ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 10

اِنَّ الَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ اَمۡوَالَ الۡیَتٰمٰی ظُلۡمًا اِنَّمَا یَاۡکُلُوۡنَ فِیۡ بُطُوۡنِہِمۡ نَارًا ؕ وَ سَیَصۡلَوۡنَ سَعِیۡرًا ﴿٪۱۰﴾
بے شک جو لوگ یتیموں کے اموال ظلم سے کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ کے سوا کچھ نہیں کھاتے اور وہ عنقریب بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گے۔ En
لوگ یتیموں کا مال ناجائز طور پر کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں۔ اور دوزخ میں ڈالے جائیں گے
En
جو لوگ ناحق ﻇلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں، وه اپنے پیٹ میں آگ ہی بھر رہے ہیں اور عنقریب وه دوزخ میں جائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 10)اس آیت میں یتیموں کے مال کی حفاظت اور اس سے اجتناب کی مزید تاکید کی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات تباہ کن چیزوں سے اجتناب کرو۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کیا ہیں؟ فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو، اس جان کو ناحق قتل کرنا جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جنگ کے دن پیٹھ پھیرنا اور پاک دامن، بھولی بھالی عورتوں پر تہمت لگانا۔ [بخاری، الحدود، باب رمی المحصنات: ۶۸۵۷، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

10۔ جو لوگ ظلم سے یتیموں کا مال ہڑپ کر جاتے ہیں وہ در حقیقت اپنے پیٹ میں آگ [16] بھرتے ہیں۔ عنقریب وہ جہنم میں داخل ہوں گے
[16] یتیم کا مال کھانا کبیرہ گناہ ہے:۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو۔“ صحابہ نے پوچھا ’وہ کون سے ہیں؟‘ فرمایا ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔ جادو۔ جس جان کو قتل کرنا اللہ نے حرام کیا ہے اسے ناحق قتل کرنا۔ سود کھانا۔ یتیم کا مال کھانا۔ لڑائی میں پیٹھ پھیر جانا۔ اور پاکدامن بھولی بھالی مومن عورت پر تہمت لگانا۔“
[بخاری۔ کتاب الوصایا۔ باب ﴿اِنَّ الَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْيَتٰميٰ مسلم، کتاب الایمان۔ باب بیان الکبائر وأکبرھا]
نیز آپ نے معراج کا واقعہ بیان کرنے کے دوران فرمایا کہ میں نے چند لوگوں کو دیکھا جن کے لب اونٹوں جیسے تھے اور ایک فرشتہ ان کے لب کھول کر منہ میں آگ کے انگارے ڈالتا تو وہ ان کے نیچے سے نکل جاتے اور وہ (درد کے مارے) چیختے چلاتے۔ پھر فرشتہ اور انگارے ان کے منہ میں ڈال دیتا اور انہیں مسلسل یہ عذاب ہو رہا تھا۔ میں نے جبریلؑ سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ جبریلؑ نے جواب دیا یہ وہ لوگ ہیں جو یتیموں کا مال ناحق کھایا کرتے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے یتیموں کے مال کی دیکھ بھال کا حکم دیا تو اب ان کو یتیموں کا مال کھانے پر زجر و توبیخ کی ہے اور اس پر سخت عذاب کی وعید سنائی ہے۔ چنانچہ فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ یَ٘اْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْ٘یَ٘تٰمٰى ظُلْمًا جو لوگ ناحق یتیموں کا مال کھاتے ہیں۔ اس ناحق کی قید سے وہ نادار سرپرست نکل گئے جن کو معروف طریقے سے بقدر ضرورت ان کے مال میں سے کھانے کی اجازت ہے، اسی طرح وہ بھی اس سے خارج ہو گئے جو آسانی اور اصلاح کی نیت سے اپنا کھانا یتیموں کے کھانے کے ساتھ ملا لیتے ہیں، کیونکہ یہ بھی جائز ہے۔
پس جو کوئی ظلم سے یتیموں کا مال کھاتا ہے ﴿ یَ٘اْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًا وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں۔ یعنی انھوں نے یتیموں کا جو مال کھایا ہے وہ آگ ہے جو ان کے پیٹ میں بھڑکے گی، یہ آگ خود انھوں نے اپنے پیٹ میں داخل کی ہے ﴿ وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا یعنی وہ عنقریب جلانے والی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے۔
یہ سب سے بڑی وعید ہے جو گناہوں کے بارے میں سنائی گئی ہے جو یتیموں کا مال کھانے کی برائی اور قباحت پر دلالت کرتی ہے نیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یتیموں کا مال کھانا جہنم میں جانے کا موجب ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ سب سے بڑا گناہ ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما أمرهم بذلك زجرهم عن أكل أموال اليتامى وتوعَّد على ذلك أشد العذاب، فقال: {إنَّ الذين يأكلون أموال اليتامى ظلماً}؛ أي: بغير حق، وهذا القيد يخرُجُ به ما تقدَّم من جواز الأكل للفقير بالمعروف، ومن جواز خلط طعامهم بطعام اليتامى؛ فمن أكلها ظُلماً؛ فإنما {يأكلون في بطونهم ناراً}؛ أي: فإن الذي أكلوه نار تتأجَّج في أجوافهم، وهم الذين أدخلوه في بطونهم، {وسيصلون سعيراً}؛ أي: ناراً محرقة متوقدة. وهذا أعظم وعيد ورد في الذنوب يدل على شناعة أكل أموال اليتامى وقُبحها وأنها موجبة لدخول النار، فدلَّ ذلك أنها من أكبر الكبائر، نسأل الله العافية.