ترجمہ و تفسیر — سورۃ لقمان (31) — آیت 22

وَ مَنۡ یُّسۡلِمۡ وَجۡہَہٗۤ اِلَی اللّٰہِ وَ ہُوَ مُحۡسِنٌ فَقَدِ اسۡتَمۡسَکَ بِالۡعُرۡوَۃِ الۡوُثۡقٰی ؕ وَ اِلَی اللّٰہِ عَاقِبَۃُ الۡاُمُوۡرِ ﴿۲۲﴾
اور جو شخص اپنا چہرہ اللہ کے سپرد کر دے اور وہ نیکی کرنے والا ہو تو یقینا اس نے مضبوط کڑے کو اچھی طرح پکڑ لیا اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کی طرف ہے۔ En
اور جو شخص اپنے تئیں خدا کا فرمانبردار کردے اور نیکوکار بھی ہو تو اُس نے مضبوط دستاویز ہاتھ میں لے لی۔ اور (سب) کاموں کا انجام خدا ہی کی طرف ہے
En
اور جو (شخص) اپنے آپ کو اللہ کے تابع کردے اور ہو بھی وه نیکو کار یقیناً اس نے مضبوط کڑا تھام لیا، تمام کاموں کا انجام اللہ کی طرف ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 22) ➊ { وَ مَنْ يُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ …:} اس سے پہلے ان لوگوں کا ذکر ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی علم، ہدایت یا کتاب منیر کے بغیر جھگڑتے ہیں۔ اب ان کے مقابلے میں اس شخص کا ذکر ہے جو اپنے چہرے یعنی اپنے آپ کو پوری طرح اللہ تعالیٰ کے سپرد اور اس کے حوالے کر دیتا ہے۔ اپنا ہر عمل صرف اس کی رضا کے لیے کرتا ہے۔ جو وہ کہے کرتا ہے، جس سے روک دے رک جاتا ہے۔ نہ اپنی خواہش پر چلتا ہے نہ کسی دوست یا رشتہ دار کے پیچھے چلتا ہے اور نہ آبا و اجداد میں سے کسی کی راہ و رسم اختیار کرتا ہے۔ اس کی نماز، قربانی، زندگی اور موت سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، فرمایا: «‏‏‏‏قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَ نُسُكِيْ وَ مَحْيَايَ وَ مَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» ‏‏‏‏ [الأنعام: ۱۶۲] کہہ دے بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا رب ہے۔ آیت میں چہرے کو اللہ کے حوالے کرنے کا ذکر ہے، مراد پورے وجود کو اللہ کے حوالے کرنا ہے۔ کیونکہ چہرہ جسم کا سب سے باشرف حصہ ہے، اس کے تابع ہونے سے پورا وجود تابع ہو جاتا ہے۔
➋ { وَ هُوَ مُحْسِنٌ:} اور وہ اپنا ہر عمل اس طرح کرتا ہے گویا وہ اپنے رب کو دیکھ رہا ہے۔ سو اگر وہ اسے نہیں دیکھتا تو اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے اور وہ ہر عمل میں اللہ کے رسول کے بتائے ہوئے طریقے پر چلتا ہے۔
➌ { فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى: أَمْسَكَ يُمْسِكُ إِمْسَاكًا} تھامنا، پکڑنا۔ { اسْتَمْسَكَ } میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے مبالغہ ہے، یعنی اچھی طرح پکڑ لیا۔ {اَلْعُرْوَةُ} کڑا یا حلقہ یا رسی کا کنارا جسے لٹکتے ہوئے گرنے سے بچنے کے لیے پکڑ لیا جائے اور { الْوُثْقٰى أَوْثَقُ} کا مؤنث ہے سب سے مضبوط۔ یعنی اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دینے والا یہ وہ شخص ہے جس نے اسلام کی رسی کے مضبوط حلقے کو اچھی طرح تھام لیا ہے۔ اسے بلندی سے پستی میں یا جہنم میں گرنے کا کوئی خطرہ نہیں۔ شیطان اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور اسی حلقے کو تھامے ہوئے آخرکار وہ اللہ تعالیٰ تک پہنچ جائے گا اور اس کی جنت کا وارث بن جائے گا۔ بخلاف ان لوگوں کے جو کسی علم، ہدایت یا کتاب منیر کے بغیر جھگڑتے ہیں کہ انھوں نے اپنی عمارت کی بنیاد ایک گرنے والے کھوکھلے تودے کے کنارے پر رکھی ہے، جو انھیں لے کر جہنم کی آگ میں گرنے والا ہے۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۱۰۹)۔
➍ { وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ: اِلَى اللّٰهِ } کو پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا کہ تمام کاموں کا انجام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے، کسی اور کی طرف نہیں، وہی ہر کام کی جزا دے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

22-1یعنی صرف اللہ کی رضا کے لئے عمل کرے اس کے حکم کی اطاعت اور اس کی شریعت کی پیروی کرے۔ 22-2یعنی ما مور بہ چیزوں کا اتباع اور منہیات کو ترک کرنے والا۔ 22-3یعنی اللہ سے اس نے مضبوط عہد لے لیا کہ وہ اس کو عذاب نہیں کرے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

22۔ اور جو شخص اپنا چہرہ اللہ کے آگے جھکا دے اور نیکو کار ہو تو اس نے یقیناً ایک مضبوط حلقے [30] کو تھام لیا۔ اور سب کاموں کا انجام تو اللہ ہی کی طرف ہے۔
[30] شریعت مضبوط حلقہ کیسے ہے؟
مضبوط حلقہ کی تعریف اللہ تعالیٰ نے خود ہی بیان کر دی۔ یعنی جو شخص اللہ کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کر دے اور پھر اس کے احکام کے مطابق نیک اعمال بھی بجا لائے گویا اس میں ساری شریعت آگئی۔ اس شریعت پر عمل پیرا ہونا ہی ایسے مضبوط حلقے یا کڑے کو تھامنا ہے۔ جو اپنی مضبوطی کی وجہ سے ٹوٹنے والا نہیں۔ لہٰذا جو شخص اسے مضبوطی سے پکڑے رکھے گا اس کو نہ گر پڑنے کا خطرہ ہے اور نہ کہیں چوٹ لگ جانے کا۔ پھر اسی حلقہ کو تھامے ہوئے وہ بالآخر اللہ تک پہنچ جائے گا۔ جب تک وہ یہ حلقہ تھامے رہے گا، شیطان نہ اسے دھوکا دے سکے گا نہ گمراہ کر سکے گا یا دوسری راہ پر ڈال سکے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَمَنْ یُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے سامنے سرنگوں ہوتا ہے اور اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے شریعت پر عمل پیرا ہوتا ہے ﴿وَهُوَ مُحْسِنٌ تو وہ اسلام میں محسن ہے کیونکہ اس کا عمل شرعی ہے اور وہ اس میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتا ہے، یا اس کا معنی یہ ہے کہ جو کوئی عبادات کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے اور وہ اپنی عبادات کو احسان کے درجہ تک لے جاتا ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرتا ہے گویا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے اور اگر یہ کیفیت پیدا نہیں کر سکتا تو وہ اس طرح عبادت کرتا ہے گویا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے حقوق قائم کر کے اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا ہے اور ان کے حقوق ادا کرتا ہے… تینوں معانی میں تلازم پایا جاتا ہے اور ان کے درمیان کوئی فرق نہیں سوائے اس پہلو سے کہ دونوں لفظوں کے مورد میں اختلاف ہے ورنہ قبول کرنے اور تکمیل کے لحاظ سے، تمام معانی، دین کے تمام قوانین اور اصولوں کو قائم کرنے پر متفق ہیں۔
جو کوئی ان امور پر عمل پیرا ہوا تو ﴿اسْتَمْسَكَ بِالْ٘عُرْوَةِ الْوُثْ٘قٰى اس نے مضبوط سہارے کو تھام لیا۔ یعنی جس نے وہ سہارا تھام لیا جو بھروسے کے قابل تھا، وہ نجات پاگیا اور ہلاکت سے بچ گیا اور ہر بھلائی سے بہرہ ور ہوا اور جس نے اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا یا اس نے احسان سے کام نہ لیا تو اس نے بھروسے کے قابل سہارے کو نہ تھاما اور جب اس نے اس قابل اعتماد سہارے کو نہ تھاما تو وہاں ہلاکت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ﴿وَاِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ اورتمام معاملات کا مرجع و منتہا اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ وہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا وہ ان کے اعمال کے تقاضوں اور ان کے انجام کے مطابق ان کو جزا وسزا دے گا، لہٰذا اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ومَن يسلمْ وجهَه إلى الله}؛ أي: يخضعُ له وينقادُ له بفعل الشرائع مخلصاً له دينَه، {وهو محسنٌ}: في ذلك الإسلام؛ بأن كان عملُه مشروعاً، قد اتَّبع فيه الرسولَ صلّى الله عليه وسلّم، أو: ومن يسلمْ وجهَه إلى الله بفعل جميع العباداتِ وهو محسنٌ فيها؛ بأن يعبدَ الله كأنَّه يراه؛ فإنْ لم يكنْ يراه؛ فإنَّه يراه. أو: ومَنْ يسلمْ وجهَه إلى الله بالقيام بحقوقه، وهو محسن إلى عباد الله، قائم بحقوقهم، والمعاني متلازمةٌ، لا فرق بينها إلاَّ من جهة اختلاف مورد اللفظتين، وإلاَّ؛ فكلُّها متفقة على القيام بجميع شرائع الدين على وجه تُقبل به وتَكْمل؛ فمن فعل ذلك؛ {فقد استمسكَ بالعروةِ الوُثقى}؛ أي: بالعروة التي مَنْ تمسَّكَ بها؛ توثَّق ونجا وسلم من الهلاك وفاز بكلِّ خير، ومَنْ لم يُسلم وجهه لله، أو: لم يحسِنْ؛ لم يستمسك بالعروة الوثقى، وإذا لم يستمسكْ [بالعروة الوثقى]؛ لم يكنْ ثَمَّ إلاَّ الهلاك والبوار. {وإلى الله عاقبةُ الأمور}؛ أي: رجوعُها وموئلُها ومنتهاها، فيحكم في عباده ويجازيهم بما آلتْ إليه أعمالُهم، ووصلت إليه عواقِبُهم، فليستعدُّوا لذلك الأمر.