تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ:} اس کا عطف {” عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ “} پرہے، گویا عبارت یوں ہے {”وَ إِنَّ اللّٰهَ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ“} یعنی اللہ تعالیٰ ہی بارش اتارتا ہے، اور جو اتارتا ہے وہی جانتا ہے کہ کہاں اتارنی ہے، کب اتارنی ہے اور کتنی اتارنی ہے، اس کے سوا کسی کو یہ بات معلوم نہیں۔ یہاں ایک سوال ہے کہ{” وَ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَ يَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ “} دونوں جملوں میں حصر پر دلالت کرنے والا کوئی لفظ نہیں، جس کا ترجمہ یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ ہی یہ کام کرتا ہے۔ اس کا سب سے قوی جواب تو وہ ہے جو شنقیطی نے دیا ہے کہ یہ بات کہ یہاں حصر مراد ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث سے ثابت ہے، جیسا کہ اوپر گزرا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر قرآن مجید اور لغت عرب کو جاننے والا کوئی نہیں۔ ویسے علمائے عربیت نے کئی طرح سے یہاں حصر ثابت فرمایا ہے جن میں سے ایک جواب یہاں بیان کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ دیکھیے کہ اگر کہا جاتا کہ{”إِنَّ عِلْمَ السَّاعَةِ عِنْدَ اللّٰهِ“} تو جملہ مختصر بھی ہوتا اور بات بھی ادا ہو جاتی، مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {” اِنَّ اللّٰهَ “} اور اس کی خبر {” عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ “} بیان فرمائی۔ اس میں دو طرح سے حصر ہے، لفظ {” اللّٰهَ “} کو زیادہ صراحت کے ساتھ پہلے لانا، پھر خبر کے جملہ میں {” عِنْدَهٗ “} کو مقدم کرنا، جس سے تخصیص پیدا ہوئی۔ گویا جملے کی ابتدا جو حصر کے ساتھ ہوئی، وہی حصر {” وَ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَ يَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ “} میں بھی ملحوظ ہے، کیونکہ ان دونوں کا عطف جملہ {” عِلْمُ السَّاعَةِ “} پر ہے۔ بعض اوقات عامۃ الناس کی طرف سے ایک سوال آتا ہے کہ آج کل سائنس اتنی ترقی کر گئی ہے کہ محکمہ موسمیات والے پہلے ہی پیش گوئی کر دیتے ہیں کہ فلاں دن بارش ہو گی، اگر یہ مفاتیح الغیب سے ہے، جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں، تو وہ کیسے بتا دیتے ہیں؟ جواب اس کا یہ ہے کہ علم یقین کا نام ہے، ظن و تخمین اور گمان کو علم نہیں کہتے۔ محکمہ موسمیات والے اپنے تجربے کے مطابق ہوا کے دباؤ اور فضا میں موجود نمی وغیرہ کو دیکھ کر بارش ہونے یا نہ ہونے کا اعلان کر دیتے ہیں، مگر کبھی ان کی بات درست ثابت ہوتی ہے کبھی نادرست۔ بعض اوقات تجربے کے مطابق بارش ہونے کے تمام اسباب ہوتے ہیں مگر بادل ایک بوند برسائے بغیر گزر جاتے ہیں اور بعض اوقات بارش کے اسباب میں سے کچھ بھی موجود نہیں ہوتا کہ یکایک تمام اسباب پیدا ہو کر بارش شروع ہو جاتی ہے۔ اس کی دلیل کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ بارش کب، کہاں اور کتنی ہو گی محکمہ موسمیات والوں کا یہ اعلان بھی ہے کہ آج بارش کا امکان ہے۔ سوفیصد علم نہ ان کے پاس ہے نہ ان کا دعویٰ ہے۔ آیت پر اعتراض کرنے والوں کا حال ” مدعی سست گواہ چست“ والا ہے۔
➌ { وَ يَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ:} اس کا عطف بھی {” عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ “} پر ہے: {” أَيْ إِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ“} یعنی اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹوں میں کیا ہے۔ یہاں بھی یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ آج کل الٹراساؤنڈ سے معلوم ہو جاتا ہے کہ پیدا ہونے والا لڑکا ہے یا لڑکی۔ اس کے جواب میں عموماً علمائے اسلام فرماتے ہیں کہ آیت کے الفاظ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹوں میں لڑکا ہے یا لڑکی، بلکہ فرمایا {” مَا فِي الْاَرْحَامِ “} کہ جو کچھ پیٹوں میں ہے، ضروری نہیں کہ اس سے مراد لڑکا یا لڑکی ہی لیا جائے، بلکہ مراد اس سے یہ ہے کہ جنین زندہ رہنے والا ہے یا ضائع ہو جانے والا، طویل عمر والا ہے یا تھوڑی عمر والا، خوش بخت ہے یا بد نصیب، تندرست رہے گا یا بیمار ہو گا۔ سو اگر اس کی جنس معلوم ہو بھی جائے کہ لڑکا ہے یا لڑکی، تب بھی قرآن کے بیان پر کوئی حرف نہیں آتا۔ یقینا یہ جواب بہت عمدہ ہے، مگر ابھی تک یہ دعویٰ کہ الٹراساؤنڈ سے لڑکے یا لڑکی کی جنس معلوم ہو جاتی ہے، سوفیصد درست ثابت نہیں ہوا۔ خود ڈاکٹر حضرات کہتے ہیں کہ جنین کی وضع پیٹ میں ایسی ہوتی ہے کہ اس کے اعضائے تناسل اس کے سر کے نیچے چھپے ہوتے ہیں اور الٹراساؤنڈ کے ذریعے سے اندازے ہی کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے جو اکثر صحیح ہوتا ہے اور کبھی غلط بھی نکلتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ الٹراساؤنڈ سے جنس معلوم ہو جاتی ہے، سوفیصد درست نہیں۔ الٹرا ساؤنڈ کی شہرت کے باوجود میں نے اپنی زندگی میں دو دفعہ الٹرا ساؤنڈ کی پیش گوئی تمام دنیا کے سامنے غلط ثابت ہوتی ہوئی دیکھی ہے، ایک دفعہ برطانیہ کے ولی عہد کی بیوی لیڈی ڈیانا کے ہاں ڈاکٹروں نے اعلان کیا کہ لڑکی پیدا ہو گی، مگر ان کے اعلان کے برعکس لڑکا پیدا ہوا۔ دوسرا پاکستان کی سابقہ وزیراعظم بے نظیر کے ڈاکٹر نے اعلان کیا کہ لڑکا پیدا ہو گا، مگر لڑکی پیدا ہوئی۔ اب آپ سوچیں کہ برطانیہ اور پاکستان کے ان اونچے مناصب پر فائز لوگوں کے پاس الٹراساؤنڈ کے ماہرین کی کیا کمی تھی؟ حقیقت یہ ہے کہ اگر الٹراساؤنڈ کے ذریعے سے ایک ہزار بچوں کے متعلق پیش گوئی کی جائے، جن میں سے نوسو ننانوے درست اور ایک غلط نکلے تو بھی اسے علم نہیں کہہ سکتے، کیونکہ علم وہ ہے جو یقینی ہو، کبھی غلط نہ نکلے۔ البتہ اگر کوئی آپریشن کرکے آنکھوں سے بچے کی جنس دیکھ لے تو قرآن کی بات پھر بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ یہ بات کہ بچہ دانیوں میں کیا ہے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، کیونکہ ”کیا ہے“ میں لڑکے لڑکی کی جنس کے علاوہ بے شمار باتیں داخل ہیں۔
➍ { وَ مَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا:} مسروق فرماتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنھا سے پوچھا: ”اماں جان! کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟“ انھوں نے فرمایا: ”تم نے جو بات کہی اس سے تو میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، کیا تم ان تین باتوں سے بھی ناواقف ہو؟ جنھیں جو بھی تمھیں بیان کرے وہ جھوٹ کہے گا۔“ پھر فرمایا: [مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ رَأَی رَبَّهُ فَقَدْ كَذَبَ، ثُمَّ قَرَأَتْ: «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَ هُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَ هُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [الأنعام: ۱۰۳]، «وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْيًا اَوْ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ» [الشورٰي: ۵۱] وَ مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ يَعْلَمُ مَا فِيْ غَدٍ فَقَدْ كَذَبَ ثُمَّ قَرَأَتْ: «وَ مَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ» [لقمان: ۳۴] وَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ كَتَمَ فَقَدْ كَذَبَ، ثُمَّ قَرَأَتْ: «يٰۤاَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ» [المائدة: ۶۷]، وَ لٰكِنَّهُ رَأٰی جِبْرِيْلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فِيْ صُوْرَتِهِ مَرَّتَيْنِ] [بخاري، التفسیر، باب: ۴۸۵۵۔ مسلم: ۱۷۷] ”جو شخص تمھیں بیان کرے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو اس نے یقینا جھوٹ کہا، پھر ام المومنین رضی اللہ عنھا نے یہ آیت پڑھی: «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَ هُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَ هُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [الأنعام: ۱۰۳] ”اسے نگاہیں نہیں پاتیں اور وہ سب نگاہوں کو پاتا ہے اور وہی نہایت باریک بین، سب خبر رکھنے والا ہے۔“ اور یہ آیت: «وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْيًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ» [الشورٰی: ۵۱] ”اور کسی بشر کے لیے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعے، یا پردے کے پیچھے سے۔“ ”اور جو شخص تمھیں بیان کرے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ جانتے ہیں جو کل ہو گا تو اس نے یقینا جھوٹ کہا۔“ پھر انھوں نے یہ آیت پڑھی: «وَ مَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا» [لقمان: ۳۴] ”اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائی کرے گا۔“ ”اور جو شخص تمھیں بیان کرے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (وحی کی بات کو) چھپایا ہے، اس نے یقینا جھوٹ کہا۔“ پھر انھوں نے یہ آیت پڑھی: «اَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ» [المائدۃ: ۶۷] ”اے رسول! پہنچا دے جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے۔“ ”لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔“
{رُبَيِّع بنت مُعوّذ} رضی اللہ عنھما بیان کرتی ہیں: ”جس رات میری رخصتی ہوئی اس کی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میرے بستر پر بیٹھ گئے، جہاں تم بیٹھے ہو اور کچھ چھوٹی لڑکیاں دف بجا کر اپنے آباء کے متعلق شعر پڑھ رہی تھیں جو بدر میں شہید ہوئے، یہاں تک کہ ایک لڑکی نے کہا: [وَفِيْنَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِيْ غَدٍ] ”اور ہم میں وہ نبی ہے جو کل ہونے والی بات جانتا ہے۔“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لاَ تَقُوْلِيْ هٰكَذَا، وَقُوْلِيْ مَا كُنْتِ تَقُوْلِيْنَ] ”اس طرح مت کہو اور وہ کہتی جاؤ جو کہہ رہی تھی۔“ [بخاري، المغازي، باب: ۴۰۰۱]
➎ { وَ مَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ:} یعنی کوئی انسان نہیں جانتا کہ اسے موت کہاں آئے گی، خشکی پر یا سمندر میں یا پہاڑ پر۔ جب اسے اپنی موت کی جگہ کا علم نہیں تو وقت کا علم کیسے ہو سکتا ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِذَا كَانَ أَجَلُ أَحَدِكُمْ بِأَرْضٍ أَوْثَبَتْهُ إِلَيْهَا الْحَاجَةُ، فَإِذَا بَلَغَ أَقْصٰی أَثَرِهِ، قَبَضَهُ اللّٰهُ سُبْحَانَهُ، فَتَقُوْلُ الأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَبِّ! هٰذَا مَا اسْتَوْدَعْتَنِيْ] [ابن ماجہ، الزھد، باب ذکر الموت والاستعداد: ۴۲۶۳، وقال البوصیري و الألباني صحیح] ”جب تم میں سے کسی شخص کی موت کسی زمین میں طے ہو، تو کوئی ضرورت اسے چھلانگ لگوا کر وہاں پہنچا دیتی ہے۔ پھر جب وہ اس جگہ پہنچتا ہے جہاں اس کے قدم کا آخری نشان ہوتا ہے، تو اللہ سبحانہ اسے قبض کر لیتے ہیں۔ چنانچہ زمین قیامت کے دن کہے گی: ”اے میرے رب! یہ ہے وہ امانت جو تو نے میرے پاس رکھی تھی۔“
➏ { اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ کا علم ان پانچ چیزوں کے ساتھ ہی خاص نہیں، بلکہ وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے اور ان کے ظاہر و باطن کی پوری خبر رکھنے والا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
یہ حدیث، حدیث جبرئیلؑ کے نام سے مشہور ہے۔ اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ قیامت کا معین وقت نہ جبرئیلؑ کو معلوم تھا اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ اس کا معین وقت نہ بتلانے میں حکمت یہ ہے کہ قیامت کا معین وقت اور اسی طرح کسی کو اس کی موت کا متعین وقت بتلا دینے سے اس دنیا کے دار الامتحان ہونے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ اسی لئے نہ موت کے وقت کا ایمان مقبول ہے اور نہ قیامت کو مقبول ہو گا جبکہ جب قیامت کی صریح علامات مثلاً سورج کا مغرب سے طلوع ہونا وغیرہ ظاہر ہو گئیں تو اس وقت بھی ایمان لانا مقبول نہ ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور آیت میں ہے «وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ» ۱؎ [6-الانعام:59] ’ غیب کی کنجیاں اللہ ہی کے پاس ہیں جنہیں بجز اس کے اور کوئی نہیں جانتا ‘۔
اور حدیث میں ہے کہ { غیب کی کنجیاں یہاں پانچ چیزیں ہیں جن کا بیان آیت «اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ» ۱؎ [31-لقمان:34] میں ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:353/5:صحیح]
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پانچ باتیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی } }۔ بخاری کی حدیث کے الفاظ تو یہ ہیں کہ { یہ پانچ غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا }۔۱؎ [صحیح بخاری:1039]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے جو ایک صاحب تشریف لائے اور پوچھنے لگے ایمان کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ کو، فرشتوں کو،کتابوں کو، رسولوں کو، آخرت کو، مرنے کے بعد جی اٹھنے کو مان لینا }۔
اس نے پوچھا اسلام کیا ہے؟ فرمایا: { ایک اللہ کی عبادت کرنا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا نمازیں پڑھنا، زکوٰۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا }۔
اس نے دریافت کیا احسان کیا ہے؟ فرمایا: { تیرا اس طرح اللہ کی عبادت کرنا کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو نہیں دیکھتا تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے }۔ اس نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کب ہے؟ فرمایا: { اس کا علم نہ مجھے اور نہ تجھے ہاں اس کی کچھ نشانیاں میں تمہیں بتادیتا ہوں۔ جب لونڈی اپنے سردار کو جنے اور جب ننگے پیروں اور ننگے بدنوں والے لوگوں کے سردار بن جائیں۔ علم قیامت ان پانچ چیزوں میں سے ایک ہے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی۔
وہ شخص واپس چلا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جاؤ اسے لوٹا لاؤ } لوگ دوڑ پڑے لیکن وہ کہیں بھی نظر نہ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { یہ جبرائیل علیہ السلام تھے لوگوں کو دین سکھانے آئے تھے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4777] ہم نے اس حدیث کا مطلب شرح صحیح بخاری میں خوب بیان کیا ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ { جبرائیل علیہ السلام نے اپنی ہتھیلیاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں پر رکھ کر یہ سوالات کیے تھے کہ اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ { تو اپنا چہرہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کر دے اور اللہ کے وحدہ لاشریک ہونے کی گواہی دے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عبد و رسول ہونے کی۔ جب تو یہ کر لے تو تو مسلمان ہو گیا }۔ پوچھا، اچھا ایمان کس کا نام ہے؟ فرمایا: { اللہ پر، آخرت کے دن پر، فرشتوں پر، کتابوں پر، نبیوں پر عقیدہ رکھنا۔ موت اور موت کے بعد کی زندگی کو ماننا، جنت دوزخ، حساب، میزان، اور تقدیر کی بھلائی برائی پر ایمان رکھنا }۔ پوچھا جب میں ایسا کر لوں تو مومن ہو جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں }۔ پھر احسان کیا پوچھا اور جواب پایا جو اوپر مذکور ہوا ہے۔ پھر قیامت کا پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سبحان اللہ! یہ ان پانچ چیزوں میں ہے جنہیں صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت تلاوت کی }۔ پھر نشانیوں میں یہ بھی ذکر ہے کہ { لوگ لمبی چوڑی عمارتیں بنانے لگیں گے }۔ ۱؎ [مسند احمد:319/1:حسن بالشواهد]
انہوں نے دریافت کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا علم میں سے کچھ ایساباقی ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ جانتے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں ایسا علم بھی ہے جسے بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھی }۔ ۱؎ [مسند احمد:369/5:قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”جو تم سے کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل کی بات کا جانتے تھے تو سمجھ لینا کہ وہ سب سے بڑا جھوٹا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہو گا۔“
قتادۃ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کا علم اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں دیا نہ نبی کو نہ فرشتہ کو اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے کوئی نہیں جانتا کہ کس سال کس مہینے کس دن یا کس رات میں وہ آئے گی۔ اسی طرح بارش کا علم بھی اس کے سوا کسی کو نہیں کہ کب آئے؟ اور کوئی نہیں جانتا کہ حاملہ کے پیٹ میں بچہ نر ہو گا یا مادہ سرخ ہو گا یا سیاہ؟ اور کوئی نہیں جانتا کہ کل وہ نیکی کرے گا یا بدی کرے گا؟ مرے گا یا جئے گا بہت ممکن ہے کل موت یا آفت آ جائے۔ نہ کسی کو یہ خبر ہے کہ کس زمین میں وہ دبایا جائے گا یا سمندر میں بہایا جائے گا یا جنگل میں مرے گا یا نرم یاسخت زمین میں جائے گا۔“
حدیث شریف میں ہے { جب کسی کو موت دوسری زمین میں ہوتی ہے تو اس کا وہیں کا کوئی کام نکل آتا ہے اور وہیں موت آ جاتی ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2146،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور روایت میں ہے کہ { یہ فرما کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی }۔
اعشی ہمدان کے شعر ہیں جن میں اس مضمون کو نہایت خوبصورتی سے ادا کیا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ { قیامت کے دن زمین اللہ تعالیٰ سے کہے گی کہ یہ ہیں تیری امانتیں جو تو نے مجھے سونپ رکھی تھیں }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:4263،قال الشيخ الألباني:صحیح] طبرانی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورہ لقمان کی تفسیر ختم ہوئی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
قد تقرَّر أنَّ الله تعالى أحاطَ علمُه بالغيب والشهادة والظواهِرِ والبواطِن، وقد يُطْلِعُ الله عبادَه على كثيرٍ من الأمور الغيبيَّة، وهذه الأمور الخمسة من الأمور التي طَوَى علمها عن جميع الخَلْق؛ فلا يعلمُها نبيٌّ مرسلٌ ولا ملكٌ مقرَّبٌ، فضلاً عن غيرهما، فقال: {إنَّ الله عندَه علم الساعةِ}؛ أي: يعلم متى مُرساها؛ كما قال تعالى: {يَسْألونَكَ عن الساعةِ أيَّانَ مُرساها. قُل إنَّما علمُها عند ربِّي لا يُجَلِّيها لوقتِها إلاَّ هو ثقلت في السموات والأرض لا تأتيكم إلاَّ بَغْتَةً ... } الآية، {ويُنَزِّلُ الغيثَ}؛ أي: هو المنفرد بإنزاله، وعلمِ وقتِ نزولِهِ، {ويعلمُ ما في الأرحام}: فهو الذي أنشأ ما فيها، وعلم ما هو؛ هل هو ذكرٌ أم أنثى؟
ولهذا يسأل الملك الموكل بالأرحام ربَّه: هل هو ذَكَرٌ أم أنثى؟ فيقضي الله ما يشاء. {وما تَدْري نفسٌ ماذا تكسِبُ غداً}: من كَسْبِ دينها ودُنياها، {وما تدري نفسٌ بأيِّ أرضٍ تموتُ}: بل الله تعالى هو المختصُّ بعلم ذلك جميعه. ولمَّا خصَّص [اللَّه] هذه الأشياء؛ عمَّم علمَه بجميع الأشياء، فقال: {إنَّ الله عليمٌ خبيرٌ}: محيطٌ بالظواهر والبواطن والخفايا والخبايا والسرائر، ومن حكمتِهِ التامَّة أنْ أخفى علمَ هذه الخمسة عن العبادِ؛ لأنَّ في ذلك من المصالح ما لا يخفى على من تدبر ذلك.