نے یہ اموال ان کی تحویل میں دے دیئے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر تم نے یہ شرط پوری نہ کی تو میں پھر یہ اموال اپنی تحویل میں لے لوں گا۔ پھر عملاً یہ ہوا کہ سیدنا علیؓ ہی بطور متولی ان اموال پر قابض ہو گئے اور سیدنا عباسؓ کو نزدیک نہ آنے دیا۔ پھر سیدنا علیؓ کے بعد یہ امام حسنؓ کے، پھر ان کے بعد امام حسینؓ کے، پھر ان کے بعد امام زین العابدین علی بن حسین اور پھر حسن بن حسن (حسن مثنیٰ) دونوں کے قبضے میں رہے اور وہ باری باری اس کا انتظام کرتے رہے۔ پھر زید بن حسن بن علی (ان کے بھائی) کے پاس رہے اور ہر شخص کے پاس اسی طریق سے رہا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ ہے (یعنی یہ حضرات متولی بن کر رہے۔ مالک بن کر نہیں رہے) اب ہم ایک طویل حدیث سے اقتباس پیش کرتے ہیں جو ان جملہ امور پر روشنی ڈالتی ہے:
[بخاری، کتاب المغازی، باب حدیث بنی نضیر و مخرج رسول اللہ الیھم]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
آیات قرآنیہ جو مضبوط ہیں اور جن کے احکام باقی ہیں، سنت قائمہ یعنی جو احادیث ثابت شدہ ہیں اور فریضہ عادلہ یعنی مسائل میراث جو ان دو سے ثابت ہیں۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2885،قال الشيخ الألباني::ضعیف]
ابن ماجہ کی دوسری ضعیف سند والی حدیث میں ہے کہ فرائض سیکھو اور دوسروں کو سکھاؤ۔ یہ نصف علم ہے اور یہ بھول جاتے ہیں اور یہی پہلی وہ چیز ہے جو میری امت سے چھن جائے گی ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2719،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ابن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسے آدھا علم اس لیے کہا گیا ہے کہ تمام لوگوں کو عموماً یہ پیش آتے ہیں۔
ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ، مسند امام احمد بن حنبل وغیرہ میں مروی ہے کہ سیدنا سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ دونوں سعد کی لڑکیاں ہیں، ان کے والد آپ کے ساتھ جنگ احد میں شریک تھے اور وہیں شہید ہوئے ان کے چچا نے ان کا کل مال لے لیا ہے ان کے لیے کچھ نہیں چھوڑا اور یہ ظاہر ہے کہ ان کے نکاح بغیر مال کے نہیں ہو سکتے، آپ نے فرمایا: ”اس کا فیصلہ خود اللہ کرے گا“ چنانچہ آیت میراث نازل ہوئی۔ آپ نے ان کے چچا کے پاس آدمی بھیج کر حکم بھیجا کہ دو تہائیاں تو ان دونوں لڑکیوں کو دو اور آٹھواں حصہ ان کی ماں کو دو اور باقی مال تمہارا ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2891،قال الشيخ الألباني:صحیح]
فرماتے ہیں میراث کے احکام اترنے پر بعض لوگوں نے کہا یہ اچھی بات ہے کہ عورت کو چوتھا اور آٹھواں حصہ دلوایا جا رہا ہے اور لڑکی کو آدھوں آدھ دلوایا جا رہا ہے اور ننھے ننھے بچوں کا حصہ مقرر کیا جا رہا ہے حالانکہ ان میں سے کوئی بھی نہ لڑائی میں نکل سکتا ہے، نہ مال غنیمت لا سکتا ہے اچھا تم اس حدیث سے خاموشی برتو شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھول جائے ہمارے کہنے کی وجہ سے آپ ان احکام کو بدل دیں، پھر انہوں نے آپ سے کہا کہ آپ لڑکی کو اس کے باپ کا آدھا مال دلوا رہے ہیں حالانکہ نہ وہ گھوڑے پر بیٹھنے کے لائق، نہ دشمن سے لڑنے کے قابل، آپ بچے کو ورثہ دلا رہے ہیں بھلا وہ کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے؟ یہ لوگ جاہلیت کے زمانہ میں ایسا ہی کرتے تھے کہ میراث صرف اسے دیتے تھے جو لڑنے مرنے کے قابل ہو سب سے بڑے لڑکے کو وارث قرار دیتے تھے (اگر مرنے والے کے لڑکے لڑکیاں دونوں ہو تو فرما دیا کہ لڑکی کو جتنا آئے اس سے دوگنا لڑکے کو دیا جائے یعنی ایک لڑکی ایک لڑکا ہے تو کل مال کے تین حصے کر کے دو حصے لڑکے کو اور ایک حصہ لڑکی کو دے دیا جائے اب بیان فرماتا ہے کہ اگر صرف لڑکیاں ہوں تو انہیں کیا ملے گا؟ مترجم)
دوسری صورت یہ ہے کہ صرف ماں باپ ہی وارث ہوں تو ماں کو تیسرا حصہ مل جائے گا اور باقی کا کل باپ کو بطور عصبہ کے مل جائے گا تو گویا دو ثلث مال اس کے ہاتھ لگے گا یعنی بہ نسبت مال کے دگنا باپ کو مل جائے گا۔
لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بہ سند صحیح مروی ہے کہ یہ چھٹا حصہ جو ماں کا کم ہو گیا انہیں دیدیا جائے گا یہ قول شاذ ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا یہ قول تمام امت کے خلاف ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ «کلالہ» اسے کہتے ہیں جس کا بیٹا اور باپ نہ ہو۔
پھر فرمایا کہ ہم نے باپ بیٹوں کو اصل میراث میں اپنا اپنا مقررہ حصہ لینے والا بنایا اور جاہلیت کی رسم ہٹا دی بلکہ اسلام میں بھی پہلے بھی ایسا ہی حکم تھا کہ مال اولاد کو مل جاتا ماں باپ کو صرف بطور وصیت کے ملتا تھا جیسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پہلے بیان ہو چکا یہ منسوخ کر کے اب یہ حکم ہوا تمہیں یہ نہیں معلوم کہ تمہیں باپ سے زیادہ نفع پہنچے گا یا اولاد نفع دے گی امید دونوں سے نفع کی ہے یقین کسی پر بھی ایک سے زیادہ نہیں، ممکن ہے باپ سے زیادہ بیٹا کام آئے اور نفع پہنچائے اور ممکن ہے بیٹے سے زیادہ باپ سے نفع پہنچے اور وہ کام آئے۔
اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے جو جس کا مستحق ہے اسے اتنا دلواتا ہے ہر چیز کی جگہ کو وہ بخوبی جانتا ہے تمہارے نفع نقصان کا اسے پورا علم ہے اس کا کوئی کام اور کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں تمہیں چاہیئے کہ اس کے احکام، اس کے فرمان مانتے چلے جاؤ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقوله تعالى: {يوصيكم الله في أولادكم}؛ أي: أولادكم يا معشر الوالدين عندكم ودائع قد وصاكم الله عليهم لتقوموا بمصالحهم الدينيَّة والدنيويَّة، فتعلِّمونهم وتؤدِّبونهم وتكفُّونهم عن المفاسد وتأمرونَهم بطاعة الله وملازمة التقوى على الدوام؛ كما قال تعالى: {يا أيُّها الذين آمنوا قوا أنفسكم وأهليكم ناراً وَقودها الناس والحجارةُ}؛ فالأولاد عند والِديهم موصىً بهم؛ فإمَّا أن يقوموا بتلك الوصية؛ فلهم جزيل الثواب، وإمَّا أن يضيِّعوها؛ فيستحقوا بذلك الوعيد والعقاب. وهذا مما يدلُّ على أن الله تعالى أرحم بعباده من الوالِدينِ، حيث أوصى الوالِدينِ مع كمال شفقتهم عليهم.
ثم ذكر كيفية إرثهم، فقال: {للذكر مثل حظ الأنثيين}؛ أي: الأولاد للصلب والأولاد للابن، للذكر مثل حظِّ الأنثيين إن لم يكن معهم صاحبُ فرض، أو ما أبقت الفروض يقتسمونه كذلك، وقد أجمع العلماء على ذلك، وأنه مع وجود أولاد الصلب؛ فالميراث لهم، وليس لأولاد الابن شيء؛ حيث كان أولاد الصلب ذكوراً وإناثاً. هذا مع اجتماع الذكور والإناث. وهنا حالتان: انفراد الذكور. وسيأتي حكمها، وانفراد الإناث. وقد ذكره بقوله: {فإن كنَّ نساءً فوق اثنتين}؛ أي: بنات صلب أو بنات ابن ثلاثاً فأكثر؛ {فلهن ثلثا ما ترك وإن كانت واحدة}؛ أي: بنتاً أو بنت ابن؛ {فلها النصف}. وهذا إجماع.
بقي أن يُقال: من أين يُستفاد أنَّ للابنتين الثِّنْتَيْنِ الثلثين بعد الإجماع على ذلك؟ فالجواب: أنه يستفاد من قوله: {إن كانت واحدةً فلها النصف}؛ فمفهوم ذلك أنه إن زادت على الواحدة؛ انتقل الفرض عن النصف، ولا ثَمَّ بعده إلا الثلثان. وأيضاً؛ فقوله: {للذكر مثل حظ الأنثيين}: إذا خلَّفَ ابناً وبنتاً؛ فإن الابن له الثلثان، وقد أخبر الله أنه مثل حظ الأنثيين، فدلَّ ذلك على أن للبنتين الثلثين. وأيضاً؛ فإن البنت إذا أخذت الثلث مع أخيها وهو أزيد ضرراً عليها من أختها، فأخْذُها له مع أختها من باب أولى وأحرى. وأيضاً؛ فإن قوله تعالى في الأختين: {فإن كانتا اثنتينِ فلهما الثلثانِ مما ترك}: نصٌّ في الأختين الثنتين؛ فإذا كان الأختان الثنتان مع بعدهما يأخذان الثلثين؛ فالابنتان مع قربهما من باب أولى وأحرى. وقد أعطى النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - ابنتي سعد الثلثين؛ كما في «الصحيح».
بقي أن يُقال: فما الفائدة في قوله: {فوق اثنتين}؟ قيل: الفائدة في ذلك والله أعلم: أنه لِيُعْلَمَ أن الفرض الذي هو الثلثان لا يزيد بزيادتهن على الثنتين، بل من الثنتين فصاعداً.
ودلت الآية الكريمة أنه إذا وُجِدَ بنتُ صلبٍ واحدة وبنتُ ابن أو بناتُ ابن؛ فإن لبنت الصلب النصف، ويبقى من الثلثين اللذين فرضهما الله للبنات أو بنات الابن السدس، فيعطى بنت الابن أو بنات الابن، ولهذا يسمى هذا السدس تكملةَ الثلثين. ومثل ذلك بنت الابن مع بنات الابن اللاتي أَنْزَلُ منها. وتدلُّ الآية أنه متى استغرقَ البناتُ أو بناتُ الابن الثلثين: أنه يسقُطُ من دونهنَّ من بنات الابن؛ لأن الله لم يفرض لهن إلا الثلثين، وقد تم؛ فلو لم يسقطن؛ لزم من ذلك أن يفرضَ لهنَّ أزيدُ من الثلثين، وهو خلاف النص. وكل هذه الأحكام مجمع عليها بين العلماء، ولله الحمد.
ودل قوله: {مما ترك}: أن الوارثين يرثون كل ما خلف الميت من عقار وأثاث وذهب وفضة وغير ذلك، حتى الدية التي لم تجب إلا بعد موته، وحتى الديون التي في الذمة.
ثم ذكر ميراث الأبوين، فقال: {ولأبويه}؛ أي: أبوه وأمه، {لكل واحد منهما السدس مما ترك إن كان له ولد}؛ أي: ولد صلب أو ولد ابن ذكراً كان أو أنثى واحداً أو متعدداً: فأما الأم؛ فلا تزيد على السدس مع أحد من الأولاد، وأما الأب؛ فمع الذكور منهم لا يستحق أزيد من السدس؛ فإن كان الولد أنثى أو إناثاً، ولم يبق بعد الفرض شيء؛ كأبوين وابنتين؛ لم يبق له تعصيب، وإن بقي بعد فرض البنت أو البنات شيء؛ أخذ الأب السدس فرضاً والباقي تعصيباً؛ لأننا ألحقنا الفروض بأهلها؛ فما بقي؛ فلأولى رجل ذكر، وهو أولى من الأخ والعم وغيرهما. {فإن لم يكن له ولدٌ وورثه أبواه فلأمه الثلث}؛ أي: والباقي للأب؛ لأنه أضاف المال إلى الأب والأم إضافة واحدة، ثم قدر نصيب الأم، فدل ذلك على أن الباقي للأب، وعُلم من ذلك أن الأب مع عدم الأولاد لا فرضَ له، بل يرث تعصيباً المالَ كلَّه، أو ما أبقت الفروض.
لكن لو وُجِدَ مع الأبوين أحدُ الزوجين ـ ويعبَّر عنهما بالعمريَّتين ـ؛ فإن الزوج أو الزوجة يأخذ فرضه، ثم تأخذ الأم ثلث الباقي والأب الباقي، وقد دل على ذلك قوله: {وورثه أبواه فلأمه الثلث}؛ أي: ثلث ما ورثه الأبوان، وهو في هاتين الصورتين: إما سدس في زوج وأم وأب، وإما ربع في زوجة وأم وأب، فلم تدل الآية على إرث الأم ثلث المال كاملاً مع عدم الأولاد حتى يقالَ: إنَّ هاتين الصورتين قد اسْتُثنِيتا من هذا. ويوضح ذلك أن الذي يأخذه الزوج أو الزوجة بمنزلة ما يأخذه الغرماء، فيكون من رأس المال، والباقي بين الأبوين. ولأنَّا لو أعطينا الأم ثلث المال؛ لزم زيادتها على الأب في مسألة الزوج أو أخذ الأب في مسألة الزوجة زيادة عنها نصف السدس، وهذا لا نظير له؛ فإن المعهود مساواتها للأب أو أخذه ضعف ما تأخذه الأم.
{فإن كان له إخوة فلأمه السدس}: أشقاء أو لأب أو لأم ذكوراً كانوا أو إناثاً وارثين أو محجوبين بالأب أو الجد. لكن قد يُقال: ليس ظاهر قوله: {فإن كان له إخوة}: شاملاً لغير الوارثين، بدليل عدم تناولها للمحجوب بالنصف؛ فعلى هذا لا يحجبها عن الثلث من الإخوة إلا الإخوة الوارثون. ويؤيده أن الحكمة في حجبهم لها عن الثلث لأجل أن يتوفَّر لهم شيء من المال، وهو معدوم. والله أعلم. ولكن بشرط كونهم اثنين فأكثر.
ويشكل على ذلك إتيان لفظ الإخوة بلفظ الجمع. وأجيب عن ذلك بأن المقصود مجرد التعدد لا الجمع، ويصدق ذلك باثنين، وقد يطلق الجمع ويراد به الاثنان؛ كما في قوله تعالى عن داود وسليمان: {وكُنَّا لِحُكْمِهم شاهدين}. وقال في الإخوة للأم: {وإن كان رجل يورَث كَلالةً أو امرأةٌ وله أخ أو أختٌ فلكل واحد منهما السدس فإن كانوا أكثر من ذلك فهم شركاء في الثلث}: فأطلق لفظ الجمع، والمراد به اثنان فأكثر بالإجماع. فعلى هذا؛ لو خلَّف أمًّا وأباً وإخوةً؛ كان للأم السدس والباقي للأب، فحجبوها عن الثلث مع حجب الأب إياهم؛ إلا على الاحتمال الآخر؛ فإن للأم الثلث والباقي للأب.
ثم قال تعالى: {من بعد وصية يوصى بها أو دين}؛ أي: هذه الفروض والأنصباء والمواريث، إنما ترد وتستحق بعد نزع الديون التي على الميت لله أو للآدميين، وبعد الوصايا التي قد أوصى الميت بها بعد موته؛ فالباقي عن ذلك هو التركة الذي يستحقه الورثة. وقدم الوصية مع أنها مؤخرة عن الدين للاهتمام بشأنها لكون إخراجها شاقًّا على الورثة، وإلاَّ؛ فالديون مقدَّمة عليها، وتكون من رأس المال، وأما الوصية؛ فإنها تصح من الثلث فأقل للأجنبي الذي هو غير وارث، وأما غير ذلك؛ فلا ينفذ إلا بإجازة الورثة.
قال تعالى: {آباؤكم وأبناؤكم لا تدرون أيهم أقرب لكم نفعاً}؛ فلو رُدَّ تقدير الإرث إلى عقولكم واختياركم؛ لحصل من الضرر ما الله به عليم؛ لِنَقْصِ العقولِ وعدم معرفتها بما هو اللائق الأحسن في كل زمان ومكان، فلا يدرون أي الأولاد أو الوالدين أنفع لهم وأقرب لحصول مقاصدهم الدينية والدنيوية.
{فريضة من الله إنَّ الله كان عليماً حكيماً}؛ أي: فرضها الله الذي قد أحاط بكل شيء علماً وأحكم ما شرعه وقدَّر ما قدَّره على أحسن تقدير، لا تستطيع العقول أن تقترح مثل أحكامه الصالحة الموافقة لكل زمان ومكان وحال.