تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ معلوم ہوا توحید کے لیے صرف اللہ کی عبادت کافی نہیں بلکہ طاغوت سے کنارا کشی بھی لازم ہے، اس لیے کلمہ توحید {”لَا اِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ“} میں پہلے تمام الٰہوں کی نفی ہے، پھر ایک اللہ کی عبادت کا اثبات ہے۔
➌ { لَهُمُ الْبُشْرٰى:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ یونس کی آیت (۶۴)۔
➍ { لَهُمُ الْبُشْرٰى …: ” عِبَادِ “} اصل میں {”عِبَادِيْ“} ہے، آیات کے فواصل کی مناسبت کے لیے یاء کو حذف کر کے دال پر کسرہ باقی رکھا گیا ہے اور ترجمہ ”میرے بندوں کو“ کیا گیا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[27] یہ بشارت صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو ہر قسم کے طاغوت کی اطاعت یا عبادت سے بچتے رہے اور تنگی ترشی میں بھی اللہ کی ہی اطاعت و عبادت کرتے رہے، اسی کی طرف رجوع کیا اور اسی پر توکل کیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ ہیں جن کے لیے دونوں جہان میں خوشیاں ہیں۔ بات سمجھ کر سن کر جب وہ اچھی ہو تو اس پر عمل کرنے والے مستحق مبارک باد ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم پیغمبر موسیٰ علیہ السلام سے تورات کے عطا فرمانے کے وقت فرمایا تھا «فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَأْمُرْ قَوْمَكَ يَأْخُذُوا بِأَحْسَنِهَا سَأُرِيكُمْ دَارَ الْفَاسِقِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:145] ’ اسے مضبوطی سے تھامو اور اپنی قوم کو حکم کرو کہ اس کی اچھائی کو مضبوط تھام لیں۔ عقلمند اور نیک راہ لوگوں میں بھلی باتوں کے قبول کرنے کا صحیح مادہ ضرور ہوتا ہے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذَكَرَ تعالى حال المجرمين؛ ذَكَرَ حالَ المنيبين وثوابَهم، فقال: {والذين اجْتَنَبوا الطاغوتَ أن يَعْبُدوها}: والمرادُ بالطاغوت في هذا الموضع عبادةُ غير الله؛ فاجْتَنَبوها في عبادتها، وهذا من أحسنِ الاحترازِ من الحكيم العليم؛ لأنَّ المدحَ إنَّما يتناولُ المجتَنِبَ لها في عبادتها. {وأنابوا إلى اللهِ}: بعبادتِهِ وإخلاص الدينِ له، فانصرفتْ دواعيهم من عبادةِ الأصنام إلى عبادةِ الملكِ العلاَّم، ومن الشركِ والمعاصي إلى التوحيدِ والطاعات. {لهمُ البُشرى}: التي لا يُقادِرُ قَدْرَها ولا يَعْلَمُ وصْفَها إلاَّ مَنْ أكْرَمَهم بها، وهذا شاملٌ للبُشرى في الحياة الدُّنيا بالثناء الحسن والرؤيا الصالحةِ والعنايةِ الربَّانيَّة من الله، التي يرونَ في خلالها أنَّه مريدٌ لإكرامهم في الدُّنيا والآخرة، ولَهُمُ البشرى في الآخرة عند الموت وفي القبر وفي القيامة، وخاتمةُ البُشرى ما يبشِّرُهم به الربُّ الكريم من دوام رضوانِهِ وبرِّه وإحسانِهِ وحلول أمانِهِ في الجنة.