ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 113

وَ لَوۡ لَا فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکَ وَ رَحۡمَتُہٗ لَہَمَّتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡہُمۡ اَنۡ یُّضِلُّوۡکَ ؕ وَ مَا یُضِلُّوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَہُمۡ وَ مَا یَضُرُّوۡنَکَ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ وَ اَنۡزَلَ اللّٰہُ عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ عَلَّمَکَ مَا لَمۡ تَکُنۡ تَعۡلَمُ ؕ وَ کَانَ فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکَ عَظِیۡمًا ﴿۱۱۳﴾
اور اگر تجھ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو یقینا ان کے ایک گروہ نے ارادہ کر لیا تھا کہ تجھے غلطی میں ڈال دیں، حالانکہ وہ اپنے سوا کسی کو غلطی میں نہیں ڈال رہے اور تجھے کچھ نقصان نہیں پہنچا رہے اور اللہ نے تجھ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی اور تجھے وہ کچھ سکھایا جو تو نہیں جانتا تھا اور اللہ کا فضل تجھ پر ہمیشہ سے بہت بڑا ہے۔ En
اور اگر تم پر خدا کا فضل اور مہربانی نہ ہوتی تو ان میں سے ایک جماعت تم کو بہکانے کا قصد کر ہی چکی تھی اور یہ اپنے سوا (کسی کو) بہکا نہیں سکتے اور نہ تمہارا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور خدا نے تم پر کتاب اور دانائی نازل فرمائی ہے اور تمہیں وہ باتیں سکھائی ہیں جو تم جانتے نہیں تھے اور تم پر خدا کا بڑا فضل ہے
En
اگر اللہ تعالیٰ کا فضل ورحم تجھ پر نہ ہوتا تو ان کی ایک جماعت نے تو تجھے بہکانے کا قصد کر ہی لیا تھا، مگر دراصل یہ اپنے آپ کو ہی گمراه کرتے ہیں، یہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اللہ تعالیٰ نے تجھ پر کتاب وحکمت اتاری ہے اور تجھے وه سکھایا ہے جسے تو نہیں جانتا تھا اور اللہ تعالیٰ کا تجھ پر بڑا بھاری فضل ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 113) ➊ {وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ …:} اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت آپ پر یہ تھی کہ آپ کو وحی کے ذریعے سے اصل واقعہ کی حقیقت سے آگاہ کر دیا۔ ورنہ وہ طائفہ جو بنو ابیرق کا حامی تھا، آپ کو قائل کر کے انھیں بری کرانے ہی والا تھا، اس کا نتیجہ صرف یہی نہ تھا کہ ایک مجرم بچ جاتا اور ایک بے گناہ مجرم بن جاتا، بلکہ اس کے نتائج بہت دور رس تھے، جس سے مسلمانوں کی ساکھ اور کردار مجروح ہو جاتا۔ فرمایا ایسے لوگ درحقیقت اپنی عاقبت برباد کر کے اپنا ہی نقصان کر رہے تھے، آپ کا محافظ خود اللہ تعالیٰ تھا، آپ کو وہ نہ دھوکا دے سکتے تھے نہ آپ کا کچھ نقصان کر سکتے تھے۔
➋ {وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ:} یعنی آپ کو وحی کے ذریعے سے وہ کچھ سکھایا جو آپ جانتے نہ تھے، بلکہ جس کی آپ امید بھی نہ رکھتے تھے۔ دیکھیے سورۂ عنکبوت (۴۸، ۴۹)، سورۂ قصص (۸۶)، سورۂ شوریٰ (۵۲) اور سورۂ ہود (۴۹) یہ ہے اللہ کا آپ پر فضل عظیم۔ بعض لوگ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عالم الغیب ہونے کی دلیل پکڑتے ہیں، حالانکہ یہی الفاظ اللہ نے ہر انسان کے متعلق ارشاد فرمائے ہیں: «{ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ [العلق: ۵] اس نے انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ پھر ہر انسان کا عالم الغیب ہونا بھی ثابت ہو جائے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

113۔ 1 یہ اللہ تعالیٰ کی اس خاص حفاظت و نگرانی کا ذکر ہے جس کا اہتمام انبیاء (علیہم السلام) کے لئے فرمایا ہے جو انبیاء پر اللہ کے فضل خاص اور اس کی رحمت خاصہ کا مظہر ہے طائفہ (جماعت) سے مراد وہ لوگ ہیں جو بنو ابیرق کی حمایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ان کی صفائی پیش کر رہے تھے جس سے یہ اندیشہ پیدا ہو چلا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کو چوری کے الزام سے بری کردیں گے، جو فی الواقع چور تھا۔ 113۔ 2 یہ دوسرے فضل واحسان کا تذکرہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب وحکمت (سنت) نازل فرما کر اور ضروری باتوں کا حکم دے کر فرمایا گیا جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا (وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا ۭ مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَلَا الْاِيْمَانُ) 42:52 اور اسی طرح بھیجا ہم نے تیری طرف (قرآن لے کر) ایک فرشتہ اپنے حکم سے تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے؟ " (وَمَا كُنْتَ تَرْجُوْٓا اَنْ يُّلْقٰٓى اِلَيْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ) 28:86" اور تجھے یہ توقع نہیں تھی کہ تجھ پر کتاب اتاری جائے گی، مکر تیرے رب کی رحمت سے (یہ کتاب اتاری گئی) ان تمام آیات سے معلوم ہوا کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فضل واحسان فرمایا اور کتاب وحکمت بھی عطا فرمائی ان کے علاوہ دیگر بہت سی باتوں کا آپ کو علم دیا گیا جن سے آپ بیخبر تھے یہ بھی گویا آپ کے عالم الغیب ہونے کی نفی ہے کیونکہ جو خود عالم الغیب ہو اسے تو کسی اور سے علم حاصل کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی اور جسے دوسرے سے معلومات حاصل ہوں وحی کے ذریعے سے یا کسی اور طریقے سے وہ عالم الغیب نہیں ہوتا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

113۔ اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت آپ کے شامل حال نہ ہوتی تو (انصار کے) ایک گروہ نے تو ارادہ کر ہی [151] لیا تھا کہ آپ کو بہکا دیں۔ حالانکہ وہ آپ نے آپ ہی کو بہکا رہے ہیں اور وہ آپ کا کچھ بگاڑ بھی نہیں سکتے کیونکہ اللہ نے آپ پر کتاب و حکمت نازل کی ہے اور آپ کو وہ کچھ سکھلا دیا جو آپ نہیں جانتے تھے، یہ آپ پر اللہ کا بہت ہی بڑا فضل ہے
[151] آپ پر اللہ نے بہت بڑا فضل کیا تھا:۔
اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت یہ تھی کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اصل صورت حال سے بذریعہ وحی مطلع فرما دیا۔ ورنہ اس کے نتائج صرف یہی نہ تھے کہ مجرم بچ جاتا اور ایک بے قصور مجرم قرار پاتا بلکہ اس کے نتائج بڑے دور رس تھے جو عوام الناس کی نظروں میں مسلمانوں کی ساکھ اور ان کے کردار کو مجروح بنا سکتے تھے، ایسے لوگ جو آپ کو بہکا کر اپنے حق میں فیصلہ کرانا چاہتے تھے اپنی ہی عاقبت خراب کر رہے تھے۔ اس سے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اور اللہ کے ہاں مجرم وہ تھے نہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
مقدمہ میں چالاکی سے دوسرے کا مال ہتھیانا:۔
جو شخص کسی حاکم کو دھوکہ دے کر اپنے حق میں فیصلہ کرا لیتا ہے۔ وہ در اصل خود اپنے آپ کو اس غلط فہمی میں مبتلا کرتا ہے کہ ان تدبیروں سے وہ فی الواقع اس چیز کا حقدار بن گیا۔ حالانکہ اللہ کے نزدیک حق جس کا ہوتا ہے اسی کا رہتا ہے اور فریب خوردہ حاکم کے فیصلہ سے حقیقت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہی ہوں۔ تم لوگ میرے پاس جھگڑے لے کر آتے ہو اور ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی زیادہ چرب زبان ہو اور میں اس کے دلائل سن کر اس کے حق میں فیصلہ دے دوں تو اس طرح اگر میں اس کے بھائی کے حق سے کوئی چیز اس چرب زبان کے حق میں فیصلہ کر کے دے دوں تو یاد رکھو کہ میں اسے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں۔“
[بخاری، کتاب الاحکام، باب موعظۃ الامام للخصوم]
ربط مضمون کے لحاظ سے اس جملہ کا وہی مطلب ہے جو اوپر مذکور ہوا تاہم اس کا حکم عام ہے اور اس کا مطلب ایسے فضائل ہیں جو دوسرے کسی پیغمبر کو بھی نہیں ملے اور وہ فضائل آپ نے خود ان الفاظ میں بتائے ہیں: جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مجھے پانچ چیزیں ایسی ملی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی پیغمبر کو نہیں ملیں۔ ایک یہ کہ ایک ماہ کی مسافت پر دشمن پر میرا رعب طاری رہتا ہے دوسرا یہ کہ ساری زمین میرے لیے مسجد اور پاک بنائی گئی ہے۔ لہٰذا میری امت کا ہر شخص جہاں نماز کا وقت آئے نماز پڑھ لے تیسرے یہ کہ اموال غنائم میرے لیے حلال ہوئے جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے جائز نہیں تھے۔ چوتھے یہ کہ شفاعت کبریٰ (قیامت کے دن) ملی اور پانچویں یہ کہ پہلے ہر نبی کس خاص قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا جبکہ میں تمام لوگوں کے لیے بھیجا گیا ہوں۔
[بخاری۔ کتاب الصلٰوۃ۔ باب قول النبی جعلت لی الارض مسجدا وطھورا]
اور سیدنا ابو ہریرہؓ کی حدیث میں مندرجہ ذیل چھ باتیں مذکور ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے چھ باتوں میں دوسرے پیغمبروں پر فضیلت دی گئی ہے مجھے جو امع الکلم عطا کئے گئے۔ یعنی ایسا کلام جس میں الفاظ کم اور معانی بہت ہوں دوسرے دشمن پر رعب سے میری مدد کی گئی تیسرے مجھ پر غنیمتیں حلال کی گئیں۔ چوتھے میرے لیے ساری زمین پاک کرنے والی اور نماز کی جگہ بنائی گئی۔ پانچویں میں تمام لوگوں (جنوں اور انسانوں) کی طرف بھیجا گیا ہوں اور چھٹے مجھ پر نبوت ختم کی گئی۔
[مسلم کتاب المساجد۔ باب المساجد و مواضع الصلٰوۃ]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
اس کے بعد کی «وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ لَهَمَّت طَّائِفَةٌ مِّنْهُمْ أَن يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ» ۱؎ [4-النساء:113]‏‏‏‏ کا تعلق بھی اسی واقعہ سے ہے یعنی سیدنا لبید بن عروہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے بنوابیرق کے چوروں کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے برات اور ان کی پاکدامنی کا اظہار کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اصلیت سے دور رکھنے کا سارا کام پورا کر لیا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی عصمت کا حقیقی نگہبان ہے آپ کو اس خطرناک موقعہ پر خائنوں کی طرف داری سے بچا لیا اور اصلی واقعہ صاف کر دیا۔
کتاب سے مراد قرآن اور حکم سے مراد سنت ہے۔ نزول وحی سے پہلے آپ جو نہ جانتے تھے ان کا علم پروردگار نے آپ کو بذریعہ وحی کر دیا جیسے اور آیت میں ہے «وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا ۚ مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَـٰكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَن نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا ۚ وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [42-الشورى:52]‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «وَمَا كُنْتَ تَرْجُوْٓا اَنْ يُّلْقٰٓى اِلَيْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِيْرًا لِّـلْكٰفِرِيْنَ» ۱؎ [28-القصص:86]‏‏‏‏ اسی لیے یہاں بھی فرمایا۔ یہ سب باتیں اللہ کا فضل ہیں جو آپ کے شامل حال ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول پر اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو ان لوگوں کے ارادوں سے محفوظ رکھا جو آپ کو گمراہ کرنا چاہتے تھے۔ ﴿ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ وَرَحْمَتُهٗ لَهَمَّؔتْ طَّآىِٕفَةٌ مِّؔنْهُمْ اَنْ یُّضِلُّوْكَ اگر اللہ کا فضل و رحم آپ پر نہ ہوتا تو ان کی ایک جماعت نے آپ کو بہکانے کا قصد کر ہی لیا تھا ان آیات کریمہ کے بارے میں اصحاب تفسیر ذکر کرتے ہیں کہ ان کا سبب نزول یہ ہے کہ ایک گھرانے نے مدینہ میں چوری کا ارتکاب کیا۔ جب چوری کی اطلاع لوگوں کو ہوئی تو انھوں نے فضیحت اور رسوائی سے ڈرتے ہوئے چوری کا سامان کسی بے گناہ شخص کے گھر پھینک دیا۔ پھر چور نے اپنے قبیلہ کے لوگوں سے مدد طلب کی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر لوگوں کے سامنے اسے بری کروائیں۔ اس کے قبیلہ والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ ان کے آدمی نے چوری نہیں کی۔ چوری تو اس شخص نے کی ہے جس کے گھر سے مسروقہ سامان برآمد ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے آدمی کو بری قرار دینے کا ارادہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے حقیقت حال بیان کرنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیانت کاروں کی حمایت کرنے سے بچانے کے لیے یہ آیات نازل فرمائیں کیونکہ باطل پسندوں کی حمایت کرنا گمراہی ہے۔ گمراہی کی دو اقسام ہیں:
(۱) علم میں گمراہی، یہ حق سے لاعلمی اور جہالت کا نام ہے۔
(۲) عمل میں گمراہی، عمل واجب کے خلاف عمل کرنا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نوع کی گمراہی سے اسی طرح محفوظ رکھا جس طرح اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمل کی گمراہی سے محفوظ و مصون رکھا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ ان کا مکر و فریب انھی کی طرف لوٹے گا جیسا کہ ہر فریبی کے ساتھ ہوتا ہے۔ چنانچہ فرمایا ﴿ وَمَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وہ اپنے آپ کو ہی گمراہ کرتے ہیں کیونکہ اس فریب اور حیلہ سازی سے انھیں اپنا مقصد حاصل نہ ہو سکا اور انھیں سوائے ناکامی، محرومی، گناہ اور خسارے کے کچھ ہاتھ نہ آیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت بڑی نعمت ہے جو نعمت عمل کو متضمن ہے اور یہ اس فعل کی توفیق ہے جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے اور ہر قسم کے محرمات سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی نعمت علم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ اور اللہ نے آپ پر کتاب و حکمت نازل فرمائی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن عظیم اور ذکر حکیم نازل فرمایا جس میں ہر چیز کا بیان اور اولین و آخرین کا علم ہے۔
حکمت سے مراد یا تو سنت ہے جس کے بارے میں سلف میں سے کسی کا قول ہے کہ سنت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کے ذریعے سے نازل ہوتی ہے جیسے قرآن نازل ہوتا ہے یا اس سے مراد اسرار شریعت کی معرفت ہے جو احکام شریعت کی معرفت سے زائد چیز ہے۔ نیز اس سے مراد تمام اشیاء کو ان کے اپنے اپنے مقام پر رکھنا اور ہر شے کو اس کے مطابق ترتیب دینا ہے۔ فرمایا: ﴿ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُ٘نْ تَعْلَمُ اور آپ کو وہ (کچھ) سکھایا جو آپ نہیں جانتے تھے یہ ان تمام امور کو شامل ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا۔ ورنہ نبوت سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو احوال تھے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَلَا الْاِیْمَانُ (الشوری: 42؍52) آپ نہ جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے؟ اور فرمایا ﴿وَوَجَدَكَ ضَآ لًّا فَهَدٰؔى (الضحی: 93؍7) اس نے آپ کو رستے سے ناواقف پایا تو سیدھا راستہ دکھایا۔ پھر اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی بھیجتا رہا، آپ کو علم سکھاتا رہا اور آپ کے علم کی تکمیل کرتا رہا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم علم کے ایسے مقام پر فائز ہو گئے کہ اولین و آخرین وہاں تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی الاطلاق مخلوق میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے، صفات کمال کے سب سے زیادہ جامع اور ان صفات میں سب سے زیادہ کامل تھے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَؔكَانَ فَضْ٘لُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا اللہ کا آپ پر بڑا بھاری فضل ہے اللہ تعالیٰ کا فضل مخلوق میں سب سے زیادہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم کی ہر جنس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نوازا ہے جن کی تہہ تک پہنچنانا ممکن اور ان کو شمار کرنا آسان نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذكر منَّته على رسوله بحفظه وعصمتِهِ ممَّن أراد أن يضلَّه، فقال: {ولولا فضلُ الله عليك ورحمتُهُ لهمَّتْ طائفةٌ منهم أن يضلوك}: وذلك أنَّ هذه الآيات الكريمات قد ذكر المفسرون أنَّ سبب نزولها أنَّ أهل بيت سَرَقوا في المدينة، فلما اطُّلع على سرقتهم؛ خافوا الفضيحة، وأخذوا سرقتهم، فرموها ببيت من هو بريء من ذلك، واستعان السارق بقومِهِ أن يأتوا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ويطلُبوا منه أن يبرِّئ صاحِبَهم على رؤوس الناس، وقالوا: إنَّه لم يسرِقْ وإنَّما الذي سرق من وجدت السرقةُ ببيتِهِ وهو البريء، فهمَّ رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أن يبرِّئ صاحبهم، فأنزل الله هذه الآيات تذكيراً وتبييناً لتلك الواقعة وتحذيراً للرسول - صلى الله عليه وسلم - من المخاصمة عن الخائنين؛ فإنَّ المخاصمة عن المبطِل من الضَّلال؛ فإنَّ الضلال نوعان: ضلالٌ في العلم وهو الجهل بالحقِّ، وضلالٌ في العمل وهو العملُ بغير ما يجب؛ فحفظ الله رسوله عن هذا النوع من الضَّلال كما حفظه عن الضلال في الأعمال، وأخبر أن كَيْدَهم ومَكْرَهم يعودُ على أنفسِهم كحالة كلِّ ماكر، فقال: {وما يضلُّون إلا أنفسَهم}؛ لكون ذلك المكر وذلك التحيُّل لم يحصُل لهم فيه مقصودُهم ولم يحصُل لهم إلا الخيبة والحرمان والإثم والخُسران، وهذا نعمةٌ كبيرةٌ على رسوله - صلى الله عليه وسلم -، يتضمَّن النعمةَ بالعمل، وهو التوفيق لفعل ما يجب والعصمة له عن كل محرم، ثم ذكر نعمته عليه بالعلم، فقال: {وأنزل الله عليك الكتابَ والحكمةَ}؛ أي: أنزل عليك هذا القرآن العظيم والذِّكر الحكيم الذي فيه تبيانُ كلِّ شيءٍ وعلم الأولين والآخرين.

والحكمة إمّا السُّنة التي قد قال فيها بعض السلف: إن السُّنةَ تُنزل عليه كما يُنزل القرآن، وإمّا معرفة أسرار الشريعة الزائدة على معرفة أحكامها وتنزيل الأشياء منازلها وترتيب كلِّ شيءٍ بحسبه. {وعلَّمك ما لم تكُن تعلمُ}: وهذا يشمل جميع ما علَّمه الله تعالى؛ فإنه - صلى الله عليه وسلم - كما وصفه الله قبل النبوة بقوله: {ما كنت تدري ما الكتابُ ولا الإيمان}، {ووجدَكَ ضالاًّ فهدى}، ثم لم يزل يُوحي الله إليه ويعلِّمه ويكمِّله حتى ارتقى مقاماً من العلم يتعذَّر وصولُه على الأولين والآخرين، فكان أعلم الخلق على الإطلاق وأجمعهم لصفات الكمال وأكملهم فيها، ولهذا قال: {وكان فضلُ الله عليك عظيماً}؛ ففضلُهُ على الرسول محمد - صلى الله عليه وسلم - أعظم من فضلِهِ على كلِّ الخلق ، وأجناس الفضل الذي قد فضَّله الله به لا يمكن استقصاؤه ولا يتيسَّر إحصاؤه.