(آیت 10) {اَمْلَهُمْمُّلْكُالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِ …: ”لَهُمْ“} پہلے آنے سے حصر پیدا ہو گیا ہے۔ یعنی یا پھر اللہ تعالیٰ کے بجائے زمین و آسمان کی سلطنت کے مالک یہی ہیں کہ جسے جو چاہیں دیں، جو چاہیں نہ دیں؟ تو پھر زمین پر کیوں پھرتے ہیں، آسمان کی سیڑھیوں پر چڑھیں، زمین و آسمان کی ساری سلطنت سنبھالیں اور اللہ تعالیٰ کے بجائے خود جسے چاہیں نبوت دیں جسے چاہیں نہ دیں؟ ظاہر ہے ایسا نہیں، تو پھر ایسی بے ہودہ باتیں کیوں کرتے ہیں؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
10۔ 1 یعنی آسمان پر چڑھ کر اس وحی کا سلسلہ منقطع کردیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
10۔ یا یہ آسمانوں، زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کے مالک ہیں (اگر یہ بات ہے تو) یہ رسیاں تان کر اوپر چڑھ [12] جائیں
[12] اور دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ زمین و آسمان کی چیزوں کے مالک ہو گئے ہیں جو یہ خدائی اختیارات اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں؟ اگر ایسی بات ہے تو انہیں چاہئے کہ تمام اسباب کو بروئے کار لا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا سلسلہ بند کر دیں۔ اور جسے یہ رسالت کے لئے منتخب کرنا چاہتے ہیں وحی کا رخ ادھر موڑ دیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اَمْلَهُمْمُّؔلْكُالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِوَمَابَیْنَهُمَا﴾”یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان پر ان ہی کی حکومت ہے“ کہ جو چاہیں اسے پورا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ﴿فَلْیَ٘رْتَقُوْافِیالْاَسْبَابِ ﴾”تب وہ ان راستوں پر چڑھ دیکھیں“ جو انھیں آسمان تک لے جائیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی رحمت سے محروم کر دیں۔یہ مشرکین کیسی باتیں کرتے ہیں، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی کمزور ترین مخلوق ہیں؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أم لهم مُلْكُ السمواتِ والأرض وما بينَهما}: بحيثُ يكونون قادرين على ما يريدون، {فَلْيَرْتَقوا في الأسبابِ}: الموصلة لهم إلى السماء، فيقطعوا الرحمةَ عن رسول الله! فكيف يتكلَّمون وهم أعجزُ خلق الله وأضعفُهم بما تكلَّموا به؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔