ترجمہ و تفسیر — سورۃ ص (38) — آیت 11

جُنۡدٌ مَّا ہُنَالِکَ مَہۡزُوۡمٌ مِّنَ الۡاَحۡزَابِ ﴿۱۱﴾
(یہ) ایک حقیر سا لشکر ہے، لشکروں میں سے، جو اس جگہ شکست کھانے والا ہے۔ En
یہاں شکست کھائے ہوئے گروہوں میں سے یہ بھی ایک لشکر ہے
En
یہ بھی (بڑے بڑے) لشکروں میں سے شکست پایا ہوا (چھوٹا سا) لشکر ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 11) {جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ: جُنْدٌ } پر تنوین تقلیل و تحقیر کے لیے ہے اور { مَا } اس کی مزید تاکید کے لیے ہے، جیسے کہا جاتا ہے: {أَكَلْتُ شَيْئًا مَا، أَيْ شَيْئًا قَلِيْلًا} میں نے تھوڑی سی چیز کھائی۔ { جُنْدٌ مَّا } ایک حقیر سا لشکر۔ { هُنَالِكَ } وہاں، اس جگہ، یعنی اللہ تعالیٰ کے رسول کے مقابلے میں۔ { الْاَحْزَابِ حِزْبٌ} کی جمع ہے، یعنی مختلف لشکر، جماعتیں۔ یعنی خدائی اختیارات کی ڈینگیں مارنے والے اور مختلف جماعتوں اور لشکروں سے جمع ہونے والے اس حقیر سے لشکر کی بساط ہی کیا ہے۔ یہ تو جب بھی میدان میں آ یا شکست کھانے والا ہے، جیسا کہ سورۂ قمر میں فرمایا: «‏‏‏‏سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ» ‏‏‏‏ [القمر: ۴۵] عنقریب یہ جماعت شکست کھائے گی اور یہ لوگ پیٹھیں پھیر کر بھاگیں گے۔ بدر کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم { سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ } کہتے ہوئے میدان کی طرف بڑھے، پھر احد، خندق، فتح مکہ ہر موقع پر ایسا ہی ہوا کہ لشکر کفار نے منہ کی کھائی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

11۔ 1 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد اور کفار کی شکست کا وعدہ ہے۔ یعنی کفار کا یہ لشکر جو باطل لشکروں میں سے ایک لشکر ہے، بڑا ہے، یا حقیر، اس کی قطعًا پروا نہ کریں نہ اس سے خوف کھائیں، شکست ان کا مقدر ہے، ھُنَالِکَ مکان بعید کی طرف اشارہ ہے جو جنگ بدر اور یوم فتح مکہ کی طرف بھی ہوسکتا ہے۔ جہاں کافر عبرت ناک شکست سے دوچار ہوئے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

11۔ یہ تو بڑے بڑے لشکروں میں ایک معمولی سا لشکر ہے جو اسی جگہ [13] شکست کھا جائے گا۔
[13] اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والے گروہوں میں سے یہ کوئی اتنا بڑا جتھا نہیں ان سے بڑے بڑے جتھے پہلے گزر چکے اور مات کھا چکے ہیں۔ یہ کفار مکہ کی تو ایک معمولی سی جمعیت ہے جو اسی مقام پر یعنی مکہ میں ہی جہاں یہ بیٹھے باتیں بنا رہے ہیں، اپنی مکمل شکست دیکھ لیں گے۔ یہ گویا کفار مکہ کے حق میں ایک پیشین گوئی تھی جو چند ہی سال بعد حرف بحرف پوری ہو کے رہی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔