اَمَّنۡ ہُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیۡلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحۡذَرُ الۡاٰخِرَۃَ وَ یَرۡجُوۡا رَحۡمَۃَ رَبِّہٖ ؕ قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ؕ اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ٪﴿۹﴾
(کیا یہ بہترہے) یا وہ شخص جو رات کی گھڑیوں میں سجدہ کرتے ہوئے اور قیا م کر تے ہوئے عبادت کرنے والا ہے، آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہے؟ کہہ دے کیا برابر ہیں وہ لوگ جو جانتے ہیں اور وہ جو نہیں جانتے؟ نصیحت تو بس عقلوں والے ہی قبول کرتے ہیں۔
En
(بھلا مشرک اچھا ہے) یا وہ جو رات کے وقتوں میں زمین پر پیشانی رکھ کر اور کھڑے ہو کر عبادت کرتا اور آخرت سے ڈرتا اور اپنے پروردگار کی رحمت کی امید رکھتا ہے۔ کہو بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟ (اور) نصیحت تو وہی پکڑتے ہیں جو عقلمند ہیں
En
بھلا جو شخص راتوں کے اوقات سجدے اور قیام کی حالت میں (عبادت میں) گزارتا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہو، (اور جو اس کے برعکس ہو برابر ہو سکتے ہیں) بتاؤ تو علم والے اور بے علم کیا برابر کے ہیں؟ یقیناً نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہوں۔ (اپنے رب کی طرف سے)
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 9) ➊ {اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّيْلِ …: ” قَانِتٌ “} کا معنی عبادت کرنے والا بھی ہے، فرماں بردار بھی اور خشوع و عاجزی کرنے والا بھی۔ {” اَمَّنْ “} (یا وہ شخص) کے لفظ سے ظاہر ہے کہ اس سے پہلے کچھ الفاظ محذوف ہیں، یعنی {”أَ هٰذَا خَيْرٌ“} (کیا یہ مصیبت میں اپنے رب کو پکارنے والا اور نعمت عطا ہونے پر اسے بھول جانے والا بہتر ہے) {” اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ “} یا وہ شخص جو صرف دن کے وقت ہی نہیں بلکہ رات کی گھڑیوں میں بھی سجدے اور قیام کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنے والا اور ہر حال میں اسی کا فرماں بردار ہے؟ جواب ظاہر ہے کہ یہ مومن (قانت) ہر لحاظ سے اس سے بہتر ہے۔
➋ { يَحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ يَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ:} ایمان اللہ تعالیٰ کے خوف اور اس سے امید کے درمیان ہے۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک نوجوان کے پاس گئے جو موت (کے چل چلاؤ) میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [كَيْفَ تَجِدُكَ؟ قَالَ وَاللّٰهِ! يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنِّيْ أَرْجُو اللّٰهَ وَ إِنِّيْ أَخَافُ ذُنُوْبِيْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ لَا يَجْتَمِعَانِ فِيْ قَلْبِ عَبْدٍ فِيْ مِثْلِ هٰذَا الْمَوْطِنِ إِلَّا أَعْطَاهُ اللّٰهُ مَا يَرْجُوْ وَ آمَنَهُ مِمَّا يَخَافُ] [ترمذي، الجنائز، باب الرجاء باللّٰہ والخوف بالذنب عند الموت: ۹۸۳] ”تو اپنے آپ کو کس حال میں پاتا ہے؟“ اس نے کہا: ”اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! میں اللہ سے امید رکھتا ہوں اور اپنے گناہوں سے ڈرتا بھی ہوں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس جیسے مقام پر کسی بندے کے دل میں یہ دونوں چیزیں جمع نہیں ہوتیں مگر اللہ تعالیٰ اسے وہ چیز عطا کر دیتا ہے جس کی وہ امید رکھتا ہے اور اس چیز سے اسے امن عطا کر دیتا ہے جس سے وہ ڈرتا ہے۔“
➌ {قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ …:} یہاں {” الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ “} (جاننے والے) ان لوگوں کو کہا گیا ہے جو دن رات، خوش حالی و بدحالی میں ہر وقت ایک اللہ ہی کی عبادت کرنے والے اور اسی کے فرماں بردار ہیں اور {” وَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ “} (نہ جاننے والے) ان لوگوں کو کہا گیا ہے جو تکلیف اور مصیبت میں تمام معبودوں سے واپس پلٹ کر ایک اللہ ہی کو پکارتے ہیں، مگر خوش حالی میں اسے بھول کر اللہ تعالیٰ کے لیے کئی شریک بنا لیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جاننے کے باوجود کہ تمام اختیارات کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے، نعمت عطا ہونے پر اسے بھلا دیتے ہیں اور اس کے شریک بنا لیتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں نہ جاننے والے قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص اپنے علم پر عمل نہیں کرتا وہ جاہل ({لَا يَعْلَمُ}) ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا» [فاطر: ۲۸] ”اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے صرف علماء (جاننے والے) ہی ڈرتے ہیں۔“ اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرنے والے اللہ کے نزدیک علماء نہیں، خواہ ان کے پاس کتنی ڈگریاں اور کتنے عہدے ہوں اور خواہ انھوں نے کتنی کتابیں یا کتب خانے چاٹ رکھے ہوں۔
➍ اس آیت سے علم اور اس پر عمل کرنے والے اہلِ علم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللّٰهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَتْلُوْهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَ آنَاءَ النَّهَارِ، وَ رَجُلٌ آتَاهُ اللّٰهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ] [بخاري، التوحید، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم : رجل آتاہ اللّٰہ القرآن…: ۷۵۲۹] ”دو چیزوں کے سوا رشک کرنا درست نہیں، ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن دیا تو وہ رات کی گھڑیوں میں اور دن کی گھڑیوں میں اس کی تلاوت کرتا ہے، اور ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے کھلا مال عطا کیا ہے تو وہ رات کی گھڑیوں اور دن کی گھڑیوں میں اسے خرچ کرتا ہے۔“ امام بخاری رحمہ اللہ نے {”بَابُ فَضْلِ الْعِلْمِ“} میں علم کی فضیلت میں دو آیات نقل فرمائی ہیں، ایک سورۂ مجادلہ کی: «يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ» [المجادلۃ: ۱۱] ”اللہ ان لوگوں کو درجوں میں بلند کرے گاجو تم میں سے ایمان لائے اور جنھیں علم دیا گیا۔“ اور دوسری سورۂ طٰہٰ کی: «وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا» [طٰہٰ: ۱۱۴] ”اور کہہ اے میرے رب! مجھے علم میں زیادہ کر۔“ موسیٰ اور خضر علیھما السلام کا واقعہ بھی علم کی فضیلت کی دلیل ہے۔ (دیکھیے بخاری: ۷۴)
➎ { اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ: ” الْاَلْبَابِ “ ”لُبٌّ“} کی جمع ہے، مغز، عقل۔ جمع ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”عقلوں والے“ کیا گیا ہے۔ ان عقلوں والوں سے مراد اہلِ ایمان ہیں نہ کہ کفار، گو وہ اپنے آپ کو کس قدر عقل و دانش والے سمجھتے ہوں، کیونکہ جب وہ اپنی عقلوں کو استعمال کر کے نصیحت حاصل ہی نہیں کرتے تو عقلوں والے کیسے ہوئے!؟ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے چوپاؤں کی طرح بلکہ ان سے بھی {”اضل“} قرار دیا ہے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۷۹) اور انبیاء (۴۶) کی تفسیر۔
➋ { يَحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ يَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ:} ایمان اللہ تعالیٰ کے خوف اور اس سے امید کے درمیان ہے۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک نوجوان کے پاس گئے جو موت (کے چل چلاؤ) میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [كَيْفَ تَجِدُكَ؟ قَالَ وَاللّٰهِ! يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنِّيْ أَرْجُو اللّٰهَ وَ إِنِّيْ أَخَافُ ذُنُوْبِيْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ لَا يَجْتَمِعَانِ فِيْ قَلْبِ عَبْدٍ فِيْ مِثْلِ هٰذَا الْمَوْطِنِ إِلَّا أَعْطَاهُ اللّٰهُ مَا يَرْجُوْ وَ آمَنَهُ مِمَّا يَخَافُ] [ترمذي، الجنائز، باب الرجاء باللّٰہ والخوف بالذنب عند الموت: ۹۸۳] ”تو اپنے آپ کو کس حال میں پاتا ہے؟“ اس نے کہا: ”اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! میں اللہ سے امید رکھتا ہوں اور اپنے گناہوں سے ڈرتا بھی ہوں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس جیسے مقام پر کسی بندے کے دل میں یہ دونوں چیزیں جمع نہیں ہوتیں مگر اللہ تعالیٰ اسے وہ چیز عطا کر دیتا ہے جس کی وہ امید رکھتا ہے اور اس چیز سے اسے امن عطا کر دیتا ہے جس سے وہ ڈرتا ہے۔“
➌ {قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ …:} یہاں {” الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ “} (جاننے والے) ان لوگوں کو کہا گیا ہے جو دن رات، خوش حالی و بدحالی میں ہر وقت ایک اللہ ہی کی عبادت کرنے والے اور اسی کے فرماں بردار ہیں اور {” وَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ “} (نہ جاننے والے) ان لوگوں کو کہا گیا ہے جو تکلیف اور مصیبت میں تمام معبودوں سے واپس پلٹ کر ایک اللہ ہی کو پکارتے ہیں، مگر خوش حالی میں اسے بھول کر اللہ تعالیٰ کے لیے کئی شریک بنا لیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جاننے کے باوجود کہ تمام اختیارات کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے، نعمت عطا ہونے پر اسے بھلا دیتے ہیں اور اس کے شریک بنا لیتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں نہ جاننے والے قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص اپنے علم پر عمل نہیں کرتا وہ جاہل ({لَا يَعْلَمُ}) ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا» [فاطر: ۲۸] ”اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے صرف علماء (جاننے والے) ہی ڈرتے ہیں۔“ اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرنے والے اللہ کے نزدیک علماء نہیں، خواہ ان کے پاس کتنی ڈگریاں اور کتنے عہدے ہوں اور خواہ انھوں نے کتنی کتابیں یا کتب خانے چاٹ رکھے ہوں۔
➍ اس آیت سے علم اور اس پر عمل کرنے والے اہلِ علم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللّٰهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَتْلُوْهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَ آنَاءَ النَّهَارِ، وَ رَجُلٌ آتَاهُ اللّٰهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ] [بخاري، التوحید، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم : رجل آتاہ اللّٰہ القرآن…: ۷۵۲۹] ”دو چیزوں کے سوا رشک کرنا درست نہیں، ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن دیا تو وہ رات کی گھڑیوں میں اور دن کی گھڑیوں میں اس کی تلاوت کرتا ہے، اور ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے کھلا مال عطا کیا ہے تو وہ رات کی گھڑیوں اور دن کی گھڑیوں میں اسے خرچ کرتا ہے۔“ امام بخاری رحمہ اللہ نے {”بَابُ فَضْلِ الْعِلْمِ“} میں علم کی فضیلت میں دو آیات نقل فرمائی ہیں، ایک سورۂ مجادلہ کی: «يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ» [المجادلۃ: ۱۱] ”اللہ ان لوگوں کو درجوں میں بلند کرے گاجو تم میں سے ایمان لائے اور جنھیں علم دیا گیا۔“ اور دوسری سورۂ طٰہٰ کی: «وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا» [طٰہٰ: ۱۱۴] ”اور کہہ اے میرے رب! مجھے علم میں زیادہ کر۔“ موسیٰ اور خضر علیھما السلام کا واقعہ بھی علم کی فضیلت کی دلیل ہے۔ (دیکھیے بخاری: ۷۴)
➎ { اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ: ” الْاَلْبَابِ “ ”لُبٌّ“} کی جمع ہے، مغز، عقل۔ جمع ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”عقلوں والے“ کیا گیا ہے۔ ان عقلوں والوں سے مراد اہلِ ایمان ہیں نہ کہ کفار، گو وہ اپنے آپ کو کس قدر عقل و دانش والے سمجھتے ہوں، کیونکہ جب وہ اپنی عقلوں کو استعمال کر کے نصیحت حاصل ہی نہیں کرتے تو عقلوں والے کیسے ہوئے!؟ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے چوپاؤں کی طرح بلکہ ان سے بھی {”اضل“} قرار دیا ہے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۷۹) اور انبیاء (۴۶) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
9۔ 1 اور یہ اہل ایمان ہی ہیں، نہ کہ کفار۔ گو وہ اپنے آپ کو صاحب دانش و بصیرت ہی سمجھتے ہوں۔ لیکن جب وہ اپنی عقل و دانش کو استعمال کرکے غور و تدبر ہی نہیں کرتے اور عبرت و نصیحت ہی حاصل نہیں کرتے تو ایسے ہی ہے گویا وہ چوپایوں کی طرح عقل و دانش سے محروم ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
9۔ کیا (ایسا شخص بہتر ہے) یا وہ جو رات کے اوقات قیام اور سجدہ میں عبادت کرتے گزارتا ہے، آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے پروردگار کی رحمت کا امیدوار ہے؟ آپ ان سے پوچھئے: کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں برابر [19] ہو سکتے ہیں؟ مگر ان باتوں سے سبق تو وہی حاصل کرتے ہیں جو اہل عقل و خرد ہوں۔
[19] اللہ کے ہاں عالم کون اور جاہل کون؟
اب ایک یہ شخص ہے جو صرف مصیبت کے وقت غیر اللہ کو پکارتا ہے۔ اور اسے قرآن ”جاہل یا نہ جاننے والے“ کے نام سے پکارتا ہے۔ خواہ وہ علامہ ئدہر ہو اور دوسرا وہ شخص ہے جو تنگی ترشی اور خوشحالی غرض ہر طرح کے حالات میں صرف اللہ پر ہی تکیہ کرتا ہے اور اسے ہی پکارتا ہے۔ رات کے اندھیروں میں اس کے حضور سجدہ ریز ہوتا ہے۔ اسی سے ڈرتا ہے اور اسی سے اس کی رحمت کی توقع بھی رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو ’عالم یا جاننے والے‘ کے نام سے پکارتا ہے۔ خواہ وہ پرائمری پاس بھی نہ ہو یا ابتدائی دینی کتابیں بھی نہ پڑھا ہو۔ اور اس مفہوم کی تائید قرآن کریم کے ایک اور جملہ: ﴿إنَّمَا يَخْشَي اللّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰۤؤُا﴾ [35: 38] سے بھی ہو جاتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اہل عقل و خرد کے سامنے یہ سوال رکھتا ہے کہ بتاؤ ان دونوں کی طرز زندگی ایک جیسی ہے یا ان دونوں کا انجام ایک جیسا ہو سکتا ہے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مشرک اور موحد برابر نہیں ٭٭
مطلب یہ ہے کہ جس کی حالت یہ ہو وہ مشرک کے برابر نہیں۔ جیسے فرمان ہے «لَيْسُوْا سَوَاءً مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ يَتْلُونَ آيَاتِ اللَّـهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ» ۱؎ [3-آل عمران:113]، یعنی ’ سب کے سب برابر کے نہیں، اہل کتاب میں وہ جماعت بھی ہے جو راتوں کے وقت قیام کی حالت میں آیات الہیہ کی تلاوت کرتے ہیں اور سجدوں میں پڑے رہتے ہیں ‘۔ قنوت سے مراد یہاں پر نماز کا خشوع خضوع ہے۔ صرف قیام مراد نہیں۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے «قَانِتٌ» کے معنی مطیع اور فرمانبردار کے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے کہ «آنَاءَ اللَّيْلِ» سے مراد آدھی رات سے ہے۔ منصور رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مغرب عشاء کے درمیان کا وقت ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں۔ اول درمیانہ اور آخری شب مراد ہے۔ یہ عابد لوگ ایک طرف لرزاں و ترساں ہیں دوسری جانب امیدوار اور طمع کناں ہیں۔ نیک لوگوں پر زندگی میں تو خوف اللہ امید پر غالب رہتا ہے موت کے وقت خوف پرامید کا غلبہ ہو جاتا ہے۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس اس کے انتقال کے وقت جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ { تو اپنے آپ کو کس حالت میں پاتا ہے؟ } اس نے کہا خوف و امید کی حالت میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جس شخص کے دل میں ایسے وقت یہ دونوں چیزیں جمع ہو جائیں اس کی امید اللہ تعالیٰ پوری کرتا ہے اور اس کے خوف سے اسے نجات عطا فرماتا ہے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:983،قال الشيخ الألباني:حسن]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے «قَانِتٌ» کے معنی مطیع اور فرمانبردار کے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے کہ «آنَاءَ اللَّيْلِ» سے مراد آدھی رات سے ہے۔ منصور رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مغرب عشاء کے درمیان کا وقت ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں۔ اول درمیانہ اور آخری شب مراد ہے۔ یہ عابد لوگ ایک طرف لرزاں و ترساں ہیں دوسری جانب امیدوار اور طمع کناں ہیں۔ نیک لوگوں پر زندگی میں تو خوف اللہ امید پر غالب رہتا ہے موت کے وقت خوف پرامید کا غلبہ ہو جاتا ہے۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس اس کے انتقال کے وقت جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ { تو اپنے آپ کو کس حالت میں پاتا ہے؟ } اس نے کہا خوف و امید کی حالت میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جس شخص کے دل میں ایسے وقت یہ دونوں چیزیں جمع ہو جائیں اس کی امید اللہ تعالیٰ پوری کرتا ہے اور اس کے خوف سے اسے نجات عطا فرماتا ہے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:983،قال الشيخ الألباني:حسن]
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا ”یہ وصف صرف سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ میں تھا۔“ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:355/5:ضعیف] فی الواقع آپ رضی اللہ عنہ رات کے وقت بکثرت تہجد پڑھتے رہتے تھے اور اس میں قرآن کریم کی لمبی قرأت کیا کرتے تھے یہاں تک کہ کبھی کبھی ایک ہی رکعت میں قرآن ختم کر دیتے تھے۔ جیسا کہ ابوعبید رحمہ اللہ سے مروی ہے۔ شاعر کہتا ہے۔ صبح کے وقت ان کے منہ نورانی چمک لیے ہوئے ہوتے ہیں کیونکہ انہوں نے تسبیح و تلاوت قرآن میں رات گذاری ہے۔
نسائی وغیرہ میں حدیث ہے کہ { جس نے ایک رات سو آیتیں پڑھ لیں اس کے نامہ اعمال میں ساری رات کی قنوت لکھی جاتی ہے }۔ [مسند احمد:103/4:حسن بالشواهد]
پس ایسے لوگ اور مشرک جو اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں کسی طرح ایک مرتبے کے نہیں ہو سکتے، عالم اور بےعلم کا درجہ ایک نہیں ہو سکتا۔ ہر عقلمند پر ان کا فرق ظاہر ہے۔
نسائی وغیرہ میں حدیث ہے کہ { جس نے ایک رات سو آیتیں پڑھ لیں اس کے نامہ اعمال میں ساری رات کی قنوت لکھی جاتی ہے }۔ [مسند احمد:103/4:حسن بالشواهد]
پس ایسے لوگ اور مشرک جو اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں کسی طرح ایک مرتبے کے نہیں ہو سکتے، عالم اور بےعلم کا درجہ ایک نہیں ہو سکتا۔ ہر عقلمند پر ان کا فرق ظاہر ہے۔