تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزمر (39) — آیت 17

وَ الَّذِیۡنَ اجۡتَنَبُوا الطَّاغُوۡتَ اَنۡ یَّعۡبُدُوۡہَا وَ اَنَابُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ لَہُمُ الۡبُشۡرٰی ۚ فَبَشِّرۡ عِبَادِ ﴿ۙ۱۷﴾
اور وہ لوگ جنھوں نے طا غوت سے اجتناب کیا کہ اس کی عبادت کریں اور اللہ کی طرف رجوع کیا انھی کے لیے خوش خبری ہے، سو میرے بندوں کو بشارت دے دے ۔ En
اور جنہوں نے اس سے اجتناب کیا کہ بتوں کو پوجیں اور خدا کی طرف رجوع کیا ان کے لئے بشارت ہے۔ تو میرے بندوں کو بشارت سنا دو
En
اور جن لوگوں نے طاغوت کی عبادت سے پرہیز کیا اور (ہمہ تن) اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے وه خوش خبری کے مستحق ہیں، میرے بندوں کو خوشخبری سنا دیجئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ مجرمین کا حال بیان کرنے کے بعد اپنی طرف رجوع کرنے والے بندوں کا حال بیان کرتے اور ان کے لیے ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿وَالَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُ٘وْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا اور وہ لوگ جو طاغوت کی عبادت کرنے سے بچتے رہے۔ اس مقام پر طاغوت سے مراد، غیراللہ کی عبادت ہے یعنی جنھوں نے غیراللہ کی عبادت سے اجتناب کیا۔ یہ حکیم و علیم کی طرف سے بہترین احتراز ہے کیونکہ مدح تو صرف اسی شخص کو پہنچتی ہے جو ان کی عبادت سے بچتا ہے ﴿وَاَنَابُوْۤا اِلَى اللّٰهِ اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اخلاص دین کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ان کی فطرت کے داعیے بتوں کی عبادت کو چھوڑ کر ہر چیز کا علم رکھنے والے بادشاہ کی عبادت کی طرف، شرک اور معاصی کو ترک کرکے توحید و اطاعت کی طرف رخ کر لیتے ہیں۔ ﴿لَهُمُ الْ٘بُشْ٘رٰى ان کے لیے ایسی خوشخبری ہے جس کا اندازہ صرف وہی لوگ کر سکتے اور صرف وہی لوگ اس سے واقف ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اس خوشخبری سے سرفراز فرمایا ہے۔
اس میں، دنیا کے اندر وہ بشارت بھی شامل ہے جو بندۂ مومن کو ثنائے حسن، سچے خوابوں اور عنایت ربانی کی صورت میں حاصل ہوتی ہے۔ انھیں اس بشارت کے اندر صاف دکھائی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کا اکرام چاہتا ہے۔ ان کے لیے موت کے وقت، قبر کے اندر اور قیامت کے روز خوشخبری ہے اور ان کے لیے آخری بشارت وہ ہے جو رب کریم ان کو اپنی دائمی رضا، اپنے فضل و احسان اور جنت کے اندر امان کی صورت میں دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما ذَكَرَ تعالى حال المجرمين؛ ذَكَرَ حالَ المنيبين وثوابَهم، فقال: {والذين اجْتَنَبوا الطاغوتَ أن يَعْبُدوها}: والمرادُ بالطاغوت في هذا الموضع عبادةُ غير الله؛ فاجْتَنَبوها في عبادتها، وهذا من أحسنِ الاحترازِ من الحكيم العليم؛ لأنَّ المدحَ إنَّما يتناولُ المجتَنِبَ لها في عبادتها. {وأنابوا إلى اللهِ}: بعبادتِهِ وإخلاص الدينِ له، فانصرفتْ دواعيهم من عبادةِ الأصنام إلى عبادةِ الملكِ العلاَّم، ومن الشركِ والمعاصي إلى التوحيدِ والطاعات. {لهمُ البُشرى}: التي لا يُقادِرُ قَدْرَها ولا يَعْلَمُ وصْفَها إلاَّ مَنْ أكْرَمَهم بها، وهذا شاملٌ للبُشرى في الحياة الدُّنيا بالثناء الحسن والرؤيا الصالحةِ والعنايةِ الربَّانيَّة من الله، التي يرونَ في خلالها أنَّه مريدٌ لإكرامهم في الدُّنيا والآخرة، ولَهُمُ البشرى في الآخرة عند الموت وفي القبر وفي القيامة، وخاتمةُ البُشرى ما يبشِّرُهم به الربُّ الكريم من دوام رضوانِهِ وبرِّه وإحسانِهِ وحلول أمانِهِ في الجنة.