تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
وہ بکریاں چرانے والے ایک عام نوجوان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں کفار کے بادشاہ جالوت جیسے گراں ڈیل دشمن کو قتل کروا کر بنی اسرائیل کا محبوب بنا دیا اور پھر ایسا عروج عطا فرمایا کہ وہ طالوت کی وفات کے بعد بنی اسرائیل کے بادشاہ بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے انھیں سلطنت کے ساتھ علم و حکمت بھی عطا فرمایا۔ (بقرہ: ۲۵۱) انھیں نبوت بخشی اور زبور عطا فرمائی۔ (نساء: ۱۶۳) انھیں زبردست قوت عطا فرمائی۔ (سورۂ ص: ۱۷) انھیں اور ان کے بیٹے سلیمان علیہ السلام کو خاص علم عطا فرمایا۔ (نمل: ۱۵) انھیں پرندوں کی بولی سکھائی۔ (نمل:۱۶) انھیں توبہ و انابت کا وصف عطا فرمایا اور ان کی مغفرت فرمائی۔ (سورۂ ص: ۲۴، ۲۵) انھیں صحیح فیصلہ کرنے کی استعداد اور عدل کرنے کی توفیق بخشی۔ (انبیاء: ۷۹۔ ص: ۲۶) ان کے لیے لوہا نرم کر دیا اور انھیں زرہیں بنانا سکھایا۔ (انبیاء: ۸۰۔ سبا: ۱۰، ۱۱) انھیں نہایت خوب صورت آواز عطا فرمائی اور پہاڑوں اور پرندوں کو ان کے ساتھ تسبیح دہرانے کا حکم دیا۔ (انبیاء: ۷۹۔ سبا: ۱۰) ان کے لیے (زبور) پڑھنا ہلکا کر دیا گیا تھا، چنانچہ وہ گھوڑوں پر زین ڈالنے کا حکم دیتے اور ان پر زین ڈالنے سے پہلے اسے پڑھ لیتے تھے۔ [دیکھیے بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی: «و آتینا داوٗد زبورا» : ۳۴۱۷] انھیں صوم و صلاۃ کی اور اس کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ میں استقامت کی وہ توفیق بخشی جس کی تفصیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی کہ ”وہ رات کا نصف سو جاتے، پھر ایک ثلث قیام کرتے اور ایک سدس پھر سو جاتے تھے اور ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔“ [أبوداوٗد، الصیام، باب في صوم یوم و فطر یوم: ۲۴۴۸، و قال الألباني صحیح] اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تو (داؤد علیہ السلام) بھاگتے نہیں تھے۔“ [بخاري، الصوم، باب صوم داوٗد علیہ السلام: ۱۹۷۹، عن عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما] اور وہ صرف اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے۔ [دیکھیے بخاري، البیوع، باب کسب الرجل و عملہ بیدہ: ۲۰۷۲] تلاش کرنے سے ان پر اللہ تعالیٰ کی مزید عنایات بھی مل سکتی ہیں۔
➋ {يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَ الطَّيْرَ:} اس سے پہلے لفظ {”قُلْنَا“} (ہم نے کہا) محذوف ہے، جو خود بخود سمجھ میں آرہا ہے۔ {” اَوِّبِيْ “ ”آبَ يَؤُبُ أَوْبًا“} (ن) لوٹنا اور {”أَوَّبَ يُأَوِّبُ“} (تفعیل) لوٹانا، دہرانا۔ یعنی ہم نے پہاڑوں سے کہا کہ اے پہاڑو! ان کے ساتھ تسبیح اور تلاوت کے کلمات دہراؤ اور اے پرندو! تم بھی۔ گویا {” وَ الطَّيْرَ “} کا عطف {”جِبَالٌ“} کے محل پر ہے، اس لیے منصوب ہے، یا یہ {”سَخَّرْنَا لَهُ“} محذوف کا مفعول ہے، یعنی ہم نے ان کے لیے پرندے بھی تسبیح کرنے کے لیے مسخّر کر دیے، جیسا کہ سورۂ ص میں فرمایا: «وَ الطَّيْرَ مَحْشُوْرَةً كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ» [صٓ: ۱۹] ”اور پرندوں کو بھی (مسخّر کر دیا) جب کہ وہ اکٹھے کیے ہوئے سب اس کے لیے بہت رجوع کرنے والے تھے۔“ پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیح کا بیان سورۂ انبیاء (۷۹) میں گزر چکا ہے۔
➌ { وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ:} داؤد علیہ السلام کے لیے لوہا نرم کرنے کی کیفیت اکثر مفسرین نے یہ لکھی ہے کہ وہ اللہ کے حکم سے آگ میں پگھلائے بغیر ان کے ہاتھ میں موم یا گندھے ہوئے آٹے کی طرح ہوتا تھا۔ اگر ایسا ہو تو اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں، مگر یہ صرف قتادہ کا قول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ثابت نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے انھیں لوہا پگھلا کر نرم کرنے کا سلیقہ سکھا دیا ہو تو یہ بھی {” وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ “} ہی ہے۔ آج کل کسی معجزے یا کرامت کے بغیر ہنر کی بدولت لوہا لوگوں کے ہاتھوں میں نرم ہو چکا ہے۔ داؤد علیہ السلام کے لیے سب سے پہلے لوہے کی بھٹی ایجاد کرنے، اسے اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے اور سب سے پہلے زرہیں بنانے کا اور اس بات کا شرف بھی کچھ کم نہیں کہ بعد میں آنے والوں نے انھی سے یہ ہنر حاصل کیے۔ نیز دیکھیے سورۂ انبیاء (۸۰)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[15] آپ کی خوش الحانی، پہاڑوں اور پرندوں کی آپ سے ہم آہنگی کے لئے۔ [ديكهو سورة انبياء كي آيت نمبر 79 كا حاشيه نمبر 67]
[16] آپ کے ہاتھ میں لوہے کا نرم ہونا اور آپ کے لوہے کی زرہیں بنانے کے لئے۔ [ديكهئے سورة انبياء كي آيت نمبر 80 كا حاشيه نمبر 68]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ابوعثمان نہدی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ واللہ! ہم نے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے زیادہ پیاری آواز کسی باجے کی بھی نہیں سنی۔
«اوبی» کے معنی حبشی زبان میں یہ ہیں کہ تسبیح بیان کرو۔ لیکن ہمارے نزدیک اس میں مزید غور کی ضرورت ہے لغت عرب میں یہ لفظ ترجیع کے معنی میں موجود ہے۔ پس پہاڑوں کو اور پرندوں کو حکم ہو رہا ہے کہ وہ داؤد علیہ السلام کی آواز کے ساتھ اپنی آواز بھی ملا لیا کریں۔ «تاویب» کے ایک معنی دن کو چلنے کے بھی آتے ہیں۔
جیسے «سری» کے معنی رات کو چلنے کے ہیں لیکن یہ معنی بھی یہاں کچھ زیادہ مناسبت نہیں رکھتا یہاں تو یہی مطلب ہے کہ داؤد علیہ السلام کی تسبیح کی آواز میں تم بھی آواز ملا کر خوش آوازی سے رب کی حمد و ثناء بیان کرو۔
اور فضل ان پر یہ ہوا کہ ان کے لئے لوہا نرم کر دیا گیا نہ انہیں لوہے کی بھٹی میں ڈالنے کی ضرورت نہ ہتھوڑے مارنے کی حاجت ہاتھ میں آتے ہی ایسا ہو جاتا تھا جیسے دھاگے، اب اس لوہے سے بفرمان اللہ آپ زرہیں بناتے تھے۔ بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ دنیا میں سب سے پہلے زرہ آپ ہی نے ایجاد کی ہے۔ ہر روز صرف ایک زرہ بناتے اس کی قیمت چھ ہزار لوگوں کے کھلانے پلانے میں صرف کر دیتے۔
زرہ بنانے کی ترکیب خود اللہ کی سکھائی ہوئی تھی کہ کڑیاں ٹھیک ٹھیک رکھیں حلقے چھوٹے نہ ہوں کہ ٹھیک نہ بیٹھیں بہت بڑے نہ ہوں کہ ڈھیلا پن رہ جائے بلکہ ناپ تول اور صحیح اندازے سے حلقے اور کڑیاں ہوں۔
ابن عساکر میں ہے داؤد علیہ السلام بھیس بدل کر نکلا کرتے اور رعایا کے لوگوں سے مل کر ان سے اور باہر کے آنے جانے والوں سے دریافت فرماتے کہ داؤد کیسا آدمی ہے؟ لیکن ہر شخص کو تعریفیں کرتا ہوا ہی پاتے۔ کسی سے کوئی بات اپنی نسبت قابل اصلاح نہ سنتے۔
اللہ کی کتاب زبور پڑھنے بیٹھتے۔ تو آواز نکلتے ہی چرند صبر و سکون کے ساتھ محویت کے عالم میں آپ کی آواز سے متاثر ہو کر کتاب اللہ کی تلاوت میں مشغول ہو جاتے۔ سارے باجے شیاطین نے نغمہ داؤدی سے نکالے ہیں۔
آپ کی بے مثل خوش آواز کی یہ چڑاؤنی جیسی نقلیں ہیں۔ اپنی ان نعمتوں کو بیان فرما کر حکم دیتا ہے کہ اب تمہیں بھی چاہئے کہ نیک اعمال کرتے رہو۔ میرے فرمان کے خلاف نہ کرو۔ یہ بہت بری بات ہے کہ جس کے اتنے بڑے اور بےپایاں احسان ہوں۔ اس کی فرمانبرداری ترک کر دی جائے۔ میں تمہارے اعمال کا نگران ہوں۔ تمہارا کوئی عمل چھوٹا بڑا نیک بد مجھ سے پوشیدہ نہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: ولقد مَننا على عبدنا ورسولنا داود عليه الصلاة والسلام، وآتيناه فضلاً من العلم النافع والعمل الصالح والنعم الدينيَّة والدنيويَّة: ومن نعمِهِ عليه:
ما خصَّه به من أمرِهِ تعالى الجمادات كالجبال والحيوانات من الطيور أن تؤوِّبَ معه وتُرَجِّعَ التسبيحَ بحمدِ ربِّها مجاوبةً له، وفي هذا من النعمة عليه أنْ كان ذلك من خصائصه التي لم تكنْ لأحدٍ قبلَه ولا بعدَه، وأنَّ ذلك يكون منهضاً له ولغيره على التسبيح إذا رأوا هذه الجماداتِ والحيواناتِ تتجاوبُ بتسبيح ربِّها وتمجيدِهِ وتكبيرِهِ وتحميدِهِ؛ كان ذلك مما يُهيج على ذكر الله تعالى.
ومنها: أنَّ ذلك كما قال كثيرٌ من العلماء أنَّه طرباً بصوت داودَ؛ فإنَّ الله تعالى قد أعطاه من حُسن الصوت ما فاق به غيرَه، وكان إذا رجَّعَ التسبيحَ والتهليلَ والتمجيدَ بذلك الصوت الرخيم الشَّجِيِّ المطرِب؛ طربَ كلُّ مَنْ سَمِعَهُ من الإنس والجنِّ، حتى الطيور والجبال، وسبَّحت بحمدِ ربِّها.
ومنها: أنَّه لعله ليحصل له أجر تسبيحها، لأنه سبب ذلك، وتسبح تبعاً له.
ومن فضله عليه أن ألانَ له الحديدَ؛ ليعملَ الدروع السابغاتِ، وعلَّمه تعالى كيفيَّة صنعتِهِ؛ بأن يقدِّرَه في {السردِ}؛ أي: يقدِّره حَلَقاً ويصنعُه كذلك ثم يُدْخِلُ بعضها ببعض، قال تعالى: {وعلَّمْناه صنعةَ لَبوس لكم لِتُحْصِنَكُم من بأسِكُم فهل أنتم شاكرونَ}، ولمَّا ذَكَرَ ما امتنَّ به عليه وعلى آله؛ أمره بشكرِهِ وأن يَعْمَلوا صالحاً، ويراقِبوا الله تعالى فيه بإصلاحه وحفظِهِ من المفسداتِ؛ فإنَّه بصيرٌ بأعمالهم، مطَّلع عليها، لا يخفى عليه منها شيءٌ.