اور جو شخص اپنا چہرہ اللہ کے سپرد کر دے اور وہ نیکی کرنے والا ہو تو یقینا اس نے مضبوط کڑے کو اچھی طرح پکڑ لیا اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کی طرف ہے۔
En
اور جو شخص اپنے تئیں خدا کا فرمانبردار کردے اور نیکوکار بھی ہو تو اُس نے مضبوط دستاویز ہاتھ میں لے لی۔ اور (سب) کاموں کا انجام خدا ہی کی طرف ہے
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَمَنْیُّسْلِمْوَجْهَهٗۤاِلَىاللّٰهِ ﴾ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے سامنے سرنگوں ہوتا ہے اور اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے شریعت پر عمل پیرا ہوتا ہے ﴿وَهُوَمُحْسِنٌ ﴾ تو وہ اسلام میں محسن ہے کیونکہ اس کا عمل شرعی ہے اور وہ اس میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتا ہے، یا اس کا معنی یہ ہے کہ جو کوئی عبادات کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے اور وہ اپنی عبادات کو احسان کے درجہ تک لے جاتا ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرتا ہے گویا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے اور اگر یہ کیفیت پیدا نہیں کر سکتا تو وہ اس طرح عبادت کرتا ہے گویا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے حقوق قائم کر کے اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا ہے اور ان کے حقوق ادا کرتا ہے… تینوں معانی میں تلازم پایا جاتا ہے اور ان کے درمیان کوئی فرق نہیں سوائے اس پہلو سے کہ دونوں لفظوں کے مورد میں اختلاف ہے ورنہ قبول کرنے اور تکمیل کے لحاظ سے، تمام معانی، دین کے تمام قوانین اور اصولوں کو قائم کرنے پر متفق ہیں۔
جو کوئی ان امور پر عمل پیرا ہوا تو ﴿اسْتَمْسَكَبِالْ٘عُرْوَةِالْوُثْ٘قٰى ﴾”اس نے مضبوط سہارے کو تھام لیا۔“ یعنی جس نے وہ سہارا تھام لیا جو بھروسے کے قابل تھا، وہ نجات پاگیا اور ہلاکت سے بچ گیا اور ہر بھلائی سے بہرہ ور ہوا اور جس نے اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا یا اس نے ”احسان“ سے کام نہ لیا تو اس نے بھروسے کے قابل سہارے کو نہ تھاما اور جب اس نے اس قابل اعتماد سہارے کو نہ تھاما تو وہاں ہلاکت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ﴿وَاِلَىاللّٰهِعَاقِبَةُالْاُمُوْرِ ﴾ اورتمام معاملات کا مرجع و منتہا اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ وہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا وہ ان کے اعمال کے تقاضوں اور ان کے انجام کے مطابق ان کو جزا وسزا دے گا، لہٰذا اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ومَن يسلمْ وجهَه إلى الله}؛ أي: يخضعُ له وينقادُ له بفعل الشرائع مخلصاً له دينَه، {وهو محسنٌ}: في ذلك الإسلام؛ بأن كان عملُه مشروعاً، قد اتَّبع فيه الرسولَ صلّى الله عليه وسلّم، أو: ومن يسلمْ وجهَه إلى الله بفعل جميع العباداتِ وهو محسنٌ فيها؛ بأن يعبدَ الله كأنَّه يراه؛ فإنْ لم يكنْ يراه؛ فإنَّه يراه. أو: ومَنْ يسلمْ وجهَه إلى الله بالقيام بحقوقه، وهو محسن إلى عباد الله، قائم بحقوقهم، والمعاني متلازمةٌ، لا فرق بينها إلاَّ من جهة اختلاف مورد اللفظتين، وإلاَّ؛ فكلُّها متفقة على القيام بجميع شرائع الدين على وجه تُقبل به وتَكْمل؛ فمن فعل ذلك؛ {فقد استمسكَ بالعروةِ الوُثقى}؛ أي: بالعروة التي مَنْ تمسَّكَ بها؛ توثَّق ونجا وسلم من الهلاك وفاز بكلِّ خير، ومَنْ لم يُسلم وجهه لله، أو: لم يحسِنْ؛ لم يستمسك بالعروة الوثقى، وإذا لم يستمسكْ [بالعروة الوثقى]؛ لم يكنْ ثَمَّ إلاَّ الهلاك والبوار. {وإلى الله عاقبةُ الأمور}؛ أي: رجوعُها وموئلُها ومنتهاها، فيحكم في عباده ويجازيهم بما آلتْ إليه أعمالُهم، ووصلت إليه عواقِبُهم، فليستعدُّوا لذلك الأمر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔