تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ هُوَ مُحْسِنٌ:} اور وہ اپنا ہر عمل اس طرح کرتا ہے گویا وہ اپنے رب کو دیکھ رہا ہے۔ سو اگر وہ اسے نہیں دیکھتا تو اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے اور وہ ہر عمل میں اللہ کے رسول کے بتائے ہوئے طریقے پر چلتا ہے۔
➌ { فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى: ”أَمْسَكَ يُمْسِكُ إِمْسَاكًا“} تھامنا، پکڑنا۔ {” اسْتَمْسَكَ “} میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے مبالغہ ہے، یعنی ”اچھی طرح پکڑ لیا۔“ {”اَلْعُرْوَةُ“} کڑا یا حلقہ یا رسی کا کنارا جسے لٹکتے ہوئے گرنے سے بچنے کے لیے پکڑ لیا جائے اور {” الْوُثْقٰى “ ”أَوْثَقُ“} کا مؤنث ہے ”سب سے مضبوط۔“ یعنی اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دینے والا یہ وہ شخص ہے جس نے اسلام کی رسی کے مضبوط حلقے کو اچھی طرح تھام لیا ہے۔ اسے بلندی سے پستی میں یا جہنم میں گرنے کا کوئی خطرہ نہیں۔ شیطان اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور اسی حلقے کو تھامے ہوئے آخرکار وہ اللہ تعالیٰ تک پہنچ جائے گا اور اس کی جنت کا وارث بن جائے گا۔ بخلاف ان لوگوں کے جو کسی علم، ہدایت یا کتاب منیر کے بغیر جھگڑتے ہیں کہ انھوں نے اپنی عمارت کی بنیاد ایک گرنے والے کھوکھلے تودے کے کنارے پر رکھی ہے، جو انھیں لے کر جہنم کی آگ میں گرنے والا ہے۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۱۰۹)۔
➍ { وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ: ” اِلَى اللّٰهِ “} کو پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا کہ تمام کاموں کا انجام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے، کسی اور کی طرف نہیں، وہی ہر کام کی جزا دے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ومَن يسلمْ وجهَه إلى الله}؛ أي: يخضعُ له وينقادُ له بفعل الشرائع مخلصاً له دينَه، {وهو محسنٌ}: في ذلك الإسلام؛ بأن كان عملُه مشروعاً، قد اتَّبع فيه الرسولَ صلّى الله عليه وسلّم، أو: ومن يسلمْ وجهَه إلى الله بفعل جميع العباداتِ وهو محسنٌ فيها؛ بأن يعبدَ الله كأنَّه يراه؛ فإنْ لم يكنْ يراه؛ فإنَّه يراه. أو: ومَنْ يسلمْ وجهَه إلى الله بالقيام بحقوقه، وهو محسن إلى عباد الله، قائم بحقوقهم، والمعاني متلازمةٌ، لا فرق بينها إلاَّ من جهة اختلاف مورد اللفظتين، وإلاَّ؛ فكلُّها متفقة على القيام بجميع شرائع الدين على وجه تُقبل به وتَكْمل؛ فمن فعل ذلك؛ {فقد استمسكَ بالعروةِ الوُثقى}؛ أي: بالعروة التي مَنْ تمسَّكَ بها؛ توثَّق ونجا وسلم من الهلاك وفاز بكلِّ خير، ومَنْ لم يُسلم وجهه لله، أو: لم يحسِنْ؛ لم يستمسك بالعروة الوثقى، وإذا لم يستمسكْ [بالعروة الوثقى]؛ لم يكنْ ثَمَّ إلاَّ الهلاك والبوار. {وإلى الله عاقبةُ الأمور}؛ أي: رجوعُها وموئلُها ومنتهاها، فيحكم في عباده ويجازيهم بما آلتْ إليه أعمالُهم، ووصلت إليه عواقِبُهم، فليستعدُّوا لذلك الأمر.