تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ …: ” كِسَفًا “ ”كِسْفَةٌ“} کی جمع ہے، ٹکڑے۔ اس میں کفار کو ڈرایا ہے کہ یہی آسمان و زمین جن کو تم اپنے لیے نفع بخش اور زندگی کا سبب سمجھتے ہو، اللہ تعالیٰ چاہے تو انھی چیزوں کو تمھاری ہلاکت کا موجب بنا سکتا ہے۔ پھر وہ چاہے تو تمھیں اس زمین میں دھنسا دے، جیسے اس نے قارون کو دھنسا دیا، یا آسمان سے عذاب کے کچھ ٹکڑے گرا دے، جیسے اس نے اصحاب الایکہ کے ساتھ کیا۔
➌ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيْبٍ:} یعنی جو شخص کسی قسم کا تعصّب یا ہٹ دھرمی نہ رکھتا ہو، بلکہ اخلاص کے ساتھ اپنے رب سے ہدایت کا طالب ہو اور اس کی طرف رجوع رکھتا ہو، اس کے لیے تو آسمان و زمین کے اس عظیم الشّان نظام میں بہت بڑا سبق موجود ہے کہ جس نے اتنا بڑا حکمت سے بھرا ہوا نظام بنایا ہے، وہ دوبارہ زندہ بھی کر سکتا ہے اور یہ بھی سبق ہے کہ اس کی عنایت اور اس کے فضل ہی سے ہم بچے ہوئے ہیں، ورنہ وہ ایک ہی لمحہ میں ہمیں ہلاک کر سکتا ہے۔ یہ زمین اس کی ہے اور آسمان بھی اسی کا ہے، پھر ہم بھاگ کر کہاں جا سکتے ہیں؟ مگر جو اپنے رب کی طرف رجوع کے بجائے اس سے بغاوت اختیار کر چکا ہو، اس کے لیے یہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود اس میں کوئی سبق نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[13] نظام کائنات میں صرف ایک نشانی نہیں بے شمار نشانیاں ہیں۔ مگر یہ نشانیاں ہر ایک کے لئے نہیں بلکہ صرف اس شخص کے لئے ہیں جو عقل و انصاف اور سوچ سمجھ سے کام لے کر اس کائنات کے خالق کی طرف جھکتے اور رجوع ہوتے ہیں۔ وہ اس مربوط اور منظم نظام کائنات کو دیکھ کر فوراً اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ یہ کسی حکیم و خبیر ہستی کا قائم کردہ نظام ہے۔ اور چونکہ اللہ نے کوئی بھی چیز بے مقصد پیدا نہیں کی لہٰذا یہ نظام ضرور ایک دن کسی اعلیٰ و اکمل نتیجہ پر پہنچنے والا ہے۔ یہ انداز فکر انھیں اپنے خالق و مالک کی طرف سے مزید دیتا ہے۔ آگے اللہ اپنے ایک رجوع کرنے والے بندے حضرت داؤدؑ اور ان پر اپنے انعامات کا ذکر فرما رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم نبَّههم على الدليل العقلي الدالِّ على عدم استبعاد البعث الذي استبعدوه، وأنَّهم لو نظروا إلى ما بين أيديهم وما خلفهم من السماء والأرض، فرأوا من قدرة الله فيهما ما يُبْهِرُ العقول، ومن عظمتِهِ ما يُذْهِلُ العلماء الفحول، وأنَّ خلقَهما وعظمتَهما وما فيهما من المخلوقات أعظمُ من إعادة الناس بعد موتِهِم من قبورِهم؛ فما الحاملُ لهم على ذلك التكذيب مع التصديق بما هو أكبر منه؟! نعم؛ ذاك خبرٌ غيبيٌّ إلى الآن ما شاهدوه؛ فلذلك كذَّبوا به. قال الله: {إن نَشَأ نَخْسِفْ بِهِمُ الأرضَ أو نُسْقِطْ عليهم كِسَفاً من السماء}؛ أي: من العذاب؛ لأنَّ الأرض والسماء تحت تدبيرنا؛ فإنْ أمرناهما؛ لم يستعصيا؛ فاحذَروا إصرارَكم على تكذيبِكُم فنعاقِبَكُم أشدَّ العقوبة. {إنَّ في ذلك}؛ أي: خلق السماواتِ والأرضِ وما فيهما من المخلوقات {لآيةً لكلِّ عبدٍ منيبٍ}: فكلَّما كان العبدُ أعظم إنابةً إلى الله؛ كان انتفاعُه بالآياتِ أعظم؛ لأنَّ المنيبَ مقبلٌ إلى ربِّه، قد توجَّهت إرادتُه وهمَّاتُه لربِّه، ورجع إليه في كلِّ أمر من أموره، فصار قريباً من ربِّه، ليس له همٌّ إلاَّ الاشتغال بمرضاته، فيكون نظرُهُ للمخلوقات نظرَ فكرةٍ وعبرةٍ لا نظر غفلةٍ غير نافعةٍ.