تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ ابن العربی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ مرتبہ صلاۃ الخوف پڑھی ہے اور امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صلاۃ الخوف میں تمام احادیث صحیح اور ثابت ہیں، لہٰذا جس صورت میں نماز ادا کر لی جائے جائز ہے۔ حافظ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب احادیث کا مرجع چھ سات صورتوں کی طرف ہے، جن میں سے ہر صورت پر حسب موقع عمل کیا جا سکتا ہے۔(زاد المعاد: ۱؍۵۱۲) امام ابو داؤد رحمہ اللہ نے صلاۃ الخوف کی صورتیں صحیح سندوں کے ساتھ بہت تفصیل سے ذکر فرمائی ہیں۔ یہ تمام صورتیں اس وقت ہیں کہ جب جماعت ممکن ہو، اگر ممکن نہ ہو تو اکیلا پڑھ لے، پیادہ یا سوار یا اشارے سے، جس طرح ہو سکے «{ فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا }» [البقرۃ: ۲۳۹] ”پھر اگر تم ڈرو تو پیدل پڑھ لو یا سوار۔“ اگر جنگ جاری ہو اور اشارے سے بھی نہ پڑھ سکے تو بعد میں قضا کر کے پڑھ لے۔ صحیح بخاری میں ہے، انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں تُستر قلعے کی فتح کے وقت موجود تھا، جب فجر روشن ہو رہی تھی اور لڑائی شدید بھڑک اٹھی تھی تو ہم نماز پڑھ ہی نہ سکے، چنانچہ دن بلند ہونے کے بعد ہی نماز پڑھی۔ ہم نے وہ نماز ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ پڑھی، اللہ تعالیٰ نے فتح عطا فرمائی۔ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے دنیا و مافیہا مل جائے تب بھی اتنی خوشی نہ ہو، جتنی اس نماز سے ہوئی۔“ [بخاری، صلاۃ الخوف، باب الصلاۃ عند مناھضۃ الحصون و لقاء العدو، قبل ح: ۹۴۵]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[بخاری، کتاب مواقیت الصلٰوۃ۔ باب من صلی بالناس جماعۃً بعد ذھاب الوقت]
دراصل نماز خوف کے طریق کار کا انحصار بہت حد تک جنگی حالات پر ہے۔ اگر جماعت کا موقع ہی میسر نہ آئے تو انسان اکیلا بھی پڑھ سکتا ہے۔ سواری پر بھی پڑھ سکتا ہے اور اشارے سے بھی پڑھ سکتا ہے۔ بس دو باتوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ ایک یہ کہ موجودہ جنگی حالات میں کونسا طریقہ بہتر ہے پھر اسے اختیار کیا جائے اور دوسرے یہ کہ ایسے حالات میں اللہ کی یاد کو بھلانا نہیں چاہیے۔ اب اس ضمن میں درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے:
1۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ ”اللہ نے تمہارے نبی کی زبان سے حضر میں چار، سفر میں دو اور خوف میں ایک رکعت نماز فرض کی ہے۔“
[مسلم، کتاب الصلوۃ، باب صلٰوۃ المسافرین وقصرھا]
2۔
3۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے جب کوئی پوچھتا کہ ہم نماز خوف کیسے پڑھیں؟ تو وہ کہتے کہ امام آگے بڑھے کچھ لوگ اس کے ساتھ نماز ادا کریں۔ امام انہیں ایک رکعت پڑھائے۔ باقی لوگ ان کے اور دشمنوں کے درمیان کھڑے رہیں۔ نماز نہ پڑھیں۔ جب یہ لوگ امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھ چکیں تو سرک کر پیچھے چلے جائیں اور جنہوں نے نماز نہیں پڑھی اب وہ لوگ آجائیں اور امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھیں۔ امام تو اپنی نماز (دو رکعت) سے فارغ ہو گیا۔ اب یہ دونوں گروہ باری باری ایک ایک رکعت پوری کر لیں تو ان کی بھی دو دو رکعت ہو جائیں گی اور اگر خوف اس سے زیادہ ہو تو پاؤں پر کھڑے کھڑے، پیدل یا سواری پر رہ کر نماز ادا کر لیں۔ منہ قبلہ رخ ہو یا نہ ہو۔ امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نافع نے کہا کہ عبد اللہ بن عمرؓ نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے۔ [بخاري، كتاب التفسير]
[140] آیت مذکورہ میں صرف دو صورتوں میں ہتھیار اتارنے کی اجازت ہے۔ پہلی یہ کہ بارش ہو رہی ہو کپڑے اور ہتھیار بھیگ رہے ہوں۔ دوسری یہ کہ کوئی شخص بیماری کی وجہ سے ہتھیار بند رہنے کا متحمل نہ ہو۔ ان صورتوں کے علاوہ ہتھیار اتارنے کی اجازت نہیں۔ اس لیے آخر میں تاکیدی طور پر دوبارہ سہ بارہ اس حکم کو دہرایا۔ ﴿خُذُوْا حِذْرَكُمْ﴾ کے الفاظ بڑے وسیع مفہوم میں استعمال ہوتے ہیں، اس کے معنی ہوشیار اور چوکنا رہنا مسلح رہنا اور اپنے بچاؤ کے تمام ذرائع اختیار کیے رکھنا ہے۔ مثلاً مورچوں کی حفاظت کرنا اور ان میں پناہ پکڑنا، لڑائی سے پہلے سامان جنگ تیار رکھنا۔ دشمن کی نقل و حرکت سے باخبر رہنا، اس کا مداوا سوچنا بے خبری میں دشمن کے حملے کے لیے تیار رہنا سب کچھ ﴿خُذُوْا حِذْرَكُمْ﴾ کے مفہوم میں سما جاتا ہے۔ دور نبوی میں اسلحہ جنگ ہر مجاہد کی انفرادی ملکیت ہوتا تھا مگر آج اسلحہ جنگ مہیا کرنا حکومتوں کی ذمہ داری ہے لہٰذا اسلحہ جنگ کے تیار کرنے والے کارخانوں، اسلحہ کے ذخائر اور دشمن سے ان کا بچاؤ بھی ﴿خُذٌوْا حِذْرَكُمْ﴾ میں شامل ہے۔ غرض قوم و ملک کا تحفظ، افراد فوج کے تحفظ کی تدابیر، آلات جنگ کا تحفظ، لڑائی کے منصو بوں کو صیغہ راز میں رکھنا سب کچھ اس حکم میں داخل ہے۔ آج دشمن سب سے پہلے اسلحہ کے محفوظ ذخائر کو یا اسلحہ ساز فیکٹریوں کو اچانک حملے کے ذریعے تباہ کر دیتا ہے۔ ان سب امور کی طرف مسلمانوں کو اس آیت میں متوجہ کیا گیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بلکہ الگ الگ قبلہ کی طرف اور غیر قبلہ کی طرف پیدل اور سوار جس طرح ممکن ہو پڑھی جاتی ہے بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے جو جائز بھی ہے کہ دشمنوں کے حملوں سے بچتے بھی جائیں ان پر برابر حملے بھی کرتے جائیں اور نماز بھی ادا کرتے جائیں، ایسی حالت میں صرف ایک رکعت ہی نماز پڑھی جاتی ہے جس کے جواز میں علماء کا فتویٰ ہے اور دلیل سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے جو اس سے اگلی آیت کی تفسیر میں بیان ہو چکی ہے
عطا، جابر، حسن، مجاہد، حکم، قتادہ، حماد، طاؤس، ضحاک، محمد بن نصر، مروزی، ابن حزم رحمہ اللہ علیہم اجمعین کا یہی فتویٰ ہے، صبح کی نماز میں ایک ہی رکعت اس حالت میں رہ جاتی ہے، اسحٰق راہویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسی دوڑ دھوپ کے وقت ایک ہی رکعت کافی ہے۔
ارشاد ہے ادا کر لے اگر اس قدر پر بھی قادریہ نہ ہو تو سجدہ کر لے یہ بھی ذکر اللہ ہے، اور لوگ کہتے ہیں صرف ایک تکبیر ہی کافی ہے لیکن یہ ہو سکتا ہے کہ ایک سجدہ اور ایک تکبیر سے مراد بھی ایک رکعت ہو۔ جیسے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب کا فتویٰ ہے اور یہی قول ہے جابر بن عبداللہ، عبداللہ بن عمر کعب وغیرہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کا۔ سدی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں۔
امیر عبدالوہاب بن بخت مکی رحمہ اللہ بھی اسی طرف گئے ہیں وہ یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر اس پر بھی قدرت نہ ہو تو اسے اپنے نفس میں بھی نہ چھوڑے یعنی نیت ہی کر لے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ (لیکن صرف نیت کے کر لینے یا صرف اللہ اکبر کہہ لینے پر اکتفا کرنے یا صرف ایک ہی سجدہ کر لینے کی کوئی دلیل قرآن حدیث سے نظر سے نہیں گذری۔ واللہ اعلم مترجم)
پھر اس کے بعد بنو قریظہ کی جنگ کے دن ان کی طرف جنہیں بھیجا تھا انہیں تاکید کر دی تھی کہ تم میں سے کوئی بھی بنو قریظہ تک پہنچنے سے پہلے عصر کی نماز نہ پڑھے یہ جماعت ابھی راستے میں ہی تھی تو عصر کا وقت آ گیا۔
بعض نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد اس فرمان سے صرف یہی تھا کہ ہم جلدی بنو قریظہ پہنچیں نہ یہ کہ نماز کا وقت ہو جائے تو بھی نماز نہ پڑھیں چنانچہ ان لوگوں نے تو راستے میں ہی بروقت نماز ادا کرلی اوروں نے بنوقریظہ پہنچ کر نماز پڑھی جبکہ سورج غروب ہو چکا تھا۔ جب اس بات کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تو آپ نے دونوں جماعتوں میں سے کسی ایک کو بھی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4119]
ہم نے اس پر تفصیلی بحث اپنی کتاب السیرۃ میں کی ہے اور اسے ثابت کیا ہے کہ صحیح بات کے قریب وہ جماعت تھی جنہوں نے وقت پر نماز ادا کر لی گو دوسری جماعت بھی معذور تھی، مقصود یہ ہے کہ اس جماعت نے جہاد کے موقعہ پر دشمنوں پر تاخت کرتے ہوئے ان کے قلعے کی طرف یورش جاری رکھتے ہوئے نماز کو مؤخر کر دیا، دشمنوں کا یہ گروہ ملعون یہودیوں کا تھا جنہوں نے عہذ توڑ دیا تھا اور صلح کے خلاف کیا تھا۔
لیکن جمہور کہتے ہیں صلوٰۃ خوف کے نازل ہونے سے یہ سب منسوخ ہو گیا یہ واقعات اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے کے ہیں صلوۃ خوف کے حکم کے بعد اب جہاد کے وقت نماز کو وقت سے ٹالنا جائز نہیں رہا۔
اگر یہ بھی نہ ہو سکتا ہو تو نماز میں تاخیر کر لیں یہاں تک کہ جنگ ختم ہو یا امن ہو جائے اس وقت دو رکعتیں پڑھ لیں اور اگر امن نہ ملے تو ایک رکعت ادا کر لیں صرف تکبیر کا کہہ لینا کافی نہیں۔ ایسا ہو تو نماز کو دیر کر کے پڑھیں جبکہ اطمینان نصیب ہو جائے مکحول رحمہ اللہ کا فرمان بھی یہی ہے
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تستر کے قلعہ کے محاصرے میں میں موجود تھا صبح صادق کے وقت دست بدست جنگ شروع ہوئی اور سخت گھمسان کا رن پڑا ہم لوگ نماز نہ پڑھ سکے اور برابر جہاد میں مشغول رہے جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں قلعہ پر قابض کر دیا اس وقت ہم نے دن چڑھے نماز پڑھی۔
اس جنگ میں ہمارے امام سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ تھے سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس نماز کے متبادل ساری دنیا کی تمام چیزیں بھی مجھے خوش نہیں کر سکتیں۔
یہ قول بالکل ہی غریب ہے اس لیے کہ غزوہ خندق کے بعد کی صلوۃ خوف کی حدیثیں ثابت ہیں، اس دن کی نماز کی تاخیر کو مکحول اور اوزاعی رحمہ اللہ علیہما کے قول پر ہی محمول کرنا زیادہ قوی اور زیادہ درست ہے یعنی ان کا وہ قول جو بحوالہ بخاری بیان ہوا کہ قرب فتح اور عدم امکان صلوۃ خوف کے باوجود تاخیر جائز ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اگر جماعت واجب نہ ہوتی تو صرف ایک رکعت جائز نہ کی جاتی۔ بعض نے اس سے ایک اور استدلال بھی کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ اس میں چونکہ یہ لفظ ہیں کہ جب تو ان میں ہو اور یہ خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے تو معلوم ہوا کہ صلوۃ خوف کا حکم آپ کے بعد منسوخ ہے، یہ استدلال بالکل ضعیف ہے۔
تو ہم آپ کے بعد کسی کو زکوٰۃ نہ دیں گے بلکہ ہم آپ اپنے ہاتھ سے خود جسے چاہیں دیں گے اور صرف اسی کو دیں گے جس کو دعا ہمارے لیے سبب سکون بنے۔ لیکن یہ استدلال ان کا بے معنی تھا اسی لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اسے رد کر دیا اور انہیں مجبور کیا کہ یہ زکوٰۃ ادا کریں بلکہ ان میں سے جن لوگوں نے اسے روک لیا تھا ان سے جنگ کی۔ آئیے ہم آیت کی صفت بیان کرنے سے پہلے اس کا شان نزول بیان کر دیں۔
اس کے بعد سال بھر تک کوئی حکم نہ آیا پھر جبکہ آپ ایک غزوے میں ظہر کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو مشرکین کہنے لگے افسوس کیا ہی اچھا موقعہ ہاتھ سے جاتا رہا کاش کہ نماز کی حالت میں ہم یکبارگی ان پر حملہ کر دیتے۔
اس پر بعض مشرکین نے کہا یہ موقعہ تو تمہیں پھر بھی ملے گا اس کے تھوڑی دیر بعد ہی یہ دوسری نماز [یعنی نماز عصر] کے لیے کھڑے ہوں گے،
لیکن اللہ تعالیٰ نے عصر کی نماز سے پہلے اور ظہر کی نماز کے بعد «إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ إِنَّ الْكَافِرِينَ كَانُوا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِينًا» ۱؎ [4-النساء:101] والی پوری دو آیتوں تک نازل فرما دیں اور کافر ناکام رہے خود اللہ تعالیٰ و قدوس نے صلوۃ خوف کی تعلیم دی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10319:ضعیف] گویہ سیاق نہایت ہی غریب ہے لیکن اسے مضبوط کرنے والی اور روایتیں بھی ہیں۔
پھر ان میں کے بعض جاننے والوں نے کہا خیر کوئی بات نہیں اس کے بعد ان کی ایک اور نماز کا وقت آ رہا ہے اور وہ نماز تو انہیں اپنے بال بچوں سے بلکہ اپنی جانوں سے بھی زیاہ عزیز ہے اس وقت سہی۔ پس ظہر عصر کے درمیان اللہ عزوجل نے جبرائیل علیہ السلام کو نازل فرمایا اور «وَإِذَا كُنتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ» ۱؎ [4-النساء:102] اتاری۔
چنانچہ عصر کی نماز کے وقت ہمیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہم نے ہتھیار سجا لیے اور اپنی دو صفوں میں سے پہلی صف آپ کے ساتھ سجدے میں گئی اور دوسری صف کھڑی کی کھڑی ان کی نگہبانی کرتی رہی جب سجدوں سے فارغ ہو کر یہ لوگ کھڑے ہو گئے تو اب دوسری صف والے سجدے میں گئے جب یہ دونوں سجدے کر چلے تو اب پہلی صف والے دوسری صف کی جگہ چلے گئے اور دوسری صف والے پہلی صف والوں کی جگہ آ گئے، پھر قیام رکوع اور قومہ سب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی ساتھ ادا کیا اور جب آپ سجدے میں گئے تو صف اول آپ کے ساتھ سجدے میں گئی اور دوسری صف والے کھڑے ہوئے پہرہ دیتے رہے جب یہ سجدوں سے فارغ ہو گئے اور التحیات میں بیٹھے تب دوسری صف کے لوگوں نے سجدے کئے اور التحیات میں سب کے سب ساتھ مل گئے اور سلام بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب نے ایک ساتھ پھیرا۔ صلوٰۃ خوف ایک بار تو آپ نے یہاں عسفان میں پڑھی اور دوسری مرتبہ بنو سلیم کی زمین میں۔
ابن جریر میں ہے کہ سیدنا سلیمان بن قیس یشکری رضی اللہ عنہ نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا نماز کے قصر کرنے کا حکم کب نازل ہوا؟ تو آپ نے فرمایا { قریشیوں کا ایک قافلہ شام سے آ رہا تھا ہم اس کی طرف چلے۔ وادی نخل میں پہنچے تو ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہچ گیا اور کہنے لگا کیا آپ مجھ سے ڈرتے نہیں؟ آپ نے فرمایا نہیں اس نے کہا آپ کو مجھ سے اس وقت کون بچا سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ مجھے تجھ سے بچا لے گا پھر تلوار کھینچ لی اور ڈرایا دھمکایا، پھر کوچ کی منادی ہوئی اور آپ ہتھیار سجا کر چلے۔
پھر اذان ہوئی اور صحابہ دو حصوں میں تقسیم ہو گئے ایک حصہ آپ کے ساتھ نماز ادا کر رہا تھا اور دوسرا حصہ پہرہ دے رہا تھا جو آپ کے متصل تھے وہ دو رکعت آپ کے ساتھ پڑھ کر پیچھے والوں کی جگہ چلے گئے اور پیچھے والے اب آگے بڑھ آئے اور ان اگلوں کی جگہ کھڑے ہو گئے انہیں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت پڑھائیں پھر سلام پھیر دیا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعت ہوئیں اور سب کی دو دو ہوئیں } اور اللہ تعالیٰ نے نماز کی کمی کا اور ہتھیار لیے رہنے کا حکم نازل فرمایا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10330]
آپ نے فرمایا کیا تو اللہ کے ایک ہونے کی اور میرے رسول ہونے کی شہادت دیتا ہے؟ اس نے کہا یہ تو نہیں ہاں میں اقرار کرتا ہوں کہ آپ سے لڑوں گا نہیں اور ان لوگوں کا ساتھ نہ دوں گا جو آپ سے برسر پیکار ہوں آپ نے اسے معافی دی۔ } جب یہ اپنے قبیلے والوں میں آیا تو کہنے لگا روئے زمین پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر کوئی شخص نہیں۔ ۱؎ [مسند احمد:390/3:صحیح]
پس سب کی ایک ایک رکعت ہے پھر صلوۃ خوف کا اسی طرح ذکر کیا اس میں یہ بھی ہے کہ آپ کے سلام کے ساتھ آپ کے پیچھے والوں نے ان لوگوں نے سلام پھیرا اور اس میں دونوں حصہ فوج کے ساتھ ایک ایک رکعت پڑھنے کا بیان ہے پس سب کی ایک ایک رکعت ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:5898/4:حسن]
اور روایت میں ہے کہ ایک جماعت آپ کے پیچھے صف بستہ نماز میں تھی اور ایک جماعت دشمن کے مقابل تھی پھر ایک رکعت کے بعد آپ کے پیچھے والے اگلوں کی جگہ آ گئے اور پہ پیچھے آ گئے۔ یہ حدیث بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں کے ساتھ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:298/3:صحیح]
ایک اور حدیث جو بروایت سالم عن ابیہ مروی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ پھر کھڑے ہو کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک ایک رکعت اپنی اپنی ادا کر لی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4133]
اس حدیث کی بھی بہت سی سندیں اور بہت سے الفاظ ہیں حافظ ابوبکر بن مردویہ رحمہ اللہ نے ان سب کو جمع کر دیا، اور اسی طرح ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی، ہم اسے کتاب احکام کبیر میں لکھنا چاہتے ہیں ان شاءاللہ۔
خوف کی نماز میں ہتھیار لیے رہنے کا حکم بعض کے نزدیک توبطور وجوب کے ہے کیونکہ آیت کے ظاہری الفاظ ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے اور اسی کی تائید اس آیت کے پچھلے فقرے سے بھی ہوتی ہے کہ بارش یا بیماری کی وجہ سے ہتھیار اتار رکھنے میں تم پر گناہ نہیں اپنا بچاؤ ساتھ لیے رہو، یعنی ایسے تیار رہو کہ وقت آتے ہی بے تکلف وبے تکلیف ہتھیار سے آراستہ ہو جاؤ۔ اللہ نے کافروں کے لیے اہانت والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولذلك أتى بصفة صلاة الخوف بعدها بقوله: {وإذا كنتَ فيهم فأقمتَ لهمُ الصَّلاة}؛ أي: صَلَّيْتَ بهم صلاةً تُقيمها وتُتِمُّ ما يجبُ فيها ويلزم فعلُهم ما ينبغي لك ولهم فعلُه، ثم فسَّر ذلك بقوله: {فَلْتَقُمْ طائفةٌ منهم معك}؛ أي: وطائفةٌ قائمةٌ بإزاء العدوِّ؛ كما يدلُّ على ذلك ما يأتي. {فإذا سجدوا}؛ أي: الذين معك؛ أي: أكملوا صلاتهم، وعبَّر عن الصلاة بالسُّجود؛ ليدلَّ على فضل السجود وأنَّه ركنٌ من أركانها، بل هو أعظمُ أركانها، {فليكونوا من ورائِكُم ولتأتِ طائفةٌ أخرى لم يصلُّوا}: وهم الطائفةُ الذين قاموا إزاءَ العدوِّ، {فَلْيُصَلُّوا معك}: ودلَّ ذلك على أنَّ الإمام يبقى بعد انصراف الطائفةِ الأولى منتظراً للطائفة الثانية؛ فإذا حضروا صلَّى بهم ما بقي من صلاته، ثم جلس ينتظِرُهم حتى يُكْمِلوا صلاتَهم، ثم يسلِّم بهم. وهذا أحد الوجوه في صلاة الخوف؛ فإنَّها صحَّت عن النبي صلى الله عليه (وسلم) من وجوه كثيرة كلها جائزة.
وهذه الآية تدلُّ على أنَّ صلاة الجماعة فرض عين من وجهين:
أحدهما: أنَّ الله تعالى أمر بها في هذه الحالة الشديدة وقت اشتداد الخوف من الأعداء وحذر مهاجمتهم؛ فإذا أوجبها في هذه الحالة الشديدة، فإيجابُها في حالة الطمأنينة والأمن من باب أولى وأحرى.
والثاني: أنَّ المصلِّين صلاة الخوف يترُكون فيها كثيراً من الشُّروط واللوازم، ويُعفى فيها عن كثيرٍ من الأفعال المبطلة في غيرها، وما ذاك إلا لتأكُّد وجوب الجماعة؛ لأنَّه لا تعارض بين واجبٍ ومستحبٍّ؛ فلولا وجوب الجماعة؛ لم تتركْ هذه الأمور اللازمة لأجلها.
وتدلُّ الآية الكريمة على أنَّ الأَوْلَى والأفضل أن يصلُّوا بإمام واحد ولو تضمَّن ذلك الإخلال بشيءٍ لا يخلُّ به لو صلَّوها بعدة أئمة، وذلك لأجل اجتماع كلمة المسلمين واتِّفاقهم وعدم تفرُّق كلمتِهِم، وليكونَ ذلك أوقع هيبةً في قلوب أعدائِهِم.
وأمر تعالى بأخذ السلاح والحذر في صلاة الخوف، وهذا وإن كان فيه حركةٌ واشتغالٌ عن بعض أحوال الصلاة؛ فإنَّ فيه مصلحةً راجحةً، وهو الجمع بين الصلاة والجهاد والحَذَر من الأعداء الحريصين غايةَ الحرص على الإيقاع بالمسلمين والميل عليهم وعلى أمتعتهم، ولهذا قال تعالى: {ودَّ الذين كفروا لو تغفُلون عن أسلحتكِم وأمتعتِكم فيمليونَ عليكم ميلةً واحدةً}.
ثم إنَّ الله عَذَرَ من له عُذْرٌ من مرض أو مطرٍ أن يَضَعَ سلاحَه، ولكن مع أخذ الحذرِ، فقال: {ولا جُناح عليكم إن كان بكم أذىً من مطرٍ أو كنتم مرضى أن تضعوا أسلحتكم وخذوا حِذْركم إن الله أعدَّ للكافرين عذاباً مهيناً}، ومن العذابِ المهين ما أمر الله به حزبَهُ المؤمنين وأنصار دينِهِ الموحِّدين مِن قتلهم وقتالهم حيثما ثَقفوهم، ويأخذوهم، ويحصُروهم، ويقعدوا لهم كلَّ مرصدٍ، ويحذروهم في جميع الأحوال، ولا يغفلوا عنهم خشية أن ينال الكفار بعض مطلوبهم فيهم؛ فللهِ أعظم حمدٍ وثناءٍ على ما منَّ به على المؤمنين وأيَّدهم بمعونتِهِ وتعاليمه التي لو سَلَكوها على وجه الكمال؛ لم تهزمْ لهم رايةٌ، ولم يظهرْ عليهم عدوٌّ في وقتٍ من الأوقات.
وقوله: {فإذا سَجَدوا فليكونوا من ورائكم}: يدلُّ على أنَّ هذه الطائفة تُكْمِلُ جميع صلاتها قبل ذهابهم إلى موضع الحارسين، وأنَّ الرسول - صلى الله عليه وسلم - يثبت منتظراً للطائفة الأخرى قبل السلام؛ لأنه أولاً ذكر أنَّ الطائفة تقوم معه، فأخبر عن مصاحبتهم له، ثم أضاف الفعل بعد إليهم دون الرسول، فدل ذلك على ما ذكرناه.
وفي قوله {فلتأت طائفة أخرى لم يصلوا فليصلوا معك}: دليلٌ على أنَّ الطائفة الأولى قد صلوا، وأنَّ جميع صلاة الطائفة الثانية تكون مع الإمام حقيقةً في ركعتهم الأولى وحكماً في ركعتهم الأخيرة، فيستلزمُ ذلك انتظارَ الإمام إيَّاهم حتَّى يُكْمِلوا صلاتهم، ثم يُسَلِّم بهم. وهذا ظاهرٌ للمتأمِّل.