تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { بَلِ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ …:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری عمر قریش مکہ کے سامنے گزری تھی۔ (دیکھیے یونس: ۱۶) آپ کے متعلق یہ دونوں باتیں اتنی بے کار تھیں کہ ان کی تردید کی ضرورت ہی نہیں تھی، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صادق اور امین ہونا سب کے ہاں مسلّم تھا۔(دیکھیے انعام: ۳۳) جیسا کہ ابوسفیان کے اس اعتراف پر کہ انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جھوٹ بولنے کا کوئی واقعہ معلوم نہیں، ہرقل نے کہا تھا: ”یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ لوگوں پر تو جھوٹ نہ بولے، مگر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے لگے۔“ [دیکھیے بخاري: ۷] رہی دیوانہ یا پاگل ہونے کی بات تو آپ کی عقل کا کمال دوست و دشمن سب کے سامنے تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ان دونوں باتوں میں سے ایک بھی نہیں، اصل بات یہ ہے کہ جو لوگ آخرت کے منکر ہیں وہ جہالت اور نادانی سے کام لے رہے ہیں اور غوروفکر سے بات کی تہ تک پہنچنے کی کوشش ہی نہیں کرتے، جس کی وجہ سے وہ حق بات اور سیدھی راہ سے بہت دور نکل گئے ہیں اور اس راستے پر چل رہے ہیں جو انھیں سیدھا جہنم کے عذاب میں لے جانے والا ہے۔ الٹا سیدھی راہ پر چلنے والے کو جھوٹا یا دیوانہ بتا رہے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
(1) وہ اس زمین و آسمان یا کائنات کے فنا ہونے کا یقین نہیں رکھتے تھے۔ بالفاظ دیگر وہ قیامت کے قائم ہونے کے قائل نہیں تھے۔
(2) وہ بعث بعد الموت کے بھی قائل نہیں تھے۔ یعنی جب انسان مر کر مٹی میں مل کر مٹی بنا جائے تو اس کا دوبارہ جی اٹھنا ان کے خیال کے مطابق ناممکنات سے تھا۔
(3) اسی کے نتیجہ میں وہ آخرت کے ثواب و عذاب کے بھی قائل تھے۔ لہٰذا وہ اپنی دنیوی زندگی میں احکام الٰہی کا پابند بن جانے کے بجائے آزاد رہنا ہی پسند کرتے تھے۔ جب بھی ان لوگوں نے مذاق اڑایا تو انھیں باتوں کا اور ان میں سے بھی پہلی دو باتیں تو وہ اکثر مختلف پیرایوں میں دہراتے رہتے تھے۔ اس آیت میں ان کے سوال کا انداز تمسخر کا ہے۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اس نبی کی یہ دعوت دو ہاتھوں سے خالی نہیں ہو سکتی۔ یا تو وہ اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے یا پھر اس کی عقل جواب دے گئی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے کہ یہ دونوں باتیں نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں، نیک ہیں، راہ یافتہ ہیں، دانا ہیں، باطنی اور ظاہری بصیرت والے ہیں۔ لیکن اسے کیا کیا جائے کہ منکر لوگ جہالت اور نادانی سے کام لے رہے ہیں۔ اور غور و فکر سے بات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ جس کی وجہ سے حق بات اور سیدھی راہ ان سے چھوٹ جاتی ہے اور وہ بہت دور نکل جاتے ہیں۔
جیسے فرمان ہے «وَالسَّمَاءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ» ۱؎ [51-الذاريات:47-48] ’ ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھوں بنایا اور ہم کشادگی والے ہیں۔ زمین کو ہم نے ہی بچھایا اور ہم بہت اچھے بچھانے والے ہیں۔ ‘
اتنی بڑی مخلوق کا خالق اتنی زبردست قدرتوں پر قادر کیا تم جیسی چھوٹی سی مخلوق کو فنا کر کے پھر پیدا کرنے پر قدرت کھو بیٹھے؟ وہ تو قادر ہے کہ اگر چاہے تمہیں زمین میں دھنسا دے۔ یا آسمان تم پر توڑ دے یقیناً تمہارے ظلم اور گناہ اسی قابل ہیں۔ لیکن اللہ کا حکم اور عفو ہے کہ وہ تمہیں مہلت دیئے ہوئے ہے۔
جس میں عقل ہے جس میں دور بینی کا مادہ ہو جس میں غور و فکر کی عادت ہو۔ جس کی اللہ کی طرف جھکنے والی طبیعت ہو۔ جس کے سینے میں دل، دل میں حکمت اور حکمت میں نور ہو وہ تو ان زبردست نشانات کو دیکھنے کے بعد اس قادر و خالق اللہ کی اس قدرت میں شک کر ہی نہیں سکتا کہ مرنے کے بعد پھر جینا ہے۔
آسمانوں جیسے شامیانے اور زمینوں جیسے فرش جس نے پیدا کر دئیے اس پر انسان کی پیدائش کیا مشکل ہے؟ جس نے ہڈیوں، گوشت، کھال کو ابتداً پیدا کیا۔ اسے ان کے سڑ گل جانے اور ریزہ ریزہ ہو کر جھڑ جانے کے بعد اکٹھا کر کے اٹھا بٹھانا کیا بھاری ہے؟
اسی کو اور آیت میں فرمایا «اَوَلَيْسَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ» ۱؎ [36-يس:81]، یعنی ’ آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر دیا کیا وہ ان کے مثل پیدا کرنے پر قادر نہیں؟ بے شک وہ قادر ہے ‘
اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] یعنی ’ انسانوں کی پیدائش سے بہت زیادہ مشکل تو آسمان و زمین کی پیدائش ہے۔ لیکن اکثر لوگ بےعلمی برتتے ہیں۔ ‘
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فهذا الرجلُ الذي يأتي بذلك: هل افْتَرَى {على الله كَذِباً}: فتجرَّأ عليه وقال ما قال، {أم به جِنَّةٌ}: فلا يُستغرب منه؛ فإنَّ الجنون فنونٌ، وكلُّ هذا منهم على وجه العناد والظُّلم، ولقد علموا أنه أصدقُ خلقِ الله وأعقلُهم، ومِنْ علمِهِم أنَّهم أبدووا وأعادوا في معاداتهم، وبذلوا أنفُسَهم وأموالَهم في صدِّ الناس عنه؛ فلو كان كاذباً مجنوناً؛ لم ينبغ لكم يا أهل العقول غير الزاكيةِ أن تُصْغوا لما قال ولا تحتَفِلوا بدعوتِهِ؛ فإنَّ المجنون لا ينبغي للعاقل أن يُلْفِتَ إليه نَظَرَه أو يبلغَ قولُهُ منه كلَّ مبلغ، ولولا عنادُكم وظلمُكم؛ لَبادَرْتُم لإجابته ولَبَّيْتُم دعوتَه، ولكن ما تُغني الآياتُ والنُّذر عن قوم لا يؤمنون، ولهذا قال تعالى: {بل الذين لا يؤمنونَ بالآخرةِ}، ومنهم الذين قالوا تلك المقالَة {في العذابِ والضَّلال البعيدِ}؛ أي: في الشقاء العظيم والضلال البعيدِ الذي ليس بقريبٍ من الصواب، وأيُّ شقاءٍ وضلال أبلغُ من إنكارِهم لقدرةِ الله على البعثِ، وتكذيِبِهم لرسولهم الذي جاء به، واستهزائِهِم به، وجزمِهِم بأنَّ ما جاؤوا به هو الحقُّ فرأوا الحقَّ باطلاً والباطل والضلال حقًّا وهدى؟!