تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ:} یعنی آپ کو وحی کے ذریعے سے وہ کچھ سکھایا جو آپ جانتے نہ تھے، بلکہ جس کی آپ امید بھی نہ رکھتے تھے۔ دیکھیے سورۂ عنکبوت (۴۸، ۴۹)، سورۂ قصص (۸۶)، سورۂ شوریٰ (۵۲) اور سورۂ ہود (۴۹) یہ ہے اللہ کا آپ پر فضل عظیم۔ بعض لوگ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عالم الغیب ہونے کی دلیل پکڑتے ہیں، حالانکہ یہی الفاظ اللہ نے ہر انسان کے متعلق ارشاد فرمائے ہیں: «{ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ }» [العلق: ۵] ”اس نے انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔“ پھر ہر انسان کا عالم الغیب ہونا بھی ثابت ہو جائے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[بخاری، کتاب الاحکام، باب موعظۃ الامام للخصوم]
ربط مضمون کے لحاظ سے اس جملہ کا وہی مطلب ہے جو اوپر مذکور ہوا تاہم اس کا حکم عام ہے اور اس کا مطلب ایسے فضائل ہیں جو دوسرے کسی پیغمبر کو بھی نہیں ملے اور وہ فضائل آپ نے خود ان الفاظ میں بتائے ہیں: جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مجھے پانچ چیزیں ایسی ملی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی پیغمبر کو نہیں ملیں۔ ایک یہ کہ ایک ماہ کی مسافت پر دشمن پر میرا رعب طاری رہتا ہے دوسرا یہ کہ ساری زمین میرے لیے مسجد اور پاک بنائی گئی ہے۔ لہٰذا میری امت کا ہر شخص جہاں نماز کا وقت آئے نماز پڑھ لے تیسرے یہ کہ اموال غنائم میرے لیے حلال ہوئے جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے جائز نہیں تھے۔ چوتھے یہ کہ شفاعت کبریٰ (قیامت کے دن) ملی اور پانچویں یہ کہ پہلے ہر نبی کس خاص قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا جبکہ میں تمام لوگوں کے لیے بھیجا گیا ہوں۔
[بخاری۔ کتاب الصلٰوۃ۔ باب قول النبی جعلت لی الارض مسجدا وطھورا]
اور سیدنا ابو ہریرہؓ کی حدیث میں مندرجہ ذیل چھ باتیں مذکور ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے چھ باتوں میں دوسرے پیغمبروں پر فضیلت دی گئی ہے مجھے جو امع الکلم عطا کئے گئے۔ یعنی ایسا کلام جس میں الفاظ کم اور معانی بہت ہوں دوسرے دشمن پر رعب سے میری مدد کی گئی تیسرے مجھ پر غنیمتیں حلال کی گئیں۔ چوتھے میرے لیے ساری زمین پاک کرنے والی اور نماز کی جگہ بنائی گئی۔ پانچویں میں تمام لوگوں (جنوں اور انسانوں) کی طرف بھیجا گیا ہوں اور چھٹے مجھ پر نبوت ختم کی گئی۔
[مسلم کتاب المساجد۔ باب المساجد و مواضع الصلٰوۃ]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کتاب سے مراد قرآن اور حکم سے مراد سنت ہے۔ نزول وحی سے پہلے آپ جو نہ جانتے تھے ان کا علم پروردگار نے آپ کو بذریعہ وحی کر دیا جیسے اور آیت میں ہے «وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا ۚ مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَـٰكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَن نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا ۚ وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ۱؎ [42-الشورى:52] اور آیت میں ہے «وَمَا كُنْتَ تَرْجُوْٓا اَنْ يُّلْقٰٓى اِلَيْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِيْرًا لِّـلْكٰفِرِيْنَ» ۱؎ [28-القصص:86] اسی لیے یہاں بھی فرمایا۔ یہ سب باتیں اللہ کا فضل ہیں جو آپ کے شامل حال ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر منَّته على رسوله بحفظه وعصمتِهِ ممَّن أراد أن يضلَّه، فقال: {ولولا فضلُ الله عليك ورحمتُهُ لهمَّتْ طائفةٌ منهم أن يضلوك}: وذلك أنَّ هذه الآيات الكريمات قد ذكر المفسرون أنَّ سبب نزولها أنَّ أهل بيت سَرَقوا في المدينة، فلما اطُّلع على سرقتهم؛ خافوا الفضيحة، وأخذوا سرقتهم، فرموها ببيت من هو بريء من ذلك، واستعان السارق بقومِهِ أن يأتوا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ويطلُبوا منه أن يبرِّئ صاحِبَهم على رؤوس الناس، وقالوا: إنَّه لم يسرِقْ وإنَّما الذي سرق من وجدت السرقةُ ببيتِهِ وهو البريء، فهمَّ رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أن يبرِّئ صاحبهم، فأنزل الله هذه الآيات تذكيراً وتبييناً لتلك الواقعة وتحذيراً للرسول - صلى الله عليه وسلم - من المخاصمة عن الخائنين؛ فإنَّ المخاصمة عن المبطِل من الضَّلال؛ فإنَّ الضلال نوعان: ضلالٌ في العلم وهو الجهل بالحقِّ، وضلالٌ في العمل وهو العملُ بغير ما يجب؛ فحفظ الله رسوله عن هذا النوع من الضَّلال كما حفظه عن الضلال في الأعمال، وأخبر أن كَيْدَهم ومَكْرَهم يعودُ على أنفسِهم كحالة كلِّ ماكر، فقال: {وما يضلُّون إلا أنفسَهم}؛ لكون ذلك المكر وذلك التحيُّل لم يحصُل لهم فيه مقصودُهم ولم يحصُل لهم إلا الخيبة والحرمان والإثم والخُسران، وهذا نعمةٌ كبيرةٌ على رسوله - صلى الله عليه وسلم -، يتضمَّن النعمةَ بالعمل، وهو التوفيق لفعل ما يجب والعصمة له عن كل محرم، ثم ذكر نعمته عليه بالعلم، فقال: {وأنزل الله عليك الكتابَ والحكمةَ}؛ أي: أنزل عليك هذا القرآن العظيم والذِّكر الحكيم الذي فيه تبيانُ كلِّ شيءٍ وعلم الأولين والآخرين.
والحكمة إمّا السُّنة التي قد قال فيها بعض السلف: إن السُّنةَ تُنزل عليه كما يُنزل القرآن، وإمّا معرفة أسرار الشريعة الزائدة على معرفة أحكامها وتنزيل الأشياء منازلها وترتيب كلِّ شيءٍ بحسبه. {وعلَّمك ما لم تكُن تعلمُ}: وهذا يشمل جميع ما علَّمه الله تعالى؛ فإنه - صلى الله عليه وسلم - كما وصفه الله قبل النبوة بقوله: {ما كنت تدري ما الكتابُ ولا الإيمان}، {ووجدَكَ ضالاًّ فهدى}، ثم لم يزل يُوحي الله إليه ويعلِّمه ويكمِّله حتى ارتقى مقاماً من العلم يتعذَّر وصولُه على الأولين والآخرين، فكان أعلم الخلق على الإطلاق وأجمعهم لصفات الكمال وأكملهم فيها، ولهذا قال: {وكان فضلُ الله عليك عظيماً}؛ ففضلُهُ على الرسول محمد - صلى الله عليه وسلم - أعظم من فضلِهِ على كلِّ الخلق ، وأجناس الفضل الذي قد فضَّله الله به لا يمكن استقصاؤه ولا يتيسَّر إحصاؤه.