تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[101] اس سے مراد جنگ بنو قریظہ ہے جس کے بعد مدینہ یہودیوں سے مکمل طور پر پاک ہو گیا اور جو یہودی غزوہ بنو قینقاع اور بنو نضیر کے موقعوں پر جلا وطن کئے تھے وہ سب خیبر کی طرف چلے گئے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
امام محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ کے سوال پر عبیدہ سلمانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنا چہرہ اور سر ڈھانک کر اور بائیں آنکھ کھلی رکھ کر بتا دیا کہ ”یہ مطلب اس آیت کا ہے۔“
عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”اپنی چادر سے اپنا گلا تک ڈھانپ لے۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس آیت کے اترنے کے بعد انصار کی عورتیں جب نکلتی تھیں تو اس طرح لکی چھپی چلتی تھیں گویا ان کے سروں پر پرند ہیں سیاہ چادریں اپنے اوپر ڈال لیا کرتی تھیں۔“
زہری رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ کیا لونڈیاں بھی چادر اوڑھیں؟ خواہ خاوندوں والیاں ہوں یا بے خاوند کی ہوں؟ فرمایا ”دوپٹیا تو ضرور اوڑھیں اگر وہ خاوندوں والیاں ہوں اور چادر نہ اوڑھیں تاکہ ان میں اور آزاد عورتوں میں فرق رہے۔“
سدی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”فاسق لوگ اندھیری راتوں میں راستے سے گزرنے والی عورتوں پر آوازے کستے تھے اس لیے یہ نشان ہو گیا کہ گھر گرہست عورتوں اور لونڈیوں باندیوں وغیرہ میں تمیز ہو جائے اور ان پاک دامن عورتوں پر کوئی لب نہ ہل اس کے۔“
پھر فرمایا کہ ”جاہلیت کے زمانے میں جو بے پردگی کی رسم تھی جب تم اللہ کے اس حکم کے عامل بن جاؤ گے تو اللہ تعالیٰ تمام اگلی خطاؤں سے درگزر فرمالے گا اور تم پر مہر و کرم کرے گا۔“
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وأما من جهة أهل الشرِّ؛ فقد توعَّدهم بقوله: {لئن لم ينتهِ المنافقونَ والذين في قلوبهم مرضٌ}؛ أي: مرض شكٍّ أو شهوةٍ، {والمرجِفون في المدينة}؛ أي: المخوِّفون المرهِبون الأعداء، المتحدِّثون بكثرتِهِم وقوَّتِهِم وضعف المسلمين، ولم يذكرِ المعمولَ الذي ينتهون عنه؛ ليعمَّ ذلك كلَّ ما توحي به أنفسُهم إليهم، وتوسوِسُ به، وتدعو إليه من الشرِّ من التعريض بسبِّ الإسلام وأهله، والإرجاف بالمسلمين، وتوهين قُواهم، والتعرُّض للمؤمنات بالسوء والفاحشة. وغير ذلك من المعاصي الصادرة من أمثال هؤلاء.
{لَنُغْرِيَنَّكَ بهم}؛ أي: نأمرك بعقوبتهم وقتالهم ونسلِّطك عليهم، ثم إذا فعلنا ذلك؛ لا طاقةَ لهم بك، وليس لهم قوةٌ ولا امتناعٌ، ولهذا قال: {ثم لا يجاوِرونَكَ فيها إلاَّ قليلاً}؛ أي: لا يجاورونك في المدينة إلاَّ قليلاً؛ بأن تقتُلَهم أو تنفيهم، وهذا فيه دليلٌ لنفي أهل الشرِّ الذين يُتَضَرَّر بإقامتهم بين أظهر المسلمين؛ فإنَّ ذلك أحسم للشرِّ وأبعد منه، ويكونونَ {ملعونينَ أينما ثُقِفوا أُخِذوا وقُتِّلوا تَقْتيلاً}؛ أي: مبعَدين حيثُ وُجِدوا، لا يحصُلُ لهم أمنٌ، ولا يقرُّ - لهم قرارٌ، يخشون أن يُقتلوا أو يُحبسوا أو يعاقَبوا.