ترجمہ و تفسیر — سورۃ فاطر (35) — آیت 40

قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ شُرَکَآءَکُمُ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ اَرُوۡنِیۡ مَاذَا خَلَقُوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ اَمۡ لَہُمۡ شِرۡکٌ فِی السَّمٰوٰتِ ۚ اَمۡ اٰتَیۡنٰہُمۡ کِتٰبًا فَہُمۡ عَلٰی بَیِّنَتٍ مِّنۡہُ ۚ بَلۡ اِنۡ یَّعِدُ الظّٰلِمُوۡنَ بَعۡضُہُمۡ بَعۡضًا اِلَّا غُرُوۡرًا ﴿۴۰﴾
کہہ دے کیا تم نے اپنے شریکوں کو دیکھا، جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو؟ مجھے دکھاؤ زمین میں سے انھوں نے کون سی چیز پیدا کی ہے، یاآسمانوں میں ان کا کوئی حصہ ہے، یا ہم نے انھیں کوئی کتاب دی ہے کہ وہ اس کی کسی دلیل پر قائم ہیں؟ بلکہ ظالم لوگ، ان کے بعض بعض کو دھوکے کے سوا کچھ وعدہ نہیں دیتے۔ En
بھلا تم نے اپنے شریکوں کو دیکھا جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو۔ مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے زمین سے کون سی چیز پیدا کی ہے یا (بتاؤ کہ) آسمانوں میں ان کی شرکت ہے۔ یا ہم نے ان کو کتاب دی ہے تو وہ اس کی سند رکھتے ہیں (ان میں سے کوئی بات بھی نہیں) بلکہ ظالم جو ایک دوسرے کو وعدہ دیتے ہیں محض فریب ہے
En
آپ کہیئے! کہ تم اپنے قرارداد شریکوں کا حال تو بتلاؤ جن کو تم اللہ کے سوا پوجا کرتے ہو۔ یعنی مجھ کو یہ بتلاؤ کہ انہوں نے زمین میں سے کون سا (جزو) بنایا ہے یا ان کا آسمانوں میں کچھ ساجھا ہے یا ہم نے ان کو کوئی کتاب دی ہے کہ یہ اس کی دلیل پر قائم ہوں، بلکہ یہ ﻇالم ایک دوسرے سے نرے دھوکے کی باتوں کا وعده کرتے آتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 40) ➊ { قُلْ اَرَءَيْتُمْ شُرَكَآءَكُمُ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ …:} یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں زمین کی خلافت بخشی، تو تم نے اس کی عبادت میں کچھ اوروں کو شریک بنا لیا اور انھیں پکارنا اور ان سے مانگنا شروع کر دیا، تو یہ بتاؤ کہ تمھارے پاس اس کی کیا دلیل ہے؟ کیا تمھارے بنائے ہوئے ان شریکوں نے، جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، زمین یا زمین کی کوئی چیز پیدا کی ہے؟ اگر کی ہے تو مجھے بھی دکھاؤ وہ کون سی چیز ہے؟ (دیکھیے حج: ۷۳۔ رعد: ۱۶) یا آسمانوں میں ان کا کوئی حصہ ہے تو اس کی نشان دہی کرو، یا ہم نے انھیں کوئی تحریر دی ہے، جو اس بات کی دلیل ہو کہ فلاں فلاں کو ہم نے بیماروں کو تندرست کرنے یا بے روزگاروں کو روزگار عطا کرنے یا حاجت مندوں کو ان کی حاجتیں پوری کرنے کے اختیارات دیے ہیں، اس لیے تمھیں یہ سب کچھ ان سے مانگنا چاہیے اور ان کا احسان مند ہونا چاہیے، اگر ایسی کوئی تحریر ہے تو لاؤ پیش کرو اور اگر نہیں اور یقینا نہیں تو خود ہی سوچو کہ آخر تم اپنی جانوں پر اتنا بڑا ظلم کیوں کر رہے ہو۔ یہی بات اللہ تعالیٰ نے سورۂ احقاف (۴) میں بھی بیان فرمائی ہے۔
➋ { بَلْ اِنْ يَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا:} یعنی بات یہ نہیں کہ ان شریکوں میں سے کسی کے پاس کوئی اختیار ہے، بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ شرک کا کاروبار کرنے والے یہ تمام ظالم، یہ جھوٹے پیشوا اور پیر، یہ پنڈت، پروہت، یہ کاہن اور عراف، یہ مجاور اور ان کے ایجنٹ ایک دوسرے کو محض جھوٹے وعدے دلا رہے ہیں کہ فلاں آستانے پر جاؤ گے تو اولاد ملے گی، فلاں بزرگوں سے مدد مانگو گے تو سنگ دل محبوب موم ہو جائے گا، فلاں درگاہ سے ہر مراد پوری ہوتی ہے۔ غرض یہ سارا کاروبار دھوکے پر اور جھوٹے وعدوں پر چل رہا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏يَعِدُهُمْ وَ يُمَنِّيْهِمْ وَ مَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا» [النساء: ۱۲۰] وہ انھیں وعدے دیتا ہے اور انھیں آرزوئیں دلاتا ہے اور شیطان انھیں دھوکے کے سوا کچھ وعدہ نہیں دیتا۔ اور قیامت کے دن شیطان صاف کہہ دے گا: «‏‏‏‏اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ۠» ‏‏‏‏ [إبراہیم: ۲۲] بے شک اللہ نے تم سے وعدہ کیا، سچا وعدہ اور میں نے تم سے وعدہ کیا تو میں نے تم سے خلاف ورزی کی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

40۔ 1 یعنی ہم نے ان پر کوئی کتاب نازل کی ہو، جس میں درج ہو کہ میرے بھی کچھ شریک ہیں جو آسمان اور زمین کی تخلیق میں حصے دار اور شریک ہیں۔ 40۔ 2 یعنی ان میں سے کوئی بھی بات نہیں ہے بلکہ یہ آپس میں ہی ایک دوسرے کو گمراہ کرتے آئے ہیں۔ ان کے لیڈر کہتے تھے کہ یہ معبود انہیں نفع پہنچائیں گے، انہیں اللہ کے نزدیک کردیں گے اور ان کی شفاعت کریں گے۔ یا یہ باتیں شیاطین مشرکین سے کہتے تھے یا اس سے وہ وعدہ مراد ہے جس کا اظہار وہ ایک دوسرے کے سامنے کرتے تھے کہ وہ مسلمانوں پر غالب آئیں گے جس سے ان کو کفر پر جمے رہنے کا حوصلہ ملتا تھا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

40۔ آپ ان کافروں سے کہئے: اپنے ان شریکوں کو تو ذرا دیکھو جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو (اور) مجھے بتاؤ کہ انہوں نے زمین کا کون سا حصہ پیدا کیا ہے؟ یا آسمانوں میں ان کی شراکت ہے یا ہم نے انہیں کوئی ایسی تحریر دی [44] ہے جس کی رو سے وہ کوئی واضح دلیل رکھتے ہیں۔ (ان میں سے کوئی بات بھی نہیں) بلکہ یہ ظالم ایک دوسرے کو فریب کے وعدے [45] دیتے رہتے ہیں۔
[44] شریکوں کے جواز کی ممکنہ بنیادیں؟
یعنی تم لوگوں نے اپنے جن معبودوں کو اللہ تعالیٰ کے اختیارات و تصرفات میں اللہ کا شریک بنا رکھا ہے اس کی بنیاد کیا ہے؟ ایک بنیاد تو یہ ہو سکتی ہے کہ کائنات کا کوئی دسواں بیسواں حصہ انہوں نے بھی بنایا ہو۔ دوسری بنیاد یہ ہو سکتی ہے کہ انہوں نے کائنات کا الگ تو کوئی حصہ نہیں بنایا، البتہ جب اللہ تعالیٰ کائنات پیدا کر رہا تھا تو اس وقت تمہارے ان معبودوں نے اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بٹایا ہو اس طرح اختیارات و تصرفات میں ان کا بھی کچھ حق بن سکتا ہے۔ تیسری بنیاد یہ بھی بن سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی انہیں کوئی مختار نامہ لکھ دیا ہو کہ فلاں علاقہ کے لوگ، فلاں آستانے یا فلاں بزرگ کے پاس اپنی درخواستیں پیش کیا کریں اور انہیں پکارا کریں اور انہی کے حضور نذریں نیازیں چڑھایا کریں۔ یا فلاں فلاں ہستیوں کو ہم نے فلاں فلاں بیماری سے تندرست کرنے کے اختیار دے رکھے ہیں اور اگر بے روزگاروں کو روزگار دلوانا ہو تو فلاں بزرگ کے پاس جانا چاہئے۔ وہ آپ کی حاجات کو پورا کر سکتے ہیں۔ اور بگڑی بنا بھی سکتے ہیں اور اگر چاہیں تو بگاڑ بھی سکتے ہیں۔ اگر ہم نے کوئی ایسی سند کسی آسمانی کتاب میں لکھی ہے تو وہ دکھا دو۔ اور اگر ان تینوں باتوں میں سے کوئی بات بھی نہیں ہے تو پھر کیا تم خود اللہ تعالیٰ کے اختیار و تصرف کے اجارہ دار بن بیٹھے ہو۔ اور اپنی طرف سے ہی ان اختیارات میں اپنے اپنے معبودوں اور پیروں فقیروں کے حصے کر لئے ہیں۔
[45] شرک کی اصل بنیاد بت پرستی ہے:۔
بات یوں نہیں بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ پروہت اور گورو اور ان کے چیلے یا یہ بزرگ پیر فقیر اور ان کے مرید ان با صفا اور قبروں کے مجاور سب مل کر اپنے مفادات دنیوی کی خاطر عوام الناس کو بیوقوف بنا کر اپنا الو سیدھا کر رہے ہیں۔ یہ اپنی اپنی دکانیں چمکانے کے لئے طرح طرح کے افسانے اور قصے گھڑتے ہیں پھر ان کا خوب پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ فلاں صاحب بڑے پہنچے ہوئے ہیں۔ ان کا دامن پکڑ لیا جائے تو وہ اپنے مریدوں کی سفارش کر کے اللہ سے بخشوا کے چھوڑیں گے۔ فلاں صاحب کی تقدیر میں کوئی اولاد نہ تھی مگر فلاں بزرگ نے اللہ سے اصرار کر کے اسے سات بیٹے دلوا دیئے۔ اور فلاں صاحب نے فلاں قبر پر جا کر فلاں حرکت کی تھی تو چند ہی دنوں میں وہ تباہ و برباد ہو گیا۔ ان کی دکانیں محض جھوٹ اور پروپیگنڈے کی بنیاد پر چل رہی ہیں۔ اور اس سے ان کے دنیوی مفادات وابستہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اختیارات و تصرفات کسی بندے کو ہرگز تفویض نہیں کئے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مدلل پیغام ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرما رہا ہے کہ آپ مشرکوں سے فرمایئے کہ اللہ کے سوا جن جن کو تم پکارا کرتے ہو تم مجھے بھی تو ذرا دکھاؤ کہ انہوں نے کس چیز کو پیدا کیا ہے؟ یا یہی ثابت کر دو کہ آسمانوں میں ان کا کون سا حصہ ہے؟ جب کہ نہ وہ خالق نہ ساجھی پھر تم مجھے چھوڑ کر انہیں کیوں پکارتے ہو؟ وہ تو ایک ذرے کے بھی مالک نہیں۔ اچھا یہ بھی نہیں تو کم از کم اپنے کفر و شرک کی کوئی کتابی دلیل ہی پیش کر دو۔ لیکن تم یہ بھی نہیں کر سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ تم صرف اپنی نفسانی خواہشوں اور اپنی رائے کے پیچھے لگ گئے ہو دلیل کچھ بھی نہیں۔ باطل جھوٹ اور دھوکے بازی میں مبتلا ہو۔ ایک دوسرے کو فریب دے رہے ہو، اپنے ان جھوٹے معبودوں کی کمزوری اپنے سامنے رکھ کر اللہ تعالیٰ کی جو سچا معبود ہے قدرت و طاقت دیکھو کہ آسمان و زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔ ہر ایک اپنی جگہ رکا اور تھما ہوا ہے۔ ادھر ادھر جنبش بھی تو نہیں کر سکتا۔ آسمان کو زمین پر گر پڑنے سے اللہ تعالیٰ رکے ہوئے ہے۔ یہ دونوں اس کے فرمان سے ٹھہرے ہوئے ہیں۔ اس کے سوا کوئی نہیں جو انہیں تھام سکے، روک سکے، نظام پر قائم رکھ سکے۔ اس حلیم و غفور اللہ کو دیکھو کہ مخلوق و مملوک، نافرمانی و سرکشی، کفر و شرک دیکھتے ہوئے بھی بربادی اور بخشش سے کام لے رہا ہے، ڈھیل اور مہلت دیئے ہوئے ہے۔ گناہوں کو معاف فرماتا ہے۔
ابن ابی حاتم میں اس آیت کی تفسیر میں ایک غریب بلکہ منکر حدیث ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا ایک واقعہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ منبر پر بیان فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں خیال گزرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی سوتا بھی ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ ان کے پاس بھیج دیا جس نے انہیں تین دن تک سونے نہ دیا۔ پھر ان کے ایک ایک ہاتھ میں ایک ایک بوتل دے دی اور حکم دیا کہ ان کی حفاظت کرو یہ گریں نہیں، ٹوٹیں نہیں۔ موسیٰ علیہ السلام انہیں ہاتھوں میں لے کر حفاظت کرنے لگے لیکن نیند کا غلبہ ہونے لگا اونگھ آنے گی۔ کچھ جھکولے تو ایسے آئے کہ آپ ہوشیار ہو گئے اور بوتل گرنے نہ دی لیکن آخر نیند غالب آ گئی اور بوتلیں ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گر گئیں اور چورا چور ہو گئیں۔ مقصد یہ تھا کہ سونے والا دو بوتلیں بھی تھام نہیں سکتا۔ پھر اللہ تعالیٰ سوتا تو زمین و آسمان کی حفاظت کیسے ہوتی؟۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:5782]‏‏‏‏ لیکن بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں بلکہ بنی اسرائیل کی گھڑنت ہے۔
بھلا موسیٰ علیہ السلام جیسا جلیل القدر پیغمبر یہ تصور بھی کر سکتا ہے؟ کہ اللہ تعالیٰ سو جاتا ہے۔ باوجود یکہ اللہ تعالیٰ اپنی صفات میں فرما چکا ہے کہ اسے نہ تو اونگھ آئے نہ نیند۔ زمین و آسمان کی کل چیزوں کا مالک صرف وہی ہے۔ بخاری و مسلم میں حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ تو سوتا ہے نہ سونا اس کی شایان شان ہے۔ وہ ترازو کو اونچا نیچا کرتا رہتا ہے۔ دن کے عمل رات سے پہلے اور رات کے اعمال دن سے پہلے اس کی طرف چڑھ جاتے ہیں۔ اس کا حجاب نور ہے۔ یا آگ ہے۔ اگر اسے کھول دے تو اس کے چہرے کی تجلیاں جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے سب مخلوق کو جلا دیں۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک شخص عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ کہاں سے آ رہے ہو؟ اس نے کہا شام سے۔ پوچھا وہاں کس سے ملے؟ کہا کعب رحمہ اللہ سے۔ پوچھا کعب نے کیا بات بیان کی؟ کہا یہ کہ آسمان ایک فرشتے کے کندھے تک گھوم رہے ہیں۔ پوچھا تم نے اسے سچ جانا یا جھٹلا دیا؟ جواب دیا کچھ بھی نہیں۔ فرمایا پھر تو تم نے کچھ بھی نہیں کیا۔ سنو کعب نے غلط کہا پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ اس کی اسناد صحیح ہے۔
دوسری سند میں آنے والے کا نام ہے کہ وہ جندب بجلی رضی اللہ عنہ تھے۔ امام مالک رحمہ اللہ بھی اس کی تردید کرتے تھے کہ آسمان گردش میں ہیں اور اسی آیت سے دلیل لیتے تھے اور اس حدیث سے بھی جس میں ہے مغرب میں ایک دروازہ ہے جو توبہ کا دروازہ ہے وہ بند نہ ہو گا جب تک کہ آفتاب مغرب سے طلوع نہ ہو۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3536،قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏ حدیث بالکل صحیح ہے۔ «واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم»

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک وتعالیٰ مشرکین کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی، ان کے نقص اور ہر لحاظ سے ان کے شرک کے بطلان کو واضح کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿قُ٘لْ یعنی اے رسول! ان سے کہہ دیجیے: ﴿اَرَءَیْتُمْ مجھے اپنے شریکوں کے بارے میں آگاہ کرو ﴿شُ٘رَؔكَآءَكُمُ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو۔ کیا وہ دعا اور عبادت کے مستحق ہیں؟ ﴿اَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ مجھے دکھاؤ انھوں نے زمین سے کون سی چیز پیدا کی ہے؟ آیا انھوں نے سمندروں کو پیدا کیا ہے یا پہاڑوں کو؟ انھوں نے حیوانات کو پیدا کیا ہے یا جمادات کو؟ وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ ان تمام چیزوں کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ کیا تمھارے خود ساختہ شریکوں کے لیے ﴿فِی السَّمٰوٰتِ آسمانوں کی تخلیق و تدبیر میں کوئی حصہ ہے؟ وہ یہی جواب دیں گے کہ تخلیق و تدبیر کائنات میں ان کا کوئی حصہ نہیں… جب ان خود ساختہ معبودوں نے کوئی چیز پیدا کی ہے نہ خالق کی تخلیق میں یہ شریک ہیں تو پھر تم ان کی بے بسی کا اقرار کرنے کے باوجود ان کو کیوں پکارتے اور ان کی کیوں عبادت کرتے ہو؟ پس ان کی عبادت کے جواز کی دلیل ختم ہو گئی اور ان کی عبادت کا بطلان ثابت ہو گیا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی عبادت کے جواز کی سمعی دلیل کا ذکر کرتے ہوئے اس کا بھی ابطال فرمایا: ﴿اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا کیا ہم نے انھیں کوئی کتاب دی ہے جو ان کے شرک کو جائز قرار دیتی ہو یا انھیں شرک اور بتوں کی عبادت کا حکم دیتی ہو ﴿فَهُمْ اور وہ اپنے شرک کے بارے میں ﴿عَلٰى بَیِّنَتٍ کسی دلیل پر ہوں یعنی اس نازل شدہ کتاب میں کوئی ایسی چیز ہو جو شرک کے جواز اور اس کے صحیح ہونے کو ثابت کرتی ہو؟
معاملہ ایسے نہیں ہے کیونکہ قرآن کریم سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں کی گئی اور نہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل ان کی طرف کوئی رسول ہی مبعوث کیا گیا ہے۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ ان پر کوئی کتاب نازل کی گئی ہے اور ان کی طرف کوئی رسول مبعوث کیا گیا ہے جس نے ان کے زعم کے مطابق، انھیں شرک کا حکم دیا ہے، تب بھی ہمیں قطعی یقین ہے کہ یہ جھوٹ کہتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَمَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْۤ اِلَیْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰ٘هَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ (الانبیاء:21؍25) اور ہم نے آپ سے پہلے جو بھی رسول بھیجا ہم نے اس کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں پس صرف میری عبادت کرو۔ لہذا تمام انبیاء و مرسلین اور تمام آسمانی کتابیں اس امر پر متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دین میں اخلاص کا حکم دیا ہے۔ ﴿وَمَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۙ۬ حُنَفَآءَ (البینۃ:98؍5) اور انھیں صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ یکسو ہو کر اور دین کو صرف اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کریں۔
اگر یہ کہا جائے کہ جب عقلی اور نقلی دلائل شرک کے بطلان پر دلالت کرتے ہیں تب وہ کون سی چیز ہے جو مشرکین کو شرک پر آمادہ کرتی ہے حالانکہ ان کے اندر عقل مند اور ذہین و فطین لوگ بھی ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا: ﴿بَلْ اِنْ یَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا اِلَّا غُ٘رُوْرًا بلکہ یہ ظالم ایک دوسرے سے نرے دھوکے کی باتوں کا وعدہ کرتے ہیں یعنی یہ وہ مسلک ہے جس پر گامزن ہونے والے لوگوں کے پاس کوئی دلیل نہیں، محض ایک دوسرے کو اس کی تلقین کرتے ہیں، ایک دوسرے کی باتوں کو آراستہ کرتے ہیں، متاخرین گمراہ متقدمین کی اقتدا کرتے ہیں، یہ جھوٹی آرزوئیں ہیں جو شیاطین انھیں دلاتے ہیں اور ان کے برے اعمال ان کے سامنے سجاتے ہیں۔ یہ برے اعمال ان کے قلوب میں جڑ پکڑ لیتے ہیں اور ان کی صفت بن جاتے ہیں تب ان کو زائل اور ختم کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور کفر اور شرک پر جمے رہنے سے وہ نتائج حاصل ہوتے ہیں جو سامنے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى معجِّزاً لآلهةِ المشركين ومبيِّناً نقصَها وبطلانَ شِركهم من جميع الوجوه: {قُلْ} يا أيُّها الرسول لهم: {أرأيتُم}؛ أي: أخْبِروني عن شركائكُم {الذين تدعونَ من دونِ الله}: هل هم مستحقُّون للدعاء والعبادةِ؟! فأروني {ماذا خَلَقوا من الأرضِ}: هل خَلَقوا بحراً أم خلقوا جبالاً أو خلقوا حيواناً أو خلقوا جماداً؟! سيقرُّون أنَّ الخالقَ لجميع الأشياء هو الله تعالى. أم لشركائِكُم {شركٌ في السمواتِ}: في خلقها وتدبيرها؟! سيقولون: ليس لهم شركةٌ! فإذا لم يخلقْ شيئاً ولم يَشْركوا الخالقَ في خلقه؛ فلم عبدتُموهم ودعوتُموهم مع إقراركم بعجزهم؟! فانتفى الدليل العقليُّ على صحَّةِ عبادتهم، ودلَّ على بطلانها.

ثم ذكر الدليل السمعيَّ، وأنَّه أيضاً منتفٍ، فلهذا قال: {أم آتَيْناهم كتاباً}: يتكلَّم بما كانوا به يشرِكون؛ يأمُرُهم بالشركِ وعبادةِ الأوثان. {فهم}: في شركهم {على بينةٍ}: من ذلك الكتاب الذي نَزَلَ عليهم في صحة الشرك، ليس الأمر كذلك؛ فإنَّهم ما نزل عليهم كتابٌ قبلَ القرآن، ولا جاءهم نذيرٌ قبل رسول الله محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -، ولو قُدِّرَ نزولُ كتاب إليهم وإرسالُ رسول إليهم وزعموا أنَّه أمَرَهم بشِرْكِهِم؛ فإنَّا نجزِمُ بكذِبِهم؛ لأنَّ الله قال: {وما أرْسَلْنا من قبلِكَ من رسول إلاَّ نوحي إليه أنَّه لا إله إلاَّ أنا فاعبدونِ}: فالرسلُ والكتبُ كلُّها متفقةٌ على الأمر بإخلاص الدين لله تعالى: {وما أُمِروا إلاَّ لِيَعْبُدوا اللهَ مخلِصينَ له الدينَ حنفاءَ}. فإنْ قيلَ: إذا كان الدليل العقليُّ والنقليُّ قد دلاَّ على بطلان الشرك؛ فما الذي حمل المشركين على الشركِ وفيهم ذوو العقول والذكاء والفطنة؟! أجاب تعالى بقوله: {بل إن يَعِدُ الظالمون بعضُهم بعضاً إلاَّ غروراً}؛ أي: ذلك الذي مَشَوْا عليه ليس لهم فيه حُجَّةٌ، وإنَّما ذلك توصيةُ بعضهم لبعضٍ به، وتزيينُ بعضِهِم لبعضٍ، واقتداءُ المتأخِّر بالمتقدِّم الضالِّ، وأماني منَّاها الشياطين، وزيَّنَ لهم سوءَ أعمالهم ، فنشأت في قلوبهم، وصارتْ صفةً من صفاتها، فعَسُرَ زوالُها وتعسَّرَ انْفِصالها، فحصل ما حَصَلَ من الإقامة على الكفر والشرك الباطل المضمحلِّ.