ترجمہ و تفسیر — سورۃ لقمان (31) — آیت 3

ہُدًی وَّ رَحۡمَۃً لِّلۡمُحۡسِنِیۡنَ ۙ﴿۳﴾
نیکی کرنے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہیں۔ En
نیکوکاروں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے
En
جو نیکو کاروں کے لئے رہبر اور (سراسر) رحمت ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 3تا5) {هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِيْنَ …:} ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیات (۲ تا ۵) کی تفسیر۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

3-1محسنین محسن کی جمع ہے اس کے ایک معنی تو یہ ہیں احسان کرنے والا والدین کے ساتھ رشتے داروں کے ساتھ، مستحقین اور ضرورت مندوں کے ساتھ، دوسرے معنی ہیں، نیکیاں کرنے والا، یعنی برائیوں سے مجتنب اور نیکوکار، تیسرے معنی ہیں اللہ کی عبادت نہایت اخلاص اور خشوع و خضوع کے ساتھ کرنے والا۔ جس طرح حدیث جبرائیل میں ہے ان تعبد اللہ کانک تراہ۔ قرآن ویسے تو سارے جہان کے لئے ہدایت اور رحمت کا ذریعہ ہے لیکن اس سے اصل فائدہ چونکہ صرف محسنین اور متقین ہی اٹھاتے ہیں، اس لئے یہاں اسطرح فرمایا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ جو نیکو کار لوگوں کے لئے [1]
[1] قرآن کی اور اس کی آیات کی بعض مقامات پر یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ سب لوگوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔ سورۃ بقرہ کی ابتداء میں فرمایا کہ یہ متقین کے لئے ہدایت ہے اور اس مقام پر فرمایا کہ یہ محسنین کے لئے ہدایت ہے۔ تو ان آیات میں کچھ تضاد نہیں۔ اور ان کی تطبیق کی سورت یہ ہے کہ قرآن فی الواقع ایسے لوگوں کے لئے یعنی تمام بنی نوع انسان اور جنوں کے لئے ہدایت کی کتاب ہے، مگر اس کی ہدایت سے مستفید وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو خود بھی ہدایت کے طالب ہوں اللہ سے ڈرنے والے ہوں۔ اس کتاب کے منکر اور بد کار لوگ اس سے مستفید نہیں ہو سکتے۔ ہاں اگر وہ اپنی ضد سے باز آجائیں تو وہ بھی ہدایت پا سکتے ہیں۔
[2] قرآن رحمت کس لحاظ سے ہے؟
اور قرآن کی آیات رحمت اس لحاظ سے ہیں کہ قرآن ایک طرز حیات سکھلاتا ہے جو ایک طرف تو اخروی فلاح کا ضامن ہے اور دوسری طرف دنیوی زندگی کے ہر پہلو کی ایسی متوازن اور متناسب راہیں دکھلاتا ہے جس سے نہ فرد کے حقوق مجروح ہوتے ہیں نہ معاشرہ کے اور وہ ان میں حسین امتزاج پیدا کر دیتا ہے۔ وہ تدبیر منزل یعنی عائلی زندگی سے لے کر حکمرانی تک بین المملکتی تعلقات اور خارجہ پالیسی کی ایسی معتدل راہ پیش کرتا ہے کہ اگر انسانی عقل ہزاروں سال بھی بھٹکتی پھرتی تو ایسی متوازن راہیں تلاش نہیں کر سکتی تھی۔ اللہ کی یہ انتہائی رحمت اور مہربانی ہے کہ اللہ نے وحی کے ذریعہ انسانوں کو مفت میں ہی ایسی راہیں اور ایسے طریقے بتلا دیئے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

وہ حکمت سے لبریز ہے، وہ تمام اخلاق کریمہ کی طرف دعوت دیتا ہے اور برے اخلاق سے روکتا ہے، مگر اکثر لوگ اس کی راہنمائی سے محروم ہیں اس پر ایمان لانے اور عمل کرنے سے روگردانی کرتے ہیں۔ البتہ وہ لوگ روگردانی نہیں کرتے جن کو اللہ تعالیٰ نے توفیق سے سرفراز کر کے روگردانی سے بچایا وہ اپنے رب کی عبادت میں احسان سے کام لیتے ہیں اور اس کے بندوں کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔
پس یہ قرآن انھی کے لیے ﴿هُدًى ہدایت ہے راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے اور جہنم کے راستوں سے انھیں بچاتا ہے ﴿وَّرَحْمَةًاور محسنین کے لیے رحمت ہے۔ اس کے ذریعے سے انھیں دنیا و آخرت کی سعادت، خیر کثیر، ثواب جزیل اور فرحت حاصل ہوتی ہے اور گمراہی و بدبختی ان سے دور ہو جاتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولكن مع أنه حكيمٌ يدعو إلى كلِّ خُلُق كريم وينهى عن كلِّ خُلُقٍ لئيم، أكثرُ الناس محرومون من الاهتداءِ به، معرِضون عن الإيمان والعمل به؛ إلاَّ مَنْ وفَّقَه الله تعالى وعَصَمَه، وهم المحسنون في عبادة ربِّهم، والمحسِنون إلى الخلق؛ فإنَّه {هدىً}: لهم يهديهم إلى الصراط المستقيم، ويحذِّرهم من طرق الجحيم. {ورحمةً}: لهم تحصُلُ لهم به السعادةُ في الدنيا والآخرة والخيرُ الكثيرُ والثوابُ الجزيلُ والفرح والسرور، ويندفِعُ عنهم الضَّلال والشقاءُ.