تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اِنَّ اللّٰهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ …:} ایک اللہ کو پکارنے اور اس کی عبادت کرنے والے تو ایک ہی معبود پر متفق ہیں مگر اس کے سوا دوسری ہستیوں کو پکارنے والوں کا کسی ایک ہستی پر اتفاق نہیں، کوئی کسی کو پکارتا ہے اور کوئی کسی کو، کیونکہ کسی کے پاس اس بات کی دلیل نہیں، نہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ فلاں ہستی کو فلاں کام کا اختیار ہے، یا وہ اللہ تعالیٰ سے فلاں فلاں کام کروا سکتا ہے۔ مشرکین محض گمان کی بنا پر انھیں پوجتے جا رہے ہیں اور ہر ایک اپنے اپنے گمان کے مطابق کسی نہ کسی داتا، دستگیر، مشکل کُشا یا حاجت روا کو پکار تا چلا جا رہا ہے۔ مشرکین کی یہ بات چونکہ بالکل ہی بودی اور بے کار ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا رد کرنے کے بجائے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مومن موحّدوں اور ان مشرکین کے درمیان اور مشرکوں کے مختلف گروہوں کے باہمی اختلاف میں حق بات کا فیصلہ فرمائے گا۔
➌ { اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِيْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ:} اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے لیے دو لفظ استعمال فرمائے ہیں، ایک {” كٰذِبٌ “} اور دوسرا {” كَفَّارٌ “}۔ {” كٰذِبٌ “} اس لیے کہ اس سے بڑا جھوٹ کوئی نہیں کہ ایسی کوئی ہستی موجود ہے جس کی پرستش سے، یا اسے پکارنے سے اللہ تعالیٰ کا قُرب حاصل ہو جاتا ہے اور {” كَفَّارٌ “} (بہت ناشکرا) اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کی دعا خود سنتا اور قبول کرتا ہے، لیکن کس قدر نا شکرے ہیں وہ لوگ جو اس کی اس نعمت کی ناشکری کرتے ہوئے اس کے بجائے بے اختیار ہستیوں کو پکارتے اور ان کی پرستش کرتے ہیں اور اس کے لیے سیڑھی وغیرہ کی مثالیں بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتا ہے، میں قریب ہوں اور یہ کہتے ہیں کہ اس تک رسائی کے لیے واسطے ضروری ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
(1) اللہ تعالیٰ کی مکمل سیاسی اور قانونی حاکمیت کو تسلیم کیا جائے۔
(2) دوسرا معنی اس کے بالکل برعکس ہے یعنی اپنے آپ کو ہمہ وقتی اللہ کا غلام سمجھا جائے اور صرف اسی کی عبادت کی جائے۔
(3) قانون جزا و سزا
(4) اور اس قانون جزا و سزا کے مطابق اچھے اور برے لوگوں کو بدلہ دینا۔ آیت نمبر 2 اور 3 میں دین کا لفظ اپنے پہلے دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔
(1) فنا فی الشیخ (2) فنا فی الرسول (3) فنا فی اللہ
دل کے آئینہ میں ہے تصویر یار
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی
ان حضرات نے پیری کے فن کو خاص تکنیک دے کر عوام پر اس طرح مسلط کر دیا ہے کہ کوئی آدمی اس وقت تک اللہ کے ہاں رسائی نہیں پا سکتا۔ جب تک باقاعدہ کسی سلسلہ طریقت میں داخل نہ ہو۔ پہلے تصور شیخ کی مشق کرے۔ حتیٰ کہ فنا فی الشیخ ہو جائے۔ یعنی اسے اپنی ذات کے لئے حاضر ناظر، افعال و کردار اور گفتار کو سننے والا اور دیکھنے والا سمجھنے لگے تب جا کر یہ منزل ختم ہوتی ہے اور عملاً ہوتا یہ ہے کہ مرید بیچارے تمام عمر فنا فی الشیخ کی منزل میں ہی غوطے کھاتے کھاتے ختم ہو جاتے ہیں۔ یہ گویا اللہ اور اس کے رسول سے بیگانہ کر کے اپنا غلام بنانے کا کارگر اور کامیاب حربہ ہے۔ یہ حضرات کس طرح اللہ سے بھی زیادہ اپنی پرستش کی تاکید کرتے ہیں یہ بات درج ذیل اقتباس میں ملاحظہ فرمائیے جو تصور شیخ، غیر اللہ کو پکارنا، توسل اور استمداد جیسے سب مسائل حل کر دیتا ہے۔
[5] پھر صرف یہی نہیں کہ وہ اپنے عقائد پر جمے ہوئے ہیں بلکہ اگر انہیں سمجھایا جائے تو مخالفت پر اتر آتے ہیں اور اسے ولیوں کے منکر یا گستاخ کا طعنہ دیتے ہیں۔ ایسے اختلافات دنیا میں مٹ نہیں سکتے۔ کیونکہ یہ معاملہ غور و فکر اور افہام کا نہیں بلکہ ضد اور چڑ کا بن جاتا ہے پھر کچھ دنیوی مفادات کا بھی دھندا چلتا ہے۔ لہٰذا ان اختلافات کا فیصلہ قیامت کے دن اللہ ہی کرے گا۔ اور وہاں ہر ایک کو ٹھیک سمجھ آجائے گی۔
[6] یہ مشرک جھوٹے تو اس لحاظ سے ہیں کہ ان کے سب عقیدے من گھڑت ہوتے ہیں۔ اور حق کے منکر اس لحاظ سے کہ بات سمجھنے کی بجائے ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آتے ہیں۔ اور اگر کفار کا معنی نا شکر گزار کیا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ کھاتے تو اللہ کا دیا ہوا رزق ہیں اور ان کی ہر طرح کی نیاز مندیاں اللہ کے بجائے دوسروں کے لئے وقف ہوتی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ألا لله الدينُ الخالصُ}: هذا تقريرٌ للأمر بالإخلاص، وبيانُ أنَّه تعالى كما أنَّه له الكمال كلُّه وله التفضُّل على عباده من جميع الوجوه؛ فكذلك له الدينُ الخالصُ الصافي من جميع الشوائب؛ فهو الدين الذي ارتضاه لنفسه وارتضاه لصفوةِ خلقِهِ وأمَرَهُم به؛ لأنه متضمنٌ للتألُّه لله في حبه وخوفه ورجائِهِ والإنابةِ إليه في عبوديَّته والإنابة إليه في تحصيل مطالب عباده، وذلك الذي يُصْلِحُ القلوبَ ويزكِّيها ويطهِّرها؛ دون الشرك به في شيء من العبادة؛ فإنَّ الله بريءٌ منه، وليس لله فيه شيءٌ؛ فهو أغنى الشركاء عن الشرك، وهو مفسدٌ للقلوب والأرواح والدنيا والآخرة، مشقٍ للنفوس غاية الشقاء.
فلذلك لمَّا أمر بالتوحيد والإخلاص؛ نهى عن الشرك به، وأخبر بذمِّ مَنْ أشرك به، فقال: {والذين اتَّخذوا من دونِهِ أولياءَ}؛ أي: يتولَّوْنَهم بعبادتهم ودعائهم، متعذِرين عن أنفسِهم، وقائلين: {ما نعبُدُهم إلاَّ لِيُقَرِّبونا إلى الله زُلْفَى}؛ أي: لترفعَ حوائجنا لله، وتشفعَ لنا عنده، وإلاَّ؛ فنحن نعلمُ أنَّها لا تخلُقُ ولا ترزقُ ولا تملكُ من الأمر شيئاً؛ أي: فهؤلاء قد تركوا ما أمَرَ الله به من الإخلاص، وتجرؤوا على أعظم المحرَّمات، وهو الشرك، وقاسوا الذي ليس كمثلِهِ شيءٌ الملك العظيم بالملوك، وزعموا بعقولهم الفاسدةِ ورأيِهِم السقيم أنَّ الملوك كما أنَّه لا يوصَلُ إليهم إلاَّ بوجهاء وشفعاء ووزراء يرفعون إليهم حوائج رعاياهم ويستعطِفونهم عليهم ويمهِّدونَ لهم الأمر في ذلك؛ أنَّ الله تعالى كذلك!
وهذا القياس من أفسد الأقيسة، وهو يتضمَّن التسويةَ بين الخالق والمخلوق، مع ثُبوت الفرق العظيم عقلاً ونقلاً وفطرةً؛ فإنَّ الملوك إنَّما احتاجوا للوساطة بينهم وبين رعاياهم؛ لأنَّه لا يعلمون أحوالَهم، فيُحتَاجُ مَنْ يُعْلِمُهُمْ بأحوالهم، وربَّما لا يكون في قلوبهم رحمةٌ لصاحب الحاجة، فيحتاج مَنْ يُعَطِّفُهم عليه، ويسترحِمُه لهم، ويحتاجون إلى الشفعاء والوزراء، ويخافون منهم، فيقضون حوائجَ من توسَّطوا لهم مراعاةً لهم ومداراةً لخواطِرِهم، وهم أيضاً فقراءُ؛ قد يمنعون لما يخشَوْن من الفقر، وأمَّا الربُّ تعالى؛ فهو الذي أحاط علمُهُ بظواهر الأمور وبواطنها، الذي لا يحتاجُ مَنْ يخبِرُهُ بأحوال رعيَّته وعباده، وهو تعالى أرحم الراحمين، وأجود الأجودين، لا يحتاجُ إلى أحدٍ من خلقِهِ يجعله راحماً لعباده، بل هو أرحم بهم من أنفسهم ووالديهم، وهو الذي يحثُّهم ويدعوهم إلى الأسباب التي ينالون بها رحمته، وهو يريدُ من مصالِحِهم ما لا يريدونَه لأنفسِهِم، وهو الغنيُّ، الذي له الغنى التامُّ المطلقُ، الذي لو اجتمع الخلقُ من أولهم وآخرهم في صعيدٍ واحدٍ، فسألوه، فأعطى كلاًّ منهم ما سأل وتمنَّى؛ لم يَنقصوا غناه شيئاً، ولم يَنقصوا مما عنده إلاَّ كما يَنْقُصُ البحرُ إذا غُمِسَ فيه المِخْيَطُ، وجميع الشفعاء يخافونه؛ فلا يشفعُ منهم أحدٌ إلاَّ بإذنه، وله الشفاعةُ كلُّها؛ فبهذه الفروق يُعلم جهلُ المشركين به وسفهُهُم العظيمُ وشدَّةُ جراءتهم عليه، ويُعْلَم أيضاً الحكمة في كون الشرك لا يغفره الله تعالى؛ لأنَّه يَتَضَمَّن القدحَ في الله تعالى، ولهذا قال حاكماً بين الفريقين المخلِصين والمشرِكين وفي ضمنه التهديد للمشركين: {إنَّ الله يَحْكُمُ بينَهم فيما هم فيه يختلفونَ}: وقد عُلِمَ أنَّ حُكْمَهُ أنَّ المؤمنين المخلصين في جنات النعيم، ومن يشرك بالله؛ فقد حرَّم الله عليه الجنة ومأواه النار. {إنَّ الله لا يهدي}؛ أي: لا يوفِّق للهداية إلى الصراط المستقيم {من هو كاذبٌ كفَّارٌ}؛ أي: وصفه الكذبُ أو الكفر؛ بحيث تأتيه المواعظُ والآيات ولا يزول عنه ما اتَّصف به، ويُريه الله الآياتِ فيَجْحَدُها ويكفرُ بها ويكذبُ؛ فهذا أنَّى له الهدى وقد سدَّ على نفسه الباب، وعوقِبَ بأن طَبَعَ الله على قلبِهِ فهو لا يؤمنُ.