تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 59

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یُّعۡرَفۡنَ فَلَا یُؤۡذَیۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۵۹﴾
اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دے کہ وہ اپنی چادروں کا کچھ حصہ اپنے آپ پر لٹکا لیا کریں۔ یہ زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو انھیں تکلیف نہ پہنچائی جائے اور اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والاہے۔ En
اے پیغمبر اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ (باہر نکلا کریں تو) اپنے (مونہوں) پر چادر لٹکا (کر گھونگھٹ نکال) لیا کریں۔ یہ امر ان کے لئے موجب شناخت (وامتیاز) ہوگا تو کوئی ان کو ایذا نہ دے گا۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
En
اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتیں سے کہہ دو کہ وه اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں، اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی، اور اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس آیت کریمہ کو آیت حجاب سے موسوم کیا گیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ تمام عورتوں کو عمومی طور پر پردے کا حکم دیں اور اس کی ابتدا اپنی ازواج مطہرات اور اپنی بیٹیوں سے کریں کیونکہ دوسروں کی نسبت، ان کے لیے یہ حکم زیادہ مؤکد ہے۔ نیز کسی معاملے میں دوسروں کو حکم دینے والے کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اپنے گھر سے ابتدا کرے جیسا کہ فرمایا: ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِیْكُمْ نَارًا (التحریم:66/6) اے مومنو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ
اللہ تعالیٰ نے حکم دیاکہ ﴿یُدْنِیْنَ عَلَ٘یْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ۠ وہ اپنی چادریں اوڑھ کر گھونگٹ نکال لیا کریں۔ (جلباب) وہ کپڑا ہے جو عام لباس کے اوپر اوڑھ لیا جاتا ہے، مثلاً: دوپٹا، اوڑھنی اور چادر وغیرہ، یعنی چادر وغیرہ سے اپنے چہروں اور سینوں کو ڈھانپ لیا کریں، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْ٘نَ فَلَا یُؤْذَیْنَ یہ امر ان کے لیے موجب شناخت ہو گا تو کوئی ان کو ایذا نہیں دے گا۔ آیت کریمہ کا یہ جملہ عدم حجاب کی صورت میں وجود اذیت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اگر وہ پردہ نہیں کریں گی تو بسااوقات ان کے بارے میں کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ پاک باز عورتیں نہیں ہیں اور کوئی بدکردار شخص، جس کے دل میں مرض ہے، آگے بڑھ کر تعرض کر کے ان کو تکلیف پہنچا سکتا ہے۔ ان کی اہانت بھی ہو سکتی ہے۔ شرارت پسند شخص ان کو لونڈیاں سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ برا سلوک کر سکتا ہے، اس لیے حجاب بدطینت لوگوں کی لالچ بھری نظروں سے بچاتا ہے۔
﴿وَكَانَ اللّٰهُ غَ٘فُوْرًا رَّحِیْمًا اور اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ اس نے تمھارے گزشتہ گناہ بخش دیے اور تم پر رحم فرمایا کہ اس نے تمھارے لیے احکام بیان فرمائے، حلال اور حرام کو واضح کیا۔ یہ عورتوں کی جہت سے برائی کا سدباب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذه الآية هي التي تسمَّى آية الحجاب، فأمر الله نبيَّه أن يأمُرَ النساء عموماً، ويبدأ بزوجاتِهِ وبناتِهِ ـ لأنَّهنَّ آكدُ من غيرهنَّ، ولأنَّ الآمر لغيره ينبغي أن يبدأ بأهله قبل غيرهم؛ كما قال تعالى: {يا أيُّها الذين آمنوا قُوا أنفسَكم وأهليكم ناراً}. {يُدْنينَ عليهنَّ من جلابيبِهنَّ}: وهنَّ اللاَّتي يَكُنَّ فوق الثياب من ملحفةٍ وخمارٍ ورداءٍ ونحوه؛ أي: يغطِّين بها وجوهَهن وصدورَهن، ثم ذكر حكمة ذلك، فقال: {ذلك أدنى أن يُعْرَفْنَ فلا يُؤْذَيْنَ}: دلَّ على وجود أذيَّةٍ إن لم يحتَجِبْن، وذلك لأنهنَّ إذا لم يحتجِبْن، ربَّما ظنَّ أنهنَّ غير عفيفاتٍ، فيتعرَّض لَهُنَّ مَنْ في قلبهِ مرضٌ، فيؤذيهنَّ، وربما استُهين بهنَّ، وظُنَّ أنهنَّ إماء، فتهاون بهنَّ من يريدُ الشرَّ؛ فالاحتجابُ حاسمٌ لمطامع الطامعين فيهنَّ. {وكان الله غفوراً رحيماً}: حيث غفر لكم ما سَلَفَ ورَحِمَكُم بأن بيَّن لكم الأحكام وأوضح الحلال والحرام؛ فهذا سدٌّ للباب من جهتهنَّ.