تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ صَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوْفًا:} ممکن تھا کہ کوئی شخص اس سے یہ سمجھ لیتا کہ والدین کے مشرک ہونے یا شرک پر آمادہ کرنے کی کوشش کی صورت میں ان سے سرے ہی سے قطع تعلق کر لینا چاہیے۔ اس لیے فرمایا کہ جب تک وہ زندہ ہیں، ان معاملات میں جو دین کے ساتھ تعلق نہیں رکھتے، ان کے ساتھ اچھے طریقے کے ساتھ رہو۔ مثلاً ان کے کھانے پینے، پہننے، رہنے اور علاج وغیرہ کی ضروریات کا خیال رکھو، ان کے ساتھ نرمی اور محبت کے ساتھ بات کرو، ان کے غصے اور تلخی کو برداشت کرتے رہو۔ جب مشرک والدین کے متعلق یہ حکم ہے، تو مومن والدین کا حق کس قدر ہو گا!
➌ { وَ اتَّبِعْ سَبِيْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَيَّ:} اس جملے میں دوبارہ تاکید فرمائی کہ دنیاوی معاملات میں ان کے ساتھ معروف طریقے سے رہنے کی صورت میں اس بات کا خیال رکھو کہ تم میں مداہنت نہ پیدا ہو جائے کہ دینی معاملات میں بھی تم ان کے پیچھے چل پڑو۔ نہیں، چلنا انھی لوگوں کے راستے پر ہے جن کا رجوع میری طرف ہے اور جو صرف میری ہدایت اور رہنمائی پر چلتے ہیں۔ یہ راستہ صرف ان لوگوں کا ہے جو قرآن و حدیث پر چلتے ہیں، کیونکہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ یہی دو چیزیں ہیں۔ کسی ایسے شخص کی رائے یا قیاس پر چلنا، جس پر اللہ کی طرف سے وحی نہیں ہوتی {” سَبِيْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَيَّ “} پر چلنا نہیں، کیونکہ ہدایت حاصل کرنے کے لیے اس کی طرف رجوع اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں بلکہ غیر اللہ کی طرف ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِيَآءَ }» [الأعراف: ۳] ”اس کے پیچھے چلو جو تمھاری طرف تمھارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور اس کے سوا اور دوستوں کے پیچھے مت چلو۔“
➍ { ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ:} ”میں تمھیں بتاؤں گا“ میں ڈانٹنے کا جو زور ہے وہ ”میں تمھیں جزا دوں گا“ میں نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[20] یعنی والدین بھی اگر شرک پر یا دین کے خلاف کسی بات کے لئے مجبور کریں تو ان کی بات اللہ کے حکم کے مقابلہ میں تسلیم نہیں کی جا سکتی۔ البتہ دنیوی معاملات میں ان سے اچھا سلوک کیا جائے خواہ والدین کافر ہی کیوں نہ ہو۔ مثلاً محتاج ہوں، تو ان کی مالی اعانت کی جائے۔ اور دین کے علاوہ دوسری باتوں میں ان کی اطاعت کی جائے۔ ان کا ادب و احترام ملحوظ رکھا جائے۔ ان سے محبت اور شفقت سے سلوک کیا جائے۔ وغیرہ وغیرہ۔ لیکن یہ اللہ کے مخلص بندوں کی راہ ہے۔ لہٰذا انہی کی راہ اختیار کرنی چاہئے۔
[21] یعنی والدین کو بھی اور اولاد کو بھی سب کو میرے حضور ہی پیش ہونا ہے۔ میں سب کو بتلا دوں گا کہ زیادتی اور تقصیر کسی کی تھی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وإن جاهداك}؛ أي: اجتهد والداك {على أن تشرِكَ بي ما ليس لك به علمٌ فلا تُطِعْهُما}: ولا تظنَّ أنَّ هذا داخل في الإحسان إليهما؛ لأنَّ حق الله مقدَّم على حقِّ كل أحدٍ، ولا طاعة لمخلوقٍ في معصية الخالق، ولم يقلْ: وإنْ جاهداك على أن تُشْرِكَ بي ما ليس لك به علمٌ؛ فعقَّهما، بل قال: {فلا تُطِعْهُما}؛ أي: في الشرك ، وأمَّا برُّهما؛ فاستمرَّ عليه، ولهذا قال: {وصاحِبْهُما في الدُّنيا معروفاً}؛ أي: صحبة إحسان إليهما بالمعروف، وأما اتِّباعُهما وهما بحالة الكفر والمعاصي؛ فلا تتَّبِعْهما، {واتَّبِعْ سبيلَ مَنْ أناب إليَّ}: وهم المؤمنون بالله وملائكته وكتبه ورسله، المستسلمون لربِّهم، المنيبون إليه، واتِّباع سبيلهم أن يَسْلُكَ مسلَكَهم في الإنابة إلى الله، التي هي انجذابُ دواعي القلب وإراداته إلى الله، ثم يتبَعُها سعي البدن فيما يرضي الله ويقرِّبُ منه، {ثمَّ إليَّ مرجِعُكم}: الطائع والعاصي والمنيب وغيره، {فأنِبِّئُكُم بما كنتُم تعملونَ}: فلا يخفى على اللَّه من أعمالهم خافيةٌ.