اس آیت کی تفسیر آیت 1 میں تا آیت 3 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
1-1اس کے آغاز میں بھی یہ حروف مقطعات ہیں جن کے معنی و مراد کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ تاہم بعض مفسرین نے اس کے دو فوائد بڑے اہم بیان کئے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ قرآن اسی قسم کے حروف مقطعات سے ترتیب و تالیف پایا ہے جس کی مثل تالیف پیش کرنے سے عرب عاجز آگئے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قرآن اللہ ہی کا نازل کردہ ہے اور جس پیغمبر پر نازل ہوا ہے وہ سچا رسول ہے جو شریعت وہ لے کر آیا ہے، انسان اس کا محتاج ہے اور اس کی اصلاح اور سعادت کی تکمیل اسی شریعت سے ممکن ہے۔ دوسرا یہ کہ مشرکین اپنے ساتھیوں کو اس قرآن کے سننے سے روکتے تھے مبادا وہ اس سے متاثر ہو کر مسلمان ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف سورتوں کا آغاز ان حروف مقطعات سے فرمایا تاکہ وہ اس کے سننے پر مجبور ہوجائیں کیونکہ یہ انداز بیان نیا اور اچھوتا تھا (ایسر التفاسیر) واللہ اعلم۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
2۔ یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ہدایت یافتہ کتاب ٭٭
سورۂ بقرہ کی تفسیر کے اول میں ہی حروف مقطعات کے معنی اور مطلب کی توضیح کر دی گئی ہے۔ یہ قرآن ہدایت، شفاء اور رحمت ہے اور ان نیک کاروں کے لیے جو شریعت کے پورے پابند ہیں۔ نمازادا کرتے ہیں ارکان اوقات وغیرہ کی حفاظت کے ساتھ ہی نوافل سنت وغیرہ بھی نہیں چھوڑتے۔ فرض زکوٰۃ ادا کرتے ہیں صلہ ر، حمی سلوک واحسان، سخاوت اور داد و دہش کرتے رہتے ہیں۔ آخرت کی جزاء کا انہیں کامل یقین ہے اس لیے اللہ کی طرف پوری رغبت کرتے ہیں ثواب کے کام کرتے ہیں اور رب کے اجر پر نظریں رکھتے ہیں۔ نہ ریاکاری کرتے ہیں نہ لوگوں سے داد چاہتے ہیں۔ ان اوصاف والے راہ یافتہ ہیں۔ راہ اللہ پر لگادیئے گئے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو دین ودنیا میں فلاح نجات اور کامیابی حاصل کریں گے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ ان ﴿اٰیٰتُالْكِتٰبِالْحَكِیْمِ﴾”حکمت والی کتاب کی آیات“ کی تعظیم کے لیے ان کی طرف، اشارہ کرتا ہے یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی محکم آیات ہیں جو ایک حکمت والی اور باخبر ہستی سے صادر ہوئی ہیں۔ان آیات کے محکم ہونے سے مندرجہ ذیل امور مراد ہیں:
(۱) یہ آیات نہایت واضح، جلیل ترین اور فصیح ترین الفاظ میں آئی ہیں جو نہایت جلیل القدر اور بہترین معانی پر دلالت کرتے ہیں۔
(۲) یہ آیات تغیر و تبدل، کمی بیشی اور تحریف سے محفوظ ہیں۔
(۳) ان آیات میں گزشتہ زمانے اور آنے والے زمانے کے واقعات اور امور غیبیہ کے بارے میں خبریں دی گئی ہیں۔ وہ واقعات کے مطابق اور واقعات ان کے مطابق ہیں۔ کتب الٰہیہ میں سے کسی کتاب اور گزشتہ انبیاء میں سے کسی نبی نے ان اخبار کی مخالفت نہیں کی۔ اب تک کوئی علمی، حسی یا عقلی تحقیق ان امور کے متناقض نہیں، جن پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں۔
(۴) ان آیات نے جس چیز کا بھی حکم دیا ہے وہ خالص یا راجح مصلحت پر مبنی ہوتی ہے اور جن امور سے روکا ہے وہ واضح یا راجح مفاسد پر مبنی ہوتے ہیں۔ بہت سے معاملات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دینے کے ساتھ ساتھ ان کی حکمت اور ان کے فوائد کا بھی ذکر کیا ہے اسی طرح کسی چیز سے منع کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ضرر اور مفاسد سے آگاہ کیا ہے۔
(۵) قرآن کریم کی آیات میں ترغیب و ترہیب اور مواعظ بلیغہ اس انداز میں جمع ہیں کہ نیک نفس لوگ، اس کے ذریعے سے اعتدال اختیار کرتے ہیں، اس کو اپنا فیصل بناتے ہیں اور نہایت حزم و احتیاط کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔
(۶) آپ دیکھیں گے کہ اس کی آیات، اس کے قصص اور احکامات وغیرہ میں تکرار پایا جاتا ہے، مگر ان کے مضامین میں اتفاق ہے اور ان میں کوئی تناقض اور کوئی اختلاف نہیں۔ صاحب بصیرت جتنا زیادہ اس کے اندر تدبر اور غوروفکر کرتا ہے اس کی آیات و احکام میں توافق و تطابق کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے، اس کو یقین ہو جاتا ہے، جس میں شک وریب کا کوئی شائبہ نہیں، کہ یہ قرآن حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يشيرُ تعالى إشارةً دالَّةً على التعظيم إلى {آيات الكتاب الحكيم}؛ أي: آياتُهُ محكمةٌ صدرتْ من حكيم خبير.
ومن إحكامها أنَّها جاءت بأجلِّ الألفاظ وأفصحها وأبينها، الدالَّة على أجلِّ المعاني وأحسنها.
ومن إحكامها أنها محفوظةٌ من التغييرِ والتبديل والزيادة والنقص والتحريف.
ومن إحكامها أنَّ جميعَ ما فيها من الأخبار السابقةِ واللاحقة والأمور الغيبيَّة كلِّها مطابقةٌ للواقع، مطابقٌ لها الواقع، لم يخالِفْها كتابٌ من الكتب الإلهية، ولم يخبر بخلافها نبيٌّ من الأنبياء، ولم يأتِ ولن يأتيَ علم محسوسٌ ولا معقولٌ صحيحٌ يناقِضُ ما دلَّتْ عليه.
ومن إحكامها أنها ما أَمَرَتْ بشيء إلاَّ وهو خالصُ المصلحة أو راجِحُها، ولا نَهَتْ عن شيء إلاَّ وهو خالصُ المفسدة أو راجِحُها، وكثيراً ما يجمع بين الأمر بالشيء مع ذكر حكمتِهِ وفائدتِهِ، والنهي عن الشيء مع ذكرِ مضرَّتِهِ.
ومن إحكامها أنَّها جمعت بين الترغيب والترهيب والوعظ البليغ الذي تعتدل به النفوس الخيِّرة، وتحتكمُ فتعملُ بالحزم.
ومن إحكامها: أنَّك تَجِدُ آياتها المتكرِّرة كالقصص والأحكام ونحوها قد اتَّفقت كلُّها وتواطأت، فليس فيها تناقضٌ ولا اختلافٌ؛ فكلَّما ازدادَ بها البصير تدبُّراً وأعمل فيها العقل تفكُّراً؛ انبهر عقلُه وذهلَ لبُّه من التوافُق والتواطُؤ، وجزم جزماً لا يُمْتَرى فيه أنه تنزيلٌ من حكيم حميدٍ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔