ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 101

وَ اِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِی الۡاَرۡضِ فَلَیۡسَ عَلَیۡکُمۡ جُنَاحٌ اَنۡ تَقۡصُرُوۡا مِنَ الصَّلٰوۃِ ٭ۖ اِنۡ خِفۡتُمۡ اَنۡ یَّفۡتِنَکُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ اِنَّ الۡکٰفِرِیۡنَ کَانُوۡا لَکُمۡ عَدُوًّا مُّبِیۡنًا ﴿۱۰۱﴾
اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ نماز کچھ کم کر لو، اگر ڈرو کہ تمھیں وہ لوگ فتنے میں ڈال دیں گے جنھوں نے کفر کیا۔ بے شک کافر لوگ ہمیشہ سے تمھارے کھلے دشمن ہیں۔ En
اور جب تم سفر کو جاؤ تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ نماز کو کم کرکے پڑھو بشرطیکہ تم کو خوف ہو کہ کافر لوگ تم کو ایذا دیں گے بےشک کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں
En
جب تم سفر میں جا رہے ہو تو تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناه نہیں، اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے، یقیناً کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 101) ➊ { وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ …:} قصر کا معنی کمی ہے، یہ کمی رکعات کی تعداد میں بھی مسنون ہے اور اگر خوف زیادہ ہو تو نماز کی ہیئت و شکل میں بھی کمی ہو سکتی ہے، مثلاً پیدل جاتے جاتے نماز پڑھ لینا۔ ظاہر ہے اس میں سجدہ اور رکوع تو پوری طرح ممکن نہیں، یا سواری پر اشارے سے نماز پڑھ لینا۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۳۹)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کو خالد بن سفیان کے قتل کے لیے بھیجا، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کے لیے لشکر تیار کر رہا تھا۔ عبد اللہ وہاں پہنچے تو عصر کا وقت قریب تھا، انھوں نے جاتے جاتے ہی نماز پڑھ لی۔ [أبو داوٗد، صلاۃ السفر، باب صلاۃ الطالب: ۱۲۴۹] حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں اس کی سند کو حسن اور ابن کثیر نے جید کہا ہے۔ [ہدایۃ المستنیر] عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمھارے نبی کی زبان سے حضر میں چار، سفر میں دو اور خوف میں ایک رکعت فرض کی ہے۔ [مسلم، صلاۃ المسافرین، باب صلاۃ المسافرین و قصرھا: ۶۸۷]
عام سفر میں مغرب اور صبح کی نماز کے علاوہ دوسری نمازوں میں چار کے بجائے دو رکعت پڑھنا قصر ہے۔ تم پر کچھ گناہ نہیں کے الفاظ سے ثابت ہوتا ہے کہ حالت سفر میں قصر واجب نہیں، اس کی صرف اجازت ہے اور یہی اکثر علمائے سلف کا مسلک ہے، مگر چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ سفر میں قصر پڑھی ہے، لہٰذا آپ کی سنت کو دیکھتے ہوئے امام شافعی، امام احمد ابن حنبل اور اکثر محدثین رحمۃ اللہ علیھم کے نزدیک قصر افضل ہے۔
➋ سفر سے مراد بظاہر تو عام سفر ہے، جسے عرف میں سفر کہا جاتا ہو، اب رہی میلوں یا دنوں کی مقدار کی تعیین تو نہ قرآن کی کسی آیت میں اس کا صاف ذکر ہے اور نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی صریح حدیث میں۔ اس بنا پر جن ائمہ اور علماء نے کسی مقدار کی تعیین کی ہے، انھوں نے عموماً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سفروں کو دیکھتے ہوئے اپنے اجتہاد سے کی ہے، تاہم سب سے قوی دلیل سفر کی مقدار کی تعیین میں صحیح مسلم(۶۹۱) میں مروی حدیث انس ہے، جس کی رو سے تین فرسخ (۹ کوس) تقریباً اکیس کلو میٹر سفر کرنا ہو تو شہر سے نکل کر قصر کر سکتے ہیں۔
➌ کسی صحیح حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت نہیں کہ آپ نے کسی سفر میں فرض نماز سے پہلے یا بعد میں سنتیں ادا کی ہوں، ہاں رات کے وتر اور صبح کی سنتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سفر میں پڑھا کرتے تھے اور کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔ (زاد المعاد: ۱؍۴۵۶) صحابہ میں سے ابو بکر، عمر اور ابن عمر رضی اللہ عنھم کا اسی پر عمل تھا۔ [بخاری، التقصیر، باب من لم یتطوع فی السفر دبر الصلاۃ: ۱۱۰۲]
➍ مسافر اگر مقیم کے پیچھے نماز پڑھے گا تو قصر نہیں کرے گا۔ موسیٰ بن سلمہ فرماتے ہیں کہ ہم ابن عباس رضی اللہ عنھماکے ساتھ مکہ میں تھے تو میں نے کہا جب ہم آپ کے ساتھ ہوتے ہیں تو چار رکعت پڑھتے ہیں اور جب اپنی رہائش کی جگہوں میں جاتے ہیں تو دو رکعت پڑھتے ہیں تو انھوں نے فرمایا: یہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ [أحمد: 216/1، ح: ۱۸۶۷] اس کی ہم معنی روایت صحیح ابی عوانہ (۲؍۳۴۰) میں ہے۔ [إرواء الغلیل، تحت الحدیث: ۵۷۱]
➎ {اِنْ خِفْتُمْ اَنْ يَّفْتِنَكُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا …:} یہ آیت چونکہ جہاد کے سلسلہ میں نازل ہوئی ہے، اس لیے اس میں نماز قصر کی اجازت کے ساتھاگر تمھیں ڈر ہو کہ کافر تمھیں فتنے میں ڈال دیں گے کے الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں۔ باقی رہا عام سفر، جس میں دشمن کا خوف نہ ہو تو اس میں قصر کے حکم کے بارے میں یہ آیت خاموش ہے، اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و فعل سے واضح فرمایا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے سوال کیا: کیا وجہ ہے کہ لوگ ہر سفر میں قصر کر رہے ہیں، حالانکہ قرآن مجید میں یہ حکم خوف کے ساتھ مقید ہے؟ تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خود مجھے بھی اس سے تعجب ہوا تھا اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک صدقہ ہے، جو اللہ نے تم پر کیا ہے، لہٰذا تم اس کا صدقہ قبول کرو۔ [مسلم، صلاۃ المسافرین، باب صلاۃ المسافرین و قصرھا: ۶۸۶] ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے مکہ تشریف لے گئے اور اس وقت رب العالمین کے سوا کسی کا خوف نہ تھا مگر آپ نے دو ہی رکعت نماز پڑھی۔ [نسائی، تقصیر الصلاۃ فی السفر، بابٌ: ۱۴۳۶]
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ روانہ ہوئے تو آپ نماز کی دو دو رکعتیں ادا فرماتے رہے، حتیٰ کہ ہم مدینہ واپس آ گئے۔ حدیث کے راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: آپ لوگوں نے مکہ میں کتنی دیر قیام کیا تھا؟ تو انھوں نے جواب دیا: ہم نے دس دن قیام کیا تھا۔ [بخاری، التقصیر، باب ما جاء فی التقصیر…: ۱۰۸۱]
ایک مرتبہ آپ نے مکہ میں انیس(۱۹) دن بھی قیام کیا تھا۔ [بخاری، المغازی، باب مقام النبی صلی اللہ علیہ وسلم بمکۃ زمن الفتح: ۴۲۹۸] جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تبوک میں بیس دن ٹھہرے رہے اور نماز قصر کرتے رہے۔ [أحمد: ۳؍۲۹۵، ح: ۱۴۱۳۹، و صححہ الألبانی فی الإرواء] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مدت صراحت کے ساتھ نہیں آئی کہ کتنے دن کسی جگہ ٹھہرنے کا ارادہ ہو تو قصر کر سکتا ہے۔ علماء کے اجتہادات مختلف ہیں، بعض نے فرمایا انیس دن ٹھہرنے کا ارادہ ہو تو نماز پوری پڑھے، اس سے کم ہو تو قصر کرے۔ بعض نے یہ مدت پندرہ دن بیان فرمائی، بعض نے چار دن، مگر راجح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ جب تک کسی جگہ اقامت کا ارادہ نہ کرے قصر کر سکتا ہے۔ ثمامہ بن شراحیل فرماتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنھما کے پاس گیا تو ہم نے عرض کیا: مسافر کی نماز کیسے ہے؟ انھوں نے فرمایا: دو دو رکعتیں سوائے مغرب کے کہ وہ تین رکعتیں ہے۔ میں نے کہا یہ بتائیں اگر ہم ذوالمجاز میں ہوں؟ انھوں نے فرمایا: ذوالمجاز کیا ہے؟ میں نے کہا: ایک جگہ ہے جس میں ہم جمع ہوتے ہیں اور خرید و فروخت کرتے ہیں اور بیس راتیں یا پندرہ راتیں ٹھہرتے ہیں۔ تو انھوں نے فرمایا: اے آدمی! میں آذربائیجان میں رہا، میں نہیں جانتا کہ انھوں نے چار مہینے کہا یا دو ماہ، تو میں نے انھیں دیکھا کہ وہ دو دو رکعت پڑھتے تھے اور میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دو دو رکعت پڑھتے دیکھا۔ پھر انھوں نے یہ آیت پڑھی: «{ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ [الأحزاب: ۲۱] [أحمد: 83/2، ح: ۵۵۵۲، و حسنہ شعیب الأرنؤوط]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

11۔ 1 اس حالت میں سفر میں نماز قصر کرنے (دوگانہ ادا کرنے) کی اجازت دی جا رہی ہے، ان خفتم۔ " اگر تمہیں ڈر ہو۔ " غالب احوال کے اعتبار سے ہے۔ کیونکہ اس وقت پورا عرب دارالحرب بنا ہوا تھا۔ کسی طرف بھی خطرات سے خالی نہیں تھا۔ یعنی یہ شرط نہیں ہے کہ سفر میں خوف ہو تو قصر کی اجازت ہے جیسے قرآن مجید میں اور بھی مقامات پر اس قسم کی قیدیں بیان کی گئی ہیں جو اتفاقی یعنی غالب احوال کے اعتبار سے (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْ كُلُوا الرِّبٰٓوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً) 3:130 (وَلَا تُكْرِهُوْا فَتَيٰتِكُمْ عَلَي الْبِغَاۗءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا) 24:33 تم اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو اگر وہ اس سے بچنا چاہیں۔ " چونکہ بچنا چاہتی تھیں، اس لئے اللہ نے اسے بیان فرما دیا۔ یہ نہیں کہ اگر وہ بدکاری پر آمادہ ہوں تو پھر تمہارے لئے یہ جائز ہے کہ تم ان سے بدکاری کروا لیا کرو (وَرَبَاۗىِٕبُكُمُ الّٰتِيْ فِيْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَاۗىِٕكُمُ) 4:23 بعض صحابہ رضوان اللہ علیہم کے ذہن میں بھی یہ اشکال آیا کہ اب تو امن ہے ہمیں سفر میں نماز قصر نہیں کرنی چاہئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " یہ اللہ کی طرف سے تمہارے لئے صدقہ ہے اس کے صدقے کو قبول کرو۔ " (مسند أحمد جلد 1، ص 25، 36 وصحیح مسلم، کتاب المسافرین اور دیگر کتب حدیث)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

101۔ اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تمہارے لیے نماز [138] مختصر کر لینے میں کوئی حرج نہیں (خصوصاً) جبکہ تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں تشویش میں ڈال دیں گے۔ کیونکہ کافر تو بلا شبہ تمہارے کھلے دشمن ہیں
[138] اس آیت میں اگرچہ سفر کے ساتھ دشمن کے اندیشہ کا بھی ذکر ہے تاہم سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ ہر طرح کے سفر میں نماز قصر کی جا سکتی ہے۔ نیز یہ بھی ضروری نہیں کہ یہ سفر فی سبیل اللہ ہی ہو بلکہ ہر سفر میں قصر کی جا سکتی ہے رہی یہ بات کہ کتنے فاصلہ کو سفر کہہ سکتے ہیں اس میں بھی اگرچہ اختلافات موجود ہیں۔ تاہم ہمارے لیے یہ امر کافی اطمینان کا باعث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”کوئی عورت ایک رات بھی محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔“
[بخاری، کتاب العمرۃ، باب حج النساء]
گویا اتنی مسافت جہاں سے ایک انسان پیدل رات کو اپنے گھر واپس نہ پہنچ سکتا ہو، وہ سفر ہے اور سیدنا عمرؓ نے اسے اپنے دور خلافت میں ایک عورت کے سفر پر محمول کرتے ہوئے اس دور کے 9 میل کی مسافت کو سفر قرار دیا تھا جو آج کل کے پیمانہ کے لحاظ سے 25 کلو میٹر بنتا ہے۔ یعنی ایک کمزور انسان پیدل ایک دن میں 25 کلو میٹر جانے کا اور اتنا ہی آنے کا کل 50 کلو میٹر مسافت طے نہیں کر سکتا۔ لہٰذا اتنی مسافت پر سفر کا اطلاق ہو گا۔ سفر میں اگر قصر نہ کی جائے تو بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ تاہم قصر کرنا ہی افضل ہے۔ پھر سفر میں دو نمازیں اکٹھی کر کے پڑھنے کا موقع آ جاتا ہے۔ ایسی تفصیلات کے لیے درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے:
سفر میں قصر جمع اور سفر کی تعیین:۔
سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں ”ابتداء سفر و حضر میں نماز دو رکعت فرض کی گئی تھی۔ پھر سفر کی نماز تو اتنی ہی برقرار رکھی گئی اور حضر کی نماز میں اضافہ کیا گیا۔ (منیٰ میں“)
[بخاری، ابواب تقصیرالصلٰوۃ، باب یقصر اذا خرج من موضعہ مسلم، کتاب الصلٰوۃ، باب صلٰوۃ المسافرین]
2۔ حارث بن وہب فرماتے ہیں کہ منیٰ میں ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت (نماز قصر) پڑھائی۔ حالانکہ آپ بالکل امن میں تھے۔
[بخاری، ابواب تقصیر الصلٰوۃ، باب الصلٰوۃ بمنیٰ]
یعلیٰ بن امیہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمرؓ سے کہا کہ ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہیں (کافروں کا) خوف ہو تو نماز میں قصر کرو اور اب تو ہم امن میں ہیں۔“ سیدنا عمرؓ نے جواب دیا ”اسی بات پر میں نے بھی تعجب کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ ایک صدقہ ہے جو اللہ نے آپ پر کیا لہٰذا اس کا صدقہ قبول کرو۔“
[ترمذی، ابواب القصر]
4۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں جلدی ہوتی تو مغرب کو مؤخر کر کے تین رکعت پڑھتے پھر سلام پھیرتے۔ پھر تھوڑی دیر بعد عشاء کی اقامت ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت پڑھتے پھر سلام پھیرتے۔“
[بخاری، ابواب تقصیرالصلٰوۃ، باب یصلی المغرب ثلاثا فی السفر]
5۔ عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ آپ نے مدینہ میں رہ کر (یعنی بلا سفر) سات رکعتیں مغرب اور عشاء کی اور آٹھ رکعتیں ظہر اور عصر کی (ملا کر) پڑھیں۔ ایوب سختیانی نے جابر بن زید سے کہا ”شاید بارش کی رات میں ایسا کیا ہو؟“ انہوں نے کہا ”شاید“
[بخاری، کتاب مواقیت الصلٰوۃ، باب تاخیر الظہر الی العصر]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

صلوۃ قصر ؟ ٭٭
فرمان الٰہی ہے کہ تم کہیں سفر میں جا رہے ہو۔ یہی الفاظ سفر کے لیے سورۃ مزمل میں بھی آئے ہیں «عَلِمَ أَن سَيَكُونُ مِنكُم مَّرْضَىٰ ۙ وَآخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِن فَضْلِ اللَّـهِ» ۱؎ [73-المزمل:20]‏‏‏‏۔ تو تم پر نماز کی تخفیف کرنے میں کوئی گناہ نہیں، یہ کمی یا تو کمیت میں یعنی بجائے چار رکعت کے دو رکعت ہے جیسے کہ جمہور نے اس آیت سے سمجھا ہے گو پھر ان میں بعض مسائل میں اختلاف ہوا ہے بعض تو کہتے ہیں یہ شرط ہے کہ سفر اطاعت کا ہو مثلاً جہاد کے لیے یا حج و عمرے کے لیے یا طلب و زیارت کے لیے وغیرہ۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما عطاء، یحییٰ رحمہ اللہ علیہما اور ایک روایت کی رو سے امام مالک رحمہ اللہ کا یہی قول ہے، کیونکہ اس سے آگے فرمان ہے اگر تمہیں کفار کی ایذاء رسانی کا خوف ہو، بعض کہتے ہیں اس قید کی کوئی ضرورت نہیں کہ سفر قربت الٰہیہ کا ہو بلکہ نماز کی کمی ہر مباح سفر کے لیے ہے جیسے اضطرار اور بے بسی کی صورت میں مردار کھانے کی اجازت ہے۔
ہاں یہ شرط ہے کہ سفر معصیت کا نہ ہو، امام شافعی، امام احمد رحمہ اللہ علیہما وغیرہ ائمہ کا یہی قول ہے، ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میں تجارت کے سلسلے میں دریائی سفر کرتا ہوں تو آپ نے اسے دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا، یہ حدیث مرسل ہے۔
بعض لوگوں کا مذہب ہے کہ ہر سفر میں نماز کو قصر کرنا جائز ہے سفر خواہ مباح ہو خواہ ممنوع ہو یہاں تک کہ اگر کوئی ڈاکہ ڈالنے کے لیے اور مسافروں کو ستانے کے لیے نکلا ہوا ہے اسے بھی نماز قصر کرنے کی اجازت ہے، ابوحنیفہ ثوری اور داؤد رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے کہ آیت عام ہے، لیکن یہ قول جمہور کے قول کے خلاف ہے۔ کفار سے ڈر کی جو شرط لگائی ہے یہ باعتبار اکثریت کے ہے آیت کے نازل ہونے کے وقت چونکہ عموماً یہی حال تھا اس لیے آیت میں بھی اسے بیان کر دیا گیا،
ہجرت کے بعد سفر مسلمانوں کے سب کے سب خوف والے ہی ہوتے تھے قدم قدم پر دشمن کا خطرہ رہتا تھا بلکہ مسلمان سفر کے لیے نکل ہی نہ سکتے تھے بجز اس کے کہ یا تو جہاد کو جائیں یا کسی خاص لشکر کے ساتھ جائیں اور یہ قاعدہ ہے کہ جب منطوق بہ اعتبار غالب کے آئے تو اس کا مفہوم معتبر نہیں ہوتا۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا» ۱؎ [24-النور:33]‏‏‏‏ ’ اپنی لونڈیوں کو بدکاری کے لیے مجبور نہ کرو اگر وہ پاکدامنی کرنا چاہیں۔ ‘
اور جیسے فرمایا «وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَائِكُمُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء:23]‏‏‏‏ ’ ان کی بیٹیاں جو تمہاری پرورش میں ہیں جن عورتوں سے تم نے صحبت کی ہے۔ ‘ پس جیسے کہ ان دونوں آیتوں میں قید کا بیان ہے لیکن اس کے ہونے پر ہی حکم کا دارومدار نہیں بلکہ بغیر اس کے بھی حکم وہی ہے یعنی لونڈیوں کو بدکاری کے لیے مجبور کرنا حرام ہے چاہے وہ پاکدامنی چاہتی ہوں یا نہ چاہتی ہو۔
اسی طرح اس عورت کی لڑکی حرام ہے جس سے نکاح ہوکر صحبت ہو گئی ہو خواہ وہ اسکی پرورش میں ہو یا نہ ہو، حالانکہ دونوں جگہ قرآن میں یہ قید موجود ہے، پس جس طرح ان دونوں موقعوں میں بغیر ان قیود کے بھی حکم یہی ہے اسی طرح یہاں بھی گو خوف نہ ہو تو بھی محض سفر کی وجہ سے نماز کو قصر کرنا جائز ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ یعلیٰ بن امیہ رحمہ اللہ نے { سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نماز کی تخفیف کا حکم تو خوف کی حالت میں ہے اور اب تو امن ہے؟ عمر نے جواب دیا کہ یہی خیال مجھے ہوا تھا اور یہی سوال میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا تو آپ نے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کا صدقہ ہے جو اس نے تمہیں دیا ہے تم اس کے صدقے کو قبول کرو۔ } مسلم اور سنن وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے بالکل صحیح روایت ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:686]‏‏‏‏
ابوحنظلہ حذاء رحمہ اللہ نے { سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سفر کی نماز کا پوچھا تو آپ نے فرمایا دو رکعت ہیں انہوں نے کہا قرآن میں تو خوف کے وقت دو رکعت ہیں اور اس وقت تو پوری طرح امن و امان ہے تو آپ نے فرمایا یہی سنت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ } ۱؎ [ابن ابی شیبہ:337/2:صحیح]‏‏‏‏ ایک اور شخص کے سوال پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا آسمان سے تو یہ رخصت اتر چکی ہے اب اگر تم چاہو تو اسے لوٹا دو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں { مکہ اور مدینہ کے درمیان ہم نے باوجود امن کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو رکعت پڑھیں } ۱؎ [سنن ترمذي:547،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
اور حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے مکے کی طرف چلے تو اللہ کے سوا کسی سے خوف نہ تھا اور آپ برابر دو رکعت ہی ادا فرماتے رہے۔ } بخاری کی حدیث میں ہے کہ { واپسی میں بھی یہی دو رکعت آپ پڑھتے رہے اور مکے میں اس سفر میں آپ نے دس روز قیام کیا تھا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1081]‏‏‏‏
مسند احمد میں سیدنا حارثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ { میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منی میں ظہر کی اور عصر کی نماز دو دو رکعت پڑھی ہیں حالانکہ اس وقت ہم بکثرت تھے اور نہایت ہی پر امن تھے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1083]‏‏‏‏
صحیح بخاری میں ہے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں { میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اورسیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ (‏‏‏‏سفر میں) دو رکعت پڑھی ہیں } لیکن اپنی خلافت کے آخری زمانے میں پوری پڑھنے لگے ہیں۔
بخاری کی روایت میں ہے کہ جب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی چار رکعات کا ذکر آیا تو آپ نے «اناللہ» الخ، پڑھ کر فرمایا { میں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی منی میں دو رکعت پڑھی ہیں اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی کاش کہ بجائے ان چار رکعات کے میرے حصے میں دو ہی مقبول رکعات آئیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1084]‏‏‏‏
پس یہ حدیثیں کھلم کھلا دلیل ہیں اس بات کی کہ سفر کی دو رکعات کے لیے خوف کا ہونا شرط نہیں بلکہ نہایت امن و اطمینان کے سفر میں بھی دو گانہ ادا کر سکتا ہے۔
اسی لیے بعض علماء کرام نے فرمایا ہے کہ یہاں کیفیت میں یعنی قرآت، قومہ، رکوع، سجود وغیرہ میں قصر اور کمی مراد ہے نہ کہ کمیت میں یعنی تعداد رکعات میں تخفیف کرنا، ضحاک، مجاہد اور سدی رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے جیسے کہ آ رہا ہے، اس کی ایک دلیل امام مالک رحمہ اللہ کی روایت کردہ یہ حدیث بھی ہے کہ { سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نماز دو دو رکعتیں ہی سفر حضر میں فرض کی گئی تھی پھر سفر میں تو وہی دو رکعتیں رہیں اور اقامت کی حالت میں دو اور بڑھا دی گئیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:350]‏‏‏‏
پس علماء کی یہ جماعت کہتی ہے کہ اصل نماز دو رکعتیں تھی تو پھر اس آیت میں قصر سے مراد کمیت یعنی رکعتوں کی تعداد میں کمی کیسے ہو سکتی ہے؟
اس قول کی بہت بڑی تائید صراحتاً اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو مسند احمد میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی روایت سے ہے کہ { بزبان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کی دو رکعتیں ہیں اور ضحیٰ کی نماز بھی دو رکعت ہے اور عید الفطر کی نماز بھی دو رکعت ہے اور جمعہ کی نماز بھی دو رکعت ہے یہ یہی پوری نماز ہے قصر والی نہیں۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1063،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
یہ حدیث نسانی، ابن ماجہ اور صحیح ابن حبان میں بھی ہے اس کی سند بشرط مسلم ہے۔ اس کے راوی ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت ہے جیسے کہ امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح کے مقدمہ میں لکھا ہے اور خود اس روایت میں اور اس کے علاوہ بھی صراحتاً موجود ہے اور یہی ٹھیک بھی ہے ان شاءاللہ۔
گو بعض محدثین سننے پر فیصلہ دینے کے قائل نہیں، لیکن اسے مانتے ہوئے بھی اس سند میں کمی واقع نہیں ہوتی کیونکہ بعض طرق میں ابن ابی لیلیٰ کا ایک ثقہ سے اور ان کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سننا مروی ہے، اور ابن ماجہ میں ان کا کعب بن عجرہ سے روایت کرنا بھی مروی ہے۔ «فَاللہُ اَعْلَمُ»
مسلم وغیرہ میں { سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی نماز کو اقامت کی حالت میں چار رکعت فرض کی ہے اور سفر میں دو رکعت اور خوف میں ایک رکعت۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:687]‏‏‏‏
پس جیسے کہ قیام میں اس سے پہلے اور اس کے پیچھے نماز پڑھتے تھے یا پڑھی جاتی تھی اسی طرح سفر میں بھی اور اس روایت میں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا والی روایت میں جو اوپر گذری کہ حضر میں اللہ تعالیٰ نے دو رکعتیں ہی فرض کی تھیں گویا منافات نہیں اس لیے کہ اصل دو ہی تھیں بعد میں دو اور بڑھا دی گئیں پھر حضر کی چار رکعت ہو گئیں تو اب کہہ سکتے ہیں کہ اقامت کی حالت میں فرض چار رکعتیں ہیں۔ جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس روایت میں ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ»
الغرض یہ دونوں روایتیں اسے ثابت کرتی ہیں کہ سفر میں دو رکعت نماز ہی پوری نماز ہے کم نہیں اور یہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی روایت سے بھی ثابت ہو چکا ہے۔ مراد اس میں قصر کمیت ہے جیسے کہ صلوٰۃ خوف میں ہے اسی لیے فرمایا ہے اگر تم ڈرو اس بات سے کہ کافر تمہیں فتنے میں ڈال دیں گے اور اس کے بعد فرمایا جب تو ان میں ہو اور نماز پڑھو تو بھی۔
پھر قصر کا مقصود صفت اور کیفیت بھی بیان فرما دی امام المحدثین بخاری رحمہ اللہ نے کتاب صلوٰۃ خوف کو اسی آیت «وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ إِنَّ الْكَافِرِينَ كَانُوا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِينًا» ۱؎ [4-النساء:101]‏‏‏‏ تک لکھ کر شروع کیا ہے،
ضحاک رحمہ اللہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ لڑائی کے وقت ہے انسان اپنی سواری پر نماز دو تکبیریں پڑھ لے اس کا منہ جس طرف بھی ہو اسی طرف صحیح ہے۔
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفر میں جب تو نے دو رکعت پڑھیں تو وہ قصر کی پوری مقدار ہے ہاں جب کافروں کی فتنہ انگیزی کا خوف ہو تو ایک ہی رکعت قصر ہے اور یہ بجز ایسے خوف کے وقت کے حلال نہیں۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس آیت سے مراد وہ دن ہے جبکہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عسفان میں تھے اور مشرک ضجنان میں تھے ایک دوسرے سے برسر پیکار بالکل تیار ادھر ظہر کی نماز کا وقت آگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ حسب معمول چار رکعتیں پوری ادا کیں پھر مشرکین نے سامان و اسباب کو لوٹ لینے کر ارادہ کیا۔ } ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:5895/3]‏‏‏‏
ابن جریر اسے مجاہد اور سدی رحمہ اللہ علیہما اور سیدنا جابر اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں اور اسی کو اختیار کرتے ہیں اور اسی کو کہتے ہیں کہ یہی ٹھیک ہے۔
سیدنا خالد بن اسید سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے کہتے ہیں صلوٰۃ خوف کے قصر کا حکم تو ہم کتاب اللہ میں پاتے ہیں لیکن صلوٰۃ مسافر کے قصر کا حکم کتاب اللہ میں نہیں ملتا تو { سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جواب دیتے ہیں ہم نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں نماز کو قصر کرتے ہوئے پایا اور ہم نے بھی اس پر عمل کیا۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1066،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
خیال فرمائیے کہ اس میں قصر کا اطلاق صلوٰۃ خوف پر کیا اور آیت سے مراد بھی صلوٰۃ خوف لی اور صلوٰۃ مسافر کو اس میں شامل نہیں کیا اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اس کا اقرار کیا۔ اس آیت سے مسافرت کی نماز کا قصر بیان نہیں فرمایا بلکہ اس کے لیے فعل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سند بتایا۔
اس سے زیادہ صراحت والی روایت ابن جریر کی ہے کہ سماک رحمہ اللہ آپ سے صلوٰۃ پوچھتے ہیں آپ فرماتے ہیں سفر کی نماز دو رکعت ہے اور یہی دو رکعت سفر کی پوری نماز ہے قصر نہیں، قصر تو صلوۃ خوف میں ہے کہ امام ایک جماعت کو ایک رکعت پڑھاتا ہے دوسری جماعت دشمن کے سامنے ہے پھر یہ چلے گئے وہ آ گئے ایک رکعت امام نے انہیں پڑھائی تو امام کی دو رکعت ہوئیں اور ان دونوں جماعتوں کی ایک ایک رکعت ہوئی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10332]‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ دو آیات کریمہ سفر کے دوران نماز میں قصر کی رخصت اور نماز خوف کے لیے اصل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ جب چلو تم زمین میں یعنی سفر کے دوران۔ آیت کریمہ کا ظاہر سفر کے دوران نمازمیں قصر کی رخصت کا تقاضا کرتا ہے سفر خواہ کیسا ہی ہو، خواہ معصیت کا سفر ہی کیوں نہ ہو۔ جیسا کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔ جمہور فقہاء یعنی ائمہ ثلاثہ اور دیگر اہل علم آیت کے معنی اور مناسبت کے اعتبار سے آیت کے عموم کی تخصیص کرتے ہوئے معصیت کے سفر کے دوران نماز میں قصر کی رخصت کو جائز قرار نہیں دیتے۔ کیونکہ رخصت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے سہولت ہے کہ جب وہ سفر کریں تو نماز میں قصر کر لیا کریں اور روزہ چھوڑ دیا کریں۔ یہ تخفیف گناہ کا سفر کرنے والے شخص کے حال سے مناسبت نہیں رکھتی۔ ﴿ فَ٘لَ٘یْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَ٘قْ٘صُرُوْا مِنَ الصَّلٰ٘وةِ تو تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں یعنی تم پر کوئی حرج اور گناہ نہیں۔ یہ چیز قصر کے افضل ہونے کے منافی نہیں ہے کیونکہ آیت کریمہ میں مذکورہ نفئ حرج اس وہم کا ازالہ کرتی ہے جو بہت سے نفوس میں واقع ہوتا ہے۔ بلکہ یہ تو نماز قصر کے واجب ہونے کے بھی منافی نہیں جیسا کہ اس کی نظیر سورۂ البقرۃ کی اس آیت میں گزر چکی ہے ﴿ اِنَّ الصَّفَا وَالْ٘مَرْوَةَ مِنْ شَعَآىِٕرِ اللّٰهِ...الی آخر الآیۃ ﴾ (البقرۃ: 2؍158) صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں… آیت کے آخر تک۔
اس مقام پر وہم کا ازالہ ظاہر ہے کیونکہ مسلمانوں کے ہاں نماز کا وجوب اس کی اس کامل صفت کے ساتھ متحقق ہے۔ اور یہ وہم اکثر نفوس سے اس وقت تک زائل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس امر کا ذکر نہ کیا جائے جو اس کے منافی ہے۔ اتمام پر قصر کی افضلیت کو دو امور ثابت کرتے ہیں:
اول: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے تمام سفروں کے دوران میں قصر کا التزام کرنا۔
ثانی: قصر، بندوں کے لیے وسعت، رخصت اور رحمت کا دروازہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ اس کی رخصتوں سے استفادہ کیا جائے۔ جس طرح وہ یہ بات ناپسند کرتا ہے کہ اس کی نافرمانی کا کوئی کام کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَنْ تَ٘قْ٘صُرُوْا مِنَ الصَّلٰ٘وةِ نماز میں سے کچھ کم کر دو اور یہ نہیں فرمایا (اَنْ تَقْصُرُوا الصَّلٰوۃَ) نماز کو کم کر دو اس میں دو فائدے ہیں:
اول: اگر یہ کہا ہوتا کہ نماز کو کم کر دو تو قصر غیر منضبط اور غیر محدود ہوتی۔ اور بسا اوقات یہ بھی سمجھا جا سکتا تھا کہ اگر نماز کا بڑا حصہ کم کر دیا جائے اور صرف ایک رکعت پڑھ لی جائے، تو کافی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے (مِنَ الصَّلٰوۃِ) کا لفظ استعمال فرمایا۔ تاکہ وہ اس امر پر دلالت کرے کہ قصر محدود اور منضبط ہے اور اس بارے میں اصل مرجع وہ نماز قصر ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام رضی اللہ عنہم کے فعل سے ثابت ہے۔
ثانی: حرف جار (مِنْ) تبعیض کا فائدہ دیتا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ صرف بعض فرض نمازوں میں قصر ہے تمام نمازوں میں جائز نہیں۔ کیونکہ فجر اور مغرب کی نماز میں قصر نہیں۔ صرف ان نمازوں میں قصر کر کے دو رکعت پڑھی جاتی ہیں جن میں چار رکعتیں فرض کی گئی ہیں۔
جب یہ بات متحقق ہو گئی کہ سفر میں نماز قصر ایک رخصت ہے تو معلوم ہونا چاہیے کہ مفسرین میں اس قید کے تعین کے بارے میں اختلاف ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں وارد ہوئی ہے ﴿ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا اگر تم اس بات سے ڈرو کہ کافر تمھیں فتنے میں ڈال دیں گے جس کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ نماز قصر اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ یہ دو امور ایک ساتھ موجود نہ ہوں سفر اور خوف۔ ان کے اختلاف کا حاصل یہ ہے کہ (اَنْ تَقْصُرُوْا) سے مراد صرف عدد رکعات میں کمی ہے یا عدد رکعات اور صفت نماز دونوں میں کمی ہے؟
اشکال صرف پہلی صورت میں ہے اور یہ اشکال امیر المومنین جناب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لاحق ہوا تھا۔ حتیٰ کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یارسول اللہ! ہم نماز میں قصر کیوں کرتے ہیں حالانکہ ہم مامون ہوتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے ﴿ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا اگر تمھیں کافروں کا خوف ہو کہ وہ تمھیں فتنے میں ڈال دیں گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر صدقہ ہے پس تم اللہ تعالیٰ کے صدقہ کو قبول کرو(اَوْ کَمَا قَالَ عَلَیْہِ السَّلَامُ)(صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، باب صلاۃ المسافرین وقصرہا، حديث:1573)
اس صورت میں یہ قید ان غالب حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے عائد کی گئی تھی جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام دو چار تھے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اکثر سفر جہاد کے لیے ہوتے تھے۔
اس میں دوسرا فائدہ یہ ہے کہ قصر کی رخصت کی مشروعیت میں حکمت اور مصلحت بیان کی گئی ہے۔ اس آیت کریمہ میں وہ انتہائی مشقت بیان کی گئی ہے، جس کا قصر کی رخصت کے بارے میں تصور کیا جا سکتا ہے اور وہ ہے سفر اور خوف کا اجتماع اور اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ اکیلے سفر میں قصر نہ کی جائے جو کہ مشقت کا باعث ہے۔ رہی قصر کی دوسری صورت یعنی عدد رکعات اور نماز کی صفت میں قصر تو یہ قید اپنے اپنے باب کے مطابق ہو گی۔ یعنی انسان کو اگر سفر اور خوف دونوں کا سامنا ہو تو عدد اور صفت دونوں میں قصر کی رخصت ہے۔ اگر وہ بلا خوف کسی سفر پر ہے تو صرف عدد رکعات میں قصر ہے اور اگر صرف دشمن کا خوف لاحق ہے تو صرف وصف نماز میں قصر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هاتان الآيتان: أصل في رخصة القصر وصلاة الخوف، يقول تعالى: {وإذا ضربتُم في الأرض}؛ أي: في السفر، وظاهر الآية أنه يقتضي الترخُّص في أي سفر كان، ولو كان سفر معصية؛ كما هو مذهب أبي حنيفة رحمه الله، وخالف في ذلك الجمهور، وهم الأئمة الثلاثة وغيرهم، فلم يجوِّزوا الترخيص في سفر المعصية؛ تخصيصاً للآية بالمعنى والمناسبة؛ فإنَّ الرخصة سهولةٌ من الله لعباده إذا سافروا أن يقصُروا ويفطروا، والعاصي بسفره لا يناسب حاله التخفيف.

وقوله: {فليس عليكم جناح أن تقصُروا من الصلاة}؛ أي: لا حرج ولا إثم عليكم في ذلك. ولا ينافي ذلك كون القصر هو الأفضل؛ لأن نفي الحرج إزالةٌ لبعض الوهم الواقع في كثيرٍ من النفوس، بل ولا ينافي الوجوب؛ كما تقدَّم ذلك في سورة البقرة في قوله: {إن الصَّفا والمروة من شعائرِ الله ... } إلى آخر الآية، وإزالة الوهم في هذا الموضع ظاهرة؛ لأنَّ الصلاة قد تقرَّر عند المسلمين وجوبُها على هذه الصفة التامَّة، ولا يزيل هذا عن نفوس أكثرهم إلا بذكر ما ينافيه. ويدلُّ على أفضلية القصر على الإتمام أمران: أحدُهما: ملازمة النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - على القصر في جميع أسفاره. والثاني: أن هذا من باب التوسعة والترخيص والرحمة بالعباد، والله تعالى يُحِبُّ أن تُؤتى رُخَصُه، كما يكره أن تُؤتى معصيَتُه.

وقوله: {أن تقصُروا من الصلاة}، ولم يقل: أن تقصُروا الصلاة: فيه فائدتان: إحداهما: أنه لو قال: أن تقصروا الصلاة؛ لكان القصرُ غيرَ منضبط بحدٍّ من الحدود، فربَّما ظنَّ أنه لو قَصَرَ معظم الصلاة وجعلها ركعةً واحدةً؛ لأجزأ؛ فإتيانه بقوله: {من الصلاة}؛ ليدل ذلك على أن القصر محدودٌ مضبوطٌ مرجوعٌ فيه إلى ما تقرَّر من فعل النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - وأصحابه. الثانية: أنَّ {من} تفيدُ التبعيض؛ ليعلم بذلك أن القصر لبعض الصلواتِ المفروضاتِ لا جميعها؛ فإنَّ الفجر والمغرب لا يُقصران، وإنما الذي يُقْصَر الصلاة الرباعية من أربع إلى ركعتين.

فإذا تقرَّر أنَّ القصر في السفر رخصةٌ؛ فاعلمْ أنَّ المفسِّرين قد اختلفوا في هذا القيد، وهو قولُهُ: {إن خفتم أن يَفْتِنَكُمُ الذين كفروا}، الذي يدلُّ ظاهرُهُ أنَّ القصر لا يجوزُ إلا بوجود الأمرين كليهما السفر مع الخوف، ويرجِعُ حاصل اختلافهم إلى أنه هل المرادُ بقوله: {أن تقصُروا}: قصرُ العدد فقط أو قصرُ العدد والصفة؟ فالإشكال إنما يكون على الوجه الأوَّل. وقد أشكل هذا على أمير المؤمنين عمر بن الخطاب رضي الله عنه، حتَّى سأل عنه النبيَّ - صلى الله عليه وسلم -، فقال: يا رسول الله! ما لنا نقصُرُ الصلاة وقد أمِنَّا؟ أي: والله يقولُ: {إن خِفْتُم أن يَفْتِنَكُمُ الذين كفروا}. فقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «صدقةٌ تصدَّق الله بها عليكم؛ فاقبلوا صَدَقَتَهُ». أو كما قال. فعلى هذا يكون هذا القيد أتى به نظراً لغالب الحال التي كان النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - وأصحابه عليها؛ فإنَّ غالب أسفاره أسفار جهاد.

وفيه فائدةٌ أخرى: وهي بيان الحكمة والمصلحة في مشروعية رخصة القصر؛ فبيَّن في هذه الآية أنْهَى ما يُتَصَوَّر من المشقة المناسبة للرخصة، وهي اجتماع السفر والخوف، ولا يستلزم ذلك أن لا يُقْصَرَ مع السفر وحده الذي هو مَظِنَّة المشقَّة. وأما على الوجه الثاني، وهو أنَّ المراد بالقصر [هنا] قصرُ العدد والصِّفة؛ فإنَّ القيدَ على بابِهِ؛ فإذا وجد السفر والخوف؛ جاز قصرُ العدد وقصرُ الصفة، وإذا وُجِدَ السفر وحده؛ جاز قَصْرُ العدد فقط، أو الخوف وحدَه؛ جاز قصرُ الصفة.