اور اگر تجھ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو یقینا ان کے ایک گروہ نے ارادہ کر لیا تھا کہ تجھے غلطی میں ڈال دیں، حالانکہ وہ اپنے سوا کسی کو غلطی میں نہیں ڈال رہے اور تجھے کچھ نقصان نہیں پہنچا رہے اور اللہ نے تجھ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی اور تجھے وہ کچھ سکھایا جو تو نہیں جانتا تھا اور اللہ کا فضل تجھ پر ہمیشہ سے بہت بڑا ہے۔
En
اور اگر تم پر خدا کا فضل اور مہربانی نہ ہوتی تو ان میں سے ایک جماعت تم کو بہکانے کا قصد کر ہی چکی تھی اور یہ اپنے سوا (کسی کو) بہکا نہیں سکتے اور نہ تمہارا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور خدا نے تم پر کتاب اور دانائی نازل فرمائی ہے اور تمہیں وہ باتیں سکھائی ہیں جو تم جانتے نہیں تھے اور تم پر خدا کا بڑا فضل ہے
اگر اللہ تعالیٰ کا فضل ورحم تجھ پر نہ ہوتا تو ان کی ایک جماعت نے تو تجھے بہکانے کا قصد کر ہی لیا تھا، مگر دراصل یہ اپنے آپ کو ہی گمراه کرتے ہیں، یہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اللہ تعالیٰ نے تجھ پر کتاب وحکمت اتاری ہے اور تجھے وه سکھایا ہے جسے تو نہیں جانتا تھا اور اللہ تعالیٰ کا تجھ پر بڑا بھاری فضل ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول پر اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو ان لوگوں کے ارادوں سے محفوظ رکھا جو آپ کو گمراہ کرنا چاہتے تھے۔ ﴿ وَلَوْلَافَضْلُاللّٰهِعَلَیْكَوَرَحْمَتُهٗلَهَمَّؔتْطَّآىِٕفَةٌمِّؔنْهُمْاَنْیُّضِلُّوْكَ ﴾”اگر اللہ کا فضل و رحم آپ پر نہ ہوتا تو ان کی ایک جماعت نے آپ کو بہکانے کا قصد کر ہی لیا تھا“ ان آیات کریمہ کے بارے میں اصحاب تفسیر ذکر کرتے ہیں کہ ان کا سبب نزول یہ ہے کہ ایک گھرانے نے مدینہ میں چوری کا ارتکاب کیا۔ جب چوری کی اطلاع لوگوں کو ہوئی تو انھوں نے فضیحت اور رسوائی سے ڈرتے ہوئے چوری کا سامان کسی بے گناہ شخص کے گھر پھینک دیا۔ پھر چور نے اپنے قبیلہ کے لوگوں سے مدد طلب کی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر لوگوں کے سامنے اسے بری کروائیں۔ اس کے قبیلہ والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ ان کے آدمی نے چوری نہیں کی۔ چوری تو اس شخص نے کی ہے جس کے گھر سے مسروقہ سامان برآمد ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے آدمی کو بری قرار دینے کا ارادہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے حقیقت حال بیان کرنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیانت کاروں کی حمایت کرنے سے بچانے کے لیے یہ آیات نازل فرمائیں کیونکہ باطل پسندوں کی حمایت کرنا گمراہی ہے۔ گمراہی کی دو اقسام ہیں:
(۱) علم میں گمراہی، یہ حق سے لاعلمی اور جہالت کا نام ہے۔
(۲) عمل میں گمراہی، عمل واجب کے خلاف عمل کرنا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نوع کی گمراہی سے اسی طرح محفوظ رکھا جس طرح اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمل کی گمراہی سے محفوظ و مصون رکھا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ ان کا مکر و فریب انھی کی طرف لوٹے گا جیسا کہ ہر فریبی کے ساتھ ہوتا ہے۔ چنانچہ فرمایا ﴿ وَمَایُضِلُّوْنَاِلَّاۤاَنْفُسَهُمْ ﴾”وہ اپنے آپ کو ہی گمراہ کرتے ہیں“ کیونکہ اس فریب اور حیلہ سازی سے انھیں اپنا مقصد حاصل نہ ہو سکا اور انھیں سوائے ناکامی، محرومی، گناہ اور خسارے کے کچھ ہاتھ نہ آیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت بڑی نعمت ہے جو نعمت عمل کو متضمن ہے اور یہ اس فعل کی توفیق ہے جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے اور ہر قسم کے محرمات سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی نعمت علم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاَنْزَلَاللّٰهُعَلَیْكَالْكِتٰبَوَالْحِكْمَةَ ﴾”اور اللہ نے آپ پر کتاب و حکمت نازل فرمائی ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن عظیم اور ذکر حکیم نازل فرمایا جس میں ہر چیز کا بیان اور اولین و آخرین کا علم ہے۔
حکمت سے مراد یا تو سنت ہے جس کے بارے میں سلف میں سے کسی کا قول ہے کہ سنت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کے ذریعے سے نازل ہوتی ہے جیسے قرآن نازل ہوتا ہے یا اس سے مراد اسرار شریعت کی معرفت ہے جو احکام شریعت کی معرفت سے زائد چیز ہے۔ نیز اس سے مراد تمام اشیاء کو ان کے اپنے اپنے مقام پر رکھنا اور ہر شے کو اس کے مطابق ترتیب دینا ہے۔ فرمایا: ﴿ وَعَلَّمَكَمَالَمْتَكُ٘نْتَعْلَمُ ﴾”اور آپ کو وہ (کچھ) سکھایا جو آپ نہیں جانتے تھے“ یہ ان تمام امور کو شامل ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا۔ ورنہ نبوت سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو احوال تھے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ مَاكُنْتَتَدْرِیْمَاالْكِتٰبُوَلَاالْاِیْمَانُ ﴾ (الشوری: 42؍52) ”آپ نہ جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے؟“ اور فرمایا ﴿وَوَجَدَكَضَآلًّافَهَدٰؔى ﴾ (الضحی: 93؍7) ”اس نے آپ کو رستے سے ناواقف پایا تو سیدھا راستہ دکھایا۔“ پھر اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی بھیجتا رہا، آپ کو علم سکھاتا رہا اور آپ کے علم کی تکمیل کرتا رہا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم علم کے ایسے مقام پر فائز ہو گئے کہ اولین و آخرین وہاں تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی الاطلاق مخلوق میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے، صفات کمال کے سب سے زیادہ جامع اور ان صفات میں سب سے زیادہ کامل تھے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَؔكَانَفَضْ٘لُاللّٰهِعَلَیْكَعَظِیْمًا ﴾”اللہ کا آپ پر بڑا بھاری فضل ہے“ اللہ تعالیٰ کا فضل مخلوق میں سب سے زیادہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم کی ہر جنس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نوازا ہے جن کی تہہ تک پہنچنانا ممکن اور ان کو شمار کرنا آسان نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر منَّته على رسوله بحفظه وعصمتِهِ ممَّن أراد أن يضلَّه، فقال: {ولولا فضلُ الله عليك ورحمتُهُ لهمَّتْ طائفةٌ منهم أن يضلوك}: وذلك أنَّ هذه الآيات الكريمات قد ذكر المفسرون أنَّ سبب نزولها أنَّ أهل بيت سَرَقوا في المدينة، فلما اطُّلع على سرقتهم؛ خافوا الفضيحة، وأخذوا سرقتهم، فرموها ببيت من هو بريء من ذلك، واستعان السارق بقومِهِ أن يأتوا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ويطلُبوا منه أن يبرِّئ صاحِبَهم على رؤوس الناس، وقالوا: إنَّه لم يسرِقْ وإنَّما الذي سرق من وجدت السرقةُ ببيتِهِ وهو البريء، فهمَّ رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أن يبرِّئ صاحبهم، فأنزل الله هذه الآيات تذكيراً وتبييناً لتلك الواقعة وتحذيراً للرسول - صلى الله عليه وسلم - من المخاصمة عن الخائنين؛ فإنَّ المخاصمة عن المبطِل من الضَّلال؛ فإنَّ الضلال نوعان: ضلالٌ في العلم وهو الجهل بالحقِّ، وضلالٌ في العمل وهو العملُ بغير ما يجب؛ فحفظ الله رسوله عن هذا النوع من الضَّلال كما حفظه عن الضلال في الأعمال، وأخبر أن كَيْدَهم ومَكْرَهم يعودُ على أنفسِهم كحالة كلِّ ماكر، فقال: {وما يضلُّون إلا أنفسَهم}؛ لكون ذلك المكر وذلك التحيُّل لم يحصُل لهم فيه مقصودُهم ولم يحصُل لهم إلا الخيبة والحرمان والإثم والخُسران، وهذا نعمةٌ كبيرةٌ على رسوله - صلى الله عليه وسلم -، يتضمَّن النعمةَ بالعمل، وهو التوفيق لفعل ما يجب والعصمة له عن كل محرم، ثم ذكر نعمته عليه بالعلم، فقال: {وأنزل الله عليك الكتابَ والحكمةَ}؛ أي: أنزل عليك هذا القرآن العظيم والذِّكر الحكيم الذي فيه تبيانُ كلِّ شيءٍ وعلم الأولين والآخرين.
والحكمة إمّا السُّنة التي قد قال فيها بعض السلف: إن السُّنةَ تُنزل عليه كما يُنزل القرآن، وإمّا معرفة أسرار الشريعة الزائدة على معرفة أحكامها وتنزيل الأشياء منازلها وترتيب كلِّ شيءٍ بحسبه. {وعلَّمك ما لم تكُن تعلمُ}: وهذا يشمل جميع ما علَّمه الله تعالى؛ فإنه - صلى الله عليه وسلم - كما وصفه الله قبل النبوة بقوله: {ما كنت تدري ما الكتابُ ولا الإيمان}، {ووجدَكَ ضالاًّ فهدى}، ثم لم يزل يُوحي الله إليه ويعلِّمه ويكمِّله حتى ارتقى مقاماً من العلم يتعذَّر وصولُه على الأولين والآخرين، فكان أعلم الخلق على الإطلاق وأجمعهم لصفات الكمال وأكملهم فيها، ولهذا قال: {وكان فضلُ الله عليك عظيماً}؛ ففضلُهُ على الرسول محمد - صلى الله عليه وسلم - أعظم من فضلِهِ على كلِّ الخلق ، وأجناس الفضل الذي قد فضَّله الله به لا يمكن استقصاؤه ولا يتيسَّر إحصاؤه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔