تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِيْ: ” شَكٍّ “} سے مراد ذہن کی وہ کیفیت ہے جس میں آدمی دو چیزوں میں سے کسی ایک چیز کو ترجیح نہ دے سکے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جملے میں ان کے دل کی حالت بیان فرمائی ہے کہ ان کے پاس میرے ذکر کو جھٹلانے کی کوئی معقول وجہ نہیں مگر وہ حسد کی وجہ سے اس پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں، اس لیے وہ اس کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں۔ اگر حسد چھوڑ کر تھوڑا سا غور کریں تو انھیں یقین کی نعمت حاصل ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ نے صالح علیہ السلام کی قوم کا حال خود ان کی زبانی یہی بیان فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ ہود (۶۲)۔
➌ {بَلْ لَّمَّا يَذُوْقُوْا عَذَابِ: ”لَمْ يَذُوْقُوْا“} انھوں نے نہیں چکھا اور {” لَمَّا يَذُوْقُوْا “} انھوں نے ابھی تک نہیں چکھا۔ {” عَذَابِ “} اصل میں {”عَذَابِيْ“} (میرا عذاب) ہے۔ آیات کے فواصل کی موافقت کے لیے یاء حذف کرکے کسرہ باقی رہنے دیا ہے۔ یعنی ان کے ایسی باتیں کرنے کی وجہ یہ نہیں کہ ان میں کوئی حقیقت ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے ابھی تک میری مار نہیں چکھی۔ جب میری مار پڑی تو ان کے سب کَس بَل نکل جائیں گے اور انھیں ایسی باتیں کرنے کا ہوش نہیں رہے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[9] بات یوں نہیں بلکہ اصل معاملہ یہ ہے کہ یہ لوگ سرے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت ہی کے منکر ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ میرا کلام بھی ان کے نزدیک مشکوک ہو گیا ہے اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ رسالت سے پیشتر کفار مکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی راست بازی کے قائل تھے۔ اب جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے دعویٰ میں ان کی جانب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی راستبازی پر بھی شک کیا جانے لگا ہے اور اس ہستی کو کذاب کہنے لگے ہیں جسے وہ ہمیشہ سے را ستباز سمجھتے آئے ہیں تو اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ انہیں میرے ذکر، میرے کلام اور میرے پیغام میں شک ہے۔
[10] ان کے ایسے بیہودہ اعتراض کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ابھی تک انہوں نے میری مار کا مزا نہیں چکھا۔ ایک دفعہ انہیں میری مار پڑ گئی تو ان کے سب کس بل نکل جائیں گے اور آئندہ ایسی باتیں بنانے کا انہیں ہوش ہی نہ رہے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر اللہ تعالیٰ اپنا قبضہ اور اپنی قدرت ظاہر فرماتا ہے کہ جو وہ چاہے کرے، جسے چاہے جو چاہے دے، عزت ذلت اس کے ہاتھ ہے، ہدایت ضلالت اس کی طرف سے ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے وحی نازل فرمائے اور جس کے دل پر چاہے اپنی مہر لگا دے بندوں کے اختیار میں کچھ نہیں وہ محض بے بس بالکل لاچار اور سراسر مجبور ہیں۔ اسی لیے فرمایا کیا ان کے پاس اس بلند جناب غالب، وہاب اللہ کی رحمت کے خزانے ہیں؟ یعنی نہیں ہیں جیسے فرمایا «اَمْ لَھُمْ نَصِيْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا يُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِيْرًا أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ ۖ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُم مُّلْكًا عَظِيمًا فَمِنْهُم مَّنْ آمَنَ بِهِ وَمِنْهُم مَّن صَدَّ عَنْهُ ۚ وَكَفَىٰ بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا» [4- النسآء: 55-53]، اگر اللہ کی حکمرانی کا کوئی حصہ ان کے ہاتھ میں ہوتا تو یہ بخیل تو کسی کو ٹکڑا بھی نہ کھانے دیتے۔ اور انہیں لوگوں کے ہاتھوں میں اللہ کا فضل دیکھ کر حسد آ رہا ہے؟ ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور بہت بڑی سلطنت دی تھی۔ ان میں سے بعض تو ایمان لائے اور بعض ایمان سے رکے رہے جو بھڑکتی جہنم کے لقمے بنیں گے وہ آگ ہی انہیں کافی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أأُنزِلَ عليه الذِّكْرُ من بيننا}؛ أي: ما الذي فضَّله علينا حتى ينزل الذِّكْر عليه من دوننا ويخصَّه الله به؟! وهذه أيضاً شبهةٌ، أين البرهانُ فيها على ردِّ ما قاله؟ وهل جميع الرسل إلاَّ بهذا الوصف؟! يمنُّ الله عليهم برسالته ويأمُرُهم بدعوة الخلق إلى الله. ولهذا؛ لما كانت هذه الأقوالُ الصادرةُ منهم لا يَصْلُحُ شيءٌ منها لردِّ ما جاء به الرسول؛ أخبر تعالى من أين صَدَرَتْ، وأنَّهم {في شكٍّ من ذِكْري}: ليس عندَهم علمٌ ولا بيِّنةٌ، فلما وقعوا في الشكِّ وارتَضَوا به وجاءهم الحقُّ الواضحُ وكانوا جازمين بإقامتهم على شكِّهم؛ قالوا ما قالوا من تلك الأقوال لدفع الحقِّ، لا عن بيِّنة من أمرهم، وإنَّما ذلك من باب الائتفاكِ منهم. ومن المعلوم أنَّ مَنْ هو بهذه الصفة يتكلَّم عن شكٍّ وعنادٍ؛ فإنَّ قولَه غيرُ مقبول ولا قادح أدنى قدحٍ في الحقِّ، وأنَّه يتوجَّه عليه الذمُّ واللوم بمجرَّد كلامه، ولهذا توعَّدهم بالعذاب، فقال: {بل لَمَّا يَذوقوا عذابِ}؛ أي: قالوا هذه الأقوالَ وتجرَّؤوا عليها؛ حيث كانوا ممتَّعين في الدُّنيا، لم يصبْهم من عذاب الله شيءٌ؛ فلو ذاقوا عذابَه؛ لم يتجرَّؤوا.