ترجمہ و تفسیر — سورۃ ص (38) — آیت 12

کَذَّبَتۡ قَبۡلَہُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّ عَادٌ وَّ فِرۡعَوۡنُ ذُو الۡاَوۡتَادِ ﴿ۙ۱۲﴾
ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا اور عاد نے اور میخوں والے فرعون نے۔ En
ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد اور میخوں والا فرعون (اور اس کی قوم کے لوگ) بھی جھٹلا چکے ہیں
En
ان سے پہلے بھی قوم نوح اور عاد اور میخوں والے فرعون نے جھٹلایا تھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 13،12) ➊ {كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ …:} یعنی ان بے چارے قریش اور ان کی ہمنوا جماعتوں کی کیا حیثیت ہے، ان سے پہلے تعداد اور قوت و شوکت میں ان سے کہیں زیادہ اقوام، یعنی قومِ نوح، میخوں والا فرعون، عاد، ثمود، قومِ لوط اور اصحاب الایکہ وہ بڑے بڑے لشکر تھے جن میں سے ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا تو ان پر میرا عذاب واقع ہو گیا۔
➋ { وَ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِ: الْاَوْتَادِ وَتَدٌ} کی جمع ہے، میخ۔ فرعون کو میخوں والا کہنے کا مطلب یا تو یہ ہے کہ وہ جس سے ناراض ہوتا تھا اس کے ہاتھ پاؤں میں میخیں ٹھکوا کر سزا دیا کرتا تھا، یا یہ کہ اس کی سلطنت ایسی مضبوط تھی گویا زمین میں میخیں ٹھکی ہوئی ہیں، یا اس کا لشکر اتنا زیادہ تھا کہ جہاں ٹھہرتا ہر طرف خیموں کی میخیں ہی میخیں نظر آتیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کی بنائی ہوئی عمارتیں زمین میں میخوں کی طرح ٹھکی ہوئی ہوں، جیسا کہ اہرام مصر ہزاروں سال سے زمین کے اندر گڑے ہوئے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

12۔ 1 فرعون کو میخوں والا اس لئے کہا کہ وہ ظالم جب کسی پر غضبناک ہوتا تو اس کے ہاتھوں پیروں اور سر میں میخیں گاڑ دیتا تھا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

12۔ ان سے پہلے قوم نوح، عاد اور میخوں والا [14] فرعون جھٹلا چکے ہیں
[14] میخوں والا فرعون:۔
اگر محاورۃً اس کے معنی لئے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ ایک بڑی مضبوط سلطنت کا مالک تھا۔ تاہم اس کے لفظی معنی بھی لئے جا سکتے ہیں۔ فرعون کا دستور یہ تھا کہ جس شخص کو سولی پر چڑھانا ہوتا تو اسے تختے کے ساتھ کھڑا کر کے اس کے ہاتھوں اور پاؤں میں چار میخیں ٹھونک دیا کرتا تھا اسی وجہ سے وہ ﴿ذِيْ الاَوْتَاد یعنی میخوں والا مشہور ہو گیا تھا۔ مزید تشریح سورۃ فجر کی آیت نمبر 10 کے حاشیہ میں دیکھئے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

گذشتہ مفرور قوموں کا انجام ٭٭
ان سب کے واقعات کئی مرتبہ بیان ہو چکے ہیں کہ کس طرح ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ کے عذاب ٹوٹ پڑے۔ یہی وہ جماعتیں ہیں جو مال اولاد میں قوۃ و طاقت میں زور اور ذر میں تمہارے زمانہ کے ان کٹر کافروں سے بہت بڑھی ہوئی تھیں لیکن امر الٰہی کے آ چکنے کے بعد انہیں کوئی چیز کام نہ آئی۔ پھر ان کی تباہی کی وجہ بھی بیان ہوئی کہ یہ رسولوں کے دشمن تھے انہیں جھوٹا کہتے تھے۔ انہیں صرف صور کا انتظار ہے اور اس میں بھی کوئی دیر نہیں بس وہ ایک آواز ہو گی کہ جس کے کان میں پڑی بے ہوش و بے جان ہو گیا۔ سوائے ان کے جنہیں رب نے مستثنیٰ کر دیا ہے۔
«‏‏‏‏قِطَّ» کے معنی کتاب اور حصے کے ہیں۔ مشرکین کی بیوقوفی اور ان کا عذابوں کو محال سمجھ کر نڈر ہو کر عذابوں کے طلب کرنے کا ذکر ہو رہا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَإِذْ قَالُوا اللَّـهُمَّ إِن كَانَ هَـٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ» ‏‏‏‏ [8-الأنفال: 32]‏‏‏‏ انہوں نے کہا اللہ اگر یہ صحیح ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب آسمانی ہمیں پہنچا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنا جنت کا حصہ یہاں طلب کیا اور یہ جو کچھ کہا یہ بہ وجہ اسے جھوٹا سمجھنے اور محال جاننے کے تھا۔ ابن جریر کا فرمان ہے کہ جس خیر و شر کے وہ دنیا میں مستحق تھے اسے انہوں نے جلد طلب کیا۔ یہی بات ٹھیک ہے حضرت ضحاک رحمہ اللہ اور اسماعیل رحمہ اللہ کی تفسیر کا ماحصل بھی یہی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پس اللہ تعالیٰ نے ان کی اس تکذیب اور ہنسی کے مقابلے میں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر کی تعلیم دی اور برداشت کی تلقین کی۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ ان مشرکین کو ڈراتا ہے کہ کہیں ان کے ساتھ بھی وہی سلوک نہ کیا جائے جو ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں کے ساتھ کیا گیا جو ان سے زیادہ قوت والی اور باطل پر ان سے زیادہ کمربستہ تھیں: ﴿قَوْمُ نُوْحٍ وَّعَادٌ قوم نوح اور عاد جو کہ حضرت ہود علیہ السلام کی قوم تھی ﴿وَّفِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِ اور میخوں والا فرعونیعنی جو عظیم فوج اور ہولناک قوت کا مالک تھا ﴿وَثَمُوْدُ اور ثمود صالح علیہ السلام کی قوم ﴿وَقَوْمُ لُوْطٍ وَّاَصْحٰؔبُ لْــَٔیْكَةِ اور قوم لوط اور اصحاب ایکہ یعنی گھنے درختوں اور باغات کی مالک قوم، اس سے مراد، حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ الْاَحْزَابُ جنھوں نے اپنی طاقت، افرادی قوت اور دنیاوی سازوسامان کو حق کو نیچا دکھانے کے لیے جمع کیا، مگر یہ سب کچھ ان کے کسی کام نہ آیا۔ ﴿اِنْ كُ٘لٌّ نہیں تھا کوئی گروہ ان میں سے ﴿اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ مگر انھوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ثابت ہوگیا ان پر ﴿عِقَابِ عذاب یعنی اللہ تعالیٰ کا۔ وہ کون سی چیز ہے جو انھیں پاک اور طاہر رکھ سکتی ہے کہ ان پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا۔ پس یہ لوگ انتظار کریں ﴿صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ صرف ایک زور کی آواز کا جس میں کوئی وقفہ نہیں ہوگا۔ یعنی اب اس عذاب کو روکنا اور اس کا واپس ہونا ممکن نہیں اگر یہ اپنے شرک اور انھی اعمال پر قائم رہے تو یہ چنگھاڑ انھیں ہلاک کر کے ان کا استیصال کر ڈالے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يحذِّرُهم تعالى أن يَفْعَلَ بهم ما فعل بالأمم من قبلهم، الذين كانوا أعظم قوَّةً منهم وتحزُّباً على الباطل. {قومُ نوح وعادٌ}: قوم هود وفرعونُ ذي الأوتادِ؛ أي: الجنود العظيمة والقوَّة الهائلة، {وثمودُ}: قوم صالح، {وقومُ لوطٍ وأصحابُ الأيْكَةِ}؛ أي: الأشجار والبساتين الملتفَّة، وهم قوم شعيب. {أولئك الأحزابُ}: الذين اجتمعوا بقوَّتهم وعَددِهِم وعُدَدِهِم على ردِّ الحقِّ، فلم تُغْنِ عنهم شيئاً {إن كُلٌّ}: من هؤلاء {إلاَّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فحقَّ}: عليهم {عقاب}: الله، وهؤلاء ما الذي يطهِّرهم ويزكِّيهم أن لا يُصيبَهم ما أصاب أولئك؟! فلينتظروا {صيحة واحدة ما لها من فَواقٍ}؛ أي: من رجوع وردٍّ، تهلِكُهم، وتستأصِلُهم إن أقاموا على ما هم عليه.