تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ اخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِيْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ:} یعنی دنیا میں سب سے قریب باہمی تعلق والدین اور اولاد کا ہے، جب وہ ایک دوسرے کے کام نہ آسکے تو کوئی اور رشتے دار، دوست، لیڈر یا پیر فقیر کیا کام آسکے گا۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۴۸)، عبس(۳۴ تا ۳۷)، اور معارج (۸ تا ۱۴) والد کے کام نہ آسکنے کی مثال نوح علیہ السلام اور ان کا بیٹا ہیں۔
➌ {وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَيْـًٔا: ” جَازٍ “ ”جَزٰي يَجْزِيْ“} سے اسم فاعل ہے۔ اولاد کے کام نہ آسکنے کی مثال ابراہیم علیہ السلام اور ان کا باپ ہیں۔
➍ { اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ:} اللہ کے وعدے سے مراد قیامت قائم ہونا ہے، وہ ہر حال میں ہو کر رہے گی۔
➎ { فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا:} دنیا کی زندگی انسانوں کو کئی طرح سے دھوکے میں ڈالتی ہے۔ کوئی سمجھتا ہے کہ زندگی بس دنیا ہی کی زندگی ہے، جینا مرنا سب کچھ یہیں ہے، اس کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں، لہٰذا جو کچھ کرنا ہے یہیں پر کر لو۔ دیکھیے سورۂ انعام (۲۹)، مومنون (۳۷) اور جاثیہ (۲۴) کوئی کہتا ہے کہ دنیوی خوشی یا بدحالی ہی حق و باطل کا اور اللہ تعالیٰ کے راضی یا ناراض ہونے کا معیار ہے، اگر قیامت قائم ہوئی تو وہاں بھی وہی خوش حال ہوں گے جو یہاں خوش حال ہیں۔ دیکھیے سورۂ مریم (۷۷) کوئی آخرت پر ایمان کے باوجود دنیا کی خواہشات کی محبت میں کھو کر اس دن کی یاد ہی بھلا بیٹھتا ہے۔ دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۴) غرض دنیا کی زندگی آدمی کو طرح طرح سے دھوکے میں ڈالتی ہے۔
➏ {وَ لَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ: ” الْغَرُوْرُ “} ”غین“ کے فتح کے ساتھ صفت مشبہ {”فَعُوْلٌ“} بمعنی فاعل ہے، دھوکا دینے والا، جیسے: «{ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا }» [بني إسرائیل: ۳] اور ”غین“ کے ضمہ کے ساتھ مصدر ہے، جیسے: «{ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا }» [الأنعام: ۱۱۲] اور: «{ لَا نُرِيْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا }» [الدھر: ۹] دھوکا دینے والے سے مراد شیطان ہے، وہ ابلیس اور اس کی اولاد سے ہو یا انسانوں میں سے۔ لفظ کو عام رکھیں تو آدمی کا نفس بھی اسے دھوکا دیتا ہے اور دنیا بھی دھوکا دیتی ہے، اس لیے کئی مفسرین نے یہاں {” الْغَرُوْرُ “} کی تفسیر ”دنیا“ فرمائی ہے۔
➐ اللہ تعالیٰ کے بارے میں شیطان کا یہ دھوکا کئی طرح سے ہوتا ہے۔ یہ کسی کو دھوکا دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہے ہی نہیں، کسی کو دھوکا دیتا ہے کہ وہ بڑا غفور و رحیم ہے، گناہ کر لو، بعد میں توبہ کر لینا۔ کسی سے کہتا ہے کہ فلاں بزرگ یا پیر کا اس پر بڑا زور ہے، وہ سفارش کر کے تمھیں اس کی پکڑ سے بچا لیں گے۔ غرض وہ مختلف طریقوں سے انسان کو دنیا کی طرف مائل کر کے اللہ تعالیٰ سے غافل کر دیتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ابن ابی حاتم میں ہے عزیر علیہ السلام نے جب اپنی قوم کی تکلیف ملاحظہ کی اور غم ورنج بہت بڑھ گیا نیند اچاٹ ہو گئی تو اپنے رب کی طرف جھک پڑے۔ فرماتے ہیں میں نے نہایت تضرع و زاری کی، خوب رویا گڑگڑایا نمازیں پڑھیں روزے رکھے دعائیں مانگیں۔ ایک مرتبہ رو رو کر تضرع کر رہا تھا کہ میرے سامنے ایک فرشتہ آ گیا میں نے اس سے پوچھا کیا نیک لوگ بروں کی شفاعت کریں گے؟ یا باپ بیٹوں کے کام آئیں گے؟
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يأمر تعالى الناس بتقواه، التي هي امتثال أوامرِهِ وتركُ زواجرِهِ، ويستلِفتُهم لخشية يوم القيامة، اليوم الشديدِ الذي فيه كلُّ أحدٍ لا يهمُّه إلاَّ نفسُهُ. و {لا يجزي والدٌ عن ولدِهِ ولا مولودٌ} عن والدِهِ شيئاً: لا يزيدُ في حسناتِهِ ولا ينقصُ من سيئاتِهِ، قد تمَّ على كلِّ عبدٍ عملُه، وتحقَّق عليه جزاؤه. فلفْتُ النظرِ لهذا اليوم المَهيل مما يقوِّي العبدَ ويسهِّل عليه تقوى الله، وهذا من رحمة الله بالعباد؛ يأمُرُهم بتقواه التي فيها سعادتُهم، ويَعِدُهم عليها الثواب، ويحذِّرُهم من العقاب، ويزعجهُم إليه بالمواعظِ والمخوفات، فلك الحمدُ يا ربَّ العالمين. {إنَّ وعدَ الله حقٌّ}: فلا تمتروا فيه، ولا تعملوا عملَ غير المصدِّقِ؛ فلهذا قال: {فلا تغرَّنَّكُمُ الحياةُ الدُّنيا}: بزينتها وزخارفها وما فيها من الفتنِ والمحنِ. {ولا يَغُرَّنَّكُم بالله الغَرورُ}: الذي هو الشيطان، الذي ما زال يخدعُ الإنسان، ولا يغفل عنه في جميع الأوقات؛ فإنَّ لله على عباده حقًّا، وقد وعدهم موعداً يجازيهم فيه بأعمالهم وهل وَفوا حقَّه أم قصَّروا فيه؟ وهذا أمرٌ يجب الاهتمامُ به، وأنْ يجعَلَه العبدُ نُصبَ عينيه ورأسَ مال تجارتِهِ التي يسعى إليه، ومن أعظم العوائق عنه والقواطع دونَه الدُّنيا الفتَّانةُ والشيطانُ الموسْوِسُ المسوِّلُ، فنهى تعالى عبادَه أن تَغُرَّهم الدُّنيا أو يَغُرَّهم بالله الغَرور، {يَعِدُهُم ويُمَنِّيهم وما يَعِدُهُم الشيطانُ إلاَّ غُروراً}.