تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { يُكَوِّرُ الَّيْلَ عَلَى النَّهَارِ …: ”كَوْرُ الْعِمَامَةِ وَ تَكْوِيْرُهَا“} پگڑی لپیٹنا۔ اس آیت میں زمین کے گول ہونے کا بھی اشارہ ہے، یعنی جس طرح سر پر پگڑی لپیٹی جاتی ہے کہ اس کے ایک پیچ کے اوپر دوسرا پیچ آ جاتا ہے، جو پہلے پیچ کو چھپا لیتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ زمین کے اوپر رات کو کسی وقفے کے بغیر دن پر لپیٹتا ہے، جیسے جیسے رات کا پیچ آگے بڑھتا ہے روشنی چھپتی جاتی ہے اور تاریکی پھیلتی جاتی ہے، اس کے پیچھے دن کا پیچ سورج کی صورت میں پھیلتا چلا آتا ہے، جس سے رات کی تاریکی چھپ کر روشنی پھیلتی جاتی ہے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۵۴)۔
➌ { وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ رعد (۲)۔
➍ { اَلَا هُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفَّارُ:} لفظ {” اَلَا “} اس مقصد کے لیے ہے کہ اس آیت کے مضمون پر خوب غور کرو اور اس پر خاص توجہ دو۔ {” الْعَزِيْزُ “} یعنی وہ جس نے آسمان و زمین کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا، جو رات کو دن پر لپیٹتا اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے، وہی سب پر غالب ہے، کسی میں طاقت نہیں کہ وہ جو کرنا چاہے اسے روک دے اور جسے روکنا چاہے وہ کر گزرے۔ {” الْغَفَّارُ “ } یعنی اتنے غلبے اور قوت کے باوجود اس نے اپنے نافرمانوں کو جو مہلت دے رکھی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بے پناہ غلبے کے ساتھ ساتھ بندوں کے گناہوں پر نہایت پردہ ڈالنے والا اور بے حد بخشنے والا بھی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[10] اللہ تعالیٰ کائنات کی ہر چیز سے زبردست اور ان سب پر غالب ہے جو ایسے عظیم الجثہ کروں سے اپنی حسب پسند کام لے رہا ہے اور وہ بخش دینے والا یہاں اس نسبت سے مذکور ہے کہ حضرت انسان نے اس دنیا میں جو فتنہ و فساد بپا کر رکھا ہے اس کا تو یہی تقاضا ہے کہ یہ نظام درہم برہم کر کے انسانوں کو تباہ کر دیا جائے۔ مگر وہ عفو و درگزر سے کام لے رہا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
وہ عزت و عظمت والا کبریائی اور رفعت والا ہے۔ گنہگاروں کا بخشنہار، عاصیوں پر مہربان وہی ہے۔ تم سب کو اس نے ایک ہی شخص یعنی آدم علیہ السلام سے پیدا کیا ہے پھر دیکھو کہ تمہارے آپس میں کس قدر اختلاف ہے۔ رنگ صورت آواز بول چال زبان و بیان ہر ایک الگ الگ ہے۔ آدم علیہ السلام سے ہی ان کی بیوی صاحبہ حواء رضی اللہ عنہا کو پیدا کیا۔
«ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَكَ اللَّـهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ» ۱؎ [23-المؤمنون:14] ’ پہلے نطفہ، پھر خون بستہ، پھر لوتھڑا، پھر گوشت پوست، ہڈی، رگ، پٹھے، پھر روح، غور کرو کہ وہ کتنا اچھا خالق ہے ‘، تین تین اندھیرے مرحلوں میں تمہاری یہ طرح طرح کی تبدیلیوں کی پیدائش کا ہیر پھیر ہوتا رہتا ہے رحم کی اندھیری اس کے اوپر کی جھلی کی اندھیری اور پیٹ کا اندھیرا یہ جس نے آسمان و زمین کو اور خود تم کو اور تمہارے اگلوں پچھلوں کو پیدا کیا ہے۔ وہی رب ہے اسی کا مالک ہے۔ وہی سب میں متصرف ہے وہی لائق عبادت ہے اس کے سوا کوئی اور نہیں۔ افسوس نہ جانیں تمہاری عقلیں کہاں گئیں کہ تم اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنَّه {خَلَقَ السمواتِ والأرضَ}؛ أي: بالحكمة والمصلحة، وليأمرَ العبادَ وينهاهم ويثيبَهم ويعاقبَهم. {يكوِّرُ الليلَ على النهار ويكوِّرُ النهارَ على الليل}؛ أي: يدخِلُ كلاًّ منهما على الآخر، ويُحِلُّه محلَّه؛ فلا يجتمعُ هذا وهذا، بل إذا أتى أحدُهما؛ انعزلَ الآخر عن سلطانه، {وسخَّرَ الشمسَ والقمر}: بتسخير منظَّم وسيرٍ مقننٍ. {كلٌّ}: من الشمس والقمر {يجري}: متأثِّراً عن تسخيره تعالى {لأجل مسمًّى}: وهو انقضاء هذه الدار وخرابُها، فيخرب الله آلاتِها وشمسَها وقمرَها، وينشئ الخلق نشأةً جديدةً؛ ليستقرُّوا في دار القرار الجنة أو النار. {ألا هو العزيزُ}: الذي لا يُغالَبُ، القاهرُ لكلِّ شيء، الذي لا يستعصي عليه شيءٌ، الذي من عزَّتِهِ أوجَدَ هذه المخلوقاتِ العظيمةَ، وسخَّرها، تجري بأمره. {الغفارُ}: لذنوب عبادِهِ التوَّابين المؤمنين؛ كما قال تعالى: {وإنِّي لَغفارٌ لِمَن تابَ وآمَنَ وعَمِلَ صالحاً ثم اهتدى}، الغفارُ لمن أشرك به بعد ما رأى من آياتِهِ العظيمةِ ثم تاب وأناب.