لَوۡ اَرَادَ اللّٰہُ اَنۡ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصۡطَفٰی مِمَّا یَخۡلُقُ مَا یَشَآءُ ۙ سُبۡحٰنَہٗ ؕ ہُوَ اللّٰہُ الۡوَاحِدُ الۡقَہَّارُ ﴿۴﴾
اگر اللہ چاہتا کہ (کسی کو) اولاد بنائے تو ان میں سے جنھیں وہ پیدا کرتا ہے جسے چاہتا ضرور چن لیتا، وہ پاک ہے۔ وہ تو اللہ ہے، جو اکیلا ہے، بہت غلبے والا ہے۔
En
اگر خدا کسی کو اپنا بیٹا بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا انتخاب کرلیتا۔ وہ پاک ہے وہی تو خدا یکتا (اور) غالب ہے
En
اگر اللہ تعالیٰ کااراده اوﻻد ہی کا ہوتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا۔ (لیکن) وه تو پاک ہے، وه وہی اللہ تعالیٰ ہے یگانہ اور قوت واﻻ
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت4) ➊ {لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا …:} اس آیت میں مشرکین کے ایک اور شرک یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد کی نفی فرمائی ہے، کیونکہ ان میں سے بعض عزیر علیہ السلام کو اور بعض عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیتے تھے اور بعض فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ ظاہر ہے اولاد دو طرح کی ہو سکتی ہے، ایک حقیقی اولاد۔ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے عقلاً محال ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اَنّٰى يَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ وَ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَ هُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ» [الأنعام: ۱۰۱] ”اس کی اولاد کیسے ہو گی، جب کہ اس کی کوئی بیوی نہیں اور اس نے ہر چیز پیدا کی اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔“ یعنی اللہ کی کوئی بیوی نہیں اور بیوی کے بغیر اولاد محال ہے، پھر ہر چیز اس کی مخلوق ہے اور اولاد والد کی مخلوق نہیں بلکہ اس کی ہم جنس ہوتی ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی کو اپنی منہ بولی اولاد بنا لینا ہے۔ فرمایا، اگر اللہ تعالیٰ کسی کو اپنی اولاد بنانا چاہتا تو وہ اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا اس کے لیے چن لیتا، نہ کہ یہ معاملہ ان مشرکوں اور گمراہ یہود و نصاریٰ پر چھوڑ دیتا، مگر نہ اس نے یہ چاہا اور نہ کسی کو اولاد بنایا، کیونکہ اللہ تعالیٰ سے یہ ارادہ کرنا ممکن ہی نہیں۔ یہاں {” لَوْ “} کا لفظ تعلیق بالمحال کے لیے استعمال ہوا ہے، جیسا کہ فرمایا: «لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّاۤ اِنْ كُنَّا فٰعِلِيْنَ» [الأنبیاء: ۱۷] ”اگر ہم چاہتے کہ کوئی کھیل بنائیں تو یقینا اسے اپنے پاس سے بنالیتے، اگر ہم کرنے والے ہوتے۔“
➋ { سُبْحٰنَهٗ:} یہ اللہ تعالیٰ کے کسی کو اولاد نہ بنانے کی دلیل ہے۔ دوسری جگہ یہ دلیل تفصیل سے بیان فرمائی ہے: «وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ بَلْ لَّهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ» [البقرۃ: ۱۱۶] ”اور انھوں نے کہا اللہ نے کوئی اولاد بنا رکھی ہے، وہ پاک ہے، بلکہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اسی کے فرماں بردار ہیں۔“ اس آیت میں تین طرح سے اللہ تعالیٰ کے کسی کو اولاد بنانے کا رد ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۱۶)۔
➌ { هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ:} اللہ تعالیٰ نے کسی کو اولاد بنانے کی نفی کرتے ہوئے پہلے اپنا ذاتی نام {” اللّٰهُ “} ذکر فرمایا، پھر اپنی صفت {” الْوَاحِدُ “} بیان فرمائی کہ جس کی تم اولاد بتا رہے ہو وہ انسان یا کوئی مخلوق نہیں بلکہ اللہ ہے، جو اصل میں {”اَلْاِلٰهُ“} ہے، یعنی وہ معبود ہے، باقی سب عبد ہیں۔ تو جو عبد ہے وہ اس کی اولاد کیسے ہو سکتا ہے؟ {” الْوَاحِدُ “} اور {” الْقَهَّارُ “} پر الف لام کی وجہ سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا، یعنی وہی واحد ہے، اس کے سوا کوئی واحد نہیں، اس کا ایک ہو نا کسی کو اولاد بنانے کے منافی ہے، کیونکہ اولاد اولاد بنانے والے کی جنس ہوتی ہے، جیسا کہ انسان کسی انسان ہی کو اولاد بنا سکتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کی کوئی جنس نہیں، کیونکہ وہ ہے ہی اکیلا، تو کوئی اس کی اولاد کیسے بن گیا؟
➍ { الْقَهَّارُ:} اور وہی قہار ہے، اس سے اولاد کی اور ہر قسم کے شریک کی نفی ہو گئی، کیونکہ ہر چیز اس کی مقہور ہے۔ وہ سب پر قاہر اور غالب ہی نہیں بلکہ قہار اور زبردست غالب ہے، جب کہ باپ اور بیٹے کا معاملہ ایسا نہیں ہوتا۔ اگلی آیات میں اپنی وحدانیت اور قدرت و عظمت پر دلالت کرنے والی کئی اور چیزیں بیان فرمائیں۔
➋ { سُبْحٰنَهٗ:} یہ اللہ تعالیٰ کے کسی کو اولاد نہ بنانے کی دلیل ہے۔ دوسری جگہ یہ دلیل تفصیل سے بیان فرمائی ہے: «وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ بَلْ لَّهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ» [البقرۃ: ۱۱۶] ”اور انھوں نے کہا اللہ نے کوئی اولاد بنا رکھی ہے، وہ پاک ہے، بلکہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اسی کے فرماں بردار ہیں۔“ اس آیت میں تین طرح سے اللہ تعالیٰ کے کسی کو اولاد بنانے کا رد ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۱۶)۔
➌ { هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ:} اللہ تعالیٰ نے کسی کو اولاد بنانے کی نفی کرتے ہوئے پہلے اپنا ذاتی نام {” اللّٰهُ “} ذکر فرمایا، پھر اپنی صفت {” الْوَاحِدُ “} بیان فرمائی کہ جس کی تم اولاد بتا رہے ہو وہ انسان یا کوئی مخلوق نہیں بلکہ اللہ ہے، جو اصل میں {”اَلْاِلٰهُ“} ہے، یعنی وہ معبود ہے، باقی سب عبد ہیں۔ تو جو عبد ہے وہ اس کی اولاد کیسے ہو سکتا ہے؟ {” الْوَاحِدُ “} اور {” الْقَهَّارُ “} پر الف لام کی وجہ سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا، یعنی وہی واحد ہے، اس کے سوا کوئی واحد نہیں، اس کا ایک ہو نا کسی کو اولاد بنانے کے منافی ہے، کیونکہ اولاد اولاد بنانے والے کی جنس ہوتی ہے، جیسا کہ انسان کسی انسان ہی کو اولاد بنا سکتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کی کوئی جنس نہیں، کیونکہ وہ ہے ہی اکیلا، تو کوئی اس کی اولاد کیسے بن گیا؟
➍ { الْقَهَّارُ:} اور وہی قہار ہے، اس سے اولاد کی اور ہر قسم کے شریک کی نفی ہو گئی، کیونکہ ہر چیز اس کی مقہور ہے۔ وہ سب پر قاہر اور غالب ہی نہیں بلکہ قہار اور زبردست غالب ہے، جب کہ باپ اور بیٹے کا معاملہ ایسا نہیں ہوتا۔ اگلی آیات میں اپنی وحدانیت اور قدرت و عظمت پر دلالت کرنے والی کئی اور چیزیں بیان فرمائیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
4۔ 1 یعنی پھر اس کی اولاد لڑکیاں ہی کیوں ہوتیں؟ جس طرح مشرکین کا عقیدہ تھا۔ بلکہ وہ اپنی مخلوق میں سے جس کو پسند کرتا، وہ اس کی اولاد ہوتی، نہ کہ وہ جن کو وہ باور کراتے ہیں، لیکن وہ تو اس نقص سے ہی پاک ہے۔ (ابن کثیر
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
4۔ اللہ اگر کسی کو بیٹا بنانا چاہتا تو وہ اپنی مخلوق سے جسے چاہتا چن [7] سکتا تھا مگر وہ تو ایسی باتوں سے پاک ہے وہ یکتا ہے، سب پر غالب ہے
[7] یہ دراصل مشرکوں کے اس عقیدہ کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ حالانکہ اپنے لئے بیٹیاں انہیں ناگوار ہیں۔ انہیں جواب یہ دیا گیا کہ اللہ کے لئے تو اولاد ہونا ہی محالات سے ہے۔ اس لئے کہ باپ اور بیٹے میں جنسی اور نوعی اشتراک ہوتا ہے۔ نیز بیٹا نہ باپ کا مملوک ہوتا ہے نہ مخلوق۔ جبکہ سب چیزیں اللہ کی مملوک و مخلوق ہیں۔ لہٰذا ان میں کسی قسم کا اشتراک ناممکن ہے۔ اور اگر بفرض محال اللہ اولاد بناتا تو پھر کیا بیٹیاں ہی اپنے لئے انتخاب کرتا؟ جیسا کہ تم کہتے ہو جبکہ تم انہیں اپنی ذات کے لئے قطعاً پسند نہیں کرتے۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یَّؔتَّؔخِذَ وَلَدًا﴾ ”اگر اللہ تعالیٰ کسی کو اپنا بیٹا بنانا چاہتا“ جیسا کہ بعض بے وقوف لوگوں کا خیال ہے ﴿لَّاصْطَفٰى مِمَّا یَخْلُ٘قُ مَا یَشَآءُ ﴾ تو وہ اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن کر اپنے لیے مختص کر لیتا اور اسے اپنا بیٹا بنا لیتا اور اسے بیوی کی ضرورت نہ ہوتی۔ ﴿سُبْحٰؔنَهٗ ﴾ مگر اللہ تبارک و تعالیٰ ان تمام باتوں سے پاک اور منزہ ہے جن کا یہ کفار اللہ تعالیٰ کے بارے میں گمان کرتے ہیں اور ملحدین اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ﴿هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی ذات، اپنے اسماء و صفات اور اپنے افعال میں ایک ہے، لہٰذا اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شبیہ ہے نہ مثیل۔ اگر اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہوتا تو وہ اپنی وحدت میں اس کا شبیہ ہونے کا مقتضی ہوتا، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حصہ اور اس کا جز ہوتا۔ وہ تمام عالم علوی اور عالم سفلی پر غالب ہے۔ اگر اس کا کوئی بیٹا ہوتا تو وہ مقہورومغلوب نہ ہوتا اور اپنے باپ کے خلاف جرأت اور گستاخی کر نے والا ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کی وحدت اور اس کا قہر لازم و ملزوم ہیں۔ صرف ایک ہستی ہی غالب اور قاہر ہو سکتی ہے۔ اس لیے یہ چیز ہر لحاظ سے شراکت کی نفی کرتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {لو أراد الله أن يَتَّخِذَ ولداً}: كما زعم ذلك من زَعَمَه من سفهاء الخلق {لاصطفى مما يخلقُ ما يشاء}؛ أي: لاصطفى بعض مخلوقاتِهِ التي يشاء اصطفاءه واختصَّه لنفسه، وجَعَلَه بمنزلة الولد، ولم يكنْ حاجةٌ إلى اتِّخاذ الصاحبة. {سبحانه}: عما ظنَّه به الكافرون أو نسبه إليه الملحدون. {هو الله الواحدُ القهَّارُ}؛ أي: الواحد في ذاته وفي أسمائه وفي صفاته وفي أفعاله؛ فلا شبيه له في شيء من ذلك ولا مماثل؛ فلو كان له ولدٌ؛ لاقتضى أن يكون شبيهاً له في وحدتِهِ؛ لأنَّه بعضُه وجزءٌ منه. القهارُ لجميع العالم العلويِّ والسفليِّ؛ فلو كان له ولدٌ؛ لم يكنْ مقهوراً، ولكان له إدلالٌ على أبيه ومناسبةٌ منه، ووحدتُه تعالى وقهرُهُ متلازمانِ؛ فالواحد لا يكون إلاَّ قهاراً، والقهارُ لا يكون إلاَّ واحداً، وذلك ينفي الشركة له من كلِّ وجه.