تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋{ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ …:} ہر قسم کے اقوال سن کر سب سے اچھی بات کی جستجو کر کے اس پر عمل کرنے والوں ہی کو اللہ تعالیٰ نے وہ لوگ قرار دیا جنھیں اس نے ہدایت دی اور صرف انھی کو عقلوں والے قرار دیا۔
➌ اس آیت سے تقلید کی واضح تردید ہو رہی ہے، کیونکہ تقلید کا معنی ہے: {”أَخْذُ قَوْلِ الْغَيْرِ بِلَا دَلِيْلٍ“} یعنی اللہ اور اس کے رسول کے غیر کی بات بلا دلیل لے لینا۔ مقلد اپنے بنائے ہوئے پیشوا کے علاوہ اوّل تو کسی کی بات سننے پر آمادہ ہی نہیں ہوتا، اگر سن بھی لے تو اپنے پیشوا کی بات پر جما رہتا ہے۔ دوسری بات خواہ قرآن مجید کی آیت ہو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہو اور خواہ وہ کتنی ہی اچھی ہو، نہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے نہ مانتا ہے۔ جب کہ مومن ہر بات غور سے سن کر اس کے حسن و قبح کی جانچ پڑتال کرتا ہے اور احسن پر عمل کرتا ہے۔ جہنم میں جانے والے تمنا کریں گے کہ کاش! وہ دنیا میں سنتے یا سمجھتے ہوتے، مگر اس وقت جب ان کی تمنا پوری ہونے کی کوئی صورت نہ ہو گی، فرمایا: «وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْۤ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ» [الملک: ۱۰] ”اور وہ کہیں گے، اگر ہم سنتے ہوتے یا سمجھتے ہوتے تو بھڑکتی ہوئی آگ والوں میں نہ ہوتے۔“ ایسے لوگ نہ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ ہیں اور نہ ان کا شمار ”اولوا الالباب“ میں ہو سکتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ ہیں جن کے لیے دونوں جہان میں خوشیاں ہیں۔ بات سمجھ کر سن کر جب وہ اچھی ہو تو اس پر عمل کرنے والے مستحق مبارک باد ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم پیغمبر موسیٰ علیہ السلام سے تورات کے عطا فرمانے کے وقت فرمایا تھا «فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَأْمُرْ قَوْمَكَ يَأْخُذُوا بِأَحْسَنِهَا سَأُرِيكُمْ دَارَ الْفَاسِقِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:145] ’ اسے مضبوطی سے تھامو اور اپنی قوم کو حکم کرو کہ اس کی اچھائی کو مضبوط تھام لیں۔ عقلمند اور نیک راہ لوگوں میں بھلی باتوں کے قبول کرنے کا صحیح مادہ ضرور ہوتا ہے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولمَّا أخبر أنَّ لهم البُشرى؛ أمره الله ببشارَتِهِم، وذَكَرَ الوصفَ الذي استحقُّوا به البشارةَ، فقال: {فَبَشِّرْ عبادِ. الذين يستَمِعون القولَ فيتَّبِعونَ أحْسَنَهُ}: وهذا جنسٌ يشملُ كلَّ قول؛ فهم يستمعون جنس القول ليميِّزوا بين ما ينبغي إيثارُه مما ينبغي اجتنابُه؛ فلهذا كان من حزمهم وعقلهم أنَّهم يتَّبِعون أحسنَه، وأحسنُه على الإطلاق كلامُ الله وكلامُ رسوله؛ كما قال في هذه السورة: {اللهُ نَزَّلَ أحسنَ الحديثِ كتاباً متشابهاً ... } الآية.
وفي هذه الآية نكتةٌ، وهي أنَّه لما أخبر عن هؤلاء الممدوحين أنَّهم يستمعون القول فيتَّبِعون أحسنَه؛ كأنَّه قيل: هل من طريقٍ إلى معرفة أحسنِهِ حتى نتَّصِفَ بصفات أولي الألباب، وحتى نعرِفَ أنَّ مَنْ آثره عَلِمْنا أنَّه من أولي الألباب؟ قيل: نعم؛ أحسنُه ما نصَّ الله عليه بقوله: {اللهُ نَزَّلَ أحسنَ الحديثِ كتاباً متشابهاً ... } الآية. أولئك {الذين يستمعونَ القولَ فيتَّبِعونَ أحسنَهُ أولئك الذين هداهُمُ اللهُ}: لأحسن الأخلاق والأعمال، {وأولئك هم أولو الألبابِ}؛ أي: العقول الزاكية، ومن لُبِّهم وحزمِهِم أنَّهم عَرَفوا الحسن من غيره، وآثروا ما ينبغي إيثارُهُ على ما سواه، وهذا علامةُ العقل، بل لا علامةَ للعقل سوى ذلك؛ فإنَّ الذي لا يميز بين الأقوال حسنِها وقبيحِها؛ ليس من أهل العقول الصحيحةِ، أو الذي يميِّزُ لكنْ غلبتْ شهوتُه عقلَه فبقي عقلُه تابعاً لشهوتِهِ فلم يؤثِرِ الأحسنَ؛ كان ناقصَ العقل.