بے شک اللہ، اسی کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہ بارش برساتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ مائوں کے پیٹوں میں ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائی کرے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔
En
خدا ہی کو قیامت کا علم ہے اور وہی مینھہ برساتا ہے۔ اور وہی (حاملہ کے) پیٹ کی چیزوں کو جانتا ہے (کہ نر ہے یا مادہ) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا۔ اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کس سرزمین میں اُسے موت آئے گی بیشک خدا ہی جاننے والا (اور) خبردار ہے
بے شک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے۔ کوئی (بھی) نہیں جانتا کہ کل کیا (کچھ) کرے گا؟ نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا۔ (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ ہی پورے علم واﻻ اور صحیح خبروں واﻻ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ امر متحقق ہے کہ علم الٰہی نے غیب و شاہد اور ظاہر و باطن ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے اور کبھی کبھی بہت سے امور غیبیہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مطلع کر دیتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں مذکور پانچ چیزیں ایسی ہیں جن کا علم کسی کو بھی نہیں دیا گیا، عام لوگ تو کیا ان امور کو کوئی نبی مرسل جانتا ہے نہ کوئی مقرب فرشتہ، چنانچہ فرمایا: ﴿اِنَّاللّٰهَعِنْدَهٗعِلْمُالسَّاعَةِ ﴾ صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ قیامت کی گھڑی کب آئے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿یَسْـَٔلُوْنَكَعَنِالسَّاعَةِاَیَّ٘انَمُرْسٰؔىهَا١ؕقُ٘لْاِنَّمَاعِلْمُهَاعِنْدَرَبِّیْ١ۚلَایُجَلِّیْهَالِوَقْتِهَاۤاِلَّاهُوَ١ؔ ۘ ؕ ثَقُلَتْفِیالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِ١ؕلَاتَاْتِیْكُمْاِلَّابَغْتَةً﴾ (الأعراف:7؍187) ”وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ آخر قیامت کی گھڑی کب آئے گی، کہہ دیجیے اس کا علم صرف میرے رب کے پاس ہے وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کرے گا، آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری حادثہ ہوگا اور وہ تم پر اچانک ہی آ جائے گی۔“
﴿وَیُنَزِّلُالْغَیْثَ ﴾ وہ اکیلا ہی ہے جو بارش برساتا ہے اور وہی اس کے برسنے کا وقت جانتا ہے۔ ﴿وَیَعْلَمُمَافِیالْاَرْحَامِ ﴾ پس رحموں کے اندر جو کچھ ہے اس نے تخلیق کیا ہے اور اس کے متعلق وہی جانتا ہے کہ آیا وہ نر ہے یا مادہ، اس لیے اس پر مقرر کردہ فرشتہ اللہ تعالیٰ سے عرض کرتا ہے لڑکا یا لڑکی؟ پس اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ ﴿وَمَاتَدْرِیْنَ٘فْ٘سٌمَّاذَاتَكْسِبُغَدًا ﴾”اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا۔“ یعنی دین اور دنیا کی کمائی میں سے ﴿وَمَاتَدْرِیْنَ٘فْ٘سٌۢبِاَیِّاَرْضٍتَمُوْتُ ﴾”اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کس سر زمین میں اسے موت آئے گی۔“ بلکہ یہ تمام علم صرف اللہ تعالیٰ ہی سے مختص ہے۔ ان مذکورہ چیزوں کا علم مخصوص کرنے کے بعد بیان فرمایا کہ اس کاعلم تمام چیزوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّاللّٰهَعَلِیْمٌخَبِیْرٌ ﴾ بے شک اللہ تعالیٰ تمام ظاہری و باطنی امور، تمام چھپی ہوئی اور تمام اسرار نہاں سے باخبر اور ان کو جانتا ہے۔ یہ اس کی حکمت کاملہ ہے کہ اس نے پانچ چیزوں کا علم بندوں سے چھپا رکھا ہے کیونکہ اس کے اندر ان کے مصالح پنہاں ہیں۔ صاحب تدبر پر یہ چیز مخفی نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
قد تقرَّر أنَّ الله تعالى أحاطَ علمُه بالغيب والشهادة والظواهِرِ والبواطِن، وقد يُطْلِعُ الله عبادَه على كثيرٍ من الأمور الغيبيَّة، وهذه الأمور الخمسة من الأمور التي طَوَى علمها عن جميع الخَلْق؛ فلا يعلمُها نبيٌّ مرسلٌ ولا ملكٌ مقرَّبٌ، فضلاً عن غيرهما، فقال: {إنَّ الله عندَه علم الساعةِ}؛ أي: يعلم متى مُرساها؛ كما قال تعالى: {يَسْألونَكَ عن الساعةِ أيَّانَ مُرساها. قُل إنَّما علمُها عند ربِّي لا يُجَلِّيها لوقتِها إلاَّ هو ثقلت في السموات والأرض لا تأتيكم إلاَّ بَغْتَةً ... } الآية، {ويُنَزِّلُ الغيثَ}؛ أي: هو المنفرد بإنزاله، وعلمِ وقتِ نزولِهِ، {ويعلمُ ما في الأرحام}: فهو الذي أنشأ ما فيها، وعلم ما هو؛ هل هو ذكرٌ أم أنثى؟
ولهذا يسأل الملك الموكل بالأرحام ربَّه: هل هو ذَكَرٌ أم أنثى؟ فيقضي الله ما يشاء. {وما تَدْري نفسٌ ماذا تكسِبُ غداً}: من كَسْبِ دينها ودُنياها، {وما تدري نفسٌ بأيِّ أرضٍ تموتُ}: بل الله تعالى هو المختصُّ بعلم ذلك جميعه. ولمَّا خصَّص [اللَّه] هذه الأشياء؛ عمَّم علمَه بجميع الأشياء، فقال: {إنَّ الله عليمٌ خبيرٌ}: محيطٌ بالظواهر والبواطن والخفايا والخبايا والسرائر، ومن حكمتِهِ التامَّة أنْ أخفى علمَ هذه الخمسة عن العبادِ؛ لأنَّ في ذلك من المصالح ما لا يخفى على من تدبر ذلك.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔