وَ مَنۡ کَفَرَ فَلَا یَحۡزُنۡکَ کُفۡرُہٗ ؕ اِلَیۡنَا مَرۡجِعُہُمۡ فَنُنَبِّئُہُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۲۳﴾
اور جس نے کفر کیا تو اس کا کفر تجھے غم میں نہ ڈالے، ہماری ہی طرف ان کا لوٹ کر آنا ہے، پھر ہم انھیں بتائیں گے جو کچھ انھوں نے کیا۔ بے شک اللہ سینوں کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔
En
اور جو کفر کرے تو اُس کا کفر تمہیں غمناک نہ کردے ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے پھر جو کام وہ کیا کرتے تھے ہم اُن کو جتا ئیں گے۔ بیشک خدا دلوں کی باتوں سے واقف ہے
En
کافروں کے کفر سے آپ رنجیده نہ ہوں، آخر ان سب کو لوٹنا تو ہماری جانب ہی ہے پھر ہم ان کو بتائیں گے جو انہوں نے کیا ہے، بے شک اللہ سینوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 23) ➊ { وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا يَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ …:} اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد اسلام کے ہر داعی کو تسلی دی ہے کہ جو شخص ہماری دعوت اور پیغام پہنچنے کے باوجود کفر پر اصرار کرتا ہے، آپ اس کے کفر کی وجہ سے غم زدہ نہ ہوں، آپ کا کام پیغام پہنچانا تھا، وہ آپ نے پہنچا دیا، اب انھوں نے ہمارے پاس واپس آنا ہے تو ہم انھیں وہ سب کچھ بتائیں گے جو انھوں نے کیا۔ اس میں کفار کے لیے زبردست وعید ہے۔
➋ { اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ:} کفار کا کفر کچھ علانیہ تھا کچھ دلوں میں پوشیدہ تھا، فرمایا، اللہ تعالیٰ کو سینوں کی بات کا پوری طرح علم ہے، وہ ان کی بھی جزا دے گا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اسلام کا اظہار کرتا ہے مگر دل میں کفر رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو اس کا بھی خوب علم ہے، وہ خود ہی اس سے نمٹ لے گا۔
➋ { اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ:} کفار کا کفر کچھ علانیہ تھا کچھ دلوں میں پوشیدہ تھا، فرمایا، اللہ تعالیٰ کو سینوں کی بات کا پوری طرح علم ہے، وہ ان کی بھی جزا دے گا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اسلام کا اظہار کرتا ہے مگر دل میں کفر رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو اس کا بھی خوب علم ہے، وہ خود ہی اس سے نمٹ لے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
23-1اس لئے کہ ایمان کی سعادت ان کے نصیب میں ہی نہیں ہے۔ آپ کی کوشش اپنی جگہ بجا اور آپ کی خواہش بھی قابل قدر لیکن اللہ کی تقدیر اور مشیت سب پر غالب ہے۔ 23-2یعنی ان کے عملوں کی جزا دے گا۔ 23-3پس اس پر کوئی چیز چھپی نہیں رہ سکتی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
23۔ اور جس نے کفر کیا تو اس کا کفر آپ کو غمزدہ نہ کر دے [31]۔ انھیں ہماری طرف ہی آنا ہے پھر ہم انھیں بتا دیں گے جو کچھ وہ کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ تو یقیناً دلوں کے راز تک جانتا ہے
[31] یعنی جو شخص آپ کی دعوت کی انکار کرتا ہے وہ سمجھتا کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا انکار کر کے تمہیں اور اسلام کو زک پہنچائی ہے حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ وہ دراصل اپنا ہی نقصان کر رہا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معاملہ میں افسردہ خاطر نہ ہونا چاہئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ پر توکل کر کے اپنا دعوت کا کام کرتے جائیں۔ ان منکروں سے ہم نبٹ لیں گے۔ چند دن یہ اپنی سرکشی دکھا لیں اور مزے اڑا لیں۔ آخر انھیں ہمارے ہاں ہی آنا ہے۔ یہ ہماری گرفت سے بچ نہیں سکتے۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مضبوط دستاویز ٭٭
فرماتا ہے کہ ’ جو اپنے عمل میں اخلاص پیدا کرے جو اللہ کا سچا فرمانبردار بن جائے جو شریعت کا تابعدار ہو جائے اللہ کے حکموں پر عمل کرے اللہ کے منع کردہ کاموں سے باز آ جائے اس نے مضبوط دستاویز حاصل کرلی گویا اللہ کا وعدہ لے لیا کہ عذابوں میں وہ نجات یافتہ ہے ‘۔
’ کاموں کا انجام اللہ کے ہاتھ ہے۔ اے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کافروں کے کفر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم غمگین نہ ہوں۔ اللہ کی تحریر یونہی جاری ہو چکی ہے سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے۔ اس وقت اعمال کے بدلے ملیں گے اس اللہ پر کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ دنیا میں مزے کر لیں پھر تو ان عذابوں کو بے بسی سے برداشت کرنا پڑے گا جو بہت سخت اور نہایت گھبراہٹ والے ہیں ‘۔
جیسے اور آیت میں ہے «قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ» الخ ۱؎ [10-یونس:70-69] ’ اللہ پر جھوٹ افترا کرنے والے فلاح سے محروم رہ جاتے ہیں۔ دنیا کا فائدہ تو خیر الگ چیز ہے لیکن ہمارے ہاں (موت کے بعد) آنے کے بعد تو اپنے کفر کی سخت سزا بھگتنی پڑے گی ‘۔
’ کاموں کا انجام اللہ کے ہاتھ ہے۔ اے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کافروں کے کفر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم غمگین نہ ہوں۔ اللہ کی تحریر یونہی جاری ہو چکی ہے سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے۔ اس وقت اعمال کے بدلے ملیں گے اس اللہ پر کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ دنیا میں مزے کر لیں پھر تو ان عذابوں کو بے بسی سے برداشت کرنا پڑے گا جو بہت سخت اور نہایت گھبراہٹ والے ہیں ‘۔
جیسے اور آیت میں ہے «قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ» الخ ۱؎ [10-یونس:70-69] ’ اللہ پر جھوٹ افترا کرنے والے فلاح سے محروم رہ جاتے ہیں۔ دنیا کا فائدہ تو خیر الگ چیز ہے لیکن ہمارے ہاں (موت کے بعد) آنے کے بعد تو اپنے کفر کی سخت سزا بھگتنی پڑے گی ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَمَنْ كَفَرَ فَلَا یَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ﴾ ”اور جو کفر کرے تو اس کا کفر تمھیں غمگین نہ کردے“ کیونکہ آپ کے ذمہ دعوت توحید اور تبلیغ کا جو فرض تھا وہ آپ نے ادا کر دیا اگر کوئی راہ راست اختیار نہیں کرتا، (تو نہ سہی) اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ اجر کے مستحق ہو گئے، لہٰذا ان کے راہ راست اختیار نہ کرنے پر، آپ کے لیے حزن و غم کا کوئی مقام نہیں کیونکہ ان کے اندر کوئی بھلائی ہوتی تو اللہ تعالیٰ انھیں ہدایت سے نواز دیتا۔ آپ اس بات پر بھی غم زدہ نہ ہوں کہ انھوں نے آپ کے ساتھ عداوت کی جسارت کی اور آپ کے خلاف اعلان جنگ کیا، وہ اپنی گمراہی اور کفر پر جمے رہے نیز آپ کو اس بارے میں بھی غم زدہ ہونے کی ضرورت نہیں کہ ان پر اس دنیا ہی میں عذاب بھیج دیا گیا۔
﴿اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا ﴾ ”ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے، پھر جو کام وہ کیا کرتے تھے ہم ان کو بتا دیں گے۔“ ہم انھیں ان کے کفر، عداوت، اللہ کی روشنی کو بجھانے کے لیے ان کی بھاگ دوڑ کرنے اور اس کے رسولوں کو اذیت پہنچانے کے بارے میں آگاہ کریں گے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ﴾ ”بے شک اللہ تعالیٰ سینے کے اسرار نہاں کو بھی جانتا ہے“ جن کے بارے میں کبھی کسی نے بات نہیں کی تب ان معاملات کو کیسے نہیں جانے گاجو ظاہر اور سب کے سامنے ہیں؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ومَن كَفَرَ فلا يَحْزُنكَ كفرُه}: لأنَّك أدَّيت ما عليك من الدَّعوة والبلاغ؛ فإذا لم يهتدِ ؛ فقد وجب أجرُك على الله، ولم يبقَ للحزن موضعٌ على عدم اهتدائِهِ؛ لأنَّه لو كان فيه خيرٌ؛ لهداه الله، ولا تحزنْ أيضاً على كونهم تجرؤوا عليك بالعداوة، ونابذوك المحاربة، واستمرُّوا على غيِّهم وكفرِهم، ولا تتحرَّقْ عليهم بسبب أنَّهم ما بودروا بالعذاب، إنَّ {إلينا مرجِعُهم فننبِّئُهم بما عملوا}: من كفرِهم وعداوتِهم وسعيِهم في إطفاءِ نورِ الله وأذى رسله. إنه {عليمٌ بذات الصُّدور}: التي ما نطق بها الناطقون؛ فكيف بما ظهر وكان شهادة؟!